آرمی چیف کا ملکی دفاع یقینی بنانے کا عزم

بھارت کی منفی پروپیگنڈہ مہم دراصل کشمیر کی صورتحال سے عالمی توجہ ہٹانے کی ایک طے شدہ سازش کا حصہ ہے۔


Editorial December 24, 2020
بھارت کی منفی پروپیگنڈہ مہم دراصل کشمیر کی صورتحال سے عالمی توجہ ہٹانے کی ایک طے شدہ سازش کا حصہ ہے۔ فوٹو: فائل

بھارتی فوج کی کسی بھی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دیا جائیگا، مادر وطن کی عزت اور وقار سمیت جغرافیائی سرحدوں کا ہر قیمت پر دفاع یقینی بنائیں گے، ان خیالات کا اظہار آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے لائن آف کنٹرول کے دورے کے موقعے پر فوجی جوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔

بلاشبہ دفاع وطن افواج پاکستان کے ایمان کا حصہ ہے،بدقسمتی سے بھارت نے قیام پاکستان کے وقت سے مستقل مخاصمت کی بنیاد رکھی ہے، نتیجتاً کشمیر ایشو پر پاکستان اوربھارت میں چار جنگوں کی نوبت آئی اور آج بھی لائن آف کنٹرول پر بلااشتعال فائرنگ کرکے معصوم اور بے گناہ آبادی کو نشانہ بنانا بھارت نے ایک معمول بنالیا ہے، چند دن پیشتر یو این فوجی مبصرین کی گاڑی کو نشانہ بنانے کے اقدام سے دنیا پر یہ سچ عیاں ہوا ہے کہ بھارت توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کے لیے کچھ بھی کرسکتا ہے۔درحقیقت یہ سوچ ہی علاقائی امن و استحکام کے لیے خطرہ ہے۔

پاکستان کی سلامتی کے خلاف بھارتی سازشوں کا تو قیام پاکستان کے وقت سے ہی آغاز ہو گیا تھا جس نے شروع دن سے ہی پاکستان کے آزاد اور خودمختار وجود کو دل سے تسلیم نہ کیا کیونکہ بھارتی لیڈران قیام پاکستان کو اپنے اکھنڈ بھارت کے ایجنڈا کے منافی سمجھتے تھے۔

اسی پس منظر میں بھارت نے پاکستان کو اقتصادی طور پر کمزور کرنے کی نیت سے کشمیر کا پاکستان کے ساتھ الحاق نہ ہونے دیا تاکہ وہ کشمیر سے پاکستان آنیوالے دریاؤں کے پانی کو کنٹرول کر کے پاکستان کو کمزور اور بے بس کرسکے۔ اس بھارتی سازش نے ہی دونوں ممالک میں سرحدی کشیدگی کی بنیاد رکھی جب کہ بھارت نے کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں کو تسلیم نہ کرکے اور پھر اپنے آئین میں ترمیم کرکے کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ قرار دے کر اپنی ہٹ دھرمی کا ثبوت فراہم کیا۔

اس وقت مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت بھارت نے ختم کردی ہے، اور تاریخ کا طویل ترین لاک ڈاؤن مقبوضہ کشمیر میں جاری ہے، یہ درحقیقت عالمی ضمیر پر ایک سوالیہ نشان بھی ہے۔ بھارت نے 1971 میں مکتی باہنی کی سازش کے تحت پاکستان کو دولخت کیا اور پھر باقی ماندہ پاکستان کی سلامتی پر بھی اوچھے وار کرنے کے لیے خود کو ایٹمی قوت بنالیا چنانچہ پاکستان کے پاس بھی اپنی سلامتی کے تحفظ اور مکار دشمن کے سازشی ذہن کے توڑ کے لیے خود کو ایٹمی قوت سے ہمکنار کرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں تھا۔

اس سلسلہ میں اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے اہم پیش رفت کی اور ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر اے کیو خان کو ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کا فریضہ سونپا۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان ایٹمی قوت نہ بنا ہوتا تو بھارت اپنے جنونی عزائم اور ایجنڈا کے تحت پاکستان کو کب کا ہڑپ کرچکا ہوتا۔

ادھر بلوچستان، آواران کے علاقے گوارگو میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں دس دہشت گرد ہلاک ہوگئے ،دہشت گردوں کے ٹھکانے سے بھاری مقدار میں اسلحہ وگولہ بارود برآمد ہوا ہے، یہ سچائی اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں کہ بھارت کی طرف سے بلوچستان میں گڑبڑ کرانے کی کوششیں کی جارہی ہیں اور اب انھوں نے اپنا دائرہ بیرون ملک تک وسیع کردیا ہے۔ بھارتی خفیہ ایجنسی را اور پاکستان دشمن قوتوں کی طرف سے شرپسندوں کو بھاری رقوم دے کر پاکستان کے خلاف اکسایا جا رہا ہے۔

بھارت مسئلہ کشمیر سے عالمی توجہ ہٹانے کے لیے پاکستان کے خلاف ہر سطح پر سازشیں کررہا ہے۔ افغانستان کے لوگوں کو بھارتی چالوں سے ہوشیار رہنا چاہیے اور اپنے محسن پاکستان کے ساتھ بھائی چارہ اور اچھے روابط کو فروغ دینا چاہیے۔

بھارت نے پاکستان پر دہشت گردی کا لیبل لگوانے کے لیے ایک سازشی تھیوری تیار کی ہے اور وہ آج تک اسی تھیوری کے تحت پاکستان پر دہشت گردی کا ملبہ ڈالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا۔ممبئی حملوں سے اوڑی حملے تک بھارت پاکستان ہی کو گردن زدنی ٹھہرانے کی کوشش کررہا ہے تاہم اب نوجوان کشمیریوں نے اپنی جدوجہد آزادی میں نیا رنگ بھر کر اور قربانیوں کی نئی مثالیں قائم کرکے پوری دنیا کو بھارتی مظالم کی جانب متوجہ کردیا ہے۔

اس کے توڑ کے لیے بھارت پاکستان کو دنیا میں تنہاء کرنے کی سازشوں میں مصروف ہے اور اسی تناظر میں اس کی جانب سے یواین جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے موقع پر اوڑی حملے کا ڈرامہ رچا کر بلاتحقیق اس کا ملبہ پاکستان پر ڈالا گیا مگر حقائق و شواہد نے اس کے عزائم کا بھانڈہ پھوڑ دیا تھا۔ تازہ ترین خبر کے مطابق برطانیہ میں پاکستانیوں کے خلاف نفرت پھیلانے پر بھارتی ٹی وی چینل کو 20 ہزار پاؤنڈ جرمانہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بھارتی چینل ری پبلک ٹی وی میں میزبان ارنب گوسوامی کے ایک پروگرام میں پاکستانیوں کو برے القابات سے پکارا گیا تھا۔

آف کام کا کہنا ہے کہ پروگرام کے دوران پاکستانیوں کے خلاف جذبات کو ابھارا گیا۔ ایسے پروگرام پاکستانیوں کی جان کے لیے خطرے کا باعث بن سکتے ہیں۔برطانوی ادارے کا کہنا ہے کہ ارنب گوسوامی نے اپنے پروگرام میں صحافتی اقدار کی دھجیاں بکھیریں۔جرمانے کی سزا کے بعد بھارتی ٹی وی چینل نے آف کام کو یقین دہانی کرائی ہے کہ برطانیہ میں آیندہ ایسا پروگرام نشر نہیں ہوگا جو کہ مقامی قوانین سے مطابقت نہ رکھتا ہو۔اس طرح پاکستان کو بدنام کرنے کی ایک اوربھارتی کوشش ناکام ہوگئی اور بھارت کی عالمگیر رسوائی کاایک اور باب کھل گیا۔ دولت اور گمراہ کن پراپیگنڈے کے ساتھ پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کا بھانڈا بیچ چوراہے پھوٹ گیا ۔

چند روز پیشتر یورپی یونین کے اپنے تحقیقی ادارے 'ای یو بمقابلہ ڈس انفو' نے انکشاف کیا تھا کہ یورپی پارلیمان کے حوالے سے خبریں شائع کرنے والا 'ای پی ٹوڈے' نامی جریدہ، رشیا ٹوڈے اور وائس آف امریکا کی خبریں چھاپ رہا ہے۔ اس جریدے کا انتظام انڈین اسٹیک ہولڈرز کے ہاتھ میںہے جن کے تعلقات 'سری واستوا' نامی ایک بڑے نیٹ ورک کے تحت کام کرنے والی این جی اوز، تھنک ٹینکس اور ان سے منسلک افراد سے ہے۔ اس نیٹ ورک میں 250 سے زائد فیک ویب سائٹس سامنے آئیں جو پرانے اور غیر فعال یا جعلی نام والے اخبارات سے انڈین بیانیے کی حمایت والی خبریں شائع کر رہے تھے۔

بھارت کی منفی پروپیگنڈہ مہم دراصل کشمیر کی صورتحال سے عالمی توجہ ہٹانے کی ایک طے شدہ سازش کا حصہ ہے۔بھارت مقبوضہ کشمیر پر اپنا تسلط قائم رکھنے کے لیے کشمیریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑ رہا ہے، جب کہ دوسری جانب کشمیری عوام کی قربانیوں سے معمور یہ جدوجہد سات دہائیوں سے جاری ہے اور بھارتی جبر کا کوئی ہتھکنڈہ ان کے پائے استقلال میں آج تک ہلکی سی بھی لغزش پیدا نہیں کر سکا ہے۔ پاکستان نے ہر عالمی فورم پر کشمیر کو متنازعہ علاقہ قرار دیا اور یہ اصولی موقف اپنایا کہ کشمیری عوام کو ہی اپنے مستقبل کے تعین کا حق حاصل ہے جس کے لیے اقوام متحدہ نے اپنی متعدد قراردادوں کے ذریعہ ان کا استصواب کا حق تسلیم کیا ہوا ہے۔

بھارت تو اپنے جنونی اقدامات سے عالمی برادری میں خود ہی اپنے آپ کو بے نقاب کررہا ہے اور آج اسی تناظر میں اس پر مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے عالمی دباؤ بڑھ رہا ہے۔ ہمارے محافظ جاگ رہے ہیں اور وہ دفاع پاکستان سے ذرا برابر غافل نہیں ہیں لہٰذا بھارت کو کسی بھی قسم کے فالس فلیگ آپریشن سے پہلے سو بار سوچنا چاہیے۔

مقبول خبریں