گیس کی قلت شدت اختیار کرگئیکھاد ساز صنعت کو بھی فراہمی بند

سمیت سندھ کے متعددعلاقوں اورکوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں قدرتی گیس کی قلت کی شکایات بڑھ گئی


Business Reporter December 29, 2013
اگرطلب اور رسد کا فرق دورکرنے کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات نہ کیے گئے توصورتحال مزیدخراب ہوسکتی ہے۔فوٹو:فائل

سوئی سدرن گیس کمپنی کے سسٹم میں گیس کی قلت کے باعث کراچی سمیت سندھ اوربلوچستان میں قدرتی گیس کی قلت شدت اختیارکرگئی ہے، ذرائع نے بتایا کہ قدرتی گیس کی ایک ارب 17کروڑ مکعب فٹ ک رسد کے مقابلے میں طلب ایک ارب 40کروڑمکعب فٹ تک پہنچ گئی ہے۔

جس کے نتیجے میں کراچی سمیت سندھ کے متعددعلاقوں اورکوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں قدرتی گیس کی قلت کی شکایات بڑھ گئی ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ ایس ایس جی سی نے گیس بحران کو کم کرنے کی غرض سے مقامی کھاد ساز صنعت کو بھی قدرتی گیس کی سپلائی روک دی ہے اور اس صنعت کے حصے کی گیس کراچی سمیت سندھ کے گھریلوصارفین کو فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کی ہے، واضح رہے کہ مذکورہ کھاد ساز صنعت کو 4.5 کروڑ مکعب فٹ گیس فراہم کی جارہی تھی، اسی طرح سی این جی فلنگ اسٹیشنز کو بھی قدرتی گیس کی سپلائی روکنے کی حکمت عملی وضح کی گئی ہے۔

تاکہ سی این جی سیکٹر کی گیس بھی گھریلو صارفین کو فراہم کی جاسکے، ذرائع کاکہنا ہے کہ اگرطلب اور رسد کا فرق دورکرنے کرنے کے لیے ہنگامی اقدامات نہ کیے گئے توصورتحال مزیدخراب ہوسکتی ہے جبکہ صنعتی شعبے کی جانب سے زبردست ردعمل بھی سامنے آسکتا ہے، ذرائع نے بتایا کہ گیس کی قلت کے معاملے پرقابو پانے کے لیے سوئی سدرن گیس کمپنی کے حکام نے ہنگامی ایکشن پلان مرتب کرنے کی حکمت عملی وضح کرلی ہے۔