محکمہ بلدیات میں گھوسٹ ملازمین کے خلاف کریک ڈاؤن کی ہدایت

گھروں پر بیٹھ کر تنخواہیں لینے والے ملازمین کی فہرستیں تیار نہ کرنے والے افسران کے خلاف کارروائی کی جائے گی


Staff Reporter January 08, 2014
تمام اداروںمیں گھوسٹ ملازمین کی فہرست مرتب کی جائے، صوبائی وزیر بلدیات شرجیل انعام میمن فوٹو: فائل

لاہور: سندھ کے وزیر بلدیات و اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا کہ سرکاری اداروں اور باالخصوص محکمہ بلدیات میں کسی بھی گھوسٹ ملازم کو برداشت نہیں کیا جائے گا ۔

کے ایم سی کی اسکولوں اور ڈسپنسریوں میں موجود تمام گھوسٹ ملازمین کا فوری ریکارڈ مرتب کرکے ان کے خلاف کارروائی کی جائے ، سرکاری اداروں میں ان ہی ملازمین کو اب تنخواہیں ملیں گی جو کام کریں گے کسی کو بھی بغیرکام کیے کوئی تنخواہ نہیں دی جائے گی ، ان خیالات کا اظہار انھوں نے منگل کو اپنے دفتر میں سکریٹری بلدیات جاوید حنیف ، ایڈمنسٹریٹرکے ایم سی اور دیگر اعلیٰ حکام کے اجلاس کے دوران کیا، صوبائی وزیر نے سیکریٹری بلدیات کو ہدایات دی کہ وہ کے ایم سی کے اسکولوں ،ڈسپنسریوں اور دیگر محکموں میں گھوسٹ ملازمین کے خلاف کریک ڈائون کا آغاز کریں اوران کی فہرستیں بنا کر ان کے خلاف کارروائی کریں۔



انھوں نے کہا کہ کسی بھی سرکاری ادارے میں گھوسٹ ملازمین کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا ، صوبائی وزیر نے کہا کہ محکمہ بلدیات میں بڑے پیمانے پر گھوسٹ ملازمین کی اطلاعات ہیں اور اس کے باعث ان ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں سالانہ کروڑوں روپے سندھ حکومت پر بوجھ بن گئے ہیں ، انھوں نے کہا کہ اب ان ہی سرکاری ملازمین کو تنخواہیں ملیں گی جو اپنی ڈیوٹیاں سرانجام دیں گے ، انھوں نے کہا کہ گھروں پر بیٹھ کر تنخواہیں لینے والوں کو اب ان کے گھروں پر ہی بٹھا دیا جائے گا اور انھیں اب کوئی تنخواہ نہیں دی جائے گی، انھوں نے ایڈمنسٹریٹر کے ایم سی اور دیگر محکموں کے افسران کو بھی فوری طور پر اپنے اپنے متعلقہ محکموں میں موجود گھوسٹ ملازمین کی فہرستیں تیار کرنے کے احکام دیے اور کہا کہ ایسا نہ کرنے والے افسران کے خلاف بھی کارروائی کی جائے گی۔