آئسولیشن کو جیل کی قید سے تشبیہ دی جانے لگی

سلیم خالق  جمعـء 27 نومبر 2020
کھانا پلیٹ کے بجائے باکس میں ملنے لگا،پازیٹیوکرکٹرزمیں علامات موجود نہیں 
(فوٹو: انٹرنیٹ)

کھانا پلیٹ کے بجائے باکس میں ملنے لگا،پازیٹیوکرکٹرزمیں علامات موجود نہیں (فوٹو: انٹرنیٹ)

 کراچی: پاکستانی کرکٹرز آئسولیشن کو جیل کی قید سے تشبیہ دینے لگے۔

نیوزی لینڈ میں قرنطینہ کے دوران سلوک سے پاکستانی کرکٹرز سخت ناخوش ہیں، انھوں نے آئسولیشن کو جیل کی قید سے تشبیہ دے دی، پہلے انھیں باقاعدہ پلیٹس میں کھانا پیش کیا جاتا تھا مگر6 مثبت ٹیسٹ کے بعد پروٹوکول کی خلاف ورزی کا الزام لگا کر اب باکس میں کھانا دیا جانے لگا۔

گذشتہ روز خوشدل شاہ کے والد کا انتقال ہوگیا مگر اس مشکل وقت میں کوئی ان سے تعزیت کرنے بھی نہ جا سکا،بس پابندی سے قبل واک کے دوران دور سے اظہار افسوس کر لیا تھا، اب موبائل فون پر ہی تسلیاں دی جا رہی ہیں۔

ذرائع نے بتایا کہ مثبت کورونا ٹیسٹ کے حامل تمام6 کرکٹرز میں کوئی علامات موجود نہیں ہیں، انھیں براہ راست ہیلتھ ڈپارٹمنٹ نے فون کر کے اس سے آگاہ کیا،ساتھ یہ اختیار بھی دیا کہ وہ ٹیم منیجر یا جسے بتانا چاہیں خود ہی بتا دیں، ان کرکٹرز میں ایک خاصے سینئرکرکٹرہیں،2کو ابھی ملک کی نمائندگی کا موقع نہیں ملا، ایک نوجوان نے بڑی تیزی سے اپنا نام بنایا ہے، دیگر2 بیٹسمین اور فاسٹ بولر بھی انٹرنیشنل کرکٹ میں پرفارم کر چکے ہیں، نمائندہ ’’ایکسپریس‘‘ کو ان تمام کے نام کا علم ہے مگر پرائیویسی برقرار رکھنے کیلیے شائع نہیں کیے جا رہے۔

ادھر بعض کھلاڑیوں نے یہ بھی خدشہ ظاہر کیا کہ انھیں ڈیلی الاؤنس کٹوتی کے بعد ملے گا، تین وقت کاکھانا مفت ملنے کا جواز دے کر رقم منہا کرلی جائے گی، انگلینڈ میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔