افغان امن عمل کے لیے جامع کوششوں کی ضرورت

پاکستان خود افغانستان میں امن کے قیام اور بین الافغان مذاکرات کے لیے انتہائی مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔


Editorial December 18, 2020
پاکستان خود افغانستان میں امن کے قیام اور بین الافغان مذاکرات کے لیے انتہائی مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔ فوٹو : فائل

افغانستان میں جنگ بندی کے لیے ''تمام فریقوں'' کو تشدد میں کمی لانا ہو گی، ان خیالات کا اظہار وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے افغان طالبان کے سیاسی کمیشن کے9 رکنی وفد سے ملاقات کے دوران ملاقات کیا۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں قیام امن پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے لازم و ملزوم ہے، ہم عالمی برادری سے تعاون کی درخواست کر رہے ہیں، جو موقف پاکستانی وزیر خارجہ نے بیان کیا ہے، وہ انتہائی صائب ہے، جہاں تک افغان مفاہمتی عمل کا سوال ہے تو اس میں پاکستان کے مثبت کردار کو امریکا، اس کے اتحادی اور دنیا سراہتی نظر آ رہی ہے۔

اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان خود افغانستان میں امن کے قیام اور بین الافغان مذاکرات کے لیے انتہائی مثبت کردار ادا کر رہا ہے۔ ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتے کہ جنوبی ایشیا کے خطے کی صورت حال میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور ماضی کے بعض تنازعات دوبارہ اٹھ رہے ہیں، جس سے خطے کے امن و سلامتی کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ افغانستان کی صورت حال حتمی مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، افغانستان میں جلد از جلد امن و امان کا قیام از حد ضروری ہے۔ اسی ضمن میں پاکستان شروع سے کہتا چلا آ رہا ہے کہ افغانستان میں قیام امن واحد راستہ ہے۔

جہاں تک افغان طالبان کا مسئلہ ہے تو انھوں نے شدید تحفظات کے باوجود پاکستان کو عزت دی ہے۔ ہماری بات سنی اور ہمیں احترام دیا ہے۔ پاکستان نے طالبان پر ایک حد سے زیادہ نہ دبائو بڑھایا اور نہ ہی پاکستان زیادہ دبائو کی پوزیشن میں تھا۔ اب نئی صورتحال میں طالبان افغان محاذ پر مضبوط پوزیشن پر کھڑے ہیں۔ طالبان نے غیر ملکی افواج کے خلاف تاریخ ساز جدوجہد کی، وہی امریکا جو طالبان سے نجات کے لیے یہاں آیا تھا بالآخر ان سے مذاکرات پر مجبور ہوا۔

دوسری جانب لداخ میں چینی افواج کے ہاتھوں پٹنے کے بعد اب بھارت پاکستان کے خلاف جارحانہ عزائم رکھتا ہے، جس پر پاکستان الرٹ اور پاکستانی افواج پر عزم ہیں۔ بھارت افغان سرزمین کو بھی ہمسایہ ممالک میں دہشت گردی کے لیے استعمال کرتا آیا ہے۔ خصوصاً پاکستان میں دہشت گردی کے ڈانڈے افغانستان سے جا ملتے ہیں لہٰذا افغانستان میں نئے انتظامی بندوبست میں افغان سرزمین سے دہشت گردی کی سرگرمیوں کا خاتمہ ناگزیر ہے۔ اس میں بنیادی کردار افغان فورسز اور سیاسی عناصر کو ادا کرنا ہے، اگر افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردی کا خاتمہ ہوتا ہے تو اس سے ہمسایہ ممالک بھی محفوظ ہوں گے۔

یہ حقیقت ہے کہ پاکستان سے افغان مہاجرین کی باعزت واپسی حالات معمول پر لانے کا اہم ذریعہ ہے۔ افغان عوام کی واپسی کے لیے پاکستان نے طور خم اور چمن کی سرحدیں اس وقت کھولیں جب پوری دنیا میں کورونا وائرس پھیل رہا تھا۔ پاکستان میں اس وقت14 لاکھ رجسٹرڈ افغان مہاجرین مختلف شہروں میں قیام پذیر ہیں اور 2002 سے اب تک رضاکارانہ طریقہ کار کے تحت پاکستان سے 44 لاکھ افغان مہاجرین وطن واپس جاچکے ہیں۔

رضاکارانہ واپسی کا طریقہ کار یکم مارچ سے30 نومبر تک9 مہینوں کے لیے جاری رہتا ہے جس کے بعد یکم دسمبر سے 28 فروری تک افغانستان میں شدید سردی کے باعث رضاکارانہ واپسی کا عمل ہر سال تین ماہ کے لیے روکا جاتا ہے۔ رضاکارانہ طور پر واپس جانے والے افغان مہاجرین کو قندہار، ننگرہار اور کابل میں فی کس دو سو ڈالر دیے جاتے ہیں۔ پاکستان نے مسلسل چار دہائیوں سے افغان مہاجرین کو پناہ دے رکھی ہے، افغان مہاجرین کا مسئلہ بھی اب مستقل طور پر حل ہو جانا چاہیے تاکہ پاکستانی معیشت پر جو اضافی بوجھ ہے وہ کم ہو جائے۔

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان اور افغانستان کے مابین گہرے تجارتی مراسم ہیں، گوادر پورٹ اس حوالے سے معاون ثابت ہو سکتا ہے، ہم پاکستان اور افغانستان کے مابین دو طرفہ تجارت کے فروغ کے لیے تجارتی معاہدوں کو مزید فعال بنانے کے خواہش مند ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ پاکستان دنیا کے لیے خطے کا دروازہ اور افغانستان پل ہے، دونوں ممالک ایک دوسرے کے لیے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ علاقائی سطح پر اقتصادیات کا ایک دوسرے پر انحصار ہی امن کا ضامن ہو گا۔

پاک افغان عدم استحکام، عدم اعتماد، گرتی تجارت اور سرمایہ کاری نہ ہونے جیسی رکاوٹوں نے دونوں ممالک کے مابین تعلقات میں مشکلات پیدا کیں۔ پاکستان کی افغانستان کے ساتھ تجارت سے شرح نمو بڑھے گی جو آج چار فیصد ہے۔ پاکستان کی شرح نمو آٹھ سے نو اور فی کس آمدن کئی گنا بڑھ سکتی ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس خطے میں علاقائی تجارت پانچ فیصد سے بھی کم ہے جب کہ یورپ میں علاقائی تجارت 70 فیصد ہے۔ ہمیں اس سچائی کو بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ پاکستان اور افغانستان میں غیر ریاستی عناصر متحرک ہیں۔

دونوں ممالک میں دیرپا امن و استحکام کے لیے ان عناصر کا مکمل خاتمہ، بہتر سرحدی انتظام اور تعلیم کا فروغ ناگزیر ہے۔ پاکستان کو افغان امن میں معاون کے طور پر دیکھا جائے نہ کہ رہنما کے طور پر۔ ہمیں یہ حقیقت بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ پاک افغان عمل میں اصل رکاوٹ تو بھارت ہے جو ہمیشہ حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرتا ہے، وہ پاکستان کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے درپے ہے، انتہا پسندانہ حکومت کے عزائم سے خطے کے امن کو خطرہ ہے، پاکستان چاہتا ہے کہ افغانستان کی سرزمین اس کے خلاف استعمال نہ ہو۔ فارن پالیسی نامی امریکی جریدے کی ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستانی دہشت گردی کی کہانی تاریخی طور پر دنیا کی نظروں سے اوجھل رہی ہے، ہندوستان کی انتہا پسندانہ پالیسی ایک تباہ کن خطرہ ہے، اگر اس کا نوٹس نہ لیا گیا تو اس کے دور رس اثرات ہوں گے۔

جریدے نے دعویٰ کیا کہ بھارت نے داعش کو استعمال کر کے مذہبی گروپس خاص کر نوجوانوں کو استعمال کر کے دوسرے ممالک اور بین الاقوامی مذہبی تحریکوں کے ذریعے انتہا پسندی اور دہشت گرد نظریات کو فروغ دیا ہے اور شام کی لڑائی میں بھارتی دہشت گردوں کے ملوث ہونے کے واضح ثبوت ملے ہیں۔

درحقیقت پاکستان اور افغانستان کو مشترکہ طور پر انتہا پسندی اور دہشت گردی کا سامنا ہے۔ دونوں ممالک میں دہشت گرد تعلیمی اداروں اور طلبہ کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ ڈیورنڈ لائن کے دونوں اطراف حملوں کا سلسلہ جاری ہے، یہی وجہ ہے کہ انتہا پسندی اور دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے پاکستان اور افغانستان کے درمیان باہمی اتحاد کی اشد ضرورت ہے۔ اب سرنگ کے دوسرے سرے پر کچھ روشنی نظر آرہی ہے افغانوں کی جدو جہد نے دنیا پر واضح کر دیا کہ وہ کسی کے زیر تسلط نہیں رہ سکتے۔

اس صورتحال سے وسط ایشیائی ممالک اور پاکستان جو افغانستان کے ہمسائے ہیں ہی دراصل صحیح معنوں میں امن کے داعی اور خواہش مند ہیں،کیونکہ پورے خطے کے ثقافتی، سیاسی، معاشی ودفاعی حالات اس مسئلے سے بہت ہی گہرے انداز میں منسلک ہیں۔باقی سب جو ہیں وہ صرف عالمی سیاسی شطر نج میں اپنی اپنی بازی لگا کر ایک دوسرے سے سودا بازی کرتے ہیں اور نقصان افغانستان اور اس کے ہمسائیوں کا ہوتا ہے۔ افغانستان کے ہمسائیوں میں پاکستان، چین، ایران، ترکمانستان، تاجکستان اور ازبکستان شامل ہیں۔ خوش قسمتی سے عمومی طور پر یہ سب ممالک افغانستان میں امن کے حامی ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ افغانستان میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے جامع کاوشوں کی ضرورت ہے جب کہ افغانستان میں ایک دوستانہ اور پر امن خارجہ پالیسی پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں بہتری دونوں ممالک اور خطے کے امن، سلامتی اور ترقی کے لیے بھی بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے مابین دوستانہ تعلقات خطے میں امن کے ضامن ہیں، دونوں ہمسایہ ممالک کو آپس کی بدگمانیاں دور کر کے معاشی، سماجی و اقتصادی ترقی کی طرف توجہ دینی ہو گی، اسی میں دونوں دوست اسلامی ممالک کا روشن مستقبل پوشیدہ ہے۔

مقبول خبریں