سندھ اور پنجاب میں بلدیاتی الیکشن کا معاملہ پیچیدہ چھاپہ خانوں نے بھی مزید وقت مانگ لیا

الیکشن کمیشن،سیکیورٹی پرنٹنگ،پرنٹنگ کارپوریشن ودیگرچھاپہ خانوں کے حکام کا اجلاس،چھپائی یکم فروری تک ہی ممکن ہے


Monitoring Desk/Numainda Express December 28, 2013
سندھ کے3 کروڑ بیلٹ پیپرکی چھپائی کی ذمے داری سیکیورٹی پرنٹنگ پریس کودی گئی ہے۔ فوٹو: فائل

سات سرکاری پرنٹنگ اداروں نے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے مقررہ وقت میں بیلٹ پیپرچھاپنے سے معذرت کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے اضافی 3 ہفتے مانگ لیے۔

بیلٹ پیپرز کی چھپائی کے معاملے پر الیکشن کمیشن حکام اورسیکیورٹی پرنٹنگ،پرنٹنگ کارپوریشن اوردیگرسرکاری چھاپہ خانوں کے حکام کے مابین اہم اجلاس اسلام آبادمیں ہوا۔ سندھ کے3 کروڑ بیلٹ پیپرکی چھپائی کی ذمے داری سیکیورٹی پرنٹنگ پریس کودی گئی ہے تاہم سیکیورٹی پرنٹنگ کے اعلیٰ حکام نے اجلاس میں موقف اپنایا کہ وہ صرف 3 روزمیں3 کروڑ بیلٹ پیپرکی چھپائی نہیں کرسکتے اس کیلیے انھیں 15 اضافی روزدیے جائیں اور یوں یہ کام یکم فروری تک ہی مکمل ہو سکتاہے۔



پنجاب کے30کروڑ بیلٹ پیپرکی چھپائی کاذمہ سکیورٹی پرنٹنگ پریس کے ساتھ ساتھ پرنٹنگ کارپوریشن ،این ایل سی،پاکستان پوسٹ اورسائنس فاونڈیشن کے چھاپہ خانوں کودیاگیاہے تاہم ان تمام اداروں نے بھی یہی موقف اختیارکیاکہ صوبے میں30 جنوری کوبلدیاتی انتخابات ہونا ہیں مگر انھیں تو22 سے 23 اضافی روز درکار ہیں یوں پنجاب میں بیلٹ پیپرکی چھپائی20 فروری سے قبل ممکن نہیں۔ الیکشن کمیشن حکام کاکہناہے کہ تمام پرنٹنگ پریس کی جانب سے تحریری موقف کاجائزہ لینے کے بعدکمیشن آئندہ کے لائحہ عمل کافیصلہ کرے گا۔