پاکستان میں ہر1لاکھ افراد کیلیے صرف4اے ٹی ایمز موجود

اے ٹی ایمزبڑھ کر6974ہوگئیں،موبائل بینکاری لین دین میں جولائی تاستمبر 70 فیصد اضافہ ہوا


Business Reporter December 27, 2013
95فیصدبرانچیں آن لائن،ای بینکاری سودے5فیصدبڑھ گئے،اسٹیٹ بینک،رپورٹ جاری ۔ فوٹو: فائل

اسٹیٹ بینک نے جولائی تا ستمبر2013 کی سہ ماہی کے لیے نظام ادائیگی کا جائزہ جاری کر دیا ہے، اس دوران پاکستان میں بڑی قدر کے نظام ادائیگی رئیل ٹائم سیٹلمنٹ میکانزم میں 30.6 ٹریلین روپے مالیت کی 131 ہزار ادائیگیوں کو پروسیس کیا گیا۔

یہ گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں حجم کے لحاظ سے 2.8 فیصد اور قدر کے لحاظ سے 26.7 فیصد کمی کو ظاہر کرتا ہے۔ زیر جائزہ سہ ماہی کے دوران ای بینکاری سودے گزشتہ برس کی اسی مدت سے 29 اور گزشتہ سہ ماہی سے5.2 فیصد بڑھ گئے، مجموعی ای بینکاری سودوں میں بلحاظ حجم سب سے بڑا حصہ اے ٹی ایم کا یعنی 64.6 فیصد ہے جس کے بعد آر ٹی او بی کا حصہ 22.8 فیصد ہے، سودوں کا بقیہ حصہ حجم کے اعتبار سے پی او ایس، کال سینٹر اور موبائل بینکاری کا ہے، قدر کے اعتبار سے آر ٹی او بی کا حصہ 87.6 فیصد ہے جس کے بعد اے ٹی ایم کا نمبر ہے جس کا حصہ 9.2 فیصد ہے، ملک میں اے ٹی ایمز کی تعداد میں تقریبا 3.2 فیصد فی سہ ماہی کی اوسط سے اضافہ ہو رہا ہے اور یہ حالیہ سہ ماہی کے آخر تک 6974 اے ٹی ایمز تک پہنچ گئی۔



30 ستمبر 2013 تک ہر ایک لاکھ افراد کے لیے ملک میں 3.8 اے ٹی ایمز ہیں جبکہ اسی مدت کے دوران اس ذریعے کو استعمال کرتے ہوئے591 ارب روپے کے سودے کیے گئے، 2013-14 کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) میں اے ٹی ایم کے ذریعے لگ بھگ 60 ملین سودے کیے گئے، ریئل ٹائم آن لائن برانچز (آرٹی اوبی) کی تعداد 10ہزار 135 ہے جو ملک میں بینکوں کی کل شاخوں کا تقریبا 95 فیصد بنتی ہے، اس ذریعے سے 2013-14 کی پہلی سہ ماہی (جولائی تا ستمبر) کے دوران 5.6 ٹریلین روپے کے تقریباً 21 ملین سودے کیے گئے، 30 ستمبر 2013 تک ملک میں ہر ایک لاکھ افراد کے لیے تقریباً 18.5 پوائنٹ آف سیل مشینیں موجود تھیں، ملک میں ادائیگی کا تیزی سے ترقی کرتا ذریعہ موبائل بینکاری ہے جس کے سودوں کی تعداد میں گزشتہ برس کی اسی مدت کے مقابلے میں 70 فیصد اضافہ ہوا اور سودوں کی قدر میں 236 فیصد نمو ہوئی، فی الوقت ملک میں موبائل بینکاری کے تقریباً1.4 ملین رجسٹرڈ استعمال کنندگان موجود ہیں، پلاسٹک کارڈز کی تعداد 23.4 ملین تک جا پہنچی جو گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 4.7 فیصد اضافے کو ظاہر کرتی ہے، ڈیبٹ کارڈزز کی تعداد نمایاں طور پر زائد (89 فیصد) ہے۔