مسئلہ کشمیرکی برطانوی پارلیمنٹ میں گونج

ہندوستان عالمی دنیا کو غلط تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ یہ اس کا اندرونی مسئلہ ہے جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔


Editorial January 16, 2021
ہندوستان عالمی دنیا کو غلط تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ یہ اس کا اندرونی مسئلہ ہے جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ فوٹو: سوشل میڈیا

برطانیہ نے بھارت پر زوردیا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں وکشمیر سے پابندیاں ہٹائے، صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے برطانوی ہائی کمیشن کی ٹیم کو دورہ کرنے کی اجازت دے، یہ مطالبہ وزیر انصاف رابرٹ بکلینڈ نے جموں وکشمیر کی سیاسی صورتحال پر مباحثے میں ارکان پارلیمنٹ کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کیا ہے۔

بلاشبہ مسئلہ کشمیر عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازعہ مسئلہ ہے جو عرصہ دراز سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر ہے۔ برطانیہ کی پارلیمنٹ میں اس مسئلے کا اجاگر ہونا بہت بڑی کامیابی ہے کیونکہ دنیا جو مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور مظالم پر مصلحتاً خاموشی اختیار کیے ہوئے تھی، اب وہ خاموشی ٹوٹ رہی ہے۔ عالمی ضمیر جو سویا ہوا تھا اب جاگتا ہوا محسوس ہو رہا ہے۔

بھارتی وزیر اعظم نے، جنھیں دنیا آر ایس ایس کے دہشت گرد کے نام سے جانتی تھی، کشمیریوں پر مظالم کی ایک نئی خونی داستان رقم کی ہے۔ مودی سرکار نے پانچ اگست 2019کو بھارتی آئین کی دفعہ370اور 35-Aکو ختم کر تے ہوئے کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا۔

جموں و کشمیر کو الگ جب کہ بدھ اکثریتی علاقے لداخ کو الگ کر دیا گیا ہے۔ غیر کشمیریوں کو کشمیر میں جائیدادیں خریدنے کی اجازت دے دی گئی، اسی طرح کشمیری عورتوں کو بھی غیرکشمیریوں سے شادی کی اجازت مل گئی۔کشمیریوں کی آواز کو دبانے کے لیے ڈیڑھ سال سے پوری وادی میں لاک ڈاؤن ہے۔

برطانیہ کی لیبر پارٹی کی سارا اوون نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کا لاک ڈاؤن عوام کے تحفظ کے لیے نہیں بلکہ جبری تسلط کے لیے ہے، بھارتی فوجیوں نے لوگوں کو قید کر رکھا ہے، انسانی حقوق کی بد ترین خلاف ورزیاں مشاہدے میں آئی ہیں،کشمیریوں کو اسپتالوں میں جانے سے روکا جا رہا ہے، بھارتی فوجی عورتوں کو ہراساں اور ان کی عصمت پر حملے کر رہے ہیں، برطانیہ نے خواتین کے تحفظ کی ہمیشہ بات کی، کیا مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے برطانوی ارکان پارلیمنٹ کے بیانات ان کے اقدامات سے مطابقت رکھتے ہیں؟

مقبوضہ کشمیر میں آزادی اظہار پر پابندی ہے، مودی کے خلاف بات کرنا دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے۔معزز رکن پارلیمان نے مودی سرکارکے کشمیریوں پر مظالم کی مکمل تصویر پیش کی ہے۔

ہمارے عہد کا سب سے بڑا سچ یہ ہے کہ بھارت کے تمام تر جاری مظالم کے باوجود کشمیری عوام کے حوصلے پست نہیں ہوئے ہیں وہ روز اول کی طرح تازہ دم ہیں، چاہے گرفتاری ہو یا شہادت وہ ہر چیز کے لیے تیار ہیں۔ مسئلہ کشمیر کسی سیاسی جماعت، کسی فرد کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے۔ بانی پاکستان محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا آج وقت ثابت کر رہا ہے یہ فرمان کتنا اہم تھا۔

آج بھارت اپنے توسیع پسندانہ خیالات کے سبب آرایس ایس کی دہشت گردانہ سوچ کے ہاتھوں یرغمال ہوچکا ہے، وہ جو دنیا میں خود کو سب سے بڑی جمہوریت اور سیکولر ریاست کہلوانا پسند کرتا تھا، آج ایک فاشسٹ ریاست کا روپ اختیار کرچکا ہے۔

پاکستان کے جغرافیائی تحفظ کے لیے کشمیریوں نے لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔ بھارت نے پاکستان پر تین جنگیں مسلط کیں اور کشمیریوں کی نسل کشی کے لیے سات دہائیوں سے جارحیت کر رہا ہے، قابض بھارتی فورسز کی طرف سے ممنوعہ پیلٹ گن کے استعمال پر بھی عالمی برادری کا ضمیر نہیں جاگا، اگر عالمی ادارے آج بھی نہ جاگے، مسلمان قیادتوں نے بھارت کا حقہ پانی بند نہ کیا تو کشمیریوں پر مظالم کا سلسلہ اسی طرح جاری و ساری رہے گا ۔

ہندوستان عالمی دنیا کو غلط تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ یہ اس کا اندرونی مسئلہ ہے جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ پاکستان میں عوام کے ہاں مقبول نعرے ''لے کے رہیں گے کشمیر، کشمیر بنے گا پاکستان'' کشمیر کے مسئلے پر ہمارے عوامی شعور کا اظہار ہیں ۔

کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کے سچ کو تاریخ کے آئینے میں تو اصل حقائق منظر عام پر آجاتے ہیں۔ تقسیمِ ہند کی بنیادی دستاویز میں ایک شق یہ بھی تھی کہ وہ ریاستیں جو ہندوستان میں شامل نہیں ہیں انھیں یہ حق دیا جائے کہ وہ اپنی مرضی سے عوامی رائے کو سامنے رکھتے ہوئے فیصلہ کرکے جس سے چاہیں الحاق کرلیں۔

یوں کچھ ریاستیں ہندوستان سے مل گئیں اور کچھ پاکستان سے، مگر لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے عیاری سے کام لیتے ہوئے کچھ ریاستوں کو زبردستی ہندوستان میں ضم کر دیا۔ تب ریاست کشمیر میں مسلم آبادی جو اسی فیصد سے بھی زائد تھی مگر کشمیر کا مہاراجہ ہری سنگھ ہندو تھا، اس نے اعلان کیا کہ ہم کسی سے الحاق نہیں چاہتے، اپنی آزاد حیثیت برقرار رکھنا چاہتے ہیں مگر عوامی رائے پاکستان سے الحاق چاہتی تھی کہ برطانیہ سے حصولِ آزادی کے بعد ہندو کے زیرِتسلط کیوں رہیں۔

جب تقسیم ہند میں ریڈ کلف ایوارڈ نے بدنیتی سے گورداسپور ہندوستان میں شامل کردیا تو کشمیر کی آزادی کے لیے مقامی کشمیری لیڈروں اور مجاہدین کے ساتھ قبائلی لشکر 22اکتوبر 1947 کو کشمیر کی سرحد عبور کرکے سری نگر تک جا پہنچے، مہاراجہ ہری سنگھ نے ہندوستان سے مدد طلب کی مگر ہندوستان نے شرط رکھی کہ وہ پہلے کشمیر کا ہندوستان کے ساتھ باقاعدہ الحاق کا اعلان کرے۔ چنانچہ راجہ نے ایسا ہی کیا اور حتمی فیصلہ رائے شماری میں طے پانے کی بات تسلیم کرائی، ہندوستان کی باقاعدہ فوجیں کشمیر میں داخل ہو گئیں اور اس پر غاصبانہ قبضہ کر لیا جس پر کشمیریوں نے بھی جدوجہد آزادی شروع کر دی۔

جب ہندوستان کو محسوس ہوا کہ کشمیر کا ایک تہائی حصہ اس کے ہاتھ سے نکل چکا ہے اور کہیں سارا کشمیر اس کے ہاتھ سے نہ نکل جائے وہ فوراً مسئلے کو اقوام متحدہ میں لے گیا چونکہ ہندوستان کو کشمیری لیڈر شیخ عبداللہ کی حمایت حاصل تھی تو اسے یقین تھا کہ ریفرنڈم میں اسے فتح حاصل ہوگی مگر یکم جنوری1949کو ہندوستان اور پاکستان میں سیز فائر ہوگیا اور کنٹرول لائن وجود میں آ گئی مگر آج تک ہندوستان اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عملدرآمد سے گریزاں ہے۔

یہ وہ سچ ہے جس سے منہ نہیں پھیرا جاسکتا، بھارت کچھ بھی کرلے، لیکن اسے عالمی قوانین کو ہر صورت ماننا پڑے گا، سچ کو مانے بغیر اس کے پاس دوسرا کوئی آپشن نہیں ہے۔ ہندوستان عالمی دنیا کو غلط تاثر دینے کی کوشش کر رہا ہے کہ یہ اس کا اندرونی مسئلہ ہے جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ آج دس برطانوی اراکین پارلیمنٹ کہہ رہے ہیں کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں کالے قوانین کا سہارا لے کر بھارتی قابض افواج نے بنیادی حقوق کو سلب کر رکھا ہے، یسین ملک، آسیہ اندرابی جیسی بہت سی شخصیات ایسی ہیں جنھیں بلاجواز قید میں رکھا گیا ہے۔بھارت نے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو کچلنے کے لیے تمام حربے استعمال کر کے دیکھ لیے، اسے رتی بھر کامیابی نہیں ہوئی۔

اپنی نو لاکھ فوج کے باوجود بھارت کے لیے ایک دن بھی ایسا نہیں آیا جب اسے کشمیر میں چین سے بیٹھنا نصیب ہوا ہو۔ البتہ یہ ضرور ہوا ہے کہ بھارتی فوج جھنجھلاہٹ میں اپنے بدترین مظالم کا سلسلہ دراز کرتی چلی گئی دنیا کے کسی اور ملک کسی اور خطے میں یہ سب کچھ ہوتا تو وہاں کب کی امن فورس تعینات کی جا چکی ہوتی، مگر کشمیر کے معاملے میں اقوامِ متحدہ اور بڑی طاقتیں ایک امتیازی پالیسی روا رکھے ہوئے ہیں۔

نریندر مودی نے اپنی ہٹلر صفت فطرت کے تحت مقبوضہ کشمیر کو گزشتہ ڈیڑھ سال سے بند کر رکھا ہے، وہاں دنیا کے مبصرین کو جانے دیتا ہے اور نہ غیر جانبدار صحافیوں کو، ایک طرف خوراک کی قلت اور دوسری طرف بھارتی فوج کے مظالم کشمیریوں کی زندگی اجیرن کیے ہوئے ہیں مگر اس کے باوجود بھارت جدوجہد آزادی کو دبا نہیں سکا۔

آج کل تو کشمیری مجاہدین نے بھارتی فوج کی نیندیں اڑا رکھی ہیں۔ قابض بھارتی فوج کی درندہ صفت کارروائیاں روزانہ کا معمول ہیں، مگر اس سب کے باوجود بھارت ایک دن کے لیے بھی کشمیر کی وادی میں امن قائم نہیں کر سکا۔ بھارتی فوجیوں کی بزدلی اور ناکامی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ وہ نہتے کشمیریوں کو جن میں بوڑھے، بچے اور خواتین بھی شامل ہیں بے دریغ نشانہ بنا رہا ہے۔

بھارت دہشت گرد اور توسیع پسندانہ پالیسوں کی حمایت کرانا چاہتا ہے، کشمیر میں بسنے والے مسلمانوں کو اقلیت کا درجہ دینے کی ناپاک سوچ ذہن میں لیے ہندوؤں کو کشمیر میں آباد کرنا چاہتا ہے۔ 5 فروری ہمیں یاد دلاتا ہے، بھارتی ''سورمے'' کس طرح کشمیر کے متعلق عالمی اداروں کو یقین دلاکر اپنے ہی مطالبات سے بھاگ گئے اور اپنے ہی اکابرین کی کہی ہوئی بات سے کس طرح منہ پھیر گئے۔بھارت صرف کشمیر میں ہی نہیں بلکہ اپنے ملک کے اندر بھی دہشت گرد سوچ کی بناء پر کروڑوں مسلمانوں کے لیے مسائل کھڑے کررہا ہے، ستر سال بعد ان سے ان کی ملک سے وابستگی کی تصدیق مانگی جا رہی ہے اور بھارتی حکمران پاکستان دشمنی میں ان سے کہتے ہیں کہ ''پاکستان چلے جاؤ''۔

کشمیری مجاہدین اپنی جانوں کا نذرانہ اس وقت تک دیتے رہیں گے، جب تک کشمیر کی آزادی کا سورج طلوع نہیں ہوجاتا۔ پاکستان کو سفارتی سطح پر عالمی ضمیر کو بیدار کرنے کی سرتوڑ کوششیں کرنا ہوں گی، تاکہ عالمی بھرپور حمایت کے حصول کو یقینی بنایا جاسکے، جیسے آج برطانوی پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر کی گونج سنائی دی ہے، ایسے ہی پوری دنیا میں یہ آواز بلند ہوگی تو کشمیریوں کو حق خودارادیت مل سکے گا۔

مقبول خبریں