کورونا سے نمٹنے کی حکمت عملی کا سوال

حکومتی، طبی اور عوامی حلقوں میں کورونا کی دوسری لہر میں شدت کے حوالہ سے سردمہری کا بھی چرچا ہے۔


Editorial December 19, 2020
حکومتی، طبی اور عوامی حلقوں میں کورونا کی دوسری لہر میں شدت کے حوالہ سے سردمہری کا بھی چرچا ہے۔ فوٹو: فائل

کورونا وائرس سے مزید 102 افراد انتقال کرگئے جس سے کل اموات7128 ہوگئیں، 3063 نئے مریض سامنے آنے کے بعد مصدقہ کیسز کی تعداد 4لاکھ50 ہزار 3818 ہو گئیں جس سے3 لاکھ99 ہزار3591 صحت یاب ہو چکے ہیں، جب کہ فعال کیسز1884 ہو گئے ہیں۔

پنجاب میں ایک لاکھ29 ہزار291، سندھ 2 لاکھ ایک ہزار80 ، خیبر پختونخوا54 ہزار21، بلوچستان17 ہزار 838، اسلام آباد35 ہزار441، اور آزاد کشمیر میں7893 مریض رپورٹ ہوئے ہیں۔

وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کا کورونا ٹیسٹ مثبت آگیا جب کہ وفاقی سیکریٹری قانون راجہ نعیم اکبر کا کورونا ٹیسٹ بھی مثبت آگیا۔ سندھ میںٕ مزید 33 مریض انتقال کرگئے، صوبہ میں کل اموات3270، صحت یاب افراد کی تعداد178027 ہوچکی ہے، کراچی میں مثبت کیسز کی شرح سب سے زیادہ15.59،پشاور دوسرے نمبر پر13.24، میرپور تیسرے نمبر پر9.4 فیصد ہو گئی، ملک بھر میں2 ہزار505 مریضوں کی تعداد تشویشناک ہے۔

دوسری طرف کورونا کی ڈیموگرافک صورتحال اور ویکسین کی آمد اور اس کی تقسیم کے معاملات ملکوں کے مابین زیر بحث ہیں، وزیراعظم کے مشیر صحت ڈاکٹر فیصل سلطان کا کہنا ہے کہ ویکسین ہر شہری کو ملے گی لیکن اس کی تقسیم کب ہو گی اس میں اختلاف رائے ہے۔

عالمی ادارہ صحت نے ایشیا بحرالکاہل اور خصوصی طور پر مغربی بحرالکاہل کے ممالک کو ہدایات جاری کی ہیں کہ وہ کورونا سے نمٹنے کے لیے ویکسین کا انتظار کرنے کے بجائے طویل المدتی منصوبے پر انحصار کریں۔ عالمی ادارہ صحت کا ایشیائی ڈائریکٹر ڈاکٹر تاکشی کسائی نے انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتا میں میڈیا نمایندوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایشیائی بحرالکاہل کے ممالک میں آیندہ سال کے وسط یا اختتام تک ویکسین پہنچنے کا امکان ہے۔

انھوں نے کہا کہ محفوظ اور موثر ویکسین کی تیاری ایک الگ بات ہے جب کہ ویکسین کی پیداوار بڑھانے اور دنیا بھر میں اس کی منظم اور منصفانہ ترسیل دوسری بات ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے ایشیا سے متعلق ضروری ادویات اور صحت سے متعلق ٹیکنالوجی کے تبادلے کے کوآرڈینیٹر ڈاکٹر سوکرو اسکلانتے کا کہنا تھا کہ اگرچہ خطے کے بعض ممالک ویکسین حاصل کرنے کے لیے آزادانہ طور پر ممالک اور کمپنیوں سے معاہدوں کے عوض آیندہ کچھ عرصے میں ویکسین حاصل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

تاہم باقی ممالک کو 2021ء کے وسط یا اختتام تک انتظار کرنا پڑے گا۔ عالمی ادارہ صحت کے عہدیداروں کا کہنا تھا کہ ایشیائی ممالک اور خاص طور پر مغربی بحرالکاہل کے ممالک کو ویکسین کے بجائے کورونا سے نمٹنے کے لیے طویل المدتی لائحہ عمل تیار کرنے چاہئیں۔ ڈبلیو ایچ او کے عہدیداروں کے مطابق ویکسین حاصل کرنے والے ممالک کو بھی ویکسین کو سب سے پہلے زیادہ متاثر ہونے کے خطرات سے دوچار افراد کو ویکسین دینی ہوگی جب کہ ویکسین کی ترسیل سے متعلق احتیاط سے بھی کام لینا ہو گا۔

عالمی اداروں کے سربراہوں نے اگرچہ ان ممالک کے نام نہیں بتائے، جن ممالک کو ویکسین حاصل کرنے میں مشکلات پیش آ سکتی ہیں تاہم عہدیداروں کے مطابق مغربی بحرالکاہل کے ممالک میں آیندہ سال کے اختتام تک ویکسین پہنچنے کا امکان ہے۔

عالمی ادارہ صحت کی تنظیم سازی کے مطابق مغربی بحرالکاہل میں 37 ممالک شامل ہیں، جن میں چین، جاپان، جنوبی کوریا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، کمبوڈیا،ملائیشیا،انڈونیشیا، فلپائن، سنگاپور اور ویتنام سمیت دیگر ممالک شامل ہیں۔

مغربی بحرالکاہل کے خطے میں ایک ارب 90کروڑ افراد بستے ہیں اور اس خطے کے چند ممالک نے کورونا ویکسین کے استعمال کی اجازت بھی دے دی ہے۔ سنگاپور نے کورونا ویکسین کے استعمال کی اجازت دے رکھی ہے جب کہ چین و آسٹریلیا جیسے ممالک اپنی ویکسین کی تیاری میں بھی مصروف ہیں۔ چین کی میڈیسن کمپنیوں کی تیار کردہ ایک ویکسین کو متحدہ عرب امارات (یو اے ای) اور بحرین میں استعمال کرنے کی اجازت بھی دی جاچکی ہے تاہم حیران کن طور پر اس ویکسین کو چین میں استعمال کی اجازت تاحال نہیں مل سکی۔

لیکن کچھ حیرت انگیز واقعات بھی پیش آئے ہیں، مثلاً دنیا بھر میں جہاں اب کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے ویکسین کے استعمال کا آغاز ہوگیا ہے وہیں دوسری لہر بھی تیزی سے پھیل رہی ہے اور پاکستان میں بھی اس کے وار جاری ہیں۔ ملک میں اس وائرس سے متاثرہ افراد کی مجموعی تعداد 4 لاکھ 51 ہزار 494 ہے جس میں سے 3 لاکھ 33 ہزار 852صحت یاب ہوئے ہیں جب کہ اموات کی تعداد 9 ہزار 164 تک پہنچ گئی ہے۔

حکومتی، طبی اور عوامی حلقوں میں کورونا کی دوسری لہر میں شدت کے حوالہ سے سردمہری کا بھی چرچا ہے، عوام پر الزام ہے کہ وہ دوسری لہر سے بے پروائی کا طرز عمل اختیار کر رہے ہیں ، ماسک، سماجی فاصلہ اور ہجوم سے الگ رہنے کی ہدایات کو نظر انداز کر رہے ہیں، میڈیا پر جاری بحث میں بتایا جاتا ہے کہ لوگ بھی ایس اوپیز کی پابندی سے تنگ آ گئے، ان کی بیزاری کی وجہ بھی واضح ہے۔

حکومت کی پالیسی کورونا پر فوکس نہیں ہے، اس کی حکمت عملی کا بوجھ حکومت یا صحت حکام پر نہیں صرٖف ہماری فرنٹ لائن طبی فورسزپر ہے، مریضوں یا عوام کو ڈرایا جا رہا ہے کہ ہم ایران کی صورتحال سے مماثلت کے قریب پہنچنے والے ہیں، یہ ''شیر آیا شیر آیا'' سے مختلف صورتحال نہیں، جب کہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ریاست وحکومت مل کر عوام کے سماجی، معاشی اور نفسیاتی مسائل کا کوئی دوررس حل نکالیں۔

بعض فہمیدہ طبی حلقے اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ کورونا ایک سفاک وبائی مرض ہے لیکن اس بات پر وہ حکومتی طرز عمل اور کورونا کی دوسری لہر پر حکمت عملی پر دیگر سیاسی ترجیحات سے متفق نہیں، حکومت کے پاس عوام کو صرف ماسک پہننے اور سماجی فاصلہ رکھنے یا اجتماع سے بچنے کی ہدایات کے سوا کوئی اقتصادی پلان نہیں، سوال یہ ہے کہ کیا کروڑوں افراد روزگار، رزق، اور جینے کے لیے کشمکش حیات سے الگ رہتے ہوئے خود کو صرف کورونا سے بچانے کی تدبیر ہی کرتے رہیں گے یا ان کے لیے حکومت کے پاس کوئی فنڈز بھی ہیں، جب سارے وسائل کورونا سے متاثرہ افراد خود ہی مہیا کریں گے تو کون حکومت کی سنجیدگی پر توجہ دیگا۔ ماہرین کے مطابق دوسری لہر سے عوامی بیزاری ایک خطرناک دی اینڈ کی طرف لے جا سکتی ہے۔

ایک تحقیق میں دیکھا گیا کہ ایک مخصوص آبادی میں سورج کی روشنی، درجہ حرارت، نمی وغیرہ میں آنے والی تبدیلیوں سے وبا پر کیا اثرات مرتب ہوئے۔ محققین کے مطابق بنیادی طور پر ہم یہ پوچھ رہے تھے کہ ماحولیاتی صورتحال پر روزانہ کی بنیاد پر آنے والی تبدیلیوں سے کسی آبادی میں کیسز کی شرح میں 2 ہفتے بعد کس حد تک اثرات مرتب ہوئے۔ محققین نے الٹرا وائلٹ ریڈی ایشن اور کووڈ 19کے درمیان تعلق کے لیے وبا کے آغاز سے جمع ہونے والے ڈیٹا کو استعمال کیا اور پھر کووڈ 19 پر موسمی تبدیلیوں کے اثر و رسوخ کے درمیان تعلق کو جانچا گیا۔

انھوں نے دریافت کیا کہ شمالی نصف کرے میں موسم سرما اور گرما کے دوران الٹرا والٹ ریڈی ایشن میں آنے والی تبدیلیوں سے کووڈ 19 کے پھیلاؤ کی شرح میں اوسطاً 7 فیصد تک کمی آئی، جو کہ وبا کے آغاز کے مقابلے میں 50 فیصد کم تھی۔ اگرچہ تحقیق میں کووڈ 19 پر الٹرا وائلٹ ریڈی ایشن میں ہونے والی تبدیلیوں کے موسمی اثر کو ثابت کیا گیا، تاہم اس حوالے سے بہت کچھ ابھی سامنے نہیں آسکا ہے، یعنی درجہ حرارت اور نمی جیسی ماحولیاتی اثرات کس حد تک اثرانداز ہوتے ہیں۔ محققین کا کہنا تھا کہ ہم الٹرا وائلٹ کے اثر کے حوالے سے پراعتماد ہیں، مگر یہ مکمل موسمی تصویر کا بس ایک پہلو ہے۔

انھوں نے کہا کہ موسمی اثر کووڈ 19 کے پھیلاؤ کا تعین کرنے والے عناصر کا محض ایک حصہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم نے دیکھا کہ موسم گرما میں الٹرا وائلٹ ریڈی ایشن سے وائرس کو سماجی دوری کی پالیسیوں کے بغیر پھیلنے سے روکا نہیں جا سکا تھا۔

موسم سے ہٹ کر دیگر اقدامات وبا کے پھیلاؤ کو سست کرنے کے لیے ضروری ہیں۔ محققین یہ بھی تعین کرنے میں ناکام رہے کہ الٹرا وائلٹ ریڈی ایشن سے کووڈ 19 کا پھیلاؤ کم کیوں ہوا، کیا اس کی وجہ سطح یا ہوا میں موجود وائرس کا مرنا تھا یا کچھ اور۔ ایسا بھی ممکن ہے کہ روشن دنوں میں وٹامن ڈی بننے کا عمل جسم میں تیز ہوجاتا ہے جس سے مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہو اور کووڈ کا خطرہ کم ہو جاتا ہو۔

درحقیقت یہ بحث بھی بچوں کے کورونا سے متاثر نہ ہونے کے مفروضہ کی بنیاد پر پیدا ہوئی ہے، عوام اس طرز عمل کا شکار ہیں کہ اگر کورونا سے ہلاکتیں اس قدر ہولناک ہوسکتی ہیں تو ارباب اختیار اس پر جنگی یا ہنگامی اقدامات میں پیش پیش کیوں نہیں ہوتے، ان کی اپوزیشن سے لڑائی کیا کورونا سے نمٹنے سے زیادہ اہم ہے۔

اسی تضاد میں عوامی سردمہری یا بیزاری کا رازپوشیدہ ہے۔ وقت آگیا ہے کہ حکومت کورونا کی عفریتی طاقت کو سیاسی مصلحت اور عوام کو اپنی صحت کا خیال رکھنے کا مسئلہ نہ سمجھے۔ یہ حکمرانی کے معروضی بیانیہ کی صداقت کا سوال ہے، عوام بلاشبہ کورونا سے مر رہے ہیں مگر سوال یہ ہے کہ حکومت کی لڑائی کورون کے خلاف ہے یا سیاسی مخالفین اس کا فوکس ہیں۔ اولیت کس مسئلہ کو حاصل ہے؟

مقبول خبریں