دردانگیز سانحہ

دنیا کے ایک میگا سٹی میں شہری حکومت کے پاس ملبہ ہٹانے کے لیے ہیوی مشینری تک نہیں ہے۔


Editorial December 24, 2020
دنیا کے ایک میگا سٹی میں شہری حکومت کے پاس ملبہ ہٹانے کے لیے ہیوی مشینری تک نہیں ہے۔ فوٹو : فائل

شہرقائد میں نیوکراچی کے صنعتی ایریا میں برف کے کارخانے میں بوائلر دھماکے سے پھٹ گیا، جس کے نتیجے میں دس مزدور ملبے تلے دب کر جاں بحق اور 2 درجن سے زائد زخمی ہوگئے، فیکٹری کی چھت زمین بوس ہوگئی اور اس سے متصل 10کارخانوں کو بھی نقصان پہنچا۔ یہ افسوسناک واقعہ ضرور ہے ،لیکن اسے ہم اتفاقی حادثہ ہرگز قرار نہیں دے سکتے ہیں۔

انسانی جانوں کا زیاں بہت سے سوالات کو جنم دیتا ہے، درحقیقت صنعتی ایریا میں قواعد وضوابط کی خلاف ورزیاں عام ہیں ، جب کہ متعلقہ ادارے جو قانون پر علمدرآمد کروانے پر مامور ہیں وہ نذرانے وصول کرنے کے بعداپنی آنکھیں بند کرلیتے ہیں۔

لہٰذا ایسے اندوہناک واقعات کا ایک تسلسل ہے جورکنے کا نام نہیں لے رہا ہے، کیونکہ یہ واقعہ نہ پہلا ہے اور نہ آخری ۔مزدوروں کے جان ومال کے تحفظ کی ذمے داری تو فیکٹری مالکان کی ہوتی ہے کہ وہ ایسے حفاظتی اقدامات کا بندوبست کریں لیکن دولت کمانے کی ہوس نے سرمایہ دار طبقے کو ہر احساس سے عاری کردیا ہے۔

مزدوروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے حکومت نے ادارے بھی قائم کر رکھے ہیں لیکن ان کے اہلکار بھی صنعتی ایریاز کا وزٹ مہینوں تو کیا برسوں تک نہیں کرتے ہیں۔متعدد زخمی تو اسپتال منتقلی کے دوران صرف اس وجہ سے دم توڑ جاتے ہیں کہ کارخانے سے اسپتال تک فاصلہ بہت زیادہ طویل ہوتا ہے، جب بھی کوئی سانحہ ہوتا ہے تو ملبہ ہٹانے کے لیے پاک فوج یا رینجرز کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔

دنیا کے ایک میگا سٹی میں شہری حکومت کے پاس ملبہ ہٹانے کے لیے ہیوی مشینری تک نہیں ہے، اس واقعے کے نتیجے میں جتنا زیادہ مالی نقصان ہوا ہے وہ بھی ایک سوالیہ نشان ہے، گو کہ وزیراعلیٰ سندھ نے واقعہ کا نوٹس لے لیا ہے اور اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔

ہم صوبائی حکومت اور اس کے متعلقہ اداروں سے امید رکھتے ہیں کہ حادثے میں جاں بحق مزدوروں کے لواحقین کی مالی امداد کا اعلان کیا جائے گا اور زخمیوں کو مفت علاج ومعالجے کی سہولتیں فراہم کی جائیں گی،تاکہ ان کے دکھ کا کچھ مداوا ہوسکے۔

مقبول خبریں