پاکستان اور سری لنکا اقتصادی و تجارتی تعلقات کی نئی راہ پر

پاکستان اورسری لنکا کے درمیان طے پانے والے معاہدے اوران پرعمل درآمدمستقبل کی راہیں متعین کرنے میں اہم کردارادا کریںگے۔


Editorial February 25, 2021
پاکستان اورسری لنکا کے درمیان طے پانے والے معاہدے اوران پرعمل درآمدمستقبل کی راہیں متعین کرنے میں اہم کردارادا کریںگے۔ فوٹو: فائل

کولمبو میں وزیراعظم اور سری لنکن صدر کی ون آن ون ملاقات ہوئی، جس میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات کے فروغ ، جنوبی ایشیا میں امن، استحکام اور معاشی خوشحالی کے مشترکہ مقاصد کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

پاکستان کے وزیراعظم ،سری لنکا کے سرکاری دورے پر ہیں ، اس دورے کی جو تفصیلات سامنے آرہی ہیں ، وہ انتہائی مثبت اور دورس نتائج کی حامل ہیں ، جسے ہم پاکستان کی ایک بڑی سفارتی کامیابی بھی قرار دے سکتے ہیں۔

اگلے روز سری لنکن ہم منصب مہندا راجا پاکسے کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہا تھا کہ سی پیک کے ذریعے اقتصادی رابطے وسط ایشیا اور سری لنکا تک بڑھائے جاسکتے ہیں اور سری لنکا پاکستان کے ذریعے اپنے اقتصادی علاقائی روابط کو فروغ دے سکتا ہے، جب کہ پاکستان اور سری لنکا نے اعلیٰ سطح پر وفود کے تبادلوں، تجارت، دفاعی تعاون، سرمایہ کاری، سائنس و ٹیکنالوجی، ثقافت اور سیاحت کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

جدید عہد کے تقاضے معاشی اور اقتصادی ہیں جو اقوام اور ممالک کے درمیان انتہائی اہمیت اختیار کرچکے ہیں ۔پاکستان اور سری لنکا دونوں محبت کے اٹوٹ رشتے میں بندھے ہیں جنھوں نے ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کا بھرپور طریقے سے ساتھ دیا ہے۔خطے میں جو اہم ترین مسائل درپیش ہیں،ان کاحل نکالنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

یادش بخیر ، سری لنکا نے دہشت گردی کے خلاف تین دہایوں تک جنگ لڑی اور پاکستان کی معاونت سے اس پرقابو پانے میں مدد ملی تھی، جب کہ اس وقت دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان 70ہزار سے زائد جانوں کی قربانی دے چکا ہے،پاکستان نے سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کو ٹیسٹ اسٹیٹس دلانے میں اہم کردار ادا کیا تھا ۔موجودہ سیاسی واقتصادی منظرنامے پر نظر ڈالی جائے تو سی پیک خطے کا اہم ترین منصوبہ ہے اور پاکستان سی پیک کا اہم جزو ہے ، بلاشبہ یہ منصوبہ علاقائی روابط کے فروغ کی نئی راہیں کھولنے کا سبب بنے گا ۔

وزیراعظم عمران خان کاکہنا تھا کہ پاکستان بدھ مت تہذیب کا بڑا مرکز ہے، یہاں بدھا کے مجسمے ہیں، گندھارا تہذیب ہے۔سیاحت کے فروغ کے لیے بدھسٹ ٹرین شروع کریں گے، سری لنکا کے سیاحوں کو بھی دورے کی دعوت دیتے ہیں۔ تاریخ کا ایک سچ بیان کرکے وزیراعظم نے دانش مندی کا ثبوت دیا ہے ، تاریخ سے ناتا جوڑ کر ہی اقتصادی ترقی کی شاہراہ پر دونوں ممالک گامزن ہوسکتے ہیں ۔ سری لنکا جنوبی ایشیاء کے ان چند ممالک میں سے ایک ہے جس کے ساتھ پاکستان نے تجارت، ثقافت اور دفاعی امورپر تعلقات برقرار رکھے ہیں ۔

پاکستانی حکومت اور عوام اس رشتے کی قدر کرتے ہیں اور اس کو مزید وسعت دینے اور گہرا کرنے کی کوششیں کرتے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں، سری لنکا اور نیپال وہ دو ممالک ہیں جن کے ساتھ پاکستان نے پچھلی چند دہائیوں کے دوران نسبتاً متوازن اور تعاون پر مبنی تعلقات کو برقرار رکھا ہے۔ پاکستان کی پچھلی حکومت نے بدھ مت کے پیروکاروں کی مقدس ہستی گوتم بدھ سے متعلق تبرکات سری لنکا کی حکومت کے حوالے کر دیے تھے۔

سری لنکا کا جغرافیائی مقام اس کا سب سے بڑا اثاثہ ہے۔ پاکستان اور چین کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھنے سے سری لنکا کو خارجہ پالیسی میں اپنی خودمختاری برقرار رکھنے اور معاشی مواقعے کو وسیع کرتے ہوئے اضافی فائدہ حاصل ہوتا ہے۔ سری لنکا کے جنوبی سرے میں واقع ہمبنٹوٹا کی اسٹرٹیجک بندرگاہ اگلے100 برس کے لیے چین کے حوالے کی گئی ہے اور یہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (بی آر آئی) کی ایک اہم کڑی ہے۔ چین کے ساتھ ان مضبوط روابط نے ہندوستان کو مشتعل کردیا ہے۔

یہ معاہدہ امریکا میں بدگمانیوں کو بھی جنم دیتا ہے اور اسے''اسٹرنگ آف پرل ''حکمت عملی کا ایک حصہ سمجھا جاتا ہے جس کے تحت چین بحیرہ جنوبی چین میں اپنا اثر و رسوخ پھیلا رہا ہے۔پاکستان اور سری لنکا کے مابین تعلقات بین الاقوامی سفارت کاری کے تسلیم شدہ اصولوں پر مبنی ہیں۔

دونوں ممالک باہمی تعلقات کو اپنے باہمی فائدے کی وجہ سے اہمیت دیتے ہیں اور امید ہے کہ آنے والے سالوں میں بھی یہ مستحکم رہیں گے۔پاکستان اور سری لنکا کے درمیان طے پانے والے معاہدے اور ان پر عمل درآمد مستقبل کی راہیں متعین کرنے میں اہم کردار ادا کریں گے اور خطے میں ترقی کے ایک نئے عہد کا آغازہوگا۔

مقبول خبریں