جوبائیڈن اور پاک امریکا تعلقات

جوبائیڈن عالمی سطح پر امریکا کے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے میں یقین رکھتے ہیں۔


Editorial January 22, 2021
جوبائیڈن عالمی سطح پر امریکا کے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے میں یقین رکھتے ہیں۔ (فوٹو : فائل)

گزشتہ روز امریکا کے 46 ویں نومنتخب صدر کی حیثیت سے جو بائیڈن نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا، اس تقریب حلف برداری کو پوری دنیا میں میڈیا پر دکھایا گیا، یہ تقریب اور نومنتخب صدر کا خطاب عالمی توجہ کا مرکز بنا رہا۔ اس موقعے پر خطاب کرتے ہوئے جوبائیڈن نے کہا کہ ہمیں نفرت، تعصب،نسل پرستی،انتہاپسندی کاسامنا ہے۔

ہماری حکومت کے لیے کورونا وائرس اور سفید فام برتری سب سے بڑا چیلنج ہوں گے، خارجہ پالیسی کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ اتحادیوں سے پیدا ہونے والی دوریاں ختم کریں گے اور عالمی سطح پر امن و استحکام کے لیے تعاون کو فروغ دیں گے، امریکا داخلیت پسندی کی پالیسی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ دنیا کی سپرپاور امریکا کے نومنتخب صدر کے خیالات اس لیے بھی اہمیت کے حامل ہیں کہ یہ خیالات آگے چل کر امریکی پالیسی کا روپ دھار کر عالمی منظرنامے میں تبدیلیوں کا باعث بنیں گے،کیونکہ آنے والا عالمی سیاسی منظرنامہ اور اس میں تبدیلیوں کا انحصار امریکی صدر کی پالیسیوں سے جڑا ہوتا ہے۔

امریکا دنیا کی اکیلی سپرپاور ہونے کی وجہ سے عالمی بساط بچھانے اور اس پر اپنی پسند کے مہرے متحرک کرنے اور چالیں چلنے کے سارے ہنر بھی جانتا ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو نو منتخب امریکی صدر مسٹر جو با ئیڈن کو بلاشبہ دنیا کا طاقتور ترین انسان بھی قرار دیا جاتا ہے۔ دنیا اس وقت مسائل کی دلدل میں اترچکی ہے، سب سے اہم ترین مسئلہ قیام امن ہے۔ متعدد ممالک کے درمیان جاری جنگوں کا خاتمہ ہے۔ لامحالہ کسی نہ کسی طور پر ان میں امریکا کہیں درپردہ یا پھر واضح طور پر شریک ہے۔ انسانیت سسک رہی ہے، پہلے امن قائم ہوگا تو پھر دیگر مسائل حل ہوں گے۔

یہ تو آنے والا وقت بتائے گا کہ امریکی پالیسیاں دنیا میں امن کی بحالی کے لیے کیا کردار ادا کرتی ہیں۔ تنازعات حل ہوتے ہیں تو یقینا امن کی بحالی کی طرف یہ پہلا قدم ہوگا۔ پاکستان امریکا کا اتحادی اور دوست ملک ہے۔ اپنے پہلے خطاب میں جو بائیڈن نے ایک ایسا لیڈر بننے کے عزم کا اظہار کیا ہے جو عالمی وبا، معاشی اور معاشرتی انتشار کی لپیٹ میں آئی ہوئی قوم کو تقسیم نہیں بلکہ متحد کرنا چاہتا ہے۔

جوبائیڈن عالمی سطح پر امریکا کے اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے میں یقین رکھتے ہیں۔ وہ گمبھیر تنازعات کے حل کے لیے طاقت کے استعمال کے بجائے سفارتکاری کو ترجیح دیتے ہیں۔ ممکن ہے کہ وہ ایران کے ساتھ اوباما دور کا ایٹمی معاہدہ بحال کرنے کی کوشش کریں اور اگر ایسا ہوجاتا ہے تو یہ خطے کے لیے ایک بڑا بریک تھرو ہوگا۔

سماجی رابطے کی سائٹ ٹوئیٹر پر وزیراعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ نئے امریکی صدر جو بائیڈن کے ساتھ مل کر پاک امریکا تعلقات کو فروغ دینے کا منتظرہوں، ہم پاک امریکا تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے خواہاں ہیں۔درحقیقت پاکستان اور امریکا کے دوستانہ تعلقات خطے میں امن کی بحالی میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں ، کیونکہ نو منتخب امریکی صدر پاک امریکا تعلقات پر گہری اور عمیق نظر رکھتے ہیں، وہ 2 بار پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں، بطور نائب صدر 2008 اور 2011 میں پاکستان آئے تھے۔

کیری لوگر بل کے تحت پاکستان کے لیے ڈیڑھ بلین ڈالر کی امداد کے لیے راہ ہموار کرنے کے اعتراف میں انھیں پاکستان کے دوسرے بڑے اعزاز ہلال پاکستان سے بھی نوازا جاچکا ہے۔ انھوںنے ہمیشہ کشمیریوں کے مؤقف کی تائید کی اور بھارت سے مظلوم کشمیریوں کو اظہار رائے کی آزادی اور خود مختاری دینے کا مطالبہ کیا ہے۔نومنتخب امریکی صدر خارجہ پالیسی میں کافی تجربہ حاصل ہے جب کہ وہ اپنے کیریئر میں 2 مرتبہ سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کی صدارت بھی کرچکے ہیں۔

جو بائیڈن نے بطور نائب صدر آٹھ برس تک امریکا کے سابق صدر اوباما کے ساتھ خدمات انجام دے چکے ہیں، یعنی اس دشت کی سیاحی میں ان کی عمر گزاری ہے۔ ان سے توقع کی جاسکتی ہے کہ عالمی منظرنامے کو نئے سرے سے تشکیل دیں گے ،جس میں امن کو بنیادی حیثیت حاصل ہوگی۔

یہاں پر سب سے اہم اور قابل ذکر پہلو یہ ہے کہ پاکستان اپنی بہتر خارجہ پالیسی کے ذریعے کیسے اپنے مطالبات امریکا سے منوا سکتا ہے ، بلاشبہ اس ٹارگٹ کو حاصل کرنے کے لیے ہمیں از حد محنت کرنا ہوگی۔وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان امریکا کی نئی انتظامیہ کے ساتھ بہتر روابط قائم کرنے کا خواہاں ہے، جو بائیڈن، جنوبی ایشیائی خطے اور پاکستان کے حوالے سے واضح رائے رکھتے ہیں، سی پیک کے تحت قائم خصوصی اقتصادی زونز میں امریکی سرمایہ کاروں کا خیر مقدم کریں گے۔

اس تناظر میں پاکستان کے حوالے سے بات کی جائے تو بائیڈن نے ہمیشہ کشمیریوں کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے بھارت سے مظلوم کشمیریوں کو آزادی اظہار رائے اور خود مختاری کا مطالبہ کیا ہے۔ اس بات کی بھی توقع کی جا رہی ہے کہ بائیڈن مودی سرکار کی جانب سے 2019 میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے وفاق کے تحت دو حصوں میں تقسیم کرنے کے عمل کی بھی مخالفت کرتے ہوئے پرانی حیثیت بحال کرنے کا مطالبہ یقینا کریں گے۔

امریکا کی جانب سے چین کے تناظر میں بھارت کو اسٹرٹیجک پارٹنر کی حیثیت برقرار رہے گی لیکن ساتھ ہی بھارت پر مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی پامالی پر بھی سوال اٹھائے جائینگے۔ یوں امریکی صدر جو بائیڈن کے مقبوضہ کشمیر اور پاکستان پر مثبت اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔پاکستان کی شمالی سرحد پر واقع چین کے ساتھ امریکا کی سرد جنگ پچھلے کچھ سالوں سے عالمی سیاست کا مرکز بن چکی ہے۔ پاکستان بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کے تحت چین سے قرضوں اور امداد میں اربوں ڈالر وصول کر چکا ہے۔

چین کے لیے سخت پالیسی پاکستان پر بھی اثر انداز ہو گی،البتہ جو بائیڈن کے صدر منتخب ہونے کے بعد اب امریکا کی جانب سے چین سے متعلق سخت پالیسی میں تبدیلی کے امکانات روشن ہو گئے ہیں۔ امریکا جو سی پیک کا پہلے ہی مخالف ہے، پاکستان کو سی پیک میں سست روی لانے کی جانب مائل کرنے کی کوشش کرے گا۔ پچھلی چار امریکی انتظامیہ جن میں دونوں رپبلکن اور ڈیموکریٹ شامل ہیں، بھارت کے ساتھ مل کر اس منصوبے پر کام کر رہے ہیں کہ بھارت چین کے بحر ہند اور جنوبی ایشیا میں بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کے آگے ایک فصیل بن کر کھڑا رہے۔

امریکا کے نزدیک سی پیک امریکی مفادات کے خلاف ہے اور اپنی اس ناپسندیدگی کا اظہار امریکی ترجمان مختلف مواقعوں پر ظاہر کر چکے ہیں۔ امریکا کا خیال ہے کہ سی پیک ان کی ایشیا اور چین کے بارے میں منصوبوں میں ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے۔چین کے معاملے پر بائیڈن ٹرمپ کی طرح جانبدانہ رویہ نہیں اپنائیں گے، البتہ بائیڈن کی جانب سے معاشی اور سفارتی میدان میں چین پر دباؤ بڑھایا جائے گا۔ اس سب کے باوجود پاکستان امریکا اور چین کے مابین سرد تعلقات کو روانگی میں لانے کے لیے پل کا کردار ادا کر سکتا ہے۔

خطے میں امن کے لیے ضروری ہے کہ امریکا افغانستان میں قیام امن کے لیے اپنا مثبت کردار ادا کرے، امید افزا بات یہ ہے جو بائیڈن نے 19 سالہ طویل افغان جنگی بحران کا سامنا کیا ہے، اگرچہ افغانستان میں موجود امریکی افواج کی موجودگی میں بتدریج کمی واقع ہو رہی ہے اور اس وقت چند ہزار امریکی فوجی افغانستان میں باقی رہ گئے ہیں۔ گزشتہ سال فروری میں امریکا اور طالبان کے امن معاہدے نے امریکی فوجیوں کی مکمل وطن واپسی کی راہ ہموار کی ہے۔ انٹرا افغان مذاکرات میں امریکا پہلے ہی پاکستان کے کلیدی کردار کا اعتراف کر چکا ہے۔

نئے امریکی صدر جو بائیڈن کا اس حوالے سے مختلف طرز عمل اختیار کرنے کا امکان نہیں ہے۔ پاکستان کو اوباما کے دور میں افغانستان کی صورتحال کو مستحکم کرنے کے لیے ایک اہم فریق کہا گیا تھا، ٹرمپ انتظامیہ بھی اس بات کا اظہار کر چکی ہے ، افغان امن معاہدے میں بھارت کے بڑھتے اثرو رسوخ کو پاکستان پہلے ہی ناگوار سمجھتا ہے۔

امریکا کے نامزد وزیر دفاع جنرل (ر) لائیڈ آسٹن نے پاکستان کو افغان عمل کے لیے ناگزیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کا امن خراب کرنے والے کرداروں کو قابو میں رکھا جائے گا۔امریکی میڈیا سے مستقبل کی دفاعی پالیسی پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ اگر بطور وزیر دفاع ان کی توثیق ہوجاتی ہے تو وہ پاکستان کا تعاون حاصل کرنے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ آسٹن کا کہنا تھا کہ افغانستان میں مستقبل کے کسی بھی سیاسی بندوبست میں پاکستان کا کردار انتہائی اہم ہوگا۔ لہٰذا پاکستان کو دیکھنا یہ ہوگا کہ بائیڈن اس ضمن میں کیا پالیسی اختیارکرتے ہیں۔

یہاں پر ہمیں بھارت کے حوالے سے امریکا کی جانب سے دو جہتی رائے کی موجودگی کی حقیقت کا سامنا کرنا چاہیے،کیونکہ امریکا کا جھکاؤ بھارت کی جانب ہے، مگر خوش آیند بات یہ ہے کہ اس نئی امریکی انتظامیہ کا انسانی حقوق کے تحفظ کے حوالے سے واضح مؤقف ہے، لہٰذا مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے امریکا کے سامنے اپنا مقدمہ بہتر انداز میں پیش کرنے کے لیے پاکستان کو اپنا زور صرف کرنا پڑے گا۔

کہا جاتا ہے کہ کسی بھی ملک کے نئے صدر یا حکمران کے لیے پہلے 100 دن بہت اہم وقت ہیں، جب اس کا سیاسی اثر و رسوخ سب سے زیادہ ہوتا ہے۔دنیا کی نظریں بائیڈن پر لگی ہوئی ہیں، کہ وہ امریکی پالیسی میں کیا انقلابی تبدیلیاں لاتے ہیں اور ہوائیں کیا رخ اختیار کرتی ہیں۔

مقبول خبریں