کراچی میں بم دھماکا کی کوشش

کراچی کے پوش علاقے کلفٹن میں چینی ریسٹورنٹ کے مالک کی گاڑی کوبم سے اڑانے کی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے۔


Editorial December 17, 2020
کراچی کے پوش علاقے کلفٹن میں چینی ریسٹورنٹ کے مالک کی گاڑی کوبم سے اڑانے کی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے۔ فوٹو:فائل

GUWAHATI: کراچی کے پوش علاقے کلفٹن میں چینی ریسٹورنٹ کے مالک کی گاڑی کوبم سے اڑانے کی کوشش ناکام بنا دی گئی ہے،موٹرسائیکل سوار دہشت گرد مقناطیسی آئی ڈی بم ڈیوائس گاڑی پرچسپاں کرکے فرارہوگئے تھے ،بم ڈسپوزل اسکواڈ کے مطابق آئی ڈی ڈیوائس کے ساتھ ایک کلوسے زائد بارودی مواد نصب تھا،خدانخواستہ اگر یہ پھٹ جاتا تو بڑے پیمانے پر تباہی پھیل جاتی ۔ دہشت گردی کا تازہ ترین واقعہ الارمنگ ہے کہ مستقبل میں چینی باشندوں اور ان کی عمارتوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

پاکستان ایک طویل عرصے سے انتہاپسندی اور دہشت گردی کا سامنا کررہا ہے،چین اور پاکستان کی دوستی کو بھارت سبوتاژ کرنا چاہتا ہے، اس لیے وہ ایسے منفی عناصر کی سرپرستی کرتا ہے جو دوستی میں فرق ڈال سکیں۔ بحیثیت قوم ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ ہم ایک ایسی جنگ کا حصہ ہیں جس میں باقاعدہ فوجوں کے ساتھ ساتھ دہشت گردی، سوشل میڈیا کا استعمال اور پراپیگنڈہ ایک اہم حصہ ہیں، اس کے خلاف کام کرنا ایک ادارے کا کام نہیں بلکہ سب نے مل کر اس ملک کا دفاع کرنا ہے۔ہمیں کسی طور خوش فہمی کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔

ہندوستان کے قومی سلامتی کے مشیر اجیت دوول اور ان کے وزیردفاع نے پاکستان کو متعدد بار کھلی دھمکیاں دی ہیں۔را کے افراد لوگوں کو بھارت لے جا کر ان کی تربیت کر رہے ہیں، چینی قونصلیٹ پر حملے کے ماسٹر مائنڈ کا بھارت میں علاج ہوتا رہا ہے۔ باہر کی ایجنسیاں ہمارے ہی لوگوں کو استعمال کرتی ہیں۔

ملک میں متعددبارچینی انجینئرز پر حملہ کرنے کا واضح مقصد بھی پاکستان کو اپنے دوستوں کی حمایت سے محروم کرنا ہے۔ ایک دوسرے واقعے میں جامعہ کراچی کے شیخ زید اسلامک سینٹرکے گیٹ پرمسلح ملزمان کریکرپھینک کرفرارہوگئے کریکر حملے میں 2 رینجرزاہلکاروں اور سیکیورٹی گارڈ سمیت 4 افراد زخمی ہوگئے۔بھارت اور بعض عالمی قوتوں کی کوشش ہے کہ پاکستان ترقی کی منازل طے نہ اور خطے میں ایک مضبوط ملک کے طور پر اپنا مقام حاصل نہ کر سکے۔

عالمی قوتوں کو بھی اس حقیقت کا ادراک ہے کہ سی پیک سے پاکستان میں معاشی سرگرمیوں میں تیزی آ جائے گی ،پاکستان اور چین کے تعلقات میں مزید استحکام آئے گا،سی پیک کے منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے ایک عرصے سے مذموم کھیل کھیلا جا رہا اور دہشت گردی کو ہوا دی جا رہی ہے۔دوسری جانب پاکستان جو خود دہشت گردی کا شکار ہے کو دباؤ میں رکھنے کے لیے فیٹف کا ہتھیار استعمال کیا جا رہا ہے اور پاکستان پر ایک عرصے سے بلیک لسٹ ہونے کا خوف طاری کرکے ملکی استحکام کو ضرب لگانے کی سازشیں کی جا رہی ہیں۔

ہمارے سیکیورٹی ادارے دہشت گردی کے خلاف ایک بھرپور جنگ لڑ رہے ہیں،تمام تر قربانیوں اور مشکلات کے باوجود ہمارے سیکیورٹی پر مامور جوانوں کا عزم غیر متزلزل ہے اور وہ آخری دہشت گرد کے خاتمے تک اپنی کوششوں اور قربانیوں کو جاری رکھنے کے لیے پرعزم ہیں۔دشمن ملک کے مختلف علاقوں میں وقفے وقفے سے دہشت گردی کی کارروائیاں کرکے خوف و ہراس پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے۔

اس کا گمان ہے کہ اس طرح کی بزدلانہ کارروائیوں سے وہ پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔مگر ہمارے سیکیورٹی پر مامور جوان بھی یہ عہد کیے ہوئے ہیں کہ کوئی مشکل ان کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی اور وہ اپنے خون کے آخری قطرے تک مادر وطن کی حفاظت کرتے رہیں گے۔دہشت گردی کے خلاف جنگ ایک طویل اور صبر آزما مرحلہ ہے۔

لہٰذا دشمن کے ناپاک عزائم کو ناکامی سے دوچار کرنے کے لیے ناگزیر ہے کہ سول ادارے اور تمام سیاستدان آگے بڑھ کر ایک پلیٹ فارم سے مشترکہ کوششوں کا آغاز کریں اور دنیا پر واضح کر دیں کہ انھیں اپنے وطن کی سالمیت اور استحکام سے زیادہ کوئی چیز عزیز نہیں اور وہ اس کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے ہر وقت تیار ہیں اور دشمن خواہ کتنا ہی طاقتور اور عیار کیوں نہ ہو اپنے مذموم ارادوں میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔دوسری جانب سول حکومت اور اداروں پر بھی یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ ملکی استحکام کے لیے اپنا کردار بھرپور طور پر ادا کریں۔

،بدعنوان عناصر کے خاتمے کے لیے ہر ممکنہ وسائل کو بروئے کار لائیں اور جو عناصر کسی بھی سطح پر اپنے ذاتی مفادات کے لیے ملک کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں ان کے قلع قمع کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کریں۔ملکی ترقی میں سول اداروں کی بہتر اور دیانتدارانہ کارکردگی سے کسی طور بھی انکار نہیں کیا جا سکتا۔

سیاستدانوں کی بھی یہ ذمے داری ہے کہ وہ اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے سول بیوروکریسی پر ناجائز دباؤ نہ ڈالیں،کیونکہ ان کا کوئی بھی غلط اقدام سول اداروں کی کارکردگی کو متاثر کرتا اور ان میں منفی رجحان کو فروغ دیتا ہے۔عدالتی نظام میں استحکام اور عوام کا اس پر اعتماد ملک کو دائمی استحکام عطا کرتا ہے۔عدلیہ پر عوام کو اعتماد ہو تو کوئی بھی ادارہ یا شخص خواہ وہ کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہو ،کسی میں منفی اقدام کی جرات نہیں کر سکتا۔

ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ پاکستان میں جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ کی بہت سی جہتیں ہیں، اس غیرروایتی جنگ کی کئی شکلیں اور انداز ہیں، لہذا ہمیں حقیقت کا سامنا کرنے کے لیے ذرا سی بھی غفلت نہیں کرنی ہے، تمام سیکیورٹی اداروں سمیت عوام کو بھی ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے، تاکہ عالمی سطح پر کسی بھی قسم کا منفی تاثر دوبارہ نہ ابھر سکے، بلاشبہ انٹیلی جنس کو مضبوط کرنا نیشنل ایکشن پلان کا اہم حصہ ہے ، اس پر حقیقی پیمانے پر عملدرآمد کی ضرورت ہے،تاکہ اس قسم کے واقعات کا بروقت تدارک کیا جاسکے۔

مقبول خبریں