ترقی وخوش حالی کا باب… بلوچستان

کوئٹہ میں ہزارہ برادری پر نہیں، ہم پاکستانیوں پر حملہ ہوا ہے اور ہر پاکستانی اس دکھ درد کو محسوس کررہا ہے۔


Editorial January 15, 2021
کوئٹہ میں ہزارہ برادری پر نہیں، ہم پاکستانیوں پر حملہ ہوا ہے اور ہر پاکستانی اس دکھ درد کو محسوس کررہا ہے۔ فوٹو : فائل

بلوچستان پاکستان کا مستقبل ہے، اس کی ترقی اورخوش حالی ہی ملک کی ترقی ہے۔ دشمن کی انتشار پیدا کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔

سانحہ مچھ کے شہدا کا خون رائیگاں نہیں جائے گا، اس گھناؤنے واقعے کے ملزموں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔ان خیالات کا اظہار پاک فوج کے سپہ سالار قمرجاوید باجوہ نے گزشتہ روزکوئٹہ کے دورے کے موقعے پرکیا۔

انھوں نے ہزارہ برادری کے ایک بڑے اجتماع سے بھی خطاب کیا۔ ہزارہ برادری کے یتیم بچوں کے سر پر انھوں نے جو دست شفقت رکھا ہے ، وہ اس بات کا غماز ہے کہ چیف آف آرمی اسٹاف ایک دردمند دل رکھتے ہیں اور انھیں حقائق کا بخوبی علم ہے ، وہ بلوچستان میں دہشت گردی کے خاتمے اور امن کے قیام کے لیے عملی کوششیں کررہے ہیں۔

دراصل دہشت گردوں کے عزائم ناکام بنانے اور زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے طبقات کے جان و مال کی حفاظت کرنا انتظامیہ اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بنیادی فرائض میں شامل ہے۔ دہشت گردوں نے مزدوروں کے گلے کاٹ کر وحشت و بربریت کا پیغام دیا ہے جسے ہم بحیثیت قوم اپنی یکجہتی اور اتحاد کے ذریعے ناکام بنا سکتے ہیں۔

بعدازاں گیریژن افسروں سے خطاب میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہاکہ اسٹرٹیجک صلاحیت کی وجہ سے بلوچستان دشمنوں کی توجہ کا مرکز ہے، ان کی بات صائب ہے۔ ہمیں غیرجانبدار اندا ز میں تجزیہ کرنا چاہیے کہ بیرونی مداخلت کے اسباب کیا ہیں ،کلبھوشن یادیوکی گرفتاری اور انکشافات میں بہت کچھ قوم کے سامنے آچکا ہے، اسے دہرانے کی ضرورت نہیں ،البتہ بلوچستان میں بدامنی کی اغراض جاننا اوران کا دہرانا جانا ازبس ضروری ہے۔

درحقیقت ہندوستان چاہتا ہے کہ امریکا، بلوچستان کو پاکستان سے الگ کرے اور خطے میں خود بھی موجود رہے تاکہ گوادر بندرگاہ ڈویلپ ہوکر ممبئی کی بندرگاہ کے کاروبارکو متاثر نہ کرسکے اور ہندوستان افغانستان میں موجود رہ کر نہ صرف پاکستان کو مشرقی اور شمال مغربی دنوں محاذوں پر جکڑے رکھے اور سیکیورٹی کے مسائل پیدا کرے بلکہ بھارتی تاجر اور صنعتکار افغانستان اور وسطی ایشائی ریاستوں سے تجارت بھی کرسکیں۔ ایران ہمارا پڑوسی مسلمان ملک ہے جس کی خلوص نیت پر تو ہمیں کوئی شک نہیں، لیکن ایرانی حکومت کو بھارتی عزائم کو روکنے میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے۔

چین پاکستان کا ایک آزمایا ہوا مخلص دوست ہے اس کا مفاد اس میں ہے کہ بلوچستان میں امن رہے، تاکہ وہ بلوچستان میں سینڈک منصوبے کی طرح اور بھی سرمایہ کاری کر سکے اور گودارکی بندرگاہ کو کمرشل اور اسٹرٹیجک مفادات کے لیے بھی استعمال کرے۔ ادھر بیرونی طاقتیں خصوصاً امریکا اور بھارت بلوچستان میں پوری قوت کے ساتھ سرگرمِ عمل ہیں ۔

جب اتنے سارے ممالک پاکستان کے صوبے بلوچستان میںمداخلت کررہے ہیں ، اس کے امن کو تہہ وبالا کرنے کے لیے سازشوں کے جال بنے رہے ہیں ،اپنے مذموم مقاصد کے لیے انسانی جانوں سے کھیل رہے ہیں ، تو پھر پاکستان بالخصوص اہل بلوچستان کو بھی ہوشیار اور چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ،کیونکہ یہ عالمی اور بیرونی قوتیں پاکستان کے عوام کو خوشحال نہیں دیکھنا چاہتی ہیں۔

اس ساری صورت حال کے تناظر میں وفاقی حکومت کی ذمے داری بنتی ہے کہ رقبے کے اعتبار سے ملک کے سب سے بڑے لیکن صوبے بلوچستان اور دیگر پسماندہ علاقوں کو ترجیحی بنیادوں پر ترقی دی جائے۔ وفاقی حکومت نے گزشتہ برس نومبر میں بلوچستان کے پسماندہ ترین جنوبی اضلاع کے لیے بڑے ترقیاتی پیکیج کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت ان اضلاع میں بجلی،گیس اور سڑکوں کی سہولت کی فراہمی کے لیے تین سال میں 600 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔

جنوبی بلوچستان میں آمدن کا ایک بہترین ذریعہ زراعت بھی ہے۔ جنوبی بلوچستان میں زراعت کے لیے پانی کی ضرورت ہے، وہاں پانی کے لیے ڈیم بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، اگرکسان کو اس کی پیداوارکی پوری قیمت اور معاوضہ ملے تووہ زیادہ محنت سے کام کرے گا۔ بلوچستان میں بجلی سے بہت زیادہ علاقے محروم ہیں،اس جانب بھی حکومت کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ بلوچستان میں کلبھوشن کا نیٹ ورک اب بھی کام کررہا ہے۔ انھیں افغانستان سے مدد بھی مل جاتی ہے ، اسلحہ ملتا ہے اور دہشت گردی کی تربیت ملتی ہے۔ دوسرے بھارتی وزیراعظم اعلانیہ طور پر دھمکی دے چکے ہیں کہ وہ بلوچستان،آزاد کشمیر اورگلگت بلتستان کے عوام کو اسی طرح ان کے حقوق دلائیں گے جیسے ہر بھارتی نے کوشش کرکے ا نیس اکہتر میں بنگلہ دیش بنوایا تھا ۔

یہاں ہم آنکھیں بندنہیں کرسکتے کیونکہ بلوچستان پاکستان کی ترقی کا دروازہ ہے اور ہمیں اس کی حفاظت کرنی ہے۔ بلاشبہ پاک فوج ملک دشمن عناصرکے ناپاک منصوبوں کو ہر قیمت پر ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ملک میں بدامنی پھیلانے کی کوششوں کو ناکام بنانے کی خاطر پاک فوج کی جدوجہد اور قربانیاں یقیناً نہایت قابلِ قدر، لازوال اور آبِ زر سے لکھنے کے لائق ہیں۔

پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ جمہوری حقوق، ملکی وسائل میں معقول شراکت اور پسماندگی کے مسئلے سمیت بلوچستان کے لوگوں کی ان تمام جائز شکایات کا پوری نیک نیتی اور افہام و تفہیم کے اہتمام کے ساتھ ازالہ کیا جائے، جن کی بنا پر مقامی نوجوان میں بغاوت کے رجحانات پروان چڑھتے ہیں اور ان میں سے ایک قابلِ لحاظ تعداد غیرملکی طاقتوں کی آلہ کار بن کر دہشت گردی کی راہ پر گامزن ہو جاتی ہے۔دراصل میں ہمارے ہمسائے بلوچستان میں قیام امن کے دشمن ہیں اور ہمیں ان کے خلاف چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔

کوئٹہ میں ہزارہ برادری پر نہیں، ہم پاکستانیوں پر حملہ ہوا ہے اور ہر پاکستانی اس دکھ درد کو محسوس کررہا ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ ہم ایک بحیثیت قوم متحدہوکر دشمنوں کی ناپاک سازشوں کو نام بنا دیں ، بلوچستان ، پاکستان کی خوشحالی کا گیٹ وے ہے، وہ دن دور نہیں ، جب پاک فوج کی عملی کوششوں سے بلوچستان میں مکمل امن وامان بحال ہوجائے گا،ترقی وخوشحالی کا دور دورہ ہوگا اوردشمنوںکے تمام سازشیں ناکام سے دوچار ہوں گی ۔

مقبول خبریں