سندھ کی تقسیم

’’اردو بولنے والے سندھی پسند نہیں تو الگ صوبہ بنادیں۔ انصاف نہ ملا تو بات علیحدہ ملک تک جاسکتی ہے۔ ہمیں ہر شعبے...


Dr Tauseef Ahmed Khan January 07, 2014
[email protected]

KARACHI: ''اردو بولنے والے سندھی پسند نہیں تو الگ صوبہ بنادیں۔ انصاف نہ ملا تو بات علیحدہ ملک تک جاسکتی ہے۔ ہمیں ہر شعبے میں 50 فیصد حصہ دیا جائے تو شہری سندھی صوبے کا مطالبہ واپس ہوسکتا ہے۔ حیدرآباد میں حکومت یونیورسٹی بنائے ورنہ چندہ کر کے بنائیں گے۔ نواز شریف سندھ کی صورتحال میں مداخلت کریں۔ '' متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین کی حیدرآباد کی اس انتخابی تقریر نے سندھ کی سیاست میں ہنگامہ بپا کردیا۔ قوم پرست جماعتوں نے احتجاج شروع کردیا۔ بلاول بھٹو زرداری نے جواباً کہا کہ مرجائیں گے مگر سندھ کسی کو نہیں دیں گے۔ سندھ میں ہڑتال کی اپیل کردی گئی۔ الطاف حسین نے کراچی کے جلسے میں وضاحت کی کہ اگر پیپلز پارٹی شہری آبادی سے انصاف نہیں کرسکتی تو سندھ کو دو حصوں میں تقسیم کردے۔ بہرحال ایم کیو ایم نے سیاسی بصیرت کا ثبوت دیا۔ قوم پرست رہنما ایاز لطیف پلیجو سے ملاقات کے بعد ہڑتال کا معاملہ ٹل گیا اور صورتحال معمول پرآئی۔

الطاف حسین کے اس بیان کی ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی نے وضاحت کی کوشش کی مگر ایم کیو ایم اس بیان پر قائم رہی تو سندھ کی صورتحال 1986-87 جیسی ہوجائے گی ۔اس صورتحال کی بناء پر اس وقت اسٹیبلشمنٹ کو 10 سال تک منتخب حکومتوں کو مفلوج کرنے کا موقع ملا تھا، اب پھر اس صدی میں ایسا ہی ہوگا۔ سندھ ایک تاریخی صوبہ ہے۔ ہزاروں سال سے سندھ قائم ہے۔ سندھ کی سرحدیںکبھی ملتان اور ڈیرہ اسماعیل خان تک پھیلی ہوئی تھیں۔ سندھ میں دوسرے ممالک اور دوسرے صوبوں سے آکر لوگ آباد ہوتے تھے اور سندھ کی ثقافت میں ضم ہوجاتے تھے۔ سندھ میں کشمیریوں، افغانیوں،ایرانیوں، کردوں، بلوچوں اور دوسرے ممالک سے آنے والے لوگوں کی نسلیں آباد ہیں اور صدیوں کے سماجی اور معاشی عمل سے گزر کر یہ سندھ میں ضم ہوگئی ہیں۔ ایسٹ انڈیا کمپنی کے قیام کے بعد ہندوستان کے سماجی، معاشی اور سیاسی حالات میں تبدیلیاں رونما ہونا شروع ہوئی تھیں۔ تعلیم عام ہونے، بجلی، صنعت اور ریلوے لائن کی تنصیب سے آبادی کی منتقلی کا عمل تیز ہوا تھا جس کے نتیجے میں تعلیم یافتہ متوسط طبقہ وجود میں آیا تھا۔ سندھ میں سماجی تبدیلی کا عمل سست تھا۔ مسلمان جاگیردار ظاہری شان و شوکت پر توجہ دیتے تھے۔ ان کے بچوں میں تعلیم حاصل کرنے کا رجحان کم تھا۔ ہندو برادری کے افراد تعلیم حاصل کرنے پر توجہ دیتے تھے۔ یوں سندھ کی معیشت پر ہندو متوسط طبقے کا کنٹرول رہا۔ اس وقت تک سندھ کو صوبے کی حیثیت حاصل نہیں تھی، یہ کمپنی کا حصہ تھا۔ مسلم لیگ نے سندھ کو علیحدہ صوبہ بنانے کی جدوجہد شروع کی۔ مسلم لیگی رہنماؤں نے ہندوؤں کے غلبے کے خاتمے کے لیے ہندوستان بھر سے مسلمانوں کو سندھ میں آنے کی دعوت دی۔

سائیں جی ایم سید نے سندھ اسمبلی میں ایک قرارداد کے ذریعے ہندوستان کے مسلمانوں کو خوش آمدید کہا۔ یوں 1947میں ہندوستان بھر سے آنے والے مسلمانوں کو سب سے زیادہ پرسکون ماحول سندھ میں ملا۔ مگر پھر پنجابی بیوروکریسی اور اردو بولنے والے بیوروکریٹس میں اتحاد پیدا ہوا تو سندھ کے لوگوں کے حقوق غصب کیے گئے۔ ایوب خان نے ایک طرف دار الحکومت کراچی سے راولپنڈی منتقل کیا تو دوسری طرف سندھی زبان کی تعلیم پر بھی پابندی لگادی اور اسلام آباد کی سیاسی مقتدرہ میں ایک بنیادی تبدیلی رونما ہوئی ۔ یہی وہ دور تھا جب کراچی میں پٹھان مزدور آ کر آباد ہونا شروع ہوئے اور سندھ کے دارالحکومت کراچی میں ڈیموگرافی میں اہم تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ جب پیپلز پارٹی کی پہلی حکومت نے سندھی زبان کو صوبے کی سرکاری زبان قرار دیا تو اردو بولنے والوں کی نمایندگی کی دعویدار مذہبی جماعتوں نے عسکری مقتدرہ کی ایماء پر اس قانون کی مخالفت کردی، یوں سندھ میں پہلی دفعہ لسانی فسادات ہوئے۔ اس جھگڑے کا کوئی منطقی جواز نہیںتھا۔ سندھی زبان کا اردو سے کوئی مقابلہ نہیں تھا مگر دونوں برادریوں کے درمیان خلیج پیدا کر کے سندھ میں ایک نیا تضاد پیدا کیا گیا۔ جنرل ضیاء الحق کے دورِ اقتدار میں 1983میں اندرونِ سندھ لوگوں نے جمہوری نظام کی بحالی کے لیے قربانیاں دیں۔ کراچی کے سیاسی کارکن، ادیب، صحافی اور دانش ور اس جدوجہد میں آگے تھے مگر 1986 میں ایم کیو ایم کے قیام کے بعد سندھ میں منصوبہ بندی کے تحت لسانی فسادات کرائے گئے۔ ان فسادات کے نتیجے میں کراچی سمیت سندھ بھر کی ترقی متاثر ہوئی۔

کراچی اور حیدرآباد سے صنعتیں پنجاب منتقل ہوگئیں اور غیر ملکی سرمایہ کاری رک گئی۔ بے روزگاری اور جرائم نے شہروں اور گاؤں میں امن و امان کو شدید نقصان پہنچایا۔ اس دور میں سب سے زیادہ نقصان تعلیم کے شعبے کو ہوا۔ کراچی کا سرمایہ تعلیم یافتہ نوجوان ہی تھے جن کی صلاحیتوں کو دنیا بھر میں تسلیم کیا جاتا تھا مگر سیاسی اور لسانی تنظیموں نے امتحانات میں نقل کو عام کیا۔ اساتذہ کے اختیارات طلبہ تنظیموں کے پاس چلے گئے۔ حکومتوں نے اس تباہی کو روکنے میں کوئی کردار ادا نہیں کیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بیوروکریسی میں کراچی سمیت سندھ کی نشستیں اس لیے خالی رہ گئیں کہ اہل امیدوار دستیاب نہیں تھے۔ اس تعلیمی پسماندگی کے خلاء کو دوسرے صوبوں کے تعلیم یافتہ نوجوانوں نے پر کیا۔ سابق صدر آصف علی زردای نے 10 سال کا طویل عرصہ جیل میں گزارا۔ وہ کہتے ہیں کہ جیل سیاسی یونیورسٹیاں ہیں۔ انھوں نے یہ محسوس کیا کہ سندھ کی ترقی اردو اور سندھی بولنے والی برادریوں کے اتحاد میں ہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بے نظیر بھٹو نے اس نظریے سے اتفاق کیا اور 2001 میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کی قیادت میں ہم آہنگی پیدا ہونا شروع ہوئی۔ جب 2008 میں پیپلز پارٹی کی حکومت بنی تو ایم کیو ایم وفاق اور سندھ میں اتحادی کی حیثیت اختیار کر گئی۔

اس دور میں سابق صدر آصف علی زرداری کی ڈاکٹرائن کو سندھ کی مقامی قیادت نے قبول نہیں کیا اور ایم کیو ایم نے کراچی میں امن و امان کو بہتر بنانے کے لیے مثبت کردار ادا نہیں کیا۔ نتیجتاًکراچی اس پورے دور میں تباہی کا مرکز بنا رہا۔ پیپلز پارٹی کی قیادت نے بلدیاتی نظام کو ایم کیو ایم کا نظام جانا اور اس نظام کو ختم کرنے کی حکمت عملی اختیار کی۔ایم کیو ایم نے بار بار علیحدگی کے ہتھیار کو سیاسی ''بلیک میلنگ'' کا حربہ بنالیا۔ بعض مبصرین کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے اس خلیج کو بڑھانے میں کردار ادا کیا۔ الطاف حسین کا یہ شکوہ درست ہے کہ پیپلز پارٹی کے دور میں کراچی سمیت پورے سندھ میں نئی یونیورسٹیاں بن گئیں مگر حیدرآباد شہر میں یونیورسٹی بنانے کا معاملہ کاغذات میں بھی منتقل نہیں ہوسکا۔ 2013کے انتخابات کے بعد پیپلز پارٹی کی حکومت نے بلدیاتی آرڈیننس اور سرکاری یونیورسٹیوں کے آرڈیننس میں جو یکطرفہ ترامیم کیں اس سے محسوس ہونے لگا کہ پیپلز پارٹی کی حکومت تمام اداروں کو مفلوج کرنا چاہتی ہے۔ مگر اس صورتحال کا ایک خوشگوار پہلو یہ ہے کہ صرف ایم کیو ایم نے ہی نہیں بلکہ سندھ کی بیشتر جماعتوں نے ان ترامیم کے خلاف آواز اٹھائی۔ ڈیموگرافی کے ماہرین کہتے ہیں کہ 60 برسوں میں کراچی کی ڈیموگرافک صورتحال میں اہم تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ پاکستان کے بننے سے پہلے اور بعد میں آکر آباد ہونے والے پنجابی خاندان کراچی کے کلچر میں مدغم ہوگئے ہیں۔ اسی طرح پٹھانوں کا متوسط طبقہ بھی وجود میں آیا۔ پٹھان نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے ہیں۔ اسی طرح پٹھانوں، افغانیوں اور اندورنِ سندھ و بلوچستان سے آنے والے متوسط طبقے نے کراچی کے کاروباری مراکز میں اپنا حصہ خاصا بڑھالیا ہے۔ لہٰذا اب شہری طبقے کی نمایندگی کرنے والے اسٹیک ہولڈرز میں یہ برادریاں بھی شامل ہوچکی ہیں۔

تاریخی طور پر اردو بولنے والی برادری کا ایک المیہ یہ رہا ہے کہ 20ویں صدی میں اس برادری نے اپنی ترقی کو ہندوستان کے ٹوٹنے سے منسلک کیا اور اس کے نقصانات کے مضمرات کا اندازہ نہیں لگایا۔ اب تو ڈاکٹر عبدالقدیر خان بھی مولانا ابوالکلام آزاد کے تقسیمِ ہند کے بارے میں مضامین شایع کرکے اس تاریخی غلطی کی نشاندہی کررہے ہیں، جب سندھ نے ارود بولنے والوں کو گلے لگایا۔ اب ان برادریوں میں شادی بیاہ اور رشتے داری جیسے تعلقات معمول کا حصہ بن گئے ہیں۔ اس صورتحال میں سندھ کی علیحدگی کا مطلب یہ ہوگا کہ اردو بولنے والے ایک اور تاریخی غلطی کے مرتکب ہوں۔ الطاف حسین خود ہندوستان کی تقسیم کے نقصانات کو جرات سے بیان کرتے ہیں اور اس تقسیم کے مضمرات نئی صدی تک بھی محسوس ہورہے ہیں۔ یہ صدی سندھ کی تقسیم کے نقصانات کا شکار رہے گی۔ الطاف حسین کی یہ بات درست ہے کہ پیپلز پارٹی کی حکومت اچھی طرزِ حکومت سے محروم ہے۔ اس کا ثبوت سندھ کے شہروں اور دیہی علاقوں کی زبوں حالی ہے ۔ اس کا حل نہ تو علیحدہ صوبہ نہ سندھ کو دو حصوں میں تقسیم کرنا ہے مگر اس صورتحال کا واحد حل سندھ میں جمہوری جدوجہد میں ہی ممکن ہے۔ آج نہیں تو کل سندھ کے باشعور لوگ اس صورتحال کو محسوس کرلیں گے۔