رواں سال آلو کی4 ملین ٹن پیداوار متوقع

نئی پیداوار منڈیوں میں پہنچنے کیساتھ ہی ایکسپورٹرز نے برآمدی آرڈرزکیلیے کوششیں تیزکردیں


APP January 07, 2014
دسمبر کے صرف آخری دو ہفتوں کے دوران10ہزار ٹن آلو برآمد کیے گئے، وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی فوٹو: اے ایف پی/ فائل

رواں سال 4 ملین ٹن آلوکی پیداوار متوقع ہے ۔

رواں سال 2لاکھ ٹن سے زائد آلو برآمد کیا جائے گا۔ آلو کی نئی پیداوار کے مقامی منڈیوں میں پہنچنے کے ساتھ ہی برآمد کنندگان نے برآمدی آرڈرز کے حصول کیلیے کاوشیں تیز کردیں۔ گزشتہ ماہ دسمبر کے صرف آخری دو ہفتوں کے دوران 10 ہزار ٹن آلو برآمد کیے گئے جبکہ برآّمد کنندگان نے کہا ہے کہ ان کے پاس جنوری میں 30 ہزار ٹن آلو کی برآمد کے آرڈرز ہیں ۔ برآمد کنندگان نے کہا ہے کہ روس پاکستانی آلو کا بڑا درآمد کنندہ ہے اور روس کو آلو کی برآمدات کے فروغ کے حوالے سے اعلیٰ سطح کے وفد نے روس کا دورہ کر کے روسی حکام سے کامیاب مذاکرات کیے ہیں۔



وزارت نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ کی رپورٹ کے مطابق رواں سال آلو کی پیداوار 4 ملین ٹں متوقع ہے جبکہ 2012ء میں آلو کی مقامی پیداور 3.5 ملین ٹن رہی تھی۔ گزشتہ چند سالوں کے دوران ملک میں آلو کی پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے اور مقامی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مقامی آلو کی پیداوار ہی کافی ہوتی ہے جبکہ ضرورت سے زائد آلو برآمد کرکے قیمتی زرمبادلہ بھی کمایا جاتا ہے۔ زرعی ماہرین کا کہنا ہے کہ آلو کی ملکی پیداوار میں اضافے کی بنیادی وجوہات آلو کے زیر کاشت رقبے اور فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ آلو کی پیداوار کو فروغ دیکر برآمدات کو بڑھا کر قیمتی زرمبادلہ حاصل کرکے ملکی معیشت مستحکم کی جاسکتی ہے جبکہ اقتصادی ماہرین نے کہا ہے کہ برآمدات کے فروغ کیلیے غیر روایتی منڈیوں تک رسائی کے عمل کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔