سینیٹ الیکشن اور اوپن بیلٹ

آئین کے آرٹیکل 59، 213 اور 224 میں سینیٹ انتخابات کے حوالے سے تمام اختیارات الیکشن کمیشن کو دیے گئے ہیں۔


Editorial December 25, 2020
آئین کے آرٹیکل 59، 213 اور 224 میں سینیٹ انتخابات کے حوالے سے تمام اختیارات الیکشن کمیشن کو دیے گئے ہیں۔ فوٹو:فائل

NEW DELHI/BENGALURU: حکومت نے سینیٹ انتخابات اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کے لیے سپریم کورٹ میں ریفرنس دائر کردیا ہے۔

صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے آئین کے آرٹیکل 186کے تحت ریفرنس سپریم کورٹ بھجوانے کی وزیر اعظم کی تجویزکی منظوری دے دی ہے، سپریم کورٹ میں دائر ریفرنس میں موقف اپنایا گیا ہے کہ 1985سے آج تک سینیٹ کے ہر انتخابات کے بعد اوپن بیلٹ کی بحث چھڑی ہے۔ کسی کو اوپن بیلٹ پر اعتراض نہیں، آئین و قانون کی تشریح عدلیہ کا اختیار ہے۔

ایک ایسے نازک وقت میں جب سرد ترین موسم میں سیاسی درجہ حرارت بڑھ چکا ہے، حکومت اور اپوزیشن کے درمیان شدید تناؤ موجود ہے اور دونوں جانب سے جارحانہ رویے دیکھنے میں آرہے ہیں۔ اب صورت حال کا نیا منظرنامہ یہ ہے کہ جس میں کوئی ایک فریق دوسرے فریق کی بات سننے کو تیار نہیں ہے،حکومت اور ا پوزیشن ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑی ہیں اور بات چیت یا مفاہمت کے امکانات نظر نہیں آرہے۔

ایسے حالات میں یہ ریفرنس دائر کرنا بہت سے سوالات کو جنم دے رہا ہے، جن کے جوابات تلاش کرنا جمہوریت کی بقا کے لیے ازحد ضروری ہیں۔ درحقیقت سینیٹ کے الیکشن شیڈول کا اعلان کرنا بنیادی طور پر الیکشن کمیشن کی ذمے داری بنتی ہے، جہاں تک آئینی ترامیم کا تعلق ہے تو اس کے لیے پارلیمنٹ سے بہتر کوئی پلیٹ فارم جمہوری نظام میں موجود نہیں ہے، زیادہ بہتر ہوتا کہ حکومت پارلیمنٹ کا فورم استعمال کرتی لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کچھ جلدی میں ہے اور وقت سے پہلے سینیٹ الیکشن کروانا چاہتی ہے، جس کے لیے ریفرنس کا راستہ اختیار کیا جارہا ہے۔

اسی پس منظر میں حکومتی موقف کچھ یوں ہے کہ سیکرٹ بیلٹ یا خفیہ رائے شماری سے ہارس ٹریڈنگ کا خطرہ ہوتا ہے کیونکہ اس طرح اراکین کے نام سامنے نہیں آتے اور پس پردہ ساز باز کے ذریعے وفاداریاں بھی خریدی جاتی ہیں۔سینیٹ میں اوپن بیلٹنگ کا بنیادی مقصد سیاست میں پیسے کے استعمال کی حوصلہ شکنی کرنا ہے کیونکہ ماضی میں ایسا ہوتا رہا کہ خفیہ طور پر اراکین ادھر ادھر ووٹ دیتے رہے ہیں۔

اس لیے سیکرٹ بیلٹنگ سے جمہوریت کو بڑا خطرہ ہے۔آسان الفاظ میں اس بات کو سمجھنا چاہیے توشو آف ہینڈ کا لفظی مطلب یہ ہے کہ اراکین ایوان میں متعلقہ امیدوار کے حق میں اپنی نشست سے کھڑے ہو کر ووٹ دیں گے اور جتنے اراکین اس متعلقہ امیدوار کے حق میں کھڑے ہوں گے ان کی گنتی کر لی جائے گی۔ اس حوالے سے وزیراعظم کا کہنا تھا کہ انتخابات کے لیے قانونی اصلاحات کا صرف ایک مقصد ہے اور وہ پورے عمل کوشفاف بنانا ہے جب کہ تمام سیاسی جماعتوں سے اِس ضمن میں مذاکرات کے لیے دروازے ہر وقت کھلے ہیں۔

دوسری جانب اپوزیشن کی احتجاجی تحریک بھی جاری ہے ،پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری اپنے ایک بیان میں کہہ چکے ہیں کہ ہمارے استعفے ایٹم بم ہیں، استعمال کی حکمت عملی پی ڈی ایم بنائے گی۔اپوزیشن اتحاد نے حکومت کو مستعفی ہونے کے لیے 31جنوری تک کی مہلت دی رکھی ہے جب کہ اپنے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کو 31 دسمبر تک استعفے جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

اپوزیشن اتحاد کے سربراہ مولانا فضل الرحمان اعلان کرچکے ہیں کہ 31 جنوری تک استعفے نہیں دیے تو یکم فروری کو مارچ کا اعلان کریں گے اور استعفے ساتھ لے کر جائیں گے۔ سینیٹ کے انتخابات قبل از وقت منعقد کرانے کی خواہش حکومت کی ہے، جب کہ اپوزیشن جماعتیں نے اپنے استعفے تیار رکھے ہوئے ہیں۔

اپوزیشن کے چارسو سے زائد ارکان کے ممکنہ طور پر مستعفی ہوجانے کے بعد الیکشن کا وقت پر انعقاد مشکل ہوجائے گا۔آئین کا آرٹیکل 59سینیٹ کی سیٹوں کی تقسیم اور اراکین کی مدت اور الیکشن کے حوالے سے وضاحت کرتا ہے،جب کہ آئین کے آرٹیکل 224 کے تحت یہ لازم ہے کہ سینیٹ کے انتخابات ارکان کی مدت ختم ہونے سے صرف ایک ماہ قبل ہی منعقد ہو سکتے ہیں،گویا اگر میعاد گیارہ مارچ 2021 کو ختم ہو رہی ہے تو الیکشن 11 فروری 2021 کے بعد ہی ہو سکتے ہیں اس سے قبل نہیں ہو سکتے۔ الیکشن کروانے کے لیے جو قانون اس وقت رائج ہے اس کو الیکشن، ایکٹ 2017 کہتے ہیں،اس قانون کی شق 122 کے تحت سینیٹ کے انتخابات خفیہ رائے شماری سے ہی ہو سکتے ہیں۔

یہی وہ قانون ہے جس کے بارے میں اٹارنی جنرل نے وزیراعظم کو لکھا ہے کہ اسے ایک صدارتی آرڈیننس کے تحت حکومت سینیٹ الیکشن سے قبل تبدیل کر سکتی ہے اور خفیہ رائے شماری اور کھلی رائے شماری میں بدل سکتی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 59، 213 اور 224 میں سینیٹ انتخابات کے حوالے سے تمام اختیارات الیکشن کمیشن کو دیے گئے ہیں، کیونکہ چیف الیکشن کمشنر کی حیثیت سپریم کورٹ کے جج کے برابر ہوتی ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ حکومت اور اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کو ملک وقوم کی بہتری کی خاطر مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر اس مسئلے کا حل فہم وفہراست اور سیاسی بصیرت سے نکالنا ہوگا۔

مقبول خبریں