سسٹم میں مضمر خرابی کا شاخسانہ

بلاشبہ غیر قانونی تعمیرات، تجاوزات اور قبضہ گیری کی روش کا منظر نامہ ہمارے سیاسی نظام کی ایک داخلی خرابی ہے۔


Editorial February 10, 2021
بلاشبہ غیر قانونی تعمیرات، تجاوزات اور قبضہ گیری کی روش کا منظر نامہ ہمارے سیاسی نظام کی ایک داخلی خرابی ہے۔ فوٹو: فائل

وفاقی دارالحکومت کی ضلع کچہری میں گزشتہ روز وکلاء چیمبرزگرائے جانے پر شدید احتجاج کیا گیا۔ چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ اور ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی عدالتوں کے باہر توڑ پھوڑ کے افسوسناک واقعات رونما ہوئے۔

حقیقت یہ ہے کہ اس واقعے پر بینچ اور بار کے مابین ناخوشگوار صورتحال کی جو گونج سنائی دی، اس نے فہمیدہ حلقوں کو پریشانی سے دوچار کیا ہے۔ عدلیہ کے وقارکو جس مہذب معاشرے میں انتظامی، پیشہ ورانہ یا اخلاقی اعتبار سے خطرات کا سامنا ہو تو اس معاشرہ کے زوال پر ہر حساس دل کا دکھی ہونا چنداں تعجب انگیز نہیں۔ خوش آیند بات یہ ہے کہ عدالتیں کھل گئی ہیں۔

احتجاج میں توڑ پھوڑ ملک میں سیاسی کلچر بن رہا ہے، ایک سسٹم کے بحرانی مظاہرکثیر جہتی ہوتے ہیں، تجاوزات کے ناسورکی بھی وقت نے برسوں پرورش کی ہے، ہم جن چھوٹے بڑے مسائل، تنازعات،کرپشن، لڑائی جھگڑوں، چوری، ڈکیتی اور قتل و غارت کے واقعات کا بھنور دیکھتے ہیں ، وہ اصل میں سسٹم کے اندرونی تضاد ہیں جن کے علاج معالجے پر توجہ نہیں دی گئی، رفتہ رفتہ تجاوزات، غیر قانونی تعمیرات، دھونس، دھمکی اور دھاندلی کا وائرس بڑھتے بڑھتے پورے سماجی نظام، تعلیم وتدریس، قانون و اخلاق اور تہذیبی رویوں کو آلودہ کر گیا۔

بزرگ اور عمر رسیدہ لوگ بتاتے ہیں کہ کسی زمانے میں ہمسائیگی کا لحاظ رکھا جاتا تھا، مگر آج کوئی کسی سے مروت برتنے کو تیار نہیں، تاجرانہ ذہنیت نے سماجی اور معاشی مفادات کا جنگل اگا لیا ہے۔

انتظامیہ کو تجاوزات اور غیر قانونی عمارتوں کو گرانے کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جب معاملہ حدود سے تجاوز کرجاتا ہے ورنہ کچی آبادیوں کے قیام پرکبھی بیورو کریسی، پولیس حرکت میں نہیں آتی، شاندار پلازے اور شاپنگ مالز، ممنوعہ پلاٹوں اور چائنا کٹنگ کی آڑ میں بنائی جاتی ہیں، ہزاروں عمارتیں، برساتی نالوں پر بنائی جاتی ہیں، راتوں رات کسی غریب کے پلاٹ پر قبضہ ہو جاتا ہے، کھلے میدان میں کوئی بھی با اثر شخص یا قبضہ مافیا قبضہ کرلیتی ہے، پولیس سے ملی بھگت یا سرکاری اور رفاہی مقاصد کے لیے مختص پلاٹ کو ہتھیا لینا اب ایک چمتکاری اور آرٹ ہے۔

متعلقہ محکمے ' اتھارٹیز کے حکام، اپنے غیر مرئی نیٹ ورک، کالے دھن کے ملک گیرگٹھ جوڑکے ذریعے بڑی عیاری سے معاملات طے کر لیتے ہیں، یہ ہمارا المیہ ہے کہ قبضہ مافیا، تجاوزات، جعلی دستاویزات کی تیاری، انسانی اسمگلنگ، ہیروئن اور دیگر منشیات، اسلحے کی غیر قانونی تجارت صوبائی شہروں میں انتظامی حکام کی عین ناک کے نیچے ہوتی ہیں،کسی شفافیت کے بغیر کروڑوں کی اشیا بلا روک ٹوک مارکیٹوں میں سپلائی ہوتی ہیں۔

ایک چھوٹی سی دکان بھی کروڑوں میں بکتی ہے، پارک بیچے جاتے ہیں، منوں کے حساب سے مضر صحت گوشت، ملاوٹ شدہ اشیا کی سپلائی کسی چیک اینڈ بیلنس کے بغیر جاری ہے، کوئی پوچھنے والا نہیں۔ حد تو یہ ہے کہ گداگری کا منظم نیٹ ورک اسلام آباد سے لے کر کراچی تک رواں دواں ہے، کوئی بھکاری کسی دوسرے کی جگہ پر آکر بھیک مانگنے کی جرأت نہیں کرسکتا، اسی دیدہ دلیری نے کراچی کوکنکریٹ کا جنگل بنا دیا ہے۔

اس صورتحال میں ارباب اختیار کا فرض بنتا ہے کہ وہ قانون کی حکمرانی پر منڈلانے والے خطرات کا ادراک کریں، لیکن ملک میں سسٹم کی خرابی کی اصلاح ہمیشہ سے متنازع رہی، حکمرانوں نے شہروں کی صفائی ستھرائی کو اپنی سیاسی اور تمدنی ترجیح سے نکال دیا، کراچی عروس البلاد تھا آج کچرے کے ڈھیر تلے دب گیا ہے، جب کہ پبلک ٹرانسپورٹ کی عدم دستیابی نے لاکھوں محنت کشوں، طلبا وطالبات اور خواتین کو فیکٹریوں، دفاتر اور تعلیمی اداروں تک پہنچنا انتہائی دشوار کردیا ہے۔

لے دے کر چنگ چی رکشے شہریوں کو سفری سہولت مہیا کررہے تھے کہ محکمہ ٹرانسپورٹ نے چھ سے نوسیٹر تمام چنگ چی رکشوں کے خلاف روٹ پرمٹ، فٹنس سرٹیفکیٹس اور کاغذات نہ ہونے پر کارروائی کے احکامات جاری کیے ہیں۔ یعنی دستیاب اورسستی ٹرانسپورٹ کا ذریعہ بھی اس کارروائی کے آڑ میں بند ہونے جارہا ہے۔

پنجاب میں کچرے، غلاظت اور تعفن نے مسائل کے پہاڑ کھڑے کر دیے ہیں، گڈ گورننس کی فرصت کسے ہے، حکمران تو بحث و تکرار میں الجھے ہوئے ہیں، انھیں ان طاقتور قبضہ مافیا پر ہاتھ ڈالنے کی نہ تو فرصت ہے اور نہ مزاحمت کا حوصلہ، ہر قانون شکن مفاد پرستی میں مست و مگن ہے۔

عوام کو راہ چلنے کے لیے فٹ پاتھ نہیں ملتے، کھیل کے گراؤنڈ شادی ہال بنا دیے جاتے ہیں، کراچی کے مشہور و معروف ریلوے گراؤنڈ کے دروازے کسی نوجوان فٹبالر کے لیے کھولے نہیں جاسکتے، ریلوے کی اراضی کے اسکینڈلزکا ایک ہوشربا طلسم ختم کرنے کی کئی بار کوششیں ہوئیں مگر بے سود۔ بارشیں آتی ہیں تو مخدوش عمارتوں کا ایشو متعلقہ محکموں کا مرغوب سبجیکٹ بن جاتا ہے۔

حکام میڈیا کی طرف دوڑ لگاتے ہیں، مخدوش عمارتوں کی فہرستیں چھاپی جاتی ہیں، مگر غیر قانونی عمارتیں اور مخدوش رہائشی یا تاریخی بلڈنگز وقت کے ساتھ ہی نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہیں، کسی کو برساتی نالے، گندی گلیاں، گٹرکے ڈھکن یاد نہیں رہتے، لینڈ ڈپارٹمنٹس یا بلڈنگز کنٹرول کے محکمے ہیں وہ فرض شناسی سے زیادہ عوام کو لوٹنے میں دلچسپی رکھتے ہیں، بیشتر ملکی مارکیٹوں میں صفائی کا کوئی فالٹ فری نظام نہیں، سرکاری اسپتالوں کی حالت زار کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، عوام کو باوقار ٹرانسپورٹ میسر نہیں، بی آر ٹی کے لیے خیبر پختونخوا کے عوام نے بڑے خواب دیکھے لیکن اسے ابھی تک اس میگا ٹرانسپورٹ سسٹم کے ثمرات نہیں ملے۔

ایک اربن ماہر کا کہنا تھا کہ حکومتیں عوام کے لیے سہولتیں متعارف کرانے میں ہمیشہ بخیل ثابت ہوئی ہیں، دوسری طرف کارپوریٹ کلچر کے فروغ کے باعث جو جدید سہولتیں شہریوں کو مہیا ہوئیں ان کی مسلسل نگہداشت کا کلچر جنم نہ لے سکا۔ ریلوے کو تاریخ، ثقافت اور قومی یکجہتی کا اہم ترین مواصلاتی وسیلہ قرار دیا جاتا ہے، لیکن ریلوے کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کا خواب ابھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوا، انگریز جو پٹریاں بچھا گئے، ہم آج تک ٹرین کے نظام اوقات کو ٹریک پر نہیں لاسکے۔ اسی طرح ڈیمز کی تکمیل کے لیے کوئی پیش رفت نظر نہیں آتی۔

سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار نے جوڈیشل ایکٹیو ازم کے تحت از خود نوٹس لینے کا کلچر متعارف کرایا، کئی اہم فیصلے کیے، آن دی اسپاٹ جاکر محکموں، اسپتالوں، اداروں اور انسٹیٹیوشنز کی کارکردگی کا جائزہ لیا، لیکن سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد نے کراچی کی تاریخی ایمپریس مارکیٹ کا نقشہ ہی بدل دیا، وہ ایمپریس مارکیٹ آج خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے، اگر دیکھا جائے تو تجاوزات کے سنگین اور دلگداز انسانی تناظر کو ملک گیر پس منظر میں دیکھنے کے لیے ایمپریس مارکیٹ ایک ٹیسٹ کیس ہے۔

بلاشبہ غیر قانونی تعمیرات، تجاوزات اور قبضہ گیری کی روش کا منظر نامہ ہمارے سیاسی نظام کی ایک داخلی خرابی ہے۔ ارباب اختیار اور مسند انصاف پر مامور اہل دانش کے لیے یہ لمحہ فکریہ ہے جس کی اصلاح کے لیے ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں۔

مقبول خبریں