برصغیر میں کسان تحریکیں آخری حصہ

پنجاب میں بھی کسانوں کو منظم کرنے میں ترقی پسند جماعتوں اور کارکنوں نے فعال کردار ادا کیا۔۔۔


Zaheer Akhter Bedari December 27, 2013
[email protected]

پنجاب میں بھی کسانوں کو منظم کرنے میں ترقی پسند جماعتوں اور کارکنوں نے فعال کردار ادا کیا۔ چوہدری فتح محمد نے اس حوالے سے بہت کام کیا۔ 23 مارچ 1970 کو ان کی زیر قیادت ٹوبہ ٹیک سنگھ میں تاریخی کسان کانفرنس ہوئی جس میں ملک بھر کی ترقی پسند جماعتوں اور کارکنوں کے علاوہ فیض احمد فیض بھی شریک تھے، پھر اتنی بڑی کانفرنس آج تک نہ ہوسکی۔ پختونخوا میں مزدور کسان پارٹی نے میجر اسحق کی زیر قیادت جاگیردارانہ نظام کے خلاف موثر جدوجہد کی ہشت نگر تحریک کو اس جدوجہد میں ایک نمایاں مقام حاصل ہے۔ پاکستان میں نیپ کی تقسیم اور روس چین اختلافات کی وجہ سے بائیں بازو میں جو انتشار پیدا ہوا تھا وہ پیپلز پارٹی کے قیام کے بعد اپنی انتہا کو پہنچ گیا۔ بھٹو کے پرفریب نعروں اور سحر انگیز شخصیت نے بائیں بازو کے کارکنوں کو اس طرح ورغلایا کہ ان کی ایک بہت بڑی تعداد پی پی پی میں شامل ہوگئی۔ معراج محمد خان جیسے نظریاتی رہنما بھی پیپلز پارٹی کا حصہ بن گئے۔

2005 میں ورکرز پارٹی کی کوششوں سے ایک بار پھر توبہ ٹیک سنگھ میں کسان کانفرنس کا انعقاد کیا گیا، مجھے بھی اس میں شرکت کا موقع ملا۔بعدازاں مقامی ہوٹل میں ایک اجلاس ہوا اور اگلا اجلاس کراچی میں طے پایا۔ اس میں عابد حسن منٹو، رسول بخش پلیجو، معراج محمد خان سمیت کئی دوستوں نے شرکت کی لیکن ڈاکومنٹ تیار نہ ہونے سے اس اجلاس میں بھی کوئی پیش رفت نہ ہوسکی اور یہ مسئلہ طویل عرصے تک کھٹائی میں پڑا رہا۔

وڈیرہ شاہی جمہوریت کی مسلسل ناکامی اور حکمرانوں کی اربوں کی کرپشن، مہنگائی، بے روزگاری، بجلی گیس کی لوڈشیڈنگ، دہشت گردی، ٹارگٹ کلنگ کی وجہ عوام میں سخت بے چینی پائی جاتی ہے، میڈیا میں وڈیرہ شاہی جمہوریت اور جاگیردارانہ نظام کے خلاف بڑھتی ہوئی تنقید اور ملک کے غیر یقینی مستقبل سے خوفزدہ جاگیردار طبقہ اپنے مفادات کو محفوظ بنانے کے لیے ایک طرف صنعتکاری کی طرف بڑھتا دکھائی دیتا ہے تو دوسری طرف یہ افواہ گردش میں ہے کہ جاگیردار اور وڈیرے اپنی زمینیں بینکوں کے پاس رہن رکھوا کر بھاری رقوم حاصل کر رہے ہیں اور یہ سرمایہ بیرونی ملکوں میں محفوظ کیا جارہا ہے۔ یہ اطلاعات بھی مل رہی ہیں کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں بینکوں سے رہن کی یہ زمینیں خریدنے کے لیے کوشاں ہیں جس کا مقصد پاکستان کی زرعی معیشت پر قبضہ بتایا جارہا ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں نے پہلے ہی پاکستان کی معیشت پر قبضہ جما رکھا ہے اب ملٹی نیشنل کمپنیوں کے ذریعے پاکستان کی زرعی معیشت پر قبضہ کرنے کی سازش ہو رہی ہے۔

بائیں بازو کی جماعتیں پاکستان میں مسلسل بڑھتی ہوئی غیر یقینیت کو اقتداری گٹھ جوڑ کا نتیجہ سمجھتی ہیں اور اس بات پر یقین رکھتی ہیں کہ جب تک ملک سے نیم قبائلی جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ نہیں کیا جاتا، نہ ملک سے اندرونی لوٹ مار اور افراتفری کا خاتمہ ممکن ہے نہ بیرونی مداخلت کو روکا جاسکتا ہے۔ بائیں بازو کے رہنما غالباً اس حقیقت کو سمجھنے سے قاصر رہے ہیں، سیاسی اتحاد وقت اور ضرورت کے تابع رہتے ہیں، جاگیردارانہ نظام کے خاتمے کے لیے نظریاتی تخصیص کے بغیر ایک ایسے وسیع تر اتحاد کی ضرورت ہے جس میں ہر اس جماعت اور تنظیم کو شریک کیا جانا چاہیے جو زرعی اصلاحات کے ایک نکاتی پروگرام پر متفق ہو۔ ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں پر جیساکہ ہم نے نشان دہی کی ہے جاگیرداروں کو بالادستی حاصل ہے، اس لیے زرعی اصلاحات کی جدوجہد میں شرکت کے لیے ان جماعتوں سے توقع کرنا غیر منطقی بات ہے لیکن ملک میں درمیانے طبقے پر مشتمل ایسی جماعتیں بھی موجود ہیں جو نظریاتی طور پر جاگیردارانہ نظام کے خلاف ہیں اور جاگیردارانہ نظام کے خاتمے کے لیے آواز بھی اٹھاتی رہیں، متحدہ ان جماعتوں میں سرفہرست ہے۔ بعض مذہبی جماعتیں بھی فکری حوالوں سے اس نظام کی مخالف معلوم ہوتی ہیں لیکن اب تو عملاً اس نظام کے خلاف جدوجہد کا حصہ نہیں بن سکیں۔ اے این پی اور دوسری قوم پرست جماعتیں جو مڈل کلاس پر مشتمل ہیں ان کی نظریاتی ذمے داری ہے کہ وہ اس سڑے گلے نظام کے خلاف میدان عمل میں آئیں۔ یہاں اس حقیقت کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان میں چھوٹے صوبوں کو اپنے حقوق کی خلاف ورزی کی جو شکایت ہے اس کی ذمے داری بھی اس عوام دشمن جاگیردار طبقے پر ہی عائد ہوتی ہے اور چھوٹے صوبوں کا مسئلہ اس وقت تک حل نہیں ہوسکتا جب تک ملک سے اس 66 سالہ Status Quo کو نہیں توڑا جاتا جس کا ایک طاقتور حصہ جاگیردار ہیں۔

پاکستان ورکرز پارٹی کی طرف سے زرعی اصلاحات کے حوالے سے عدلیہ میں ایک پٹیشن داخل ہے، اس نظام کے خاتمے کے لیے ہر پلیٹ فارم سے جدوجہد کی جانی چاہیے لیکن سیاسی جماعتوں کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ دنیا کے کسی ملک میں بھی جاگیردارانہ نظام عدالتوں کے ذریعے ختم نہیں ہوا بلکہ اسے ختم کرنے کے لیے ایک طویل جنگ کرنی پڑی۔ ملک میں بنیادی تبدیلی لانے کی علمبردار جماعتوں کو یہ بات یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارا ملک ایک زرعی ملک ہے اور ہماری آبادی کا 60 فیصد سے زیادہ حصہ زرعی معیشت سے جڑا ہوا ہے، جب تک زرعی معیشت سے جڑی ہوئی اس آبادی کو متحرک نہیں کیا جائے گا، اس وقت تک اس نظام کا خاتمہ ممکن نہیں۔ مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ ورکرز پارٹی اس حوالے سے چاروں صوبوں میں سرگرم ہے اور 29 دسمبر 2013 کو حیدر آباد میں کسانوں کی ایک بڑی ریلی کا اہتمام کر رہی ہے۔ ہم یہ توقع کرنے میں حق بجانب ہیں کہ اس ریلی میں زرعی اصلاحات کے حامی بڑی تعداد میں شرکت کریں گے۔

پاکستان کی دیہی معیشت میں جاگیردار طبقہ بادشاہوں کی طرح زندگی گزار رہا ہے۔ پولیس پٹواری سمیت سارے انتظامی ادارے اس کے اشارہ ابرو پر کام کرتے ہیں۔ سندھ میں وڈیروں کے مظالم کی داستانیں ہمارے میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں۔ ہاریوں سے غلاموں کی طرح کام لینا، ہاریوں کے خاندانوں کو اغوا کرکے اپنی نجی جیلوں میں قید رکھنا اور ان سے غلاموں کی طرح کام لینا ایک عام سی بات ہے۔ پنجاب کا جاگیردار طبقہ غریب کسانوں کے استحصال کے حوالے سے بہت شہرت رکھتا ہے۔ ہمارے بعض دوستوں کا خیال ہے کہ پاکستان میں جاگیردارانہ نظام اب موجود نہ رہا۔ جی ایم سید سے ان کی بیماری کے دوران میں نے ایک طویل ملاقات میں اس مسئلے پر بات کی تھی، مجھے اس وقت حیرت ہوئی جب جی ایم سید نے بھی سندھ میں جاگیرداری ختم ہونے کی بات کی۔

اعداد و شمار کے مطابق سندھ کی 37 فیصد زمین 5 فیصد وڈیروں کے قبضے میں ہے۔ ہماری ایک وڈیری خاتون نے فرمایا تھا کہ ان کی زمین اتنی بڑی ہے کہ اس میں دو ریلوے اسٹیشن آتے ہیں، ایک اور وڈیرے نے فرمایا تھا کہ اگر جیپ میں میری زمینوں پر سفر کیا جائے تو صبح سے رات ہوجائے گی۔ ایک چانڈیو فیملی کے سپوت کے پاس کہا جاتا ہے کہ اب بھی ایک لاکھ تئیس ہزار ایکڑ زمین ہے۔ اگر حقیقی اعداد و شمار دستیاب ہوں تو ہمارے جاگیرداروں کی بھیانک شکل ہمارے سامنے آسکتی ہے۔ان حقائق کی روشنی میں اس ملک کی ترقی کے لیے جاگیردارانہ نظام کا خاتمہ ضروری ہے۔ سارے نوآزاد ملکوں میں جاگیردارانہ نظام ختم ہوچکا ہے اور پاکستان میں جاگیردار طبقہ نہ صرف مستحکم ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے سیاست اور اقتدار پر قبضہ برقرار رکھنے کے لیے ولی عہدی کو روشناس کرا رہا ہے اور یہ شاہی روایت صنعتکار اور دوسرے سیاسی اور مذہبی جماعتوں تک پھیل گئی ہے۔

(یہ مقالہ ہم نے ورکرز پارٹی کے زیر اہتمام ارتقا میں منعقد ہونے والے اجلاس میں پڑھا)

مقبول خبریں