مردم شماری نتائج پر سندھ کے تحفظات

ہمارے حکمرانوں کی غفلت اور کوتاہی ہے کہ وہ تواتر کے ساتھ مردم شماری کرانے میں ناکام رہے۔


Editorial December 26, 2020
ہمارے حکمرانوں کی غفلت اور کوتاہی ہے کہ وہ تواتر کے ساتھ مردم شماری کرانے میں ناکام رہے۔ فوٹو:فائل

ایم کیو ایم کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مردم شماری کے نتائج پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وفاقی کابینہ کے فیصلے کے بعد سندھ کے شہری خود کو تنہا محسوس کر رہے ہیں۔

وزیراعظم بتائیں کہ ہم حکومت میں کیوں شامل رہیں، ایوانوں سے سڑکوں پر آنے کے سوا کوئی راستہ نہیں۔ پی ٹی آئی کو یاد ہی نہیں رہتا کہ کراچی کا مینڈیٹ اس کے پاس ہے جب کہ دوسری جانب سندھ حکومت کی کابینہ نے بھی مردم شماری مسترد کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ وہ اس معاملے کو وفاقی حکومت کے سامنے اٹھائے گی۔

سندھ کی دونوں بڑی جماعتوں کا مردم شماری پر ایک ہی موقف ہے کہ سندھ صوبے کی آبادی ایک خاص سازش کے تحت کم ظاہر کی گئی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ مردم شماری کے 5 فی صد بلاکس کی دوبارہ چیکنگ پر بھی اتفاق کیا گیا تھا۔

الیکشن کمیشن نے تاحال 5 فی صد مردم شماری بلاکس کی دوبارہ چیکنگ نہیں کرائی، اس لیے بلدیاتی انتخابات کے لیے آئینی تقاضے پورے کیے جائیں اور آبادی کے اعداد و شمار ٹھیک کیے جائیں۔

آبادی کے اعداد و شمار کو ٹھیک نہیں کیا گیا تو این ایف سی میں صوبے کو کم حصہ ملے گا، سندھ واحد صوبہ ہے جس نے 4 سالہ بلدیاتی اداروں کی مدت پوری کی، بلدیاتی انتخابات نہ کرانے کا الزام سول حکومتوں پر لگتا ہے،آئین پاکستان کے تحت ملک میں ہر دس سال کے بعد مردم شماری و خانہ شماری لازم ہے، لیکن ہم قیامِ پاکستان کے بعد سے لے کر اب تک صرف چھ بار مردم شماری کروا سکے۔

آخری بارمارچ، اپریل 2017 میں مردم شماری ہوئی۔ یہ ہمارے حکمرانوں کی غفلت اور کوتاہی ہے کہ وہ تواتر کے ساتھ مردم شماری کرانے میں ناکام رہے۔وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ بلدیاتی الیکشن 1998کی مردم شماری پر تو نہیں ہوسکتے۔حکومت کو چاہیے کہ وہ سندھ کی شکایات کے ازالے کے لیے غیرجانبدار فورم تشکیل دے جو اس مسئلے کو ترجیحی بنیاد پر حل کرسکے۔

مقبول خبریں