عوامی مسائل سے چشم پوشی

یہ کیسے ممکن ہے کہ عوام خصوصاً باشعور طبقے اس خود ساختہ سیاسی و روایتی نظام میں سما سکیں۔


Editorial February 11, 2021
یہ کیسے ممکن ہے کہ عوام خصوصاً باشعور طبقے اس خود ساختہ سیاسی و روایتی نظام میں سما سکیں۔ فوٹو: فائل

سینیٹ کے انتخابات میں ایک ماہ سے بھی کم عرصہ باقی ہے لیکن اگلے روز ایک ویڈیو سامنے آئی ہے۔اس مبینہ ویڈیو کے بارے میں حکومتی شخصیات کا دعویٰ کہ اس میں 2018 کے انتخابات میں ووٹ فروخت کرنے سوالے خیبرپختون خوا اسمبلی کے ایم پی ایز نظر آرہے ہیں۔ یہ بھی خبر آئی ہے کہ ویڈیو سامنے آنے پر خیبرپختونخوا کے وزیرقانون سلطان محمد خان نے عہدے سے استعفیٰ دیدیا ہے۔

اسی ضمن میں حکومتی وبرسراقتدار پارٹی ترجمانوں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ جو انتخابات میں شفافیت کے مخالف ہیں، وہی پیسہ لے کر ووٹ اور ٹکٹ بیچتے اور خریدتے ہیں ۔

یہ ویڈیو کس قدر سچائی پر مبنی ہے، اس کے بارے میں اس وقت تک کوئی رائے نہیں دی جاسکتی جب تک اس کا فرانزک آڈٹ ہوکر حقائق سامنے نہیں آجاتے۔سینیٹ ریاست کا اہم ترین ادارہ ہے ،لیکن ہمارے ہاں یہ روایت پختہ ہوگئی ہے کہ ہر اہم موقعہ پر کوئی نہ کوئی ایشو کھڑا ہوجاتا ہے۔ حکومت نے پہلے سینیٹ الیکشن اوپن بیلٹ سے کرانے کا اعلان کیا، جس پر اپوزیشن کے تحفظات سب کے سامنے ہیں۔

ووٹنگ خفیہ رائے شماری کی بجائے اوپن بیلٹ کے ذریعے کرانے کے لیے حکومت نے سپریم کورٹ سے رابطہ بھی کررکھا ہے، ابھی سماعت کا سلسلہ جاری ہے کہ اسی دوران ایک صدارتی آرڈینس بھی جاری کردیا گیا،جسے اپوزیشن چیلنج کرنے کا اعلان کرچکی ہے ۔ اب ویڈیو اسکینڈل میڈیا کی زینت بن گیا ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب سینیٹ الیکشن میں ووٹنگ کے طریقہ کار پر سپریم کورٹ میں سماعت جاری ہے ، ڈھائی برس پہلے ووٹوں کی خرید وفروخت کی مبینہ ویڈیو منظرعام پر آئی ہے، اس پر بھی ملک کے فہمیدہ حلقوں کے ذہنوں میں بہت سے سوالات کا جنم لینا فطری امر ہے۔

ملکی سیاست پہلے ہی مختلف قسم کے الزامات سے آلودہ ہے، اس آلودگی کو مزید بڑھاوا ملنے سے عوام کے ذہنوں میں منتخب نمائندوں پر ہی نہیں بلکہ ملک کی ساری سیاسی قیادت کے بارے شکوک وشہبات جنم لیں گے جو جمہوریت اور جمہوری نظام دونوں کے لیے نقصان کا سبب بن سکتے ہیں۔ارباب اختیار اوراہل سیاست کو ان نازک پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھنا چاہیے اور خود احتسابی پرتوجہ مرکوز کرنی چاہیے ، تاکہ وہ عوام کے سامنے باکردار سیاستدان کے روپ میں سامنے آسکیں اور ان کے لیے رول ماڈل بن سکیں ناکہ کرپشن اور بدعنوانی کے الزامات کی گرد اڑاتے رہیں۔

اصولی طور پر کسی شخصیت،ادارے، عوام کے منتخب نمائندوں یا سیاسی جماعت اور اس کی قیادت پر الزامات عائد کرنے یا اسکینڈل منظر عام پر آنے سے پہلے تحقیقات کرنا اہم ترین نقطہ ہے،بلاشبہ موجودہ حالات میں ہمارا ملک سیاسی عدم استحکام اور اقتصادی مشکلات کا شکار ہے۔ بے روزگاری عروج پر ہے اور غربت اور مہنگائی میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔اس حالات میں حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بڑھتی ہوئی سیاسی محاذ آرائی نے ملک کے کاروباری طبقے اور مڈل کلاس کو تشویش میں مبتلا کر رکھا ہے ۔

حکومت کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کی احتجاجی تحریک جاری ہے ، اگلے روز سندھ کے دوسرے بڑے شہر حیدرآباد میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ ملکی معیشت صفر سے نیچے اور سالانہ ترقی ختم ہوچکی ہے، پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ حکومت مہنگائی کا سونامی لائی ہے، نیا پاکستان تو مہنگا پاکستان نکلاہے ، عمران خان تجاوزات کے نام پر غریبوں کے سر سے چھت چھین رہا ہے اور حکومت نے عوام کا جینا حرام کردیا ہے۔

جلسے سے دیگر اپوزیشن جماعتوں کے رہنماؤں نے بھی اپنے، اپنے خطاب میں حکومت کی کارکردگی پر کڑی تنقید کی ۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان تناؤ اور کشیدگی کو کم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے، سیاست میں مذاکرات کے دروازے ہمیشہ کھلے رہتے ہیں لیکن ہمارے یہاںسیاسی منظرنامہ پر ایک نگاہ ڈالیں توایسا لگتا ہے کہ یہاں مذاکرات کی ٹیبل جس کمرے میں موجود ہے۔

اس کے دروازے پر تالے ڈال کر ، کھڑکیاں بھی بند کرلی گئی ہیں ۔یہ صورتحال حکومتی پارٹی اور اپوزیشن جماعتوں اور سسٹم کو بند گلی میں لے جارہی ہے ۔ عوام اپنی سیاسی قیادت سے فہم وفراست اور تدبرکے متقاضی ہوتے ہیں لیکن یہاں تو اہل سیاست کے چلن ہی نرالے ہیں ، ان کی آپس کی لڑائی میں عوام پس رہے ہیں ،ان کے بنیادی مسائل حل طلب ہیں جب کہ کرپشن، مذہبی انتہا پسندی، عدم برداشت، بدامنی، بداخلاقی معاشرے میں تیزی کے ساتھ پنپ رہی ہے۔ یہ بہت بڑا سوال ہے کہ ایسا کیوں ہے؟

عوام کے نمائندے اور سیاستدان معاشرے کا عکس ہوتے ہیں۔ جمہوریت پسند اور مہذب اقدار کی حامل سیاسی لیڈرشپ گالم گلوچ، غیر اخلاقی بات چیت، بلا ثبوت الزامات کی سیاست نہیں کرتے ہیں۔ ہمارے منتخب ایوانوں کی کارکردگی اس لیے بھی لائق تحسین نہیں کہ عوام کے منتخب نمائندے اپنی سیاسی جماعت کی قیادت کا ہر قیمت پر دفاع کرنا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔

انھیں قانون سازی سے کوئی دلچسپی نہیں ہے ۔ وہ سرکاری ملازمین کی تقرریوں اور تبادلوں اور ترقیاتی فنڈز کے حصول میں دلچسپی لیتے ہیں۔اس وقت ملک میں تنخواہ دار طبقے کی حالت سب سے زیادہ پتلی ہے، سرکاری ملازمین اپنے مطالبا ت کے لیے احتجاج کرتے ہیں تو اسلام آباد کی شاہراہوں پر پولیس اہلکار انھیں تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ نجی شعبے کے ملازمین تو احتجاج کی سکت بھی نہیں رکھتے۔معاشی واقتصادی ماہرین ہمیں بتا رہے ہیں کہ ملک میں مڈل کلاس مختصر ہوتی جارہی ہے ، کروڑوں لوگ خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں ۔بے روزگاری بڑھ رہی ہے۔

مہنگائی نے کہرام برپا کررکھا ہے۔ایسے حالات میں بیس پچیس ہزار تنخواہ لینے والے ملازمین اپنے کنبے کا خرچ کیسے پورا کریں؟ کیا کوئی حکومتی معاشی ماہر ایک فیملی کا ماہانہ اخراجات کا پلان بنا کر دے سکتا ہے ؟جہاں غربت و بیروزگاری،بھوک،مہنگائی،بد امنی، کرپشن،لاقانونیت،انصاف کی عدم دستیابی،اقرباء پروری جیسے مسائل معاشروں کو دیمک کی طرح چاٹ کر تاریخ کا رزق بنا دیتے ہیں۔ ہمارے ہاں نوجوان ملک کی آبادی کا ساٹھ فیصد سے زائد ہیں اور سب سے زیادہ نوجوان طبقہ ہی مسائل کا شکار ہے جب کہ ان مسائل کا حل ڈھونڈنے والے آپس کی لڑائی میں مصروف ہیں۔

اشیاء خورو نوش، بجلی، گیس، ادویات کی قیمتوں میں سو سے لے کر دو سو فی صد تک اضافہ ہوچکا ہے ۔ آج یومیہ اجرت پر کام کرنے والے غریب شہریوں کے اپنا کچن چلانا تقریباً ناممکن ہوگیا ہے۔ حکومتی اعدادوشمار کے مطابق کورونا وباء کے باعث اب تک ساٹھ لاکھ سے زائد محنت کش مکمل یا جزوی طور پر ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جب کہ ایک اندازہ کے مطابق بیروزگاروں کی تعداد تقریبا ایک کروڑ اسی لاکھ تک پہنچ چکی ہے،لیکن ان کی مالی معاونت کے لیے صرف 200 ارب رکھے گئے ہیں،حکومت ایک طرف یہ کہہ رہی ہے کہ وہ عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے لیکن اصل میں اس نے رواں مالی سال میں 6.57 ٹریلین ریونیو جمع کرنے کا ہدف مقرر کر کے مہنگائی کے جن کو بوتل سے باہر نکال دیا ہے۔

آئی ایم ایف کے تیار کردہ معاشی پالیسیوں نے زندگی کے کسی شعبہ کو بھی نہیں بخشا۔دن بدن بڑھتی ہوئی مہنگائی، غربت و بیروزگاری،سیاسی و معاشی عدم استحکام اور سیاستدانوں کی کم فہمی عوام کے لیے مزید تلخی کا باعث بن رہے ہیں۔آج عالمی افق پر بڑی بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں اور ایسی تبدیلیاں جن کا تصور محال تھا، اس کے برعکس پاکستان میں نعرے، وعدے اور دعوے ہیں لیکن عملا کچھ نہیں۔

حکومت اور سیاسی جماعتوں کے قائدین کو اس بات کا ادراک ہو جانا چاہیے کہ موجودہ حالات کی ضروریات یکسر تبدیل ہو چکی ہیں۔ حالات بدلنے کے دعویدار سیاستدان، سیاسی جماعتیں اور سرکاری ادارے اعلیٰ پائے کی زیرکی اور معامہ فہمی کا مظاہرہ کریں، اگر منتخب حکومتیں، سیاستدان اور دیگر اسٹیک ہولڈر صرف اپنے ہی سرمائے کو ضرب دے کر اچھے حالات کی نوید سناتے رہیں گے تو عوام اور ملک کے حالات کبھی نہیں بدل سکیں گے۔

سیاستدانوں اور سیاسی جماعتوں کو یہ بات سمجھنے اور پرکھنے کی اشد ضرورت ہے کہ اگراہلیت و قابلیت میرٹ نہیں ہوگا بلکہ اقربا پروری اور دوست نوازی کو ہی سیاست سمجھا جائے گا تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ عوام خصوصا باشعور طبقے اس خود ساختہ سیاسی و روایتی نظام میں سما سکیں ، ہم پارلیمانی جمہوریت کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوکر ہی ملک کو مستحکم بنا سکتے ہیں۔ حکومت کو سیاسی محاذآرائی سے ہٹ کر عوامی ریلیف کے اقدامات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے تاکہ عوام کا جمہوری نظام پر اعتماد اوریقین برقرار رہے۔

مقبول خبریں