سینیٹ قائمہ کمیٹیمدت ختم ہونے کے 45 دن میں بلدیاتی انتخابات کرانے کا ترمیمی بل منظور

قبروں کی بیحرمتی پرکم از کم 10سال سزا کی بھی منظوری، دہری شہریت والوں کو رکن پارلیمنٹ بننےکی اجازت دینےکی ترمیم مسترد


Numainda Express January 08, 2014
دہری شہریت کے حامل افرادکو پاکستانی پارلیمنٹ کارکن منتخب ہونیکی اجازت دینے سے متعلقہ ترمیم کو مسترد کر دیا گیا۔ فوٹو: فائل

سینیٹ قائمہ کمیٹی برائے قانون وانصاف نے مقامی حکومتوں کے انتخابات کی مدت ختم ہونے کے45دن کے اندرانتخابات کرانے اور قبروں کی بیحرمتی سے متعلق آئینی ترمیمی بل متفقہ طور پر منظور کرلیا۔

دہری شہریت کے حامل افرادکو پاکستانی پارلیمنٹ کارکن منتخب ہونیکی اجازت دینے سے متعلقہ ترمیم کو مسترد کر دیا گیا۔ قائمہ کمیٹی برائے قانون وانصاف کااجلاس چیئرمین کاظم خان کی زیرصدارت ہوا۔اجلاس میںمتعددآئینی ترمیمی بلوںپر غورکیا گیا،کمیٹی نے محسن لغاری کے پیش کردہ آئینی ترمیمی بل2013 کومتفقہ طورپرمنظورکرلیا۔ترمیم میں آئین کے آرٹیکل 140Aمیںمزیدترمیم تجویزکرتے ہوئے سفارش کی گئی کہ الیکشن کمیشن کومقامی حکومتوںکی مدت ختم ہونے کے 45 دن کے اندراندردوبارہ انتخابات کرانے کاپابند بنایا جائے۔ اس موقع پرمحسن لغاری نے کہاکہ2005 سے ملک میں مقامی حکومتوں کے انتخابات نہیں ہوئے جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ آئین میں متعلقہ اداروں کوکسی مقررہ مدت کے اندر مقامی حکومتوں کے انتخابات کرانے کاپابندنہیں کیاگیا ۔ کمیٹی نے انکی اس ترمیم کو منظور کرلیا۔

 photo 9_zps596c53d3.jpg

بعدازاں کمیٹی نے قبروں کی بیحرمتی کرنے سے متعلق کرنل (ر) طاہرمشہدی کی جانب سے آئینی ترمیم کوبھی منظورکرلیا۔ترمیم میں سفارش کی گئی کہ قبروں کی بیحرمتی کے مرتکب افرادکوکم ازکم 10سال قیدکی سزادی جائے تاہم وزارت قانون نے کم از کم کی بجائے زیادہ سے زیادہ دس سال کی سزاتجویزکی۔اس پرکمیٹی نے کم ازکم 10 سال کی سزا کی تجویزکومنظورکیا۔دوہری شہریت کے حامل افرادکورکن پارلیمنٹ منتخب ہونے کی اجازت دینے سے متعلق کرنل (ر)طاہرمشہدی کی آئینی ترمیم کے حوالے سے ارکان کاکہناتھاکہ دہری شہریت کے حامل افرادکسی اورملک کی شہریت کاحلف اٹھاتے وقت یہ اقرارکرتے ہیںکہ ضرورت پڑنے پروہ اپنے ملک کیخلاف ہتھیاراٹھانے سے بھی گریزنہیں کریںگے۔