جمہوریت کی توقیر کیجیے

ملک کے منتخب ایوانوں میں جمہوریت کی آبرو بحال رہے، منتخب نمایندوں میں خیر سگالی کو فروغ حاصل ہو۔


Editorial February 09, 2021
ملک کے منتخب ایوانوں میں جمہوریت کی آبرو بحال رہے، منتخب نمایندوں میں خیر سگالی کو فروغ حاصل ہو۔ فوٹو: فائل

وزیراعظم عمران خان نے سیاست کے بطن سے پیدا شدہ صورتحال کے تناظر میں کہا ہے کہ این آر او دے دوں تو اپوزیشن کہے گی عمران خان سے زبردست کوئی آدمی نہیں، مگر انھیں جوکرنا ہے کرلیں، لانگ مارچ بھی کرلیں لیکن لوگ کبھی چوروں کے لیے سڑکوں پر نہیں نکلتے۔

چوروں سے ان کی کیا مراد ہے، یہ کسی سے ڈھکی چھپی حقیقت نہیں۔وہ اپوزیشن کی سیاسی تحریک سے نالاں ہیں ۔ان دنوں حکومت اور اپوزیشن ہر دو فریق کی جانب سے برہمی کے باعث سیاسی ڈیبیٹ کی نزاکتوں اور جمہوریت کے حسن کی ہر خصوصیت اور خوبی کو مخالفت کی نذر کیا جا رہا ہے۔ حقیقی حکمرانی علم، تجربہ، مشاہدہ اور جمہوریت کی نفاستوں سے مزین عوام کی مسرتوں کی کھوج میں رہتی ہے لیکن دانش اور بصیرت کے ساتھ سیاسی اسرارورموز سے معاملات طے نہیں ہوتے تو ساری سیاست داؤ پر لگ جاتی ہے۔

اسی بات کو ایک دانشور نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ جن فلسفیوں نے پچھلے دو سو سال میں فلسفہ لکھا ہے، اس سے وہ بجا طور پر بے حرمتی اورگمنامی کا مستحق بنا ہے، بعینہ گزشتہ تین سال کی سیاست قومی سطح کی سیاست کو سوالیہ نشان بناکر رہ گئی، وزیراعظم کا کہنا ہے کہ باہر بیٹھے لوگوں کو واپس لانے کی پوری کوشش کریں گے۔

کوشش ضرورکی جائے، اپوزیشن جمہوریت کی گاڑی کا دوسرا پہیہ ہے، وہ بظاہر رقیب ہے، مگر اس کی رقابت سیاسی اور جمہوری نظام میں لازم و ملزوم ہے، جس کے بغیرکوئی جمہوری حکومت عوام کو نہ تو ریلیف دے سکتی ہے اور نہ جمہوری نظام احسن طریقہ سے ایک اسموتھ سیلنگ کے حامل پارلیمانی میکنزم سے عوام کو آسودگی مہیا کرسکتا ہے۔

یہی طرز حکمرانی کسی تشدد ، تصادم ، تکرار ، بلیم گیم اور چپقلش کے بغیر اپنے جمہوری اہداف پر نظریں مرکوزکیے منزل پر پہنچتی ہے، اسی سسٹم کی سنجیدگی کے باعث حکومت اپوزیشن سے دائمی ٹکراؤ سے گریزکے امکان کو بھی روکنے کے جمہوری اسپیڈ بریکر لگاتی ہے اور جمہوری عمل بھی انفرادی یا اجتماعی حادثہ کا شکار نہیں ہوتا، لیکن یہ رواداری اسی سسٹم کا طرہ امتیاز ہوتی ہے جو حزب اقتدار اور حزب اختلاف کے مابین سیاسی کلچرکی بنیادوں میں شفاف خون کی طرح گردش کرتا ہے۔

وزیر اعظم کوآج جمہوری عمل میں ایک خوشگوار ہم آہنگی کی عملی ضرورت ہے، جب یہی ضرورت اچھی حکمرانی، شفاف احتساب، بے لگام کرپشن کے خاتمہ، لوٹی گئی دولت کی بازیابی کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی غیر معمولی کارکردگی کے نتیجے میں ملک میں واپس لائی جائے گی اور اس کی واپسی اور اس سلسلہ میں قائم تمام مقدمات کے فیصلے ادارہ جاتی طریقے کے مطابق شرمندہ تعبیر ہونگے تب کسی میڈیا ٹرائل، کردارکشی، الزامات کی آنکھ مچولی، پراسیکیوشنل بھونچال، ٹاک شوز، اتھل پتھل اور شور و غل کی قطعاً ضرورت نہیں ہوگی، اور نہ ارباب اختیارکو یہ کہنا پڑے گا کہ جب تک اپوزیشن کو اپنا جج یا نیب سربراہ نہ ملے یہ لوگ کسی چیزکو نہیں مانیں گے۔ جناب والا سب مانیں گے، جب قانون کی حکمرانی کا سورج سوا نیزے پر چمکے گا توکسی کو قانون ہاتھ میں لینے کی جرأت نہیں ہوگی۔

جمہوریت کو اس کے رستے پر چلنے دیا جائے اور کوئی مافیا سیاسی عمل میں رکاوٹ نہ ڈالے تو سسٹم رواں دواں ہی رہے گا۔ کیا دنیا میں جمہوری نظام اسی سبک روی سے نہیں چل رہے، کل ٹرمپ نے امریکی صدارتی انتخابی مہم میں قیامت کا سا ہنگامہ نہیں مچایا، مگر آج وہ مواخذہ کی کارروائی کے محاصرے میں ہیں، کون اس منہ زور سیاست دام کو قابو میں لایا، وہی امریکی سسٹم جس کے بارے میں فرض کرلیا گیا تھا کہ جوبائیڈن سسٹم کو سنبھال نہیں سکیں گے۔

مسلح لوگ حلف برداری تقریب نہیں ہونے دیں گے، لہو سے امریکی سرزمین سرخ ہوگی، کئی تجزیہ کاروں نے امریکی جمہوریت کو تباہی کے آخری کنارے میں گرتے اور ٹوٹتے بکھرتے ہوئے دیکھنے کی پیش گوئی کی تھی، مگر جب جمہوریت پر عوام کی گرفت مضبوط ہو تو بحران سرضرور اٹھاتے ہیں مگر سسٹم میں ٕ مضمر طاقت اسے سنبھال لیتی ہے۔

پاکستانی جمہوریت کو داخلی طاقت کے مظاہرے کا موقع دینا چاہیے، سارا وقت جمہوریت کے استحکام، سیاسی روا داری، خیراندیشی کی صائب کوششوں کو بروئے کار لاکر ہی حکومت سیاسی ماحول کی تپش کوکم کرسکتی ہے۔

وزیراعظم نے گزشتہ کئی ماہ سے اہم سیاسی مسائل، فکری بحران، عوام کے تزکیہ نفس اور ملکی اقتصادی، تجارتی، سماجی، روحانی اور تاریخی موضوعات پر تدریسی انداز میں گراں خواب چینیوں کے تجربے سے آگاہ کیا، قوم کو یقین دلایا کہ وہ مت گھبرائے بلکہ اسے باورکرایا کہ قوموں کی زندگی میں ایسے سخت مقام آتے ہیں جب، وہ بے چین ہوکر یا کسی کے بہکاؤے میں آکر کہتے ہیں کہ ''کہاں ہے نیا پاکستان؟'' اس میں کوئی شک نہیں کہ نیا پاکستان یہی کہیں ہے،کسی مجبور پاکستانی کے ریزہ ریزہ خواب کی کرچیوں میں گم، جس پاکستان کا عوام کو انتظار ہے وہ حکمرانوں کے انقلاب انگیز سیاسی، سماجی اور اقتصادی تبدیلی کے بجائے ملکی سیاسی دھما چوکڑی سے نڈھال ہیں، عوام نے پانی، بجلی، صحت، تعلیم ٹرانسپورٹ اور پر مسرت زندگی کے لیے پولنگ اسٹیشنوں کا رخ کیا تھا، انھوں نے بے منزل سیاسی سفرکے لیے اپنی راتوں کی نیند حرام نہیں کی تھی۔

آسودگی کی تمنا میں پی ٹی آئی کو ووٹ دیے، تاکہ ان کی زندگی میں تبدیلی آئے، انھیں روزگار ملے، مہنگائی کم ہو، قوم ایک نئی صبح کی تمنا میں آج بھی افق پر نظریں جمائے ہوئے ہے، اس لیے حکمراں کوشش کریں کہ قوم کی امیدیں قائم رہیں،کوئی ان پر تنقید نہ کرے، حکمران تو اپوزیشن کو آئے دن طرح طرح کے القاب اور ناموں سے یاد کرتے ہیں، مگر کہیں ایسا نہ ہو فضا استاد بوم میرٹھی کے اس شعر سے گونج اٹھے

ارے بوم تری تو فصل گل نے یہ چمن اجاڑکے رکھ دیا

کوئی گل کھلا نہ کلی ہنسی ہمیں شک ہے ایسی بہار پر

ضرورت اس امرکی ہے کہ ملک کے منتخب ایوانوں میں جمہوریت کی آبرو بحال رہے، منتخب نمایندوں میں خیر سگالی کو فروغ حاصل ہو۔ نئی صبح آئے، انداز بیاں بدلے،گلشن کا کاروبار چلے، گلشن کا کاروبار اسی آب و تاب سے چلے، خطے کی تزویراتی، سیاسی، اقتصادی، سماجی اور سفارتی سرگرمیوں اور مسائل و معاملات کو جمہوری اور سیاسی فہم و فراست سے حل کرنے کا موسم آئے۔

گزشتہ دنوں وزیراعظم نے صائب بات کہی کہ کشمیرکا مسئلہ طاقت سے حل نہیں ہوگا،یہی بات ملکی سیاست دانوں سے مل کر بھی کہنی چاہیے، پی ڈی ایم کو مکالمات افلاطون کہنے کی صلاحیت رکھنے والے اہل سیاست دوستانہ پیشکش کی خو ڈالیں، بے نیازی کی عادت میں ذرا ترمیم لائیں۔ سیاسی کلچرکو بدلیں، بلاشبہ سیاست بہت بے آبرو ہوئی ہے، اسے بحالی کی ضرورت ہے، لہجے کی تہذیب پر بھی توجہ دیں، ہماری سیاسی تاریخ ایسی بھی لاوارث اور یتیم نہیں تھی، بڑے اہل ظرف، نیک سیرت، باکمال مقرر، ذہین، شائستہ و بااخلاق مدبرگزرے ہیں۔

ناموں کی بڑی لمبی فہرست ہے۔ کچھ اہل سیاست یاد آئے، ان کے ارشادات نے اشکبارکیا، وقت آگیا ہے کہ ملکی سیاست کی قلب ماہیت ہو، ہمارے مقتدر ایوانوں کی تقدیس و توقیر کا گلشن پھر سے آباد ہو، سیاسی ڈکشن میں کیفیتی qualitative اور کمیتیquantative تبدیلی آئے، عوام، اہل فکرونظر، سیاسی کارکنوں، اسکول وکالجز اور جامعات کے درودیوار پھر سے خوشنما لفظوں اور نعروں سے آشنا ہوجائیں، سینیٹ میں پیپلزپارٹی کی پارلیمانی لیڈر شیری رحمان اور سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے سینیٹ الیکشن سے متعلق صدارتی آرڈیننس کو مسترد کردیا اور کہا کہ کابینہ نابینا ہے جو آئین نہیں پڑھ سکتی، آرڈیننس اداروں کے درمیان تصادم کا سبب بنے گا، اس کے اجراء سے سپریم کورٹ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

ماضی میں پیپلزپارٹی سب سے زیادہ انتخابی دھاندلی کا شکار رہی ہے، ہم بھی شفاف انتخابات چاہتے ہیں لیکن حکومت نے آرڈیننس کا سہارا لے کر خلاف آئین کام کیا ہے، صدارتی آرڈیننس آئین اور پارلیمان پر حملہ ہے، مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے رضا ربانی نے کہا کہ حکومت اداروں کے ساتھ کھلواڑ کررہی ہے۔

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ سینیٹ الیکشن سے متعلق صدارتی ریفرنس کا عدالتی فیصلہ جو بھی ہوگا اسے کھلے دل سے تسلیم کریں گے، سینیٹ میں ارکان کی خرید و فروخت کی منڈی کو بند ہونا چاہیے، ہم سینیٹ الیکشن میں خرید و فروخت روکنا چاہتے ہیں۔ توقع ہے کہ اہل سیاست اپنے رویوں میں جمہوریت کی کسک، اس سے کمٹمنٹ اور عوام سے محبت کے پیغام کو ہرگز فراموش نہیں کریں گے۔ جمہوریت کو مکمل سپورٹ کی ضرورت ہے، وہ سپورٹ اسے صرف سیاستدان دے سکتے ہیں۔

مقبول خبریں