پنجاب یوتھ فیسٹیول سیاسی تشہیر کا ذریعہ کھلاڑی انعامات سے محروم

صوبائی حکومت کو بیوقوف بناتےہوئےفرضی ٹیمیں تشکیل دے کرکھیلوں سے زیادہ فوٹو سیشن اور سیاسی تقریروں پر توجہ دی جا رہی ہے


Numainda Express January 01, 2014
مایوس کھلاڑیوں کی دلچسپی نہ ہونے کے برابر رہ گئی، اختیارات و قومی وسائل کے بے جا استعمال کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے:اسپورٹس حلقے۔ فوٹو: وسیم نیاز/ایکسپریس/فائل

ISLAMABAD: پنجاب یوتھ فیسٹول کے مقابلے سیاسی تشہیر کا ذریعہ بن گئے، انتظامیہ کی جانب سے صوبائی حکومت کو بیوقوف بنانے کا بندوبست کیا جا رہا ہے۔

گزشتہ ایونٹ کے انعامات اب تک نہ ملنے سے مایوس کھلاڑیوں کی دلچسپی نہ ہونے کے برابر رہ گئی،خالی میدان انتظامی بد حالی کا منہ چڑانے لگے، فرضی ٹیمیں تشکیل دے کر کھیلوں سے زیادہ فوٹو سیشن اور سیاسی تقریروں پر توجہ دی جا رہی ہے۔ جن مقامات پر کھیلوں کا انعقاد ہورہا ہے وہاں بھی من پسند نتائج حاصل کرنے کے لیے دھاندلی کی شکایات سامنے آر ہی ہیں۔ تفصیلات کے مطابق صوبہ بھر میں مثبت سرگرمیوں کو فروغ دینے کے نام پر شروع کیا جانے والا پنجاب یوتھ فیسٹیول سفید ہاتھی ثابت ہورہا ہے۔آرگنائرز کی طرف سے جاری کی جانے والی پریس ریلیز میں روزانہ ہزاروں کھلاڑیوں کی مقابلوں میں شرکت کا دعوٰی کیا جاتا ہے۔ گزشتہ روز تو تعداد ایک لاکھ48 ہزار تک پہنچا دی گئی۔ دوسری طرف گزشتہ سال کے انعامات اب تک نہ ملنے سے مایوس نوجوان حالیہ مقابلوں میں دلچسپی نہیںلے رہے اورمیدانوں میں الو بولتے نظر آتے ہیں۔

خاص طورپر لاہور میں فرضی مقابلوں کی بھرمار ہے۔ جن علاقوں میں کسی وزیر، رکن اسمبلی یا اعلیٰ سرکاری افسر کودورہ کرکے تصویریں بنوانا ہوتی ہیں، وہاں پر ضروری انتظامات کرکے بینرز بھی آویزاں کردیے جا تے ہیں۔ مانگ تانگ کے اکٹھے کیے گئے کھلاڑی بھی ایکشن میں نظر آتے ہیں، دیگر بیشتر یونین کونسلوں میں کاغذی ٹیمیں ''گھوسٹ مقابلوں'' میں شرکت کرتی ہیں۔ چند میدانوں کی حالت ہی کھیلوں کے قابل نظر نہ آتی، صرف بینرز اور کرسیاں انتظامی بدحالی کا منہ چڑاتی ہیں، جن مقامات پر کھیلوں اور دیگر ایونٹس کا انعقاد کرایا جاتاہے وہاں بھی بااثر شخصیات من پسند ٹیموں اور کھلاڑیوںکو آگے لانے کے لیے کھلم کھلادھاندلی کرتی نظر آتی ہیں، کئی میدانوں میں شلواروں اور ٹی شرٹس میں ملبوس پلیئر ننگے پائوں اپنا مستقبل ''روشن'' کرتے نظر آتے

ہیں۔ مقابلوں کے دوران کھلاڑیوں کو پلاسٹک کی ٹرافیاں دینے کے لیے مسلم لیگ(ن) کے بلدیاتی امیدواروں کو ہی مہمان خصوصی کے طور پر بلایا جاتا ہے جو کھیلوں کی بات کم اور اپنی سیاسی تشہیر زیادہ کرتے ہیں۔ میچز کے دوران لائوڈ اسپیکر پر ان کے نام بار بار پکارے اور چند ہزار روپے جیب سے دینے کو بھی ''قومی خدمت'' کا درجہ دیدیا جاتا ہے۔ بعد ازاں فوٹو سیشن کے بعد انھیں لمبی چوڑی تقریریں کرکے اپنا منشور کو عوام تک پہنچانے اور ماضی کے کارنامے سنانے کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ اسپورٹس حلقوں نے کھیلوں سے زیادہ شخصیات کو ترجیح دینے کے رجحان کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اختیارات اور قومی وسائل کے بے جا استعمال کی حوصلہ شکنی کی جانا چاہیے۔