بھارت کے مکروہ عزائم

بھارتی آبی جارحیت کو امریکا، چین اور اقوام متحدہ سمیت پوری دنیا نے تسلیم کیا ہے۔


Editorial March 08, 2021
بھارتی آبی جارحیت کو امریکا، چین اور اقوام متحدہ سمیت پوری دنیا نے تسلیم کیا ہے۔ فوٹو: فائل

شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کے آپریشن کے دوران فائرنگ کے تبادلے میں 3دہشت گرد کمانڈروں سمیت 8دہشت گردہلاک ہوگئے ،آئی ایس پی آر کے مطابق یہ دہشت گرد 2009سے سیکیورٹی فورسز ، لاء انفورسمنٹ ایجنسیوں اور علاقے کے مقامی لوگوں کے خلاف دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث رہے،علاقے میں دہشت گردوں کی بھرتی میں بھی ملوث تھے۔سیکیورٹی فورسز نے ان کے ٹھکانوں سے اسلحہ کا بھاری ذخیرہ بھی برآمد کیا ہے۔

پاکستان دہشت گردوں کے خلاف طویل عرصے سے جنگ میں مصروف ہے ، یقیناً وہ دن اب دور نہیں جب ہمارے ملک سے مکمل طور پر دہشت گردوں کا خاتمہ ہوجائے گا لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی ''را'' بلوچستان، خیبر پختونخوا کے قبائلی علاقوں اور گلگت بلتستان میں قوم پرست قوتوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ ان گروہوں میں تحریک طالبان پاکستان، جماعت الاحرار، بلوچ علیحد گی پسند گروہ بی ایل اے اور دیگر قوم پرست گروپ بھی شامل ہیں۔

بھارت کا پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں ملوث ہونا کوئی نئی بات نہیں،مودی نے بھارت میں ہندو نیشنل ازم کو فروغ دیا ہے ۔بھارت دراصل دہشت گردوں کے نظریات کو فروغ دینے میں ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ کشمیر میں بھی بھارت میں موجود انھی عناصر نے کردار ادا کیا ہے۔ بھارت کے پاکستان اور افغانستان میں موجود نیٹ ورکس سے روابط، سرپرستی اور ملوث ہونے کے ٹھوس ثبوت موجود ہیں۔

پاکستان نے تو بھارتی جاسوس دہشت گرد کلبھوشن یادیو کو اس کے بلوچستان میں قائم نیٹ ورک سمیت پکڑ کر اس کے اقبالی بیان اور فراہم کیے گئے ثبوتوں کی روشنی میں ایک مربوط ڈوزیئر مرتب کرکے اقوام متحدہ کے سیکریٹریٹ اور امریکی دفتر خارجہ کو فراہم کیا تھا۔ اسی طرح گزشتہ سال بھارتی انتخابات کے موقعے پر پاکستان پر دہشت گردی کا ملبہ ڈالنے کے لیے پلوامہ میں مودی سرکار نے خود بھارتی فوجیوں پر حملہ کرایا اور اس کا فوری طور پر پاکستان پر الزام دھر کر سرحدی کشیدگی انتہاء کو پہنچا دی جس پر پاکستان کو 27 فروری 2019 کو مودی جنونیت کا مسکت جواب دینا پڑا۔

گزشتہ سال پانچ اگست سے اب تک بھارت مقبوضہ وادی میں جس ننگی وحشت و بربریت کا مظاہرہ کر چکا ہے وہ بھی اقوام عالم میں کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی جب کہ مودی جنونیت پاکستان ہی نہیں' چین کی سلامتی کو بھی مسلسل چیلنج کر رہی ہے۔ اسی طرح بھارتی دہشت گردوں کے افغانستان میں داعش کے ساتھ مل کر لڑنے کے بھی واضح ثبوت موجود ہیں۔ پاکستان بھارتی دہشت گردانہ عزائم اور کارروائیوں سے اقوام عالم کو ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ آگاہ بھی کرتا رہا ہے۔

امریکی اور عالمی جرائد نے بھی پاکستان، افغانستان اور کشمیر میں بھارت کی زیرسرپرستی کام کرنیوالے دہشت گردی کے نیٹ ورکس کی نشاندہی کی ہے لہٰذا بھارت کو دہشت گرد ملک قرار دیکر اس پر عالمی پابندیاں عائد کرنے اور ایف اے ٹی ایف کی بلیک لسٹ میں اس کا نام شامل کرنے میں کوئی پس و پیش نہیں ہونا چاہیے۔

اس حوالے سے یہ امر انتہائی افسوسناک ہے کہ امریکا اور بھارت کے باہمی مفاداتی گٹھ جوڑ کے باعث عالمی قیادتوں اور نمایندہ عالمی اداروں کی جانب سے پاکستان، مقبوضہ کشمیر اور خود بھارت کے اندر بھارتی ایجنسی ''را'' کی دہشت گردی کی کارروائیوں اور اس کے قائم کردہ دہشت گردی کے نیٹ ورکس کی پردہ پوشی کی جاتی رہی ہے۔

بھارت افغانستان میں ان گروہوں کی فنڈنگ اور ٹریننگ کر رہا ہے، جن کا مقصد پاکستان کو غیر مستحکم کرنا اور سی پیک کو نقصان پہنچانا ہے۔ بھارت نے ایف اے ٹی ایف میں پاکستان کے خلاف محاذ بنانے کے لیے بھرپور کوشش کی لیکن منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کے حوالے سے دنیا کو بھارت کا اصلی چہرہ دکھانا ضروری ہے۔

دوسری جانب بھارت نے پاکستان کے خلاف آبی دہشت گردی کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے، نمایندہ ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق دریائے چناب کا پانی صرف ایک نہر تک محدود ہوگیا ہے ، سندھ طاس معاہدے کے تحت بھارت دریائے چناب میں مارچ ، اپریل میں 55ہزار کیوسک پانی چھوڑنے کا پابند ہے مگر اس وقت دریائے چناب میں بھارت کی جانب سے صرف چھ ہزار کیوسک پانی چھوڑا جارہا ہے ۔ پانی کم ہونے سے دریائے چناب کا 91فی صد حصہ خشک میدان کا منظر پیش کررہا ہے ،جس سے پاکستان کی زراعت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ ظاہر کیا جارہا ہے۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کا شمار اُن تیس ممالک میں ہے جہاں پانی کے نصف ذرایع اور وسائل سرحدوں سے باہر سے آنے والے دریاؤں سے حاصل ہوتے ہیں۔ اس وقت دنیا بھر میں ڈھائی سو سے زائد آبی گزرگاہیں ہیں جو 145 ممالک کی سرحدوں کو کراس کرتی ہیں اور دنیا کی دو ارب نفوس پر مشتمل چالیس فی صد آبادی اس سے استفادہ کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پانی کے بحران سے بچنے کے لیے عالمی سطح پر سب سے پہلا معاہدہ 1815 ویانا میں انٹرنیشنل کنونشن آف یونیورسل ایپلی کیشن کے نام سے ہوا تھا، اس معاہدے پر پھر1921ء میں کام ہوا ،اور اس وقت عالمی سطح پر پانی کے معاہدوں میں 1997 میں برسلز میں ہونے والا عالمی معاہدہ بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔

پاک بھارت کی سطح پر پانی کے سندھ طاس معاہدے کی وجہ سے ستلج، راوی اور بیاس پر بھارت، اور دیگر پر پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا ہے۔ ہم چناب، سندھ اور جہلم پر گزارا کررہے ہیں لیکن بھارت جہلم کے بعد افغانستان کے ساتھ مل کر دریائے سندھ پر بھی ڈیم بنارہا ہے۔ بھارت کی پاکستان کے خلاف آبی جارحیت اس خطے میں امن کو شدید نقصان پہنچائے گی۔

عالمی بینک کی مالی معاونت سے 19ستمبر 1960 کو دونوں ملکوں کے درمیان انڈس واٹر ٹریٹی(سندھ طاس آبی معاہدہ) پر دستخط کیے گئے۔ اس معاہدے کو دنیا میں ایک نہایت اہم معاہدہ سمجھا جاتا ہے جس پر دونوں ملکوں میں نصف صدی سے زائد عرصے کی مخاصمت کے باوجود عملدرآمد کیا جاتا رہا ہے۔ اس معاہدے کی رُو سے سندھ' جہلم اور چناب کے پانیوں پر پاکستان کا حق تسلیم کیا گیا جب کہ راوی' ستلج اور بیاس بھارت کے حصے میں آئے۔ 1978 میں بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں دریائے چناب پر سلال ڈیم تعمیر کرنا شروع کر دیا۔

چناںچہ دونوں ملکوں کے درمیان ایک اور معاہدے پر دستخط ہوئے جس کے مطابق بھارت ڈیم کی بلندی کو کم کرنے اور ڈیم کے پانی کو صرف بجلی پیدا کرنے کے لیے استعمال کرنے پر رضامند ہو گیا، لیکن 2005ء میں بھارت نے دریائے چناب پر 450میگاواٹ کا ایک اور ڈیم بگلیہار تعمیر کر لیا جس پر پاکستان نے ورلڈ بینک سے ثالثی کی درخواست کی، لیکن ورلڈبینک کے ماہر نے 2011 میں فیصلہ پاکستان کے خلاف دے دیا۔ اس پر پاکستان میں بھارت کی ''آبی جارحیت'' کے خلاف زبردست احتجاج شروع ہو گیا۔2011 میں بھارت نے 330میگاواٹ کے کشن گنگا ڈیم کی تعمیر شروع کر دی جس پر دونوں ملکوں نے ایک دفعہ پھر بین الاقوامی ثالثی عدالت سے رجوع کیا۔ بھارت نے متنازع کشن گنگا پروجیکٹ بھی شروع کررکھا ہے۔

ڈیم کی تعمیر عالمی قوانین اور سندھ طاس معاہدے کی صریح خلاف ورزی ہے۔بھارت نے متنازع ڈیم سے متعلق پاکستان کو اعتماد میں نہیں لیا بلکہ مذاکرات سے بھی مکمل انحراف کرتا رہا ہے۔ سندھ طاس معاہدے کے آرٹیکل 3کے مطابق بھارت دریائے چناب، جہلم اور سندھ پر کسی صورت ڈیم یا کسی قسم کا تعمیراتی کام کرہی نہیں سکتا۔ ورلڈ بینک کی ثالثی کے باوجود بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں متنازعہ ڈیم تعمیر کیے ہیں، بھارت کی آبی دہشت گردی جس طرح بڑھ رہی ہے اس کے باعث ضروری ہے کہ پاکستان بھارت کے خلاف آواز بلند کرے، لیکن سوال یہ ہے کہ پاکستان کی حکومت، بیوروکریسی، پالیسی ساز اس بات کا جواب نہیں دے سکے کہ یہ اُس وقت ہی کیوں جاگتے ہیں جب کام ہوچکا ہوتا ہے؟

اور اُس وقت کیوں بیدار نہیں ہوئے جب بھارت نے اس ڈیم کی ابتدا کی تھی۔ سندھ طاس معاہدے کے مطابق بھارت مغربی دریاؤں کا بہتا پانی ہرگز نہیں روک سکتا، لیکن اس نے پاکستان کی کمزور خارجہ پالیسی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یکے بعد دیگرے 120 ڈیم تعمیر کرلیے جو کہ بہت بڑا انسانی مسئلہ ہے۔ متنازع کشن گنگا پروجیکٹ سے پاکستان میں نیلم جہلم ہائیڈل پاور پروجیکٹ پانی کی عدم دستیابی سے تباہ ہوکر ریت کا ڈھیر بن جائے گا۔

پاکستان کی حکومتوں نے اقتدار بچانے اور جنگ سے بچنے کی خاطر یہ انتہائی اہم اور قومی بقا کا مسئلہ آیندہ حکومتوں پر چھوڑنے کا سلسلہ جاری رکھا جس کی وجہ سے بھارت ایک طویل المدتی پروگرام کے تحت پاکستان کے آبی وسائل اپنی حدود میں کنٹرول کرنے کے لیے یکے بعد دیگرے 300 ڈیم اور ہائیڈل پاور پروجیکٹس تعمیر کررہا ہے،جن میں چھوٹے بڑے 100ڈیم مکمل ہوچکے ہیں اور تین درجن سے زائد پروجیکٹس کے لیے ابتدائی کام شروع ہے۔ بھارت نے پاکستان کے خلاف سنگین آبی جارحیت شروع کردی ہے۔

بھارتی آبی جارحیت کو امریکا، چین اور اقوام متحدہ سمیت پوری دنیا نے تسلیم کیا ہے، سندھ طاس معاہدہ بھارت یک طرفہ طور پر ختم نہیں کرسکتا ہے۔ معاہدہ ختم کرنے سے پاکستان کو ستلج، بیاس اور راوی کے پانی پر بھی حق حاصل ہوجائے گا، مگر یہ باہمی رضامندی کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ وطن عزیز آج آبی قلت، توانائی کے شدید بحران اور زبردست معاشی بدحالی کی لپیٹ میں ہے۔ یہ بحران اچانک پیدا نہیں ہوئے، یہ ایک طویل ترین کولڈ وار کا نتیجہ ہے۔ موجودہ دور میں نفسیاتی اور تکنیکی جنگ، کلاشنکوف اور ایٹمی جنگ سے کہیں زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔قوم یک جان ہوکر یہ مسائل حل کرسکتی ہے۔

مقبول خبریں