کیا عامر ’’احسان فراموش‘‘ ہیں

عامر پاکستان بلکہ دنیا کے خوش قسمت ترین کرکٹر ہیں۔


Saleem Khaliq December 18, 2020
عامر پاکستان بلکہ دنیا کے خوش قسمت ترین کرکٹر ہیں۔ فوٹو: فائل

''سوشل میڈیا پر عامرکے پرستار آپ کو بہت برا بھلا کہہ رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ عامر کوئی ریٹائر نہیں ہوگا، آپ نے یہ بات ایسے ہی کہہ دی ہے'' گذشتہ سال کی بات ہے جب ویب شو کے میزبان کامل احسان نے مجھ سے یہ کہا تھا۔

اس وقت میں نے عامر کی پاکستان کیلیے مزید کھیلنے میں عدم دلچسپی کا ذکرکرتے ہوئے یہ بتایا تھا کہ وہ برطانوی اہلیہ کی وجہ سے وہاں کا پاسپورٹ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں،میں نے کامل سے کہا تھا کہ میری بات کا جواب وقت دے گا اورآج ایسا ہوگیا۔

کیا عامر کے ساتھ واقعی بہت ظلم ہو رہے ہیں یا انھوں نے کم وقت میں بغیر کسی دباؤ کے لیگز سے زیادہ پیسہ کمانے کیلیے یہ فیصلہ کیا، یہ جاننے کیلیے ہمیں ماضی میں جانا پڑے گا،عامر پاکستان بلکہ دنیا کے خوش قسمت ترین کرکٹر ہیں،گھر میں کام کرنے والی ماسی10روپے بھی چرا لے تو آپ اسے دوبارہ نوکری پر نہیں رکھتے بلکہ پورے محلے کو بھی بتا دیتے ہیں کہ اس سے بچ کر رہنا، عامر اسپاٹ فکسنگ کیس میں جیل کی سزا کاٹ کر آئے مگر انھیں سر آنکھوں پر بٹھایا گیا، فاسٹ ٹریک میں قومی ٹیم میں انٹری کرائی گئی۔

ایسے دوسرے موقع ہر کسی کو نہیں ملتے، سلیم ملک اب تک رورہے ہیں مگر انھیں قومی کرکٹ کے قریب تک نہیں پھٹکنے دیا گیا،عامر واپس آئے تو ان سے امیدیں وابستہ کی گئیں کہ دوبارہ پاکستان کیلیے کارنامے انجام دیں گے جس سے دامن پر لگے داغ دھل جائیں گے مگر بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا، ان کی اچھی پرفارمنسز انگلیوں پر گنی جا سکتی ہیں، وہ میچ ونر نہ بن سکے، خوش قسمتی سے اس دوران پاکستان کو کئی دیگر باصلاحیت نوجوان فاسٹ بولرز مل گئے جس سے عامر آٹومیٹک چوائس نہ رہے، پیسہ ان کی ہمیشہ ترجیح رہا ہے۔

آپ ایک ٹیسٹ سیریزکھیل کر جتنی رقم کماتے ہیں اس سے کئی گنا زیادہ ایک غیرملکی لیگ میں مل جاتی ہے،پانچ روزہ میچ میں جان بھی زیادہ لڑانا پڑتی ہے،عامر نے یہی سوچ کر گذشتہ برس ٹیسٹ کرکٹ سے پیچھا چھڑا لیا،اس فیصلے نے مصباح الحق اور وقار یونس کو ناراض کردیا اورعامرکیلیے محدود اوورز کی ٹیم میں بھی مستقل جگہ برقرار رکھنا ممکن نہ رہا، اصل بات آپشنز کی ہوتی ہے۔

اگر آپ فواد عالم یا عابد علی جیسے کھلاڑی ہیں جو بیچارے کہیں اور نہیں جا سکتے تو ڈومیسٹک کرکٹ میں ہی محنت کرتے رہیں گے کہ شاید کبھی چانس مل جائے اور پھر ایسا ہو بھی جاتا ہے، اگر ان کے پاس بھی لیگز وغیرہ کھیلنے کا موقع ہوتا تو شاید ہمت ہار کر وہی کھیلا کرتے، جیسا سمیع اسلم نے کیا امریکا سے آفر آئی سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر وہاں چلے گئے۔

اسی طرح عامر کے پاس بھی آپشنز کی کمی نہیں،سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان کا مستقبل محفوظ ہو چکا،برطانوی پاسپورٹ یا تو انھیں مل گیا یا ملنے والا ہوگا، اب انھیں سبز پاسپورٹ کی کیا ضرورت ہے،زیادہ تر وقت انگلینڈ میں رہیں گے وہیں سے لیگز وغیرہ کھیلنے چلے جایا کریں گے، کم وقت میں زیادہ پیسہ ملے گا، میڈیا یا کسی اور کی تنقید بھی نہیں سہنا پڑے گی، لیکن اس ملک کا کیا جس نے مشکل وقت میں سہارا دیا، آپ نے فکسنگ کرکے دنیا بھر میں پاکستان کو بدنام کیا، انگلینڈ نے جیل میں ڈالا لیکن اسی ملک نے دوبارہ ہیرو کا درجہ دیا، جب ٹیم کو ضرورت تھی توکیا عامر کو ٹیسٹ کرکٹ چھوڑنا چاہیے تھی؟ بالکل نہیں، کون سا وہ 40 سال کے ہو گئے کہ تھکاؤٹ ہو جاتی ہے،ابھی تو صرف 28 سال کے ہیں۔

انھیں تو بولنگ اٹیک کو سنبھال کر نوجوان بولرز کی رہنمائی کرنا چاہیے تھی مگر بات آپشنز کی آ جاتی ہے جو ان کے پاس موجود تھے لہذا ٹیسٹ کرکٹ سے گذشتہ برس ریٹائر ہو گئے، اب پاکستان کے پاس بھی آپشنز کی کمی نہیں، شاہین آفریدی جیسے کئی بہترین فاسٹ بولرز موجود ہیں لہذا ٹیم مینجمنٹ نے عامر کو لفٹ کرانا چھوڑ دی، انھیں تو موقع چاہیے تھا فوراً ہی اعلان کر دیا کہ موجودہ مینجمنٹ کے ہوتے ہوئے پاکستان کی مزید نمائندگی نہیں کریں گے، میں مانتا ہوں کہ وقار یونس کا رویہ کھلاڑیوں کے ساتھ اچھا نہیں ہے۔

وہ اب بھی خود کو نائنٹیز کا سپراسٹار سمجھتے ہیں، مگر کیا صرف اسی وجہ سے عامر نے کرکٹ چھوڑی؟ ہرگز نہیں، انھیں ایک بہانہ چاہیے تھا جو دورئہ نیوزی لینڈ کیلیے منتخب نہ ہونے سے مل گیا، یہ ہمارا ملک ہی ہے جو عامر جیسے لوگوں کو ہیرو بناتا ہے، ماضی کے بڑے بڑے فکسرز اب بھی اکڑ کر چلتے ہیں، جیسے سیاست میں مشہور ہوا کہ ''کھاتا تھا تو لگاتا بھی تو تھا'' ویسے ہی ایسے کرکٹرز کے بارے میں کہا گیا کہ ''میچز ہروائے تو جتوائے بھی تو تھے'' سرٹیفائیڈ فکسرز کو سر آنکھوں پر بٹھانے کی وجہ سے نوجوان کرکٹرز کا خوف ختم ہوا اور وہ منفی کاموں میں ملوث ہوئے، اس سے عامر جیسے کردار سامنے آئے، ان کو دیکھ کر نئے لڑکے بھی اسی راہ پر چلیں گے، ہمارے ملک میں سسٹم ہی خراب ہے۔

جب تک آپ ایسے لوگوں کو نشان عبرت نہیں بناتے نئے واقعات سامنے آتے رہیں گے، کیا فائدہ ہوا عامر کو واپس لانے کا، قدم جماتے ہی انھیں پاکستانی کرکٹ بْری لگنے لگی، لوگ اگر آج انھیں احسان فراموش کہہ رہے ہیں تو کیا یہ غلط ہے؟ ذرا ''کرک انفو'' پر جا کر اپنے اعدادوشمار چیک کریں کتنے میچز جتوا دیے پاکستان کو، کون سی کارکردگی اتنی غیرمعمولی ہے کہ سلیکشن کے وقت پہلا نام محمد عامر کا درج ہوتا، پہلے اپنے گریبان میں تو جھانکیں، بجائے کھیل میں بہتری لانے کیلیے راہ فرار اختیار کرنا کون سی بہادری ہے،اس سے پاکستان کرکٹ کو بھی سبق سیکھنا چاہیے۔

آپ ایسے کرکٹرز پر سرمایہ کاری کریں جو ملک کے کام آئیں اس سے فائدہ نہ اٹھائیں، اب عامر پاکستان کیلیے نہیں کھیلنا چاہتے تو ان سے کہیں ٹھیک ہے جناب بہت شکریہ، نئے لڑکوں کو آزماتے رہیں جہاں اتنا ٹیلنٹ ملا ہے اور بھی ملے گا، ہمیں عامر جیسے کھلاڑیوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پرمجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)