آئی سی سی ایوارڈز پاکستان کو بائیکاٹ سے روکنے کی کوششیں شروع

نامزدگیوں کا طریقہ کارسمجھانے کیلیے پریذنٹیشن دینے کی پیشکش،پی سی بی بھی ڈٹ گیا،پلیئرزکوتقریب میں نہیں بھیجا جائیگا


Saleem Khaliq September 08, 2012
نامزدگیوں کا طریقہ کارسمجھانے کیلیے پریذنٹیشن دینے کی پیشکش،پی سی بی بھی ڈٹ گیا،پلیئرزکوتقریب میں نہیں بھیجا جائیگا۔ فوٹو: اے ایف پی

تقریب کے بائیکاٹ کی پاکستانی دھمکی بھی آئی سی سی کا موقف تبدیل نہیں کرا پائی۔

سعید اجمل بدستورآئی سی سی ایوارڈز کی شارٹ لسٹ سے باہر ہیں، البتہ کونسل نے پی سی بی کو اس انتہائی اقدام سے باز رکھنے کی کوشش شروع کر دی اور نامزدگیوں کا طریقہ کار سمجھانے کیلیے پریذنٹیشن دینے کی پیشکش کی ہے، یہ تجویز رد کرتے ہوئے بورڈ نے اپنے پلیئرز کو تقریب میں نہ بھیجنے کا تقریباً حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق کامیاب ترین اسپنر سعید اجمل کا نام ایوارڈز کی فہرست سے باہر ہونے پر پاکستان نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کو دو احتجاجی خطوط تحریر کیے مگر ان کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔

گذشتہ دنوں جب چیئرمین ذکا اشرف نے تقریب کے بائیکاٹ کا عندیہ دیا تو آئی سی سی نے انھیں اس سے روکنے کی کوشش شروع کر دی ہے، باخبر ذرائع نے بتایا کہ کونسل کے اعلیٰ افسران نے پی سی بی کے ساتھ رابطہ کر کے سمجھایا کہ بائیکاٹ سے کچھ حاصل نہیں ہو گا،البتہ سعید اجمل کا نام اس مرحلے میں شارٹ لسٹ کیا جانا بھی ممکن نہیں، پاکستانی حکام نے جب انھیں عوام کے جذبات سے آگاہ کیا تو آئی سی سی آفیشل نے پیشکش کی کہ وہ پریذنٹیشن دے کر نامزدگیوں کا طریقہ کار سمجھانے کو تیار ہیں، اس سے لوگوں کو اندازہ ہو جائے گا کہ یہ ایک شفاف عمل ہے۔

پی سی بی نے یہ تجویز رد کرتے ہوئے تقریب میں اپنے کھلاڑیوں کو نہ بھیجنے کا تقریباً فائنل فیصلہ کر لیا ہے، گذشتہ روز بھی چیئرمین ذکا اشرف اس معاملے میں اپنے رفقا سے مشاورت کرتے رہے، تقریباً سب ہی لوگ اس بات پر متفق نظر آئے کہ پاکستان کو اس معاملے میں سخت موقف اپنا کر احتجاج ریکارڈ کرانا چاہیے، سابق کرکٹرز بھی بورڈ کے موقف کی حمایت کر رہے ہیں۔ دریں اثنا پی سی بی کو لگتا ہے کہ چونکہ اس نے ڈیورچرڈسن کے بطور چیف ایگزیکٹیو تقرر کے طریقہ کار کی مخالفت کی تھی لہذا وہ اسی لیے اب سخت موقف اپنا رہے ہیں۔

دوسری جانب آئی سی سی اس تاثر سے متفق نہیں اور موقف اپنایا کہ رچرڈسن کا ایوارڈز کی نامزدگیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے،ابتدائی فہرست سابق ویسٹ انڈین کپتان کلائیو لائیڈ کی زیرسربراہی5 رکنی کرکٹ کمیٹی نے تشکیل دی،اس نے سعید اجمل کو ٹیسٹ ٹیم آف دی ایئر میں شامل کرنے کے ساتھ2 ایوارڈز کیلیے نامزد کیا، یہ فہرست آئی سی سی بورڈ سے منظور شدہ32 رکنی ووٹنگ اکیڈمی کو ارسال کی گئی جس نے اپنے ووٹس دے کر واپس آئی سی سی کو بھیجی،کونسل کے آڈیٹرز نے ووٹس کی گنتی کر کے حتمی لسٹ تیار کی۔

اس پورے مرحلے میں کسی پلیئر کی قومیت وغیرہ کو نہیں دیکھا گیااور مکمل شفافیت برتی گئی۔ سابق انگلش اسپنر گریم سوان کے حوالے سے کونسل کا موقف ہے کہ ان کا نام 2010 کی ابتدائی فہرست میں شامل ہونے سے سہواً رہ گیا تھا ، غلطی کا علم ہوتے ہی فوراً تصحیح کر لی گئی سعید اجمل کا کیس اس سے بالکل مختلف ہے۔