کورونا وائرس متاثرین کی تعداد میں اضافہ

ہمارے نظام صحت پر بوجھ بڑھ گیا ہے اور معاشی ترقی کا عمل بھی دوبارہ متاثر ہونا شروع ہو چکا ہے۔


Editorial December 23, 2020
ہمارے نظام صحت پر بوجھ بڑھ گیا ہے اور معاشی ترقی کا عمل بھی دوبارہ متاثر ہونا شروع ہو چکا ہے۔ فوٹو: فائل

پاکستان میں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ دیکھا جا رہا ہے، گزشتہ روز کورونا وائرس سے مزید 62 افراد انتقال کر گئے جس سے کل اموات 9418 ہوگئیں، وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار سمیت 1580 نئے مریض سامنے آ گئے، جس سے مصدقہ کیسز کی تعداد 4 لاکھ 59 ہزار 903 ہو گئی جب کہ فعال کیسز کی تعداد 40168 ہے۔

دنیا کو تقریباً سو برس بعد کووِڈ۔ 19 جیسی عالمی وبا کا سامنا ہے۔ پاکستان نے کووِڈ۔ 19 کی پہلی لہر کا اچھی طرح مقابلہ کیا تھا مگر اب ہمیں اس کی دوسری لہر کا سامنا ہے جو کہ پہلی لہر سے زیادہ خطرناک ثابت ہو رہی ہے۔ہمارے نظام صحت پر بوجھ بڑھ گیا ہے اور معاشی ترقی کا عمل بھی دوبارہ متاثر ہونا شروع ہو چکا ہے۔

الارمنگ صورتحال کا اندازہ صرف اس بات سے باسانی لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا بھر میں کورونا وائرس کی وبا سے اموات کی تعداد 17 لاکھ تک پہنچ گئی ہے، مختلف ملکوں میں مہلک وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد7 کروڑ 71 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

ہم اس حقیقت سے منہ نہیں پھیر سکتے کہ کورونا کی دوسری لہر تیزی سے پھیل رہی ہے یہاں تک کہ ان علاقوں تک پہنچ چکی ہے جو پہلی لہر کے دوران وائرس سے بچ گئے تھے۔ مثبت کیسز کا تناسب بہت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ اسپتالوں پر بوجھ بھی بڑھ رہا ہے۔ ملکی کے ساتھ عالمی سطح پر بھی کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی شرح میں تشویشناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ اسی سنگین صورتحال کی پیش نظر وفاقی حکومت نے برطانیہ سے آنے والے مسافروں کے پاکستان میں داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے جب کہ سعودی حکام کی جانب سے کورونا کے باعث عالمی پروازیں منسوخ کرنے کے بعد پی آئی اے نے وہاںجانے والی تمام پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔

یہ سچ ہے کہ کورونا وبا انتہائی مہلک ہے لیکن اس پر قابو پایا جا سکتا ہے، بشرطیکہ ہم اپنی لاپرواہی والی روش کو بحیثیت قوم ترک کریں ، ایس او پیز پر عمل کرنے کی وجہ سے ہم نے پہلی لہرکو قابو کر لیا تھا، لیکن اس بار ہم نے احتیاط کا دامن چھوڑ دیا ہے ، لاپرواہی اور غفلت برتنے کی انتہا کر دی ہے، یہی وجہ ہے کہ ملک کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی شرح خطرناک حدیں پار کر چکی ہے۔ اس بات کی تصدیق ان اعداد و شمار کے روشنی میں کی جا سکتی ہے۔

نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کے مطابق اس وقت ملک میں کورونا کے مثبت کیسز کا سب سے زیادہ تناسب کراچی میں 13.01 فیصد، اس کے بعد لاہور میں 9.49 فیصد تیسرے نمبر پر میر پور (آزاد کشمیر) میں8.47 فیصد ہے۔ ملک بھر میں 2 ہزار403کورونا مریضوں کی حالت تشویشناک ہے اور تشویشناک حالت والے مریضوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ دوسری جانب مزید حقائق جو منظرعام پر آئے ہیں ان کے مطابق ملک میں ہونے والی اموات میں سے70 فیصد مرد جاں بحق ہوئے جن کی اوسط عمریں61 سال ہیں اور جاں بحق ہونے والوں میں سے77.5 فیصد افراد وہ تھے ، جن کی عمریں 50 سال سے زائد تھی۔

73فیصد افراد مختلف بیماریوں میں مبتلا تھے اور جاں بحق افراد میں سے91 فیصد اسپتالوں میں زیر علاج تھے جب کہ 58 فیصد مریض وینٹی لیٹرز پر دوران علاج جاں بحق ہوئے۔ مریضوں کی تعداد میں اضافے کی وجہ یہ ہے کہ ہم نے ایس او پیز پر عمل جاری نہیں رکھا ہے۔ ہمیں چاہیے گھر سے باہر نکلتے وقت ماسک کا استعمال کریں تا کہ وائرس کے پھیلاؤ کو 70 فی صد تک کم کیا جا سکے۔

دوسری جانب کورونا کے علاج میں موثر ترین انجکشن کی خریداری سے سرکاری اسپتالوں کو روک دیا گیا، ایک انجکشن کی قیمت چھ ہزار روپے ہے۔ ملک میں صحت کی سہولتیں پہلے ہی ناکافی ہیں چہ جائیکہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے بعد اسپتالوں پر دباؤ میں اضافہ ہوا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق کورونا وبا سے ا ب تک خیبر پختونخوا میں 27ڈاکٹر فرنٹ لائن پر لڑتے ہوئے شہید ہو چکے ہیں مگر صوبائی حکومت نے اعلان کے باوجود گزشتہ آٹھ ماہ سے صوبے میں کورونا سے شہید ہونے والے ڈاکٹرز اور دیگر ہیلتھ ملازمین میں شہدا پیکیج کے تحت مالی امداد فراہم نہیں کی، جب کہ دوسری طرف صوبائی حکومت اور محکمہ صحت کی نااہلی کا یہ عالم ہے کہ کورونا وبا کے حوالے سے اب تک 12 ارب روپے خرچ کرنے کے باوجود صوبے کے بڑے اسپتال سہولیات سے محروم ہیں۔

کورونا وبا کی نئی قسم کی شناخت برطانیہ کے علاوہ اٹلی، ڈنمارک، نیدرلینڈز، آسٹریلیا اور بلجیم میں بھی کی گئی ہے۔برطانیہ میں کورونا کی نئی قسم کی شناخت کے بعد سے پوری دنیا میں یہ سوال پوری شدت سے پوچھا جا رہا ہے کہ کیا ایجاد کردہ کورونا ویکسین نئی قسم کے وائرس کے خلاف بھی مؤثر ثابت ہو گی؟ جب کہ عالمی ادارہ صحت نے یورپ میں نئے کورونا وائرس کے خطرات سے بچنے پر زور دیا ہے۔

پاکستان میں حکومت نے حزب اختلاف کو متنبہ کیا ہے کہ کورونا قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیوں پر اس کے خلاف ایکشن لیا جا سکتا ہے۔ پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ اس ایکشن کے نتیجے میں حزب اختلاف کے رہنماؤں کو گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے، جب کہ اپوزیشن جماعتیں اپنا احتجاجی پروگرام ترک کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔

کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں بلاشبہ جلسے بھی ایک بنیادی کردار ادا کر رہے ہیں ، ہماری سیاسی قیادت کو اس نازک موقعے پر دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے، ایسا طرز عمل اختیار کرنا چاہیے جوکہ انسانی جانوں کے تحفظ کا سبب بنے، قوم اپنے لیڈروں کی پیروی کرتی ہے، لہٰذا کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنا سب کی قومی ذمے داری بنتی ہے۔ یہاں عوام سے بھی سوال ہے کہ کیا ہم بسوں میں ایس او پیز کا خیال کر رہے ہیں؟

45 سیٹوں والی مسافر بسوں کی ٹرانسپورٹرز فل بکنگ کر رہے ہیں اور اب تو ایک سیٹ چھوڑ کر ایک سیٹ پر مسافر بٹھانے والی سختی بھی ختم ہو چکی ہے۔ یہ طرز تغافل ہمیں لے ڈوبے گا۔ دوسری جانب پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے فضائی مسافروں سے کہا گیا ہے کہ سفر سے 72 گھنٹے پہلے کورونا منفی ہونے کی رپورٹ لے کر آئیں، برطانیہ سے آنے والے پاکستانی مسافروں کا ایئر پورٹ پر پی سی آر ٹیسٹ کیا جائیگا، ٹیسٹ منفی آنے تک مسافروں کو سرکاری طور پر قرنطینہ میں رکھا جائیگا۔ ٹیسٹ منفی آنے کے بعد بھی مسافروں کو 7 دنوں تک زبردستی ان کے گھروں میں قرنطینہ کیا جائیگا جب کہ گزشتہ سات دنوں کے دوران برطانیہ سے آنے والے مسافروں کا کورونا ٹیسٹ کیا جائیگا۔

سعودی حکام کی جانب سے کوروناکے باعث عالمی پروازیں منسوخ کرنے کے بعد پی آئی اے نے وہاں جانے والی تمام پروازیں منسوخ کر دیں۔ ریلوے حکام نے کورونا کے پیش نظر ٹرینوں میں عملے کے ٹکٹ اپنے ہاتھ میں لے کر چیک کرنے پر پابندی عائدکر دی ہے۔ ایس او پیز کے تحت ٹرین عملہ ٹکٹ اپنے ہاتھ میں لے کر چیک نہیں کرے گا اور عملے کے کوچز میں داخل ہونے کے بعد دروازے بند کر دیے جائیں گے۔ دروازے ٹرین رکنے یا اسٹیشن پہنچنے پر ہی کھلیں گے، ہر اسٹیشن پر ایک ویٹنگ روم آئسولیشن روم میں تبدیل کیا گیا ہے۔

حکومت نے 150 ملین ڈالر کا سرمایہ ویکسین کے حصول کے لیے مختص کیا ہے اور اس فہرست میں چین سب سے اوپر ہے۔ موسم بہار میں اس وائرس کی پہلی لہر کے تناظر میں چین نے پاکستان کو میڈیکل آلات اور دیگر حفاظتی ساز و سامان مہیا کیا تھا۔ اس کے علاوہ چین کی جانب سے متعدد طبی ماہرین بھی پاکستان کی معاونت کے لیے بھیجے گئے تھے۔ پاکستانی حکومت نے کورونا وائرس کی ویکسین کے لیے کروڑوں ڈالر سرمایہ خرچ کیا ہے تاہم پاکستانیوں کو ابھی مزید کتنا انتظار کرنا ہو گا؟

چینی ویکسین ساز ادارے اس وقت پاکستان میں کورونا وائرس ویکسین کے حتمی آزمائشی مرحلے میں ہیں۔ ویکسین کا حصول ایک مثبت پہلو تو ہے لیکن دوسری جانب ویکسین مخالف جذبات کا مقابلہ کرنا ایک عالم گیر مسئلہ بن چکا ہے لیکن پاکستان میں یہ باقی ممالک کے مقابلے میں زیادہ خطرناک ہے۔ پاکستان میں پولیو ویکسین مہم کے دوران ہونے والے حملوں میں درجنوں افراد قتل ہو چکے ہیں اور عدم اعتماد اور خوف کی اس فضا کی وجہ سے افغانستان کے علاوہ صرف پاکستان وہ ملک ہے جہاں ابھی تک اس بیماری کا خاتمہ نہیں ہوا ہے۔

سال میں کئی بار چلائی جانے والی پولیو ویکسی نیشن مہم میں ہر بار لاکھوں بچوں کو قطرے پلائے جاتے ہیں لیکن کئی جگہ والدین ایسے ہی سازشی مفروضوں کے باعث اپنے بچوں کو قطرے پلانے سے انکار کر دیتے ہیں۔ لہٰذا ہم حکومت سے توقع کرتے ہیں کہ وہ کورونا وائرس کے حوالے سے سوشل میڈیا پر چلنے والی جھوٹی خبروں اور سازشی مفروضوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے قانون سازی کرے، جب تک اس حوالے سختی نہیں برتی جائے گی صورتحال کی سنگینی پر قابو پانا ممکن نہیں ہو گا۔

گزشتہ ہفتے پاکستان میں 20 ہزار افراد میں کورونا وائرس کی تشخیص کی گئی۔کورونا وائرس کے متاثرین میں اضافہ کی وجہ سے اسپتالوں میں مریضوں کی تعداد میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔ اس وقت تک ملک بھر میں کورونا کے440,000 سے زیادہ مصدقہ کیسز منظر عام پر آ چکے ہیں اور حکومتِ پاکستان ایک مرتبہ پھر وائرس کے پھیلاؤ میں کمی لانے کے لیے سخت اقدامات اٹھا رہی ہے۔ صحت کے صوبائی محکمہ جات اور انتظامیہ عوامی مقامات پر تمام ضروری اقدامات اٹھاتے ہوئے لوگوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے کہ وہ ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنائیں تا کہ وائرس سے بچا جا سکے۔

وبا کی پہلی لہر کے دوران ، ہمارا بروقت ردعمل اور احتیاطی تدابیر پرعمل کرنا دنیا کے لیے ایک مثال بنا تھا۔ حکومت کو ایک بار پھر عوام سے تعاون درکار ہے، صرف چند احتیاطی تدابیراختیار کر کے ہم سب اپنے پیاروں اور ہم وطنوں کی زندگیوں کو بچا سکتے ہیں۔ کرسمس اور شادی کے موقعے پر ماسک پہنیں، اس بات کو یقینی بنائیں کہ ہماری خوشیاں کسی کے لیے پریشانی یا دکھ کا باعث نہ بنیں۔ کورونا کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک اہم بات یہ ہے کہ ہم اس بات کو یاد رکھیں کہ یہ وبا ابھی ختم نہیں ہوئی ہے اور اس بچاؤ کا واحد ذریعہ احتیاط، احتیاط اور صرف احتیاط ہے۔

مقبول خبریں