ابراہیم جویو کے فن کا کمال
جویو صاحب نے اسکول میں قدم رکھنے کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے اور مظہر جمیل نے ان کی اس گفتگو کو من و عن لکھ دیا ہے
SRINAGAR:
ادب اور فلسفے سے تعلق رکھنے والے اور فنون لطیفہ سے وابستہ لوگ جب عمر کے ابتدائی برسوں میں اپنا سفر شروع کرتے ہیں تو انھیں یہ اندازہ نہیں ہوتا کہ کارزار حیات میں ان پر کیا گزرے گی اور وہ کہاں تک پہنچیں گے۔ لیکن کچھ دانش مند ایسے بھی ہوتے ہیں جو پُوت کے پیر پالنے میں پہچان لیتے ہیں۔ سندھ کے معروف دانشور، استاد اور ادیب ابراہیم جویو کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ یہ باتیں اس لیے یاد آ رہی ہیں کہ دسمبر 2013ء کی آخری تاریخوں میں اکیڈمی آف لیٹرز کے صدر دفتر اسلام آباد میں ایک اجلاس ہوا جس کی صدارت مسعود اشعر نے کی، توصیف تبسم، سعادت سعید، ڈاکٹر فہمیدہ حسین، راج ولی خٹک، واحد بزدار اور خاکسار بہ طور منصفین اس اجلاس میں موجود تھے۔ اس ایوارڈ کے لیے کئی نام پیش کیے گئے ۔ سندھی کے اہم دانشور، استاد اور ادیب ابراہیم جویو صاحب کے نام پر سب نے اتفاق کیا۔
کمال فن ایوارڈ جسے لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ بھی کہتے ہیں اسے اکیڈمی نے 1997ء سے شروع کیا اور اب تک احمد ندیم قاسمی، انتظار حسین، احمد فراز، شوکت صدیقی، منیر نیازی، ادا جعفری، سوبھو گیان چندانی، ڈاکٹر نبی بخش بلوچ، جمیل الدین عالی، اجمل خٹک، عبداللہ جان جمال دینی، محمد لطف اللہ خان اور بانو قدسیہ کو دیا جا چکا ہے۔ یہ تمام نام اس بات کا مظہر ہیں کہ اس ایوارڈ کے لیے جو نام منتخب کیے گئے وہ یقیناً علم و دانش اور تخلیق و تحقیق کے میدان سے تعلق رکھنے والے اہم ترین ناموں میں سے ہیں۔ جویو صاحب اس سال 98 برس کے ہو گئے ہیں۔ ان کی عمر دراز ہو، دو برس بعد وہ سو برس کے ہو جائیں گے۔ میں نے ابتدا میں ہی یہ بات لکھی ہے کہ دانش مند افراد پوت کے پاؤں پالنے میں ہی پہچان لیتے ہیں۔ جویو صاحب کی صلاحیتوں کو ان کے کئی بزرگوں نے پہچان لیا تھا۔ مظہر جمیل صاحب نے 755 صفحوں پر ان کی سوانح لکھی تو جابجا ان لوگوں کے بیانات ملتے ہیں جو ان کی نوعمری اور جوانی سے ہی اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ جویو آگے چل کر ایک اہم ادیب اور دانشور کے طور پر سندھ کے افق پر طلوع ہوں گے۔
جویو صاحب نے اسکول میں قدم رکھنے کو بہت تفصیل سے بیان کیا ہے اور مظہر جمیل نے ان کی اس گفتگو کو من و عن لکھ دیا ہے۔ جویو صاحب اس دن کو اپنی زندگی کا یادگار دن کہتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ میرے اسکول جانے کی تیاریاں پچھلے کئی دنوں سے کی جا رہی تھیں۔ دادی نے میرے لیے کپڑوں کا نیا جوڑا سیا تھا اور چٹی پٹی کی ٹوپی بنائی تھی۔ جس پر سلما ستارے کا جھلملاتا کام کیا گیا تھا۔ قلم، کتاب اور سلیٹ رکھنے کے لیے ایک بقچی تیار تھی اسے بھی رنگ برنگے جھلملاتے ستاروں سے سجایا گیا تھا۔ دادا نے مرحوم نانا احمد موچی سے میرے لیے جوتی کا نیا جوڑا بنویا تھا۔ جسے میں نے پہلی مرتبہ پہنا تھا۔ اس سے قبل ہم بھی دوسرے بچوں کی طرح ننگے پاؤں گاؤں بھر میں گھومتے پھرتے تھے۔ دادا، دادی دونوں پنجگانہ نمازی تھے۔ دادا صبح سویرے فجر کی نماز سے بھی پہلے وضو کر کے مصلے پر بیٹھ جاتے اور خشوع و خضوع سے ذکر اذکار میں مصروف ہو جاتے۔ دادا نماز سے فارغ ہو کر اپنی دھیمی دھیمی سریلی آواز میں حمد و نعت کے شعر گنگناتے تھے۔ ان کی گنگناہٹ سے کبھی کبھی میری آنکھ کھل جاتی تو میں بستر میں دبکا ہوا ان کی آواز کے سحر میں کھو جاتا۔ دادا کی آواز میں بڑا درد ہوتا تھا۔ غرض داخلے کی صبح سے پہلے ہی میرے اسکول جانے کی دھوم دھام تھی۔
اس سے پہلے اکثر ہم اپنے ہم عمر دوستوں کے ساتھ اسکول کے بڑے دروازے سے اندر کی طرف تانک جھانک کرتے تھے۔ وہاں بالعموم سائیں ٹیکن مل اسکول کے بڑے صحن میں نیم کے درخت کی گھنی چھاؤں میں چار پائی ڈالے بیٹھے ہوتے تھے۔ گاؤں کے بچوں میں ٹیکن مل جی کی اچھی خاصی ہیبت تھی جو بڑے لڑکوں نے شرارتاً پیدا کی تھی۔ میرے دل میں جہاں اسکول جانے کی خوشی تھی وہیں سائیں ٹیکن مل کا ان جانا سا خوف بھی بیٹھا ہوا تھا، وہ ہمارے گوٹھ کے تو تھے نہیں جو ہم بچے بھی انھیں اچھی طرح پہچانتے۔ میں رات بھر اسکول اور سائیں ٹیکن مل کے ہی خواب دیکھتا رہا۔ کبھی کہیں سے، کبھی کہیں سے۔ خدا خدا کر کے صبح ہوئی تو دادا کو حسب معمول مصلے پر بیٹھے دیکھا وہ خوش الحانی سے حمد گنگنا رہے تھے۔
آنکھ کھلتے ہی میری نظر نئے کپڑوں پر پڑی اور اسکول جانے کا خیال آیا تو میں جھٹ پٹ بستر سے اٹھ کھڑا ہوا۔ اور جلدی جلدی اچھی طرح منہ ہاتھ دھو کر جھٹ پٹ نئے کپڑے پہن کر تیار ہو گیا۔ دادی نے حسب معمول ناشتہ کرایا۔ نئے جوتے پہنانے اور نیا بستہ گلے میں ڈال کر میرا ہاتھ پکڑا اور اس شان سے میں ان کی انگلی تھامے اسکول کی طرف روانہ ہوا۔ ہر ہر قدم پہ میرے دل میں خوشی کے احساس پر خوف اور دہشت کا احساس غالب ہوتا جاتا تھا۔ کبھی سائیں ٹیکن مل کے بارے میں لڑکوں کی باتیں یاد آتیں کہ وہ کس طرح بچوں کو سزا دینے کے لیے ان کے کانوں میں لوہے کی چمٹیاں لگا دیتے ہیں۔ کبھی یہ ڈر کہ وہ نہ جانے میرے ساتھ کس طرح پیش آئیں لیکن اس کے باوجود اسکول کو اندر سے دیکھنے بھالنے کا شوق بھی اپنی جگہ تھا۔ اسی دھکڑ پکڑ میں ہم لوگ اسکول پہنچ گئے۔ سچ تو یہ ہے کہ اس وقت تک سائیں ٹیکن مل ہی نہیں بلکہ پورے اسکول کا رعب و دبدبہ مجھ پر پوری طرح غالب آ چکا تھا۔
سائیں ٹیکن مل نے دادی کو اندر آتے دیکھا تو وہ خود اپنی کرسی سے اُٹھ کھڑے ہوئے اور دادی کے خیرمقدم کے لیے تیزی سے لپکے۔ ان کے ساتھ ہی کلاس کے بچے بھی دادی کے استقبال کے لیے کھڑے ہو گئے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ صرف ایک لڑکا''ریوا'' تھا جو اپنی جگہ بیٹھا رہ گیا تھا اور دوسرے لڑکوں کی طرح کھڑا نہ ہوا تھا۔ دراصل ریوا بھی میری طرح اسی دن اسکول آیا تھا اور اسے اسکول کے قاعدے قانون کا کوئی علم نہ تھا۔ استاد ٹیکن مل نے اسے آوازدے کر کہا، ''ریوا! چلو تم بھی سب کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ۔ دیکھتے نہیں ہو، اخوندانی صاحبہ آئی ہیں۔'' جس پر ریوا بھی آنکھیں پھاڑے کھڑا ہو گیا تھا۔بعد میں انھوں نے دادی کو احترام سے بٹھایا اور پھر کلاس کے بچوں کو بھی بیٹھ جانے کا حکم دیا لیکن وہ خودکھڑے کھڑے دادی سے باتیں کرتے رہے اور باتیں کرتے کرتے میرے سر پر ہلکے سے ہاتھ رکھ دیا'' اور پھر مجھ سے مخاطب ہوکر کہا ''بیٹا! اچھا بتاؤ کیا یہاں کوئی تمہارا دوست اور ساتھی نظر آتا ہے؟'' اس وقت تک میرا دل قابو میں آ گیا تھا اور سائیں ٹیکن مل کی دہشت بھی کم ہو چکی تھی۔ ان کا سوال سن کر میں نے جھجکتے ہوئے ریوا کی طرف اشارہ کر کے ہلکے سے کہا ، ''ریوا''۔ یہ بات سن کر سائیں ٹیکن مل نے ریوا کو اپنے پاس بلایا۔ خود کرسی پر بیٹھے، مجھے میز سے اتار کر ایک زانو پر بٹھا لیا اور دوسرے زانو پر ریوا کو بٹھا کر پوچھا۔ ''کیوں ریوا، کیا یہ تمہارا یار ہے؟'' اس پر ریوا نے ہنستے ہوئے کہا، ''ہاؤ سائیں، یہ میرا یار ہے۔''
جویو صاحب کتابوں کے رسیا تھے۔ اسی لیے وہ ہمیں تھیوسیفیکل سوسائٹی اور ڈی جے کالج کی لائبریری کے پھیرے لگاتے نظر آتے ہیں۔ دوسرے سندھی ادیبوں کی طرح انھوں نے بھی مختلف اہم کتابوں کے ترجمے کو بہت اہمیت دی۔ آزادی سے پہلے کے زمانوںمیں جویو صاحب آستین الٹ کر دنیا کی بعض اہم کتابوں کے ترجمے پر لگ گئے۔ اس زمانے میں سندھی ادیب اس نتیجے پر پہنچ چکے تھے کہ جب تک سندھی میں طبع زاد کتابیں سامنے نہیں آتیں تب تک ہر ادیب کودوسرے مقامی اور یورپی زبانوں سے ترجمے کرنے چاہئیں۔'' جویو صاحب کواپنے نقطہ نظر کی بناء پر اور بہ طور خاصSave Sindh, Save the Continent جیسی علمی کتاب لکھنے کی سزا میں سندھ مدرستہ الاسلام کی ملازمت سے فارغ کر دیا گیا تھا۔ وہ کئی مرتبہ مختلف ملازمتوں سے نکالے گئے لیکن سائیں جی ایم سید جب سندھی ادبی ایوارڈ کے سیکریٹری کے لیے کسی شخص کو تلاش کر رہے تھے تو ان کی نظر سندھ میںصرف دو اشخاص پر نگاہ ٹھہرتی تھی۔ پہلی شخصیت ڈاکٹر نبی بخش خان بلوچ تھے اور دوسری شخصیت محمد ابراہیم جویو کی تھی۔
جویو صاحب نے کمال فن ایوارڈ سے منسلک پانچ لاکھ کی رقم کو جب سندھ انسٹیٹیوٹ آف یورو لوجی اینڈ ٹرانسپلانٹیشن کے لیے عطیہ کرنے کا اعلان کیا تو چند دنوں پہلے ڈاکٹر ادیب الحسن رضوی نے جویو صاحب کے اعزاز میں ایک بڑی تقریب کا ڈاکٹر مرلی کی زیر نگرانی اہتمام کیا جس میں دور دور سے لوگ کھنچے چلے آئے۔ اس روز ڈاکٹر مظہر صدیقی، سلیم میمن، مظہر جمیل، شفیق پراچہ، مہتاب اکبر راشدی، ڈاکٹر فہمیدہ حسین اور کئی دوسروں نے جویو صاحب کی خدمت میں ہدیہ عقیدت پیش کیا۔ ان کے صد سالہ جشن کے پروگرام بنائے گئے۔ اردو اور سندھی زبانوں کے ادیبوں کا یہ ملن حسین تھا۔ اس حسن کو بڑھاوا دے کر ہی ہم اپنے صوبے کو سجا اور سنوار سکتے ہیں۔