’’بائیو سیکیور‘‘ ببل اور ’’ان سیکیور‘‘ پی سی بی

ٹیم کی بیرون ملک کارکردگی صفر ہے اسے تو بہتر بنائیں


Saleem Khaliq February 22, 2021

''10 پاکستانی کرکٹرز کے کوویڈ ٹیسٹ مثبت آگئے،ان میں فلاں فلاں شامل ہیں''گذشتہ سال کی بات ہے جب پی سی بی کے چیف ایگزیکٹیو وسیم خان اتنی شان سے یہ فہرست پڑھ رہے تھے جیسے اولمپکس میں میڈلز جیتنے والوں کا اعلان کر رہے ہوں،اس کے بعد بھی کئی بار ایسا ہوا، جب کبھی بائیو ببل کی خلاف ورزی ہوتی تو پی سی بی ''زیرو ٹالیرنس'' کا نعرہ لگا دیتا،ڈومیسٹک ایونٹ کے دوران رضا حسن کو تو اس خطا پر بقیہ سیزن سے ہی باہر کردیا گیا۔

اصول پسندی کے راگ الاپنے والے حکام بڑے فخر سے اپنے ایسے فیصلوں کا اعلان کرتے رہے، البتہ اب پی ایس ایل سے قبل جو پریس ریلیز جاری ہوا تو اس میں ''ایک فرنچائز کے2افراد'' کا ذکر تھا، ان کو تین روزہ فرنطینہ مکمل کرنے کے بعد 2 منفی ٹیسٹ پر دوبارہ ساتھیوں کو جوائن کرنے کی اجازت دینے کا بھی کہا گیا، یہ دونوں پشاور زلمی کے کپتان وہاب ریاض اور کوچ ڈیرن سیمی تھے جنھوں نے پریکٹس میچ کے دوران ٹیم اونر سے ملاقات کی اور گلے بھی ملے،جاوید آفریدی چونکہ ببل سے باہر تھے اس لیے یہ خلاف ورزی شمار ہوئی۔

یوں یہ دونوں پہلے میچ سے باہر ہو گئے، بظاہر معاملہ سادہ سا تھا، شعیب ملک یا کسی اور کو قیادت سونپنے پر بات بھی ہوئی، مگر اتوارکی دوپہر جب لاہور قلندرز کی ٹیم بس میں سوار ہو چکی تھی تو اسے انتظار کرتے کرتے آدھے گھنٹے سے زائد وقت گذر گیا مگر پشاور زلمی کا اسکواڈ ہوٹل سے باہرہی نہ آیا،آپ سوچیں اس وقت بس میں موجود غیر ملکی کرکٹرز ہمارے بارے میں کیا سوچ رہے ہوں گے،مگر تب ہوٹل کے اندر صورتحال بڑی گمبھیر تھی، فرنچائز مینجمنٹ کی جانب سے زلمی کو پیغام ملا تھا کہ جب تک وہاب اور سیمی نہ آئیں کوئی اسٹیڈیم نہیں جائے گا، پی سی بی آفیشلز انھیں سمجھانے کی کوشش کرتے رہے مگر کوئی فائدہ نہ ہوا، ٹاس کا وقت تیزی سے قریب آ رہا تھا، سیکیورٹی پروٹوکولز کے تحت دونوں ٹیموں کو ساتھ روانہ ہونا تھا۔

قلندرز بھی بدستور بس میں پریشان بیٹھے تھے، بورڈ آفیشلز کے پسینے چھوٹ گئے،آخر کار کوئی حل سامنے نہ دیکھ کر انھوں نے ہتھیار ڈال دیے، ٹیکنیکل کمیٹی نے اپیل منظور کر لی یہ نعرہ لگا کر وہاب اور سیمی کو تین دن سے پہلے ہی آئسولیشن سے باہر آنے کی اجازت دے دی اور کپتان و کوچ اسٹیڈیم جا کر میچ میں شریک بھی ہوئے،یوں نہ صرف بائیو ببل ختم ہو گیا بلکہ بورڈ حکام کا بھرم بھی ٹوٹ گیا، اصول پسندی کی باتیں کرنے والے لوگ ذرا سا دباؤ بھی برداشت نہ کر سکے،محمد حفیظ کو تو آپ نے چند گھنٹے کی تاخیر سے وطن واپس آنے پر بھی نام نہاد بائیو سیکیور ببل کا حصہ نہ بننے دیا اور جنوبی افریقہ کیخلاف سیریز سے باہر کر دیا، وجہ ''صاحب'' کی انا کو ٹھیس لگنا تھی۔

اب جہاں پی سی بی حکام کو اپنی اتھارٹی دکھانا چاہیے تھی وہاں انھوں نے ہتھیار ڈال دیے، یوں ایک غلط مثال قائم ہوگئی ، ویسے یہ ببل بھی مذاق ہی ہے، گذشتہ برس بھی خلاف ورزیاں ہوتی رہیں اب بھی جاری ہیں،بعض مثبت کورونا کیسزبھی سامنے آ چکے،کھلاڑی ہوٹل میں کھانا کھاتے ہیں کیاانھیں سروکرنے والے ویٹرز بھی ببل کا حصہ ہیں یا اپنے گھر چلے جاتے ہیں؟ کیا ریسپشنسٹ اور ہوٹل کا دیگر اسٹاف بھی ببل میں شامل ہے؟ کیا سیکیورٹی اہلکار بھی ببل میں ہیں؟ اسٹیڈیم میں جو پلیئرز کو کھانا وغیرہ سرو کرتے ہیں وہ بھی گھر جانے کے بجائے کیا ببل میں رہتے ہیں؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر واقعی بائیو ببل سیکیور ہے ورنہ اس کا کوئی فائدہ نہیں، جیسے میڈیا نمائندوں کے 13 فروری کو کوویڈ ٹیسٹ کرائے گئے اور انھوں نے 20 تاریخ کو پہلا میچ کور کیا، اس دوران وہ اپنے گھر اور دفتر بھی گئے ہوں گے، ان کا کھلاڑیوں وغیرہ سے تو رابطہ نہ تھا مگر ٹیسٹ کرانے کی کیا منطق بنی،ویسے پی سی بی جس لیب سے دھڑا دھڑ ٹیسٹ کروا رہا ہے اس کے وارے نیارے ہو گئے ہوں گے۔

اب ہم فرض کرتے ہیں کہ پشاور کی ٹیم کل کا میچ نہ کھیلتی تو کیا ہو جاتا، یقیناً اس کا لیگ کو نقصان ہوتا اور بدنامی بھی ہوتی لیکن اب بھی دنیا پر کون سا اچھا پیغام گیاہے، مجھے صحافت میں طویل عرصہ ہو گیا اور کئی بورڈ حکام دیکھے مگرافسوس کہ موجودہ آفیشلز ناکام ترین کی فہرست میں سب سے نمایاں نظر آتے ہیں، اچھی انگریزی بولنے والے برگر کلاس لوگوں کو بڑی ذمہ داریاں سونپ دیں جو اتراتے ایسے ہیں جیسے پورا پاکستان ان کے دم سے چل رہا ہو مگر اہلیت صفر ہے، مارکیٹنگ ڈپارٹمنٹ کا جو حال ہے وہ سب جانتے ہیں، ایسے میں تنازعات تو سامنے آئیں گے،گذشتہ برس پی ایس ایل شروع ہونے سے قبل عمر اکمل کا فکسنگ کیس سامنے آیا، اس بار بائیو ببل والا واقعہ مسائل کا باعث بنا، پی سی بی نے اپنے ہی قواعد کی دھجیاں اڑا کر مستقبل کی انٹرنیشنل سیریز کو بھی خطرے میں ڈال دیا ہے، اس کا غیرملکی ٹیموں پر بھی اچھا اثر نہیں پڑے گا، عجیب و غریب پی ایس ایل کا ترانہ، ترکی میں ریکارڈ شدہ غیرمتاثر کن افتتاحی تقریب اور اب یہ بائیو ببل کا معاملہ بورڈ حکام کی اہلیت پر سنجیدہ سوالات اٹھا رہا ہے، اتنی مشکل سے پی ایس ایل ملک کا بڑا برانڈ بنی، آپ پہلے ہی فرنچائز سے لڑے بیٹھے ہیں، معاملہ عدالت تک جا پہنچا تھا، اب انعقاد میں مسائل کا سامنا ہے۔

اتنی مشکل سے لیگ پاکستان واپس آئی ہے، آپ کو تو مثالی انداز میں انعقاد کرانا چاہیے، کوئی عالمی معیار کی لیگ ایسے چلائی جاتی ہے؟ کیا حکومت میں کوئی یہ سب کچھ نہیں دیکھ رہا؟ کہاں ہیں چیئرمین احسان مانی اور سی ای او وسیم خان، کون اس واقعے کی ذمہ داری لے گا؟ اس وقت تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بورڈ حکام خود ان سیکیور (غیرمحفوظ) ہیں، ان کو اپنی کرسی بچانے کی زیادہ فکر ہے، کوئی عہدے میں تین سالہ توسیع کی خواہش ظاہر کر رہا ہے تو کسی کو ''کرکٹ کی بہتری'' کیلیے ایکسٹینشن چاہیے،آپ 10 سال بورڈ پر راج کریں مگر کرکٹ کو بہتر تو بنائیں، آپ نے کلب کرکٹ ختم کر دی، ڈومیسٹک مقابلوں کا تیا پانچہ کردیا، ٹیم کی بیرون ملک کارکردگی صفر ہے اسے تو بہتر بنائیں، جب دورۂ نیوزی لینڈ میں ہمارے کھلاڑیوں کو ہوٹل رومز میں قید رکھا گیا تب تو آپ لوگ بڑی اصول اور قواعد کی باتیں کر رہے تھے، اب کیوں خاموش ہیں، کیوں یوٹرن لیا؟ بات وہی ہے کہ ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور، زور صرف کمزوروں پر چلتا ہے طاقتور افراد پر نہیں، اسی لیے ملکی کرکٹ کا یہ حال ہے۔

(نوٹ: آپ ٹویٹر پرمجھے @saleemkhaliq پر فالو کر سکتے ہیں)