کورونا کی دوسری لہر غیر ذمے دارانہ رویہ لے ڈوبے گا

سماجی فاصلہ نہ رکھنے کی صورت میں جو تباہی ہو گی اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا


Editorial December 14, 2020
ملک میں کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے فوٹو: فائل

اگلے روز کی اطلاع کے مطابق کورونا وائرس کے سبب پاکستان میں مزید 72افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں اور اس موذی مرض کا شکار ہوکر جاں بحق ہونے والوں کی کل تعداد 8 ہزار 796 تک پہنچ چکی ہے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق ملک میں 3 ہزار 369نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ خدشات پہلے سے موجود تھے کہ کورونا وائرس کی دوسری لہر زیادہ مہلک ہوگی۔ پہلی لہر میں کمی سے لوگوں نے یہ سمجھا کہ اس وباء کا خاتمہ ہوگیا ہے اور انھوں نے احتیاطی تدابیر سے دوری اختیار کر لی، جس کی وجہ سے آج ہم ایک مرتبہ پھر مشکل حالات کا شکار ہو رہے ہیں اور جس تیزی کے ساتھ وائرس کے پھیلاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

وہ انتہائی تشویشناک ہے۔موسم سرما کی وجہ سے بھی یہ مرض شدت اختیار کرے گا، اگر لوگوں نے حکومت کی جانب سے جاری کردہ ایس او پیز پر عملدرآمد نہیں کیا تو صورت حال انتہائی گھمبیر ہو سکتی ہے۔

علاج معالجے کے ضمن میں یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ نجی اسپتالوں اور لیباریٹرز میں کورنا ٹیسٹ کی فیس آٹھ ہزار سے لے کر چھ ہزار روپے تک ہے ، بعض صورتوں میں اس سے بھی زائد قیمت وصول کی جارہی ہے، مسلسل تین ٹیسٹ کروانے کے بعد صورتحال کا درست اندازہ ہوتا ہے کہ مریض خطرے سے باہر ہے۔

سیدھی بات ہے غریب اور متوسط طبقہ اتنے مہنگے ٹیسٹ کروانے کی استطاعت ہی نہیں رکھتاہے، جب کورونا وائرس میں مبتلا مریض کو کسی اسپتا ل لے کر اہل خانہ پہنچتے ہیں تو وہاں بیڈ دستیاب نہ ہونے کا بورڈ آویزاں نظر آتا ہے، تو مشکلات اور بڑھ جاتی ہیں،اس صورتحال کے تدارک کے لیے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو چاہیے کہ کورونا وائرس کی ملک میں پہلی لہر کے دوران جو ایمرجنسی اسپتال صرف اور صرف کورونا مریضوں کے لیے قائم کیے گئے تھے وہ دوبارہ فعال کیے جائیں۔

یہاں وفاقی اور صوبائی حکومت کی ذمے داری بنتی ہے کہ وہ سرکاری اور نجی سطح پر کورونا ٹیسٹ کے کم ازکم نرخ مقرر کرے ، جیسے کہ پچھلے دور حکومت میں ڈینگی ٹیسٹ کے باقاعدہ نرخ مقرر کیے گئے تھے ،گو کورونا کی ویکسین آچکی ہے لیکن پاکستان میں پہنچنے میں ابھی وقت باقی ہے ، اس کا آزمائشی استعمال تو چند مغربی ممالک میں ابھی صرف شروع ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ طبی ماہرین نے ماسک کے استعمال کو لازمی قرار دیتے ہوئے کہا یہ اس مرض کی روک تھام میں ایک بڑی ڈھال ہے۔

کورونا وائرس کی پہلی لہر کے دوران حکومت، محکمہ صحت اور ڈاکٹرز کورونا کی وباء کا مقابلہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار نہیں تھے جس کی وجہ سے بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑاتھا،جہاں حکومت کا ماسک نہ پہننے والوں پر جرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ درست ہے، وہیں ماسک کی مفت دستیابی کو یقینی بنانا بھی حکومت کی ذمے داری ہے۔

اس وقت فٹ پاتھوں اور میڈیکل اسٹورز پر مہنگے داموں ماسک فروخت ہورہے ہیں، لہذا چاہے اس ضمن میں حکومت کو سبسڈی دینا پڑے ، لیکن ماسک کی فراہمی ہر جگہ پر مفت یقینی بنائی جائے ، اور اس طرح لازمی ماسک پہننے کی پابندی پر سختی سے عملدرآمد کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں کمی کا باعث بن سکتا ہے۔

کو رونا کی دوسری لہر کے دوران اسپتالوں میں عام مریضوں کی آمدورفت محدود کرنے اور آپریشن یا سرجری کا سلسلہ عارضی طور پر معطل کرنے کے مطالبے پریہ آراء سامنے آئی ہے کہ اب کورونا سے ڈر کر اسپتالوں کے آوٹ ڈور بند نہیں کیے جا سکتے ہیں کیونکہ امراض قلب، کینسر، نمونیا، ذیابیطس اور بہت سے دیگر امراض کا فوری علاج نہ کیا جائے تومریضوں کی زندگی کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے ۔

درحقیقت اب ہمیں کووڈ کے ساتھ زندہ رہنے کی عادت ڈالنا ہوگی اور اس کے لیے ضروری ہے کہ ماسک پہنیں، سماجی فاصلہ اور دیگر احتیاطی تدابیر پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔

کورونا وائرس کی دوسری لہر کے دوران ہمارے ہاں جہاں عوام اس وائرس بارے میں سرے سے سنجیدگی کا مظاہرہ ہی نہیں کر رہے تو وہیں تاجر طبقہ بھی پابندیوں خلاف ورزی کرتا نظر آرہا ہے۔کورونا وائرس کے حوالے سے یہ افسوسناک طرز عمل سامنے آیا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن ایک صفحہ پر نہیں لہذا کورونا وائرس کے حوالے سے کوئی فیصلہ ایسا نظر نہیں آتا جس سے یہ تاثر ملے کہ حکومت اور اپوزیشن نے مل کر کیا ہے۔ طبی ماہرین یہ بات بھی تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان میں کورونا وائرس کی وبا ابھی بڑھے گی۔

ڈاکٹرزکی چیخ و پکار پر کوئی توجہ نہیں دے رہا کہ سماجی فاصلہ نہ رکھنے کی صورت میں جو تباہی ہو گی اس کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔قبل اس کے اسپتالوں میں مریضوں کی گنجائش ختم ہو جائے لوگوں کو کھلے عام پھرنے کی اجازت نہ دی جائے ۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کی خاطر حکومتی اقدامات درست مانا بھی جائے تو ہم اس حقیقت سے کیسے نظریں چراسکتے ہیں کہ پاکستان اس وقت انتہائی غیرمعمولی حالات سے گزر رہا ہے۔ ان مخصوص حالات میں ہوٹل نہ کھولیں جائیں ،چھٹیوں کے دوران گھرانوں کو آپس میں گھلنا ملنا نہیں چاہیے۔ اس وائرس کے خلاف جنگ میں کامیابی کے لیے انتہائی ضروری ہے کہ ہر فرد ذمے دارانہ رویہ اختیار کرے اور تعاون کے لیے رضامندی ظاہر کرے، اسی میں قوم کی بقا کا راز مضمر ہے۔

کورونا وائرس کے جاری اثرات کو دیکھیں تو زوال کے خدشات بہت نمایاں ہوگئے ہیں۔ وزات خزانہ کی جانب سے یہ نیا اعتراف کیاگیا ہے کہ نومبر 2020 کے لیے مالی خسارہ گزشتہ برس کے اسی عرصے کے مقابلے تقریبا 70 فیصد بڑھ گیا ہے حالانکہ ترقیاتی اخراجات میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔کورونا کیسز کی تعداد میں حالیہ اضافہ حکومت کو محتاط پالیسی اپنانے پر مجبور کررہا ہے بالخصوص خدمات کے شعبے میں، اور باقی دنیا کی طرح پاکستان کے معاشی منظر نامے کے لیے بھی ملا جلا پیغام ہے۔

وزارت نے کہا کہ اگر عوام ایس او پیز پر عمل کریں تو اثرات کم ہوسکتے ہیں اور معیشت طویل المدتی ترقی کے راستے پر لوٹ سکتی ہے۔وزارت کا کہنا تھا کہ مہنگائی کا دباؤ کم ہوا ہے اور یہ لچک آیندہ آنے والے مہینوں میں بھی جاری رہنے کا امکان ہے۔جولائی سے اکتوبر تک کے عرصے میں پاکستان میں مہنگائی کا سب سے بڑا سبب بین الاقوامی اور مقامی اشیا کی قیمتیں تھیں بالخصوص اشیائے خورونوش اور تیل کی مصنوعات کی قیمتیں جب کہ ایکسچینج ریٹ اور مالی پالیسیوں نے بھی اس میں کردار ادا کیا ہے۔وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ نومبر کی رپورٹ ظاہر کرتی ہے کہ کووِڈ 19 انفیکشن میں حالیہ اضافہ اور اسپتالوں پر دباؤنے پاکستان کی اہم ترین مارکیٹس کو بہت نقصان پہنچایاہے۔

دوسری جانب موسم سرما کی شدت میں اضافہ کے ساتھ اوپن مارکیٹ میں انڈے اور چکن کی قیمتوں میں بھی بے پناہ اضافہ کر دیا گیا ہے۔سردیوں میں انڈے بھی غریب شہریوں کی پہنچ سے باہر ہوگئے جب کہ شیور اور دیسی مرغی کی قیمتوں میں بھی مسلسل اضافہ کا رجحان جاری ہے۔ اوپن مارکیٹ میں شیور انڈے ہول سیل میں185 روپے درجن اور پرچون میں کریانہ شاپس،بیکریوں پر200 روپے درجن فروخت ہورہے ہیں۔اسی طرح اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کے رحجان سے عام آدمی کی قوت خرید میں کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔

مہنگائی پر قابو پانے کے لیے اقدامات اٹھانا وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی بنیادی ذمے داری بنتی ہے، لہذا انھیں اپنی اس ذمے داری کا احساس کرتے عام آدمی کی زندگی آسان اور سہل بنانے کے لیے عملی طور پر کام کرنا چاہیے ۔اگر ہم وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی 4 ماہ کے دوران ترسیلات زر میں 26.5 فیصد اضافہ ہوا لیکن گزشتہ برس کے اسی عرصے کے مقابلے برآمدات 10.3 فیصد، درآمدات 4 فیصد اور غیر ملکی سرمایہ کاری 62 فیصد کم ہوئی ہے۔

رپورٹ میں اس حقیقت کا اظہار کیا گیا ہے کہ تجارتی خسارہ 4فیصد اضافے کے بعد 6 ارب 70 کروڑ ڈالر ہوگیا، اس کے ساتھ گزشتہ برس کے پہلے 4 ماہ میں ایک ارب 40 کروڑ ڈالر کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ رواں برس سرپلس رہا۔اس کے علاوہ یہ بات بھی معاشی لحاظ سے تقویت کا باعث ہے کہ ملک کے مجموعی زرِ مبادلہ کے ذخائر 24 فیصد اضافے کے بعد نومبر میں 20 ارب 55کروڑ ڈالر رہے۔ پاکستان میں کورونا وائرس کے باعث ایک بار پھر مکمل لاک ڈاؤن کے خدشات کے باعث پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان بھی دیکھا جا رہا ہے۔

اس کی بنیادی وجہ اس وقت ملک میں کورونا ٹیسٹ مثبت آنے کی شرح میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔اس اضافے کے بعد دوبارہ لاک ڈاؤن کے خدشات بھی نمایاں ہیں جس کے باعث کچھ روز پہلے اسٹاک مارکیٹ میں ایک موقع پر انڈیکس میں 872 پوائنٹس تک کی کمی دیکھی گئی تھی۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مکمل لاک ڈاؤن کے خدشات اور خبریں اسٹاک مارکیٹ پر اثر انداز ہورہے ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ اگر ملک میں لاک ڈاؤن کی کیفیت پیدا ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے ملکی معیشت اور کارپوریٹ تجارت پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

ہم امید کرتے ہیں کہ حکومت مناسب حکمت عملی اور دانشمندی کے ساتھ ملک کے تمام اسٹیک ہولڈرز کی مشاورت سے وائرس کی اس دوسری لہرکا مقابلہ کرتے ہوئے پاکستان کی معیشت اور عوام کی صحت کے لیے ہر ممکن اور مناسب اقدامات کرے گی۔ عوام پر بھی اس تناظر میں بنیادی ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ کورونا کی دوسری لہر سے بچاؤ میں احتیاطی تدابیر اختیار کریں تاکہ وائرس کے پھیلاؤ پر بروقت قابو پایا جاسکے۔

مقبول خبریں