سوچ، جو کامیابی کے دروازے کھول دے

قاسم علی شاہ  اتوار 28 فروری 2021
دانا کہتے ہیں کہ استقامت میں ہی کرامت ہے۔

دانا کہتے ہیں کہ استقامت میں ہی کرامت ہے۔

’’کچھ لوگ صرف خواب دیکھتے ہیں جبکہ کچھ لوگ اٹھتے ہیں اور اپنے خوابوں کی تعبیر پانے کے لیے محنت شروع کر دیتے ہیں۔‘‘

’’دنیا میں ہر چیز دو بار بنتی ہے۔ ایک بار کسی کے ذہن میں، دوسری بار دنیا میں۔ اگر آپ کے ذہن میں آپ کی کامیابی کی تصویر نہیں تو حقیقت میں بھی آپ کامیاب نہیں ہو سکتے۔‘‘

’’تم وہ بن جاتے ہو، جو تم سوچتے ہو۔‘‘    (نپولین ہل)

1883ء میں جنوب مغربی ورجینیا کے پہاڑی علاقے میں ایک لڑکے نے ایسے حالات میں آنکھ کھولی جب اس کے والدین بڑی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے تھے۔ معاشی بدحالی اس قدر تھی کہ پورا خاندان ایک کمرے کے کیبن میں رہ رہا تھا۔ جب وہ نو سال کا ہوا تو اس کی ماں وفات پا گئی۔

والد نے دوسری شادی کی اور خوش قسمتی سے اس کی سوتیلی ماں اچھی ثابت ہوئی جس نے ہر موقع پر اس کا ساتھ دینا شروع کیا۔ اس کو لکھنے کا شوق تھا۔ 13سال کی عمر میں اس نے اپنے والد کے اخبار میں لکھنا شروع کیا۔ رفتہ رفتہ اس کی تحریر میں نکھار آتا گیا اور اس کو کچھ نہ کچھ معاوضہ بھی ملنے لگا۔ چونکہ خاندان معاشی پسماندگی کا شکار تھا اس لیے اپنے تعلیمی اخراجات اس نے خود ہی پورے کرنے کا فیصلہ کیا۔

1908ء تک وہ مسلسل لکھتا رہا اور ساتھ کسی مستقل ذریعہ معاش کی تلاش میں بھی رہا۔ ایک دن اس نے اخبار میں ایک دلچسپ اشتہار دیکھا جو اس وقت کے سب سے موثر اور مالدار آدمی اینڈریو کارنیگی کی طرف سے تھا۔ اس کو اِس اشتہار میں کچھ انوکھی بات محسوس ہوئی اور اسی وجہ سے اگلے دِن وہ اینڈریو کارنیگی کے دفتر میں اس کے سامنے موجود تھا۔ اینڈریو نے اس کو ایک عجیب پیشکش کی، وہ بولا:’’میرے پاس ایک آفر ہے۔ میں کامیابی کے موضوع پرریسرچ کرانا چاہتا ہوں۔ اس وقت کی کامیاب ترین شخصیات میں سے اکثر میرے جان پہچان والے ہیں۔ تم ان کا انٹرویو کر سکتے ہو لیکن یہ بات بھی یاد رہے کہ اس سارے کام کا تمہیں کوئی معاوضہ نہیں ملے گا۔‘‘ ان کی یہ میٹنگ تین دِن تک جاری رہی۔ نوجوان نے سوچ و بچار شروع کیا۔اس آفر کے فوائد فی الحال واضح نہیں تھے، لہٰذا اس نے پیشکش کے دوسرے پہلوؤں (نقصانات) پر سوچنا شروع کیا اور بالآخر اس نے ہامی بھر لی، کیونکہ اس کے پاس کھونے کے لیے کچھ تھا ہی نہیں۔

اس نوجوان کو آج دنیا نپولین ہل کے نام سے جانتی ہے، جو عالمی شہرت یافتہ کتاب Think and grow richسمیت دس کتابوںکا مصنف اور ’’نپولین ہل فاؤنڈیشن‘‘ کا بانی ہے۔ ایک ایسا انسان جس نے غربت میں آنکھ کھولی، جو اعلیٰ تعلیم بھی حاصل نہ کر سکا اور جس کے پاس مناسب روزگار اور نوکری بھی نہیں تھی لیکن اس کے باوجود بھی اس نے شہرت کے جھنڈے گاڑدیے،کیونکہ اس کے کام نے دنیا کو کامیابی کا ایک نیا نظریہ دیا۔

وہ پچیس سال تک اپنی تحقیق میں لگا رہا، اس نے بیس ہزار کامیاب اور ناکام لوگوں پر ریسرچ کی ا ور اپنے وقت کے500 مالدارترین لوگوں کے انٹرویوز کیے، جن میں اینڈریو کارنیگی، گراہم بیل، برڈ سٹون، لوتھر بینک ، ایلمر گیٹس، جارج شیفرڈ، تھیوڈرروزویلٹ، ڈینیل رائٹ، فرینک رانڈرلپ، البرٹ گیری اور ہنری فورڈ شامل تھے اور ان تمام کامیاب شخصیات میں جو مشتر ک خصوصیات تھیں انہیں جمع کرکے ’’Think & Grow Rich‘‘کے نام سے ایک کتاب لکھی۔یہ کتاب اب تک کی سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب ہے جس کی دو کروڑ سے زیادہ اوریجنل کاپیاں فروخت ہو چکی ہیں۔اس کتاب میں نپولین ہل نے بتایا کہ کامیابی اور ناکامی کیا ہوتی ہے، یہ کن لوگوں کو ملتی ہے اور دنیا کے کامیاب ترین افراد کن عادات اور صفات سے متصف ہوتے ہیں۔ یہاں ہم ان نکات کو آسان انداز میں پیش کرنے کی کوشش کریںگے۔

 (1)کامیابی کے بارے میں سوچنا

تمام کامیاب لوگ اپنی کامیابی کے بارے میں سوچتے ہیں۔ یہ دنیا کے تمام نظام اور ساری صورتِ حال کو دیکھ کر سوچتے ہیں کہ میں کیوں کامیاب نہیں ہو رہا؟ وہ سوچتے ہیں کہ میں جہاں سے چلا تھا آج بھی وہیں پہ ہوں،کیوں ؟ یہ ایک حقیقت ہے کہ جس انسان کی زندگی میں نئے حالات، واقعات اور لوگ نہیں آ رہے تو وہ ترقی نہیں کر سکتا۔ سقراط کا قول ہے کہ ’’میں پڑھاتا نہیں ہو ں، میں سکھاتا نہیں ہوں، میں صرف سوچنے پر مجبور کرتا ہوں۔‘‘

(2) جذبہ و جنون

کامیاب لوگوں میں جنون ہوتا ہے، جس کو ہم عشق، پاگل پن اور خبط بھی کہہ سکتے ہیں۔ وہ جس چیزکے پیچھے پڑ جاتے اسے کرکے رہتے، چاہے اس کے لیے انہیں کتنا ہی صبر آزما انتظار اور سخت مشقتیں کیوں نہ برداشت کرنا پڑتیں۔

(3) یقین

کامیاب لوگوں میں تیسری خصوصیت یقین ہے۔ ان سب کو یقین تھا کہ ہم کچھ کر جائیں گے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ جو طالب علم قابل ہوتا ہے اس کو یقین ہوتا ہے کہ اس کی محنت رنگ لائے گی اور اسی وجہ سے وہ محنت کرتا ہے جبکہ نالائق طلبہ میں ایک چیز مشترک ہوتی ہے، وہ یہ کہ ان کو یقین ہوتا ہے کہ محنت کا کوئی فائدہ نہیں اور اسی وجہ سے وہ پیچھے رہ جاتے ہیں۔ اگر انسان کو اپنے آنے والے دنوں کی خیر پر یقین نہیں ہے تو وہ کوشش نہیں کرسکتا۔

(4) خود کلامی

جتنے بھی کامیاب لوگ تھے ان میں ایک چیز مشترک تھی کہ وہ Auto suggession یعنی خود کلامی کرتے تھے۔ انسان جس طرح کی خود کلامی اپنے ساتھ کرتا ہے ویسے ہی اس کے خیالات بنتے ہیں اور ان ہی خیالات سے اس کے حالات بنتے ہیں۔ یہ تمام کامیاب لو گ خود کلامی کے ذریعے خود کو یقین دلاتے رہتے کہ ہاں میں کرسکتا ہوں اور اسی یقین کی بدولت وہ کامیابی پاتے۔

(5) مخصوص شعبے میں محنت

ان تمام کامیاب لوگوں نے ایک مخصوص شعبے میں محنت کر کے کامیابی حاصل کی۔ جیسے ایڈیسن نے بلب پر کام کیا، برج اسٹون نے گاڑیوں کی صنعت کو اختیار کیا اور اینڈریو کارنیگی نے اسٹیل انڈسٹری پکڑ لی۔ ایک کام کو اختیار کر لینے کے بعد انہوں نے اس میں اپنی پوری توانائیاں جھونک دیں اور نتیجتاً وہ کامیابی کے حق دار ٹھہرے۔

(6) تخلیقیت

یہ تمام کامیاب لوگ تخیل نگاری اور امیجی نیشن کے گرو تھے، یہ خواب دیکھتے تھے اور اس کی تعبیر کے لیے جدوجہد شروع کر دیتے اور پھر کامیاب ہو جاتے۔ اللہ ہر انسان کو موقع دیتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ موقع صرف قسمت والے کو ملتا ہے، حالانکہ یہ غلط سوچ ہے۔ موقعے کی تیاری کا نام قسمت ہے۔

 (7) منصوبہ بندی

کامیاب لوگوں میں ساتویں بڑی خوبی یہ تھی کہ یہ لوگ انتہائی منظم انداز میں وقت گزارتے تھے۔ یہ بات یاد رکھیںکہ پلاننگ بڑے کاموں کی نہیں بلکہ چھوٹے چھوٹے کاموں کی ہوتی ہے۔ منصوبہ بندی کو اگر ہم ایک جملے میں سمونا چاہیں تو کچھ یوں ہوگا کہ ’’وسائل اور ذرائع کو بہترین انداز میں استعمال کرنا۔‘‘ اب جو اِن وسائل کو جتنا بہتر استعمال کرے گا وہ اتنا ہی کامیاب ہو گا۔

(8) ضبط نفس

کامیاب لوگوں میں ایک خوبی یہ تھی کہ یہ سب لوگ خود پر کنٹرول کرنا جانتے تھے۔ ان لوگوں نے خود کو اپنے موڈ کے تابع نہیں کیا تھا بلکہ موڈ کو اپنے تابع کیا۔ ہر وہ انسان جو اپنے مزاج اور کیفیت کے ساتھ لڑنا جانتا ہو اوراس کو کنٹرول کرسکتا ہو، وہ مختصر وقت میں شاندار نتائج حاصل کرسکتا ہے۔

(9) استقامت

ان لوگوں میں ایک اور خوبی استقامت تھی۔ یہ لوگ اپنے ارادوں پر ڈٹے رہتے اور کیسے بھی مشکل حالات ان پر آتے وہ اپنے عزائم سے پیچھے نہ ہٹتے۔ دانا کہتے ہیں: ’’استقامت میں ہی کرامت ہے۔‘‘ استقامت والے انسان کے ساتھ اللہ کی مدد ہوتی ہے اور یہی مدد اس کو کسی بڑے نتیجے تک پہنچا دیتی ہے۔

Power of master mind (10)

کامیاب لوگوں کی ایک خوبی یہ تھی کہ انہوں نے اپنی ذہانت، تجربے اور تحقیق سے بھی بھرپور مدد لی اور اس کے ساتھ جتنے بھی بڑے دماغ کے لوگ تھے انہیں اپنے حلقہ مشاورت میں شامل کیا اور ان کی خدمات سے پوری طرح مستفید ہوئے۔ان کے نزدیک ایک او ر ایک ’’دو‘‘ نہیں بلکہ’’ گیارہ‘‘ ہوتے ہیں ۔اعلیٰ دماغوں کی مدد سے انہوں نے عظیم الشان کامیابیاں حاصل کیں۔

(11) ایموشنل مینجمنٹ

نپولین اپنی اس کتاب میں کہتا ہے: ’’میں نے دو ہزار سالہ انسانی تاریخ کی بڑی شخصیات کی سوانح حیات کو پڑھا اور ایک چیزسب میں مشترک دیکھی کہ جو بھی بڑا انسان بنا ہے اس کے پیچھے کوئی اہم واقعہ تھا۔‘‘ اس واقعہ کی وجہ سے اس کا دل ٹوٹا، اس نے اپنے جذبات کو دوسرا رخ دیا اور وہ بڑا انسان بن گیا۔ انسان کے دو جذبات ایسے ہیں جن میں تباہ کرنے اور بنانے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔ایک غصہ اور دوسرا محبت۔ واصف علی واصف کا جملہ ہے کہ ’’چھوٹے انسان کا غم اسے کھا جاتا ہے اور بڑے انسان کا غم اسے بناجاتا ہے۔‘‘

(12) خوف کے بھوت پر کنٹرول

جو انسان اپنے خوف کو لگام ڈال دیتا ہے وہ کامیاب ہوجاتا ہے۔ نپولین نے ان سب لوگوں میں یہ چیز مشتر ک پائی کہ وہ اپنے خوف کو کنٹرول کرتے تھے۔ان کو یہ ڈر نہیں ہوتا کہ میں ناکام ہوگیا تو لوگ کیا کہیں گے۔کامیاب ہونے کے لیے انسان کو بے خوف ہونا پڑتا ہے۔ آپ کامیاب ہیں یا ناکام، لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑنے والا، البتہ آپ کو ضرور فرق پڑتا ہے۔

کتاب نے لوگوں کی زندگیاں کیسے بدلیں ؟

باربرا این کورکورنا: مشہور امریکی بزنس خاتون، مقررہ، مصنفہ اور کارکورن گروپ کی بانی، بتاتی ہیں: ’’اس کتاب میں موجود ہنری فورڈ کی کہانی نے مجھے پیسوں کے بارے میں بہترین آئیڈیا دیا۔ میرے اندر بہت سی خوبیاں تھیں لیکن پیسوں کے معاملات کو کیسے دیکھنا ہے، اس کی مجھے کچھ زیادہ سمجھ نہیں تھی۔ میں نے فوری طورپر ایک خاتون کی خدمات حاصل کیں تاکہ وہ میرے مالی معاملا ت اور دیگر چیزوں کو اچھے انداز میں منظم کرے۔ اس کتاب سے میں نے یہ سیکھا کہ تمہارے اندرجو خوبیاں موجود نہیں ان کے لیے دوسرے ماہر افراد سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔ میں نے اس نکتے پر عمل کیا اور شاندار کامیابیاں حاصل کیں۔‘‘

سینڈے گلاگر: ’’پروکٹرگلاگر انسٹیوٹ ‘‘ کی سی ای او اور ایک مشہور ٹرینر ہیں۔ انہوں نے عالمی شہرت یافتہ ٹرینر باب پروکٹر کے ساتھ کئی ٹریننگ پروگرامز بھی کیے۔ ان کے بقول، ’’اس کتاب نے میری زندگی بدل دی۔ جب میں وکالت کی پریکٹس کر رہی تھی تو میری سہیلی نے مجھے ایک سمینار میں مدعو کیا۔ جب میں ہال میں پہنچی تو اسٹیج پر ایک مقرر بڑے بہترین انداز میں بات کر رہے تھے۔ وہ معروف ٹرینر باب پروکٹر تھے، ان کے ہاتھ میں ایک کتاب تھی جس کا نام تھا :Think and grow rich،وہ بتا رہے تھے: ’’میں 45 سال سے اس کتاب کو پڑھ رہا ہوں۔

ہم میں سے ہر ایک اس کوشش میں ہوتا ہے کہ وہ ایک پرسکون زندگی گزارے جب تک کہ وہ مر نہیں جاتا۔‘‘ ان کی باتوں نے مجھے کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا اور جب میں سیمینار ختم ہونے کے بعد ہال سے باہر جا رہی تھی تو میں نے اپنے آپ سے ایک عہد کیا کہ میں نے اپنی زندگی ویسے ہی نہیں گزار دینی بلکہ کچھ نہ کچھ ضرور کرنا ہے اور پھر اسی سو چ نے مجھے زندگی میں بہت آگے بڑھایا۔‘‘

جم اسٹوول: بیسٹ سیلنگ ناول ’’The Ultimate Gift‘‘سمیت 13کتابوں کے مصنف، مقرر اور معروف ٹی وی اینکر اس کتاب کے بارے میں کہتے ہیں: ’’میرا ایک بہت بڑا خواب تھا کہ میں امریکی فٹ بال ٹیم کا حصہ بن جائوں۔ایک دِن میں ٹریننگ میں مصروف تھا کہ میری آنکھوں میں کچھ ہوا، چیک اپ کے بعد معلوم ہوا کہ میری بینائی آہستہ آہستہ ختم ہو رہی ہے۔

دس سال بعد میں مکمل طور پر نابینا ہو چکا تھا۔اس کے بعد مجھے لگا کہ میری زندگی ہی ختم ہوگئی۔ مجھے ایک سفید چھڑی تھما دی گئی اور کہا گیا کہ باقی کی زندگی تمہیں محتاجی میں گزارنی پڑے گی۔ میرے کمرے میں ایک ریڈیو، ٹیپ ریکارڈر اور ٹیلی فون پڑا ہوتا، مجھے کسی نے Think and grow richکی آڈیو کتاب دی تھی۔ میں نے سننا شروع کی، جیسے جیسے میں سنتا گیا میری سوچ کو نئے زاویے ملتے گئے۔ میں نے اسی کے مطابق سوچنا شروع کیا اور میری زندگی بدلنا شروع ہوگئی۔ وہ ایک آواز تھی جو مجھے خالص اور مثبت طاقت دے رہی تھی اور بتا رہی تھی کہ زندگی میں کچھ بھی حاصل کیا جاسکتا ہے اور پھر ایسا ہی ہوا۔میں نے اپنی بینائی کو شکست دے دی اور ایک کامیاب زندگی گزارکر ثابت کیا کہ اگر انسان میں سچی لگن ہو تو وہ کچھ بھی حاصل کرسکتا ہے۔‘‘

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔