عراق 4 بم دھماکے فائرنگ سے 25 افراد ہلاک 40 زخمی

قصبہ ادھیم میں مسلح افراد کی فائرنگ سے 6 ڈرائیور مارے گئے۔


AFP January 06, 2014
قصبہ ادھیم میں مسلح افراد کی فائرنگ سے 6 ڈرائیور مارے گئے۔ فوٹو فائل

عراقی دارالحکومت بغداد میں 4 بم دھماکوں اور فائرنگ کے نتیجے میں25 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوگئے جبکہ فلوجہ شہر پر مکمل اور رمادی کے آدھے حصے پر القاعدہ کے جنگجوئوں کا قبضہ برقرار ہے۔

اتوار کو دارالحکومت بغداد کے مختلف حصوں میں 3کار بم دھماکے اور ایک سڑک کنارے بم دھماکا ہوا جس میں19 افراد ہلاک اور 40 زخمی ہوگئے۔ دریں اثنا بغداد کے شمالی شہر ادھیم میں مسلح افراد نے فائرنگ کرکے 6 ڈرائیوروں کو ہلاک کردیا۔ دوسری طرف صوبہ انبار کے فلوجہ شہر پر مکمل اور رمادی کے آدھے حصے پر القاعدہ کے جنگجوئوں کا قبضہ برقرار ہے جبکہ عراقی فورسز فلوجہ شہر پر دوبارہ مکمل کنٹرول حاصل کرنے کیلیے ایک بڑے حملے کی تیاری کررہی ہیں۔ عراقی فوج فلوجہ شہر کے باہر کھڑی ہے اور وہ عام شہریوں سے کہہ رہی ہے کہ وہ شہر سے باہر آجائیں۔ آئی ایس آئی ایل سے تعلق رکھنے والے القاعدہ کے باغیوں نے اتوار کو فورسز سے شدید لڑائی کے بعد رمادی کے گائوں بوبالی پر قبضہ کرلیا ہے۔ رمادی شہر کے اندر اور فلوجہ شہر کے باہر والے کناروں پر گزشتہ روز بھی شدید جھڑپیں ہوئی ہیں۔

 photo 1_zpsea59023b.jpg

عراقی جنرل کے مطابق فوج نے 11 جنگوئوں کو ہلاک کردیا ہے جن کا تعلق افغانستان اور دیگر عرب ممالک سے ہے۔ انھوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ یہ نہیں جانتے کہ فلوجہ میں کیا ہورہا ہے۔ اے ایف پی کے مطابق شمالی شام میں القاعدہ جنگجوئوں کی حامی فورسز اور متحارب باغیوں میں بھی جھڑپیں ہوئی ہیں جن میں القاعدہ تنظیم کے مخالف 31 باغی ہلاک ہوگئے۔ ادھر امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا کہنا ہے کہ ان کا ملک القاعدہ سے تعلق رکھنے والے جنگجوئوںکے خلاف کارروائیوں میں عراقی حکومت کی مدد کرے گا لیکن عراق میں امریکی فوج کی واپسی کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ جان کیری کا کہنا ہے کہ وہ پراعتماد ہیں کہ عراقی وزیراعظم نوری المالکی جنگجوئوں کو شکست دے سکتے ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ نے اسرائیل کے دورے کے بعد اردن اور سعودی عرب کے دورے پر روانہ ہونے سے پہلے یہ بیان دیا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ کا دورہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن معاہدہ کرانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ وزیر خارجہ کے بقول ہم عراقی حکومت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ یہ عراق کی اپنی جنگ ہے اور ہمارا وہاں فوج بھیجنے کا ارادہ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ جان کیری نے گزشتہ3 روز کے دوران اسرائیلی اور فلسطینی رہنماؤں کے ساتھ متعدد ملاقاتوں کے بعد کہا ہے کہ وہ جو امن منصوبہ پیش کریں گے، وہ 'منصفانہ اور متوازن' ہو گا۔ انہوں نے ان اسرائیلی اور فلسطینی دعوئوں کو رَد کیا کہ امریکا جانبداری سے کام لے رہا ہے۔ اے ایف پی کے مطابق ایرانی فوج کے نائب سربراہ جنرل محمد حجازی نے کہا ہے کہ تہران القاعدہ کے جنگجوئوں کے خلاف عراقی فوج کو مدد دینے کیلیے تیار ہے۔