الیکشن کمیشن اور سیاسی منظرنامہ

الیکشن کمیشن کے مستعفی ہونے کے حکومتی مطالبہ نے ایک پینڈورا باکس کھول دیا ہے۔


Editorial March 17, 2021
الیکشن کمیشن کے مستعفی ہونے کے حکومتی مطالبہ نے ایک پینڈورا باکس کھول دیا ہے۔ فوٹو: فائل

ISLAMABAD: حکومت نے الیکشن کمیشن آف پاکستان سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کردیا۔ وفاقی وزیر شفقت محمود نے شبلی فراز اور فواد چوہدری کے ساتھ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن اپنی ذمے داری ادا کرنے میں مکمل ناکام ہو چکا ہے، بطور حکمران جماعت ہمیں الیکشن کمیشن پر اعتماد نہیں، نیا الیکشن کمیشن بنایا جائے جس پر سب کو اعتماد ہو ، الیکشن کمیشن خود مستعفی ہو ، ریفرنس دائرکرنے کا کوئی ارادہ نہیں۔

الیکشن کمیشن کے مستعفی ہونے کے حکومتی مطالبہ نے ایک پینڈورا باکس کھول دیا ہے، سیاسی اور قانونی ماہرین نے میڈیا میں الیکشن کمشنر اور اراکین کے مستعفی ہونے کی آئینی شقوں اور دیگر حوالوں سے بحث کی ہے۔ سیاسی حلقوں نے الزام لگایا ہے کہ کابینہ الیکشن کمیشن پر حملہ آور ہوئی ہے۔

ان کا استدلال یہ ہے کہ چیف الیکشن کمشنر اور اراکین سے مستعفی ہونے کا مطالبہ غیر آئینی ہے، جس کی وہ حمایت نہیں کرسکتے، ان کی جانب سے یہ دلیل دی جارہی ہے کہ پہلے وزیراعظم نے الیکشن کمشنر کو چارج شیٹ کیا اور اس کے بعد حکومت نے الیکشن کمشنر پر عدم اعتماد کرتے ہوئے مستعفی ہونے کے لیے کہا ہے۔

سیاسی اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ابھی دو مہینے نہیں گزرے ہیں، بائیس جنوری کو وزیراعظم عمران خان نے فارن فنڈنگ کیس کے حوالے سے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا تھا اور اب حکومت اپنے ہی تجویزکردہ الیکشن کمشنر اور ارکان کو ہٹانے کا مطالبہ کر رہی ہے۔ حکومتی موقف یہ تھا کہ پچھلا الیکشن کمشنر ہمارا مخالف تھا، کوئی سیاسی رنجش تھی، لیکن آج الیکشن کمشنر ہمارا اپنا ہے۔

وزیراعظم نے ان پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا تھا، الیکشن کمیشن کی تشکیل میں اپوزیشن اور حکومت کی ہم خیالی بھی شامل تھی، یاد رہے، سینیٹ الیکشن کے نتائج آنے کے بعد بھی حکومت نے الیکشن کمیشن کے بارے میں جارحانہ اور سخت بیان بھی جاری کیا اورکئی سوالات اٹھائے،جوابی بیان میں الیکشن کمیشن کی برہمی عیاں تھی۔

انتخابات کی شفافیت کا تصور ایک با اختیار الیکشن کمیشن کے ساتھ جڑا ہوا ہے، دنیا کے بے شمار ملک انتخابی کلچرکو جمہوری نظام میں عالمگیر اصول کا سنگ میل سمجھتے ہیں، وہاں الیکشن میں بے قاعدگیوں کی شکایات ان کے داخلی انتخابی اور الیکٹورل سسٹم کا حصہ ہوتی ہیں۔ بھارت ہمارا پڑوسی ملک ہے۔

اس سے شدید اختلافات اور سیاسی مخاصمت ہے لیکن وہاں الیکشن کمیش اور انتخابی ادارہ اپنے اختیارات اور ووٹنگ سسٹم کے حوالے سے سیاست دانوں کی خواہشات اور سسٹم کے نیوٹرل نہ ہونے یا الیکٹورل بحران کا کبھی شکار نہیں ہوتا ،کیونکہ وہاں انتخابات میں شکست کا سیاسی کلچر موجود ہو، نریندر مودی حکومت نے حالیہ دنوں میں مختلف ریاستوں کے الیکشن جو انتخابی شکست کھائی اسے بی جے پی نے خوش دلی سے قبول کیا۔ امریکی جمہوریت کو ایک بڑے داخلی بحران کا سامنا ہوا، ڈونلڈ ٹرمپ کے مواخذہ کی تحریک پیش ہوئی، وہ اس کا مقابلہ کرگئے۔

تجزیہ کاروں نے امریکی سیاست اور ٹرمپ کے طرز حکمرانی پر خوب دل کی بھڑاس نکالی، سیاسی ناقدین، مفکرین، دانشوروں اور مورخین نے امریکی انتخابات کو سیاہ ترین عہد سے تعبیر کیا مگر ٹرمپ نے امریکی الیکشن کمیشن کو ''اٹھا کر پھینک دو باہرگلی میں'' کا نعرہ نہیں لگایا ، غالباً یہی وہ مرحلہ تھا کہ امریکی قوم جمہوریت، انتخابی نظام اور کورونا کے اعصاب شکن اور تحیر خیزگرداب سے بچ کر نکل گئی۔

سنجیدہ سیاسی حلقوں نے رائے دی ہے کہ سیاسی جماعتوں کو قانون و آئین کو راستہ دینا چاہیے، الیکشن کمیشن کے تنازع کا جو بھی قانون میں صائب طریقہ ہو اسے پیش نظر رکھا جائے، افراط وتفریط کی اس فضا میں ملکی سیاست کو ایک گمبھیرتا میں دھکیلنے کی ضرورت نہیں، اس لیے مسائل کا سیاسی حل تدبر اور صبر و تحمل اور جمہوری اسپرٹ سے نکالا جائے، اور قانون کہتا ہے کہ الیکشن کمشنر اور اراکین صرف سپریم جوڈیشل کونسل کے ذریعے سے ہٹائے جا سکتے ہیں۔

آئین کے تحت کمشنر یا رکن کو اپنے عہدے سے سوائے اس کے نہیں ہٹایا جاسکتا جو کسی جج کے عہدے سے علیحدگی کے لیے مقرر ہے، متعلقہ آئینی شقوں کے مطابق چیف الیکشن کمشنر اور اراکین کو صرف سپریم جوڈیشل کونسل کے ذریعہ سے ہٹایا جا سکتا ہے اس کے لیے حکومت کے پاس راستہ ان کے خلاف ریفرنس دائرکرنا ہے، لیکن حکومت نے بوجوہ عندیہ دیا ہے کہ ریفرنس دائر کرنے کا حکومت کا ارادہ نہیں، حکومت چاہتی ہے کہ الیکشن کمیشن ریفرنس دائر ہونے سے پہلے بوریا بستر باندھ لے، جو مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق آئین کے تحت الیکشن کمشنر یا کمیشن کا کوئی رکن اپنے عہدہ سے ماسوائے اس صورت کے نہیں ہٹایا جائے گا کہ جو آرٹیکل دو سو نو میں کسی جج کے عہدے سے علیحدگی کے لیے مقرر ہے ۔

سیاسی منظر نامے کی روح سینیٹ الیکشن، ان کے نتائج پر پیدا شدہ صورتحال سے عوام واقف ہیں۔ سینیٹ الیکشن کا پورا سیناریو ڈسکہ الیکشن کی زمینی صورت حال سے الگ نہیں، ٹی وی چینلز پر وہ دنگا فساد، ہنگامہ آرائی، عوام نے لائیو دیکھی، پولنگ افسروں کے غائب ہونے، الیکشن کمشنر کی حکومتی حکام کو ساری تفصیلات سے آگاہ کرنے، پولنگ افسران کی ''دھند'' اور دیگر عذر کے باعث نتائج میں تاخیر اور دیگر معروضات ایک افسوسناک داستان کا دیباچہ لگتے ہیں۔

بہر کیف حکومت کا انداز نظر یہ ہے کہ الیکشن کمیشن اپنی نیوٹریلٹی ثابت نہ کرسکا لیکن ارباب اختیار غالباً سیاسی صورتحال کی تپش، سیاسی تصادم، تشدد اور تناؤ کے ادراک سے بالاتر ایک مابعد الطبیعاتی یا دیومالائی حل کی خواہش رکھتے ہیں۔ ذہنی طو پر الیکشن کمیشن اور حکومت کے مابین ایک ڈیڈ لاک کا بنیادی سبب سسٹم میں مضمر بحران ہے، حکومت اور الیکشن کمیشن کا مسئلہ مکالمہ کے فقدان اور داخلی بحران ہے۔ ایسی سچویشن میں جہاں کورونا، مہنگائی، بیروزگاری اور سیاسی کشیدگی عروج پر ہو الیکشن کمیشن سے مستعفی ہونے کا مطالبہ معاملات کو مزید پیچیدہ بنا دے گا، حکومت کے لیے صائب رائے سیاسی بصیرت، معاملہ فہمی، مکالمہ اور بعد از سینیٹ انتخابات ملک میں سیاسی ہم آہنگی کو یقینی بنانے کی ہے۔

کوشش ہونی چاہیے کہ قوم کو مزید سیاسی آزمائش میں نہ ڈالا جائے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے پہلے دن سے اوپن بیلیٹنگ کا مطالبہ اور کوشش کی ہے، نواز شریف نے اپنی حکومت میں اوپن بیلٹ لانے کی بات تو سیاسی اختلاف کے باوجود ہم نے حمایت کی، عمران خان چاہتے ہیں سیاست سے پیسے کا کردار ختم کرکے شفافیت لائی جائے، جن کے پاس اکثریت نہیں تھی وہ جیت گئے لیکن خواتین نشست پر جہاں پیسے نہیں چلے وہاں پی ٹی آئی کی خاتون امیدوار نے کامیابی حاصل کی۔ الیکشن کمیشن اپنی ذمے داریاں پوری کرنے میں بری طرح سے ناکام ہوچکا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ ایک ایسا الیکشن کمیشن ہو جو صاف اور شفاف انتخابات کو یقینی بنائے۔

سیاسی صورت حال میں تبدیلی کی ضرورت ہے، لیکن حکومت اور اس کے سسٹم کو تبدیلی سے منسلک کرنے کی کوششوں میں معیاری تبدیلی نظر نہیں آئی۔ عوام کو ایک ایسے نظام کی نوید سنائی گئی تھی جو کرپشن سے پاک ہوگا، میرٹ کی بالادستی ہوگی، طرز حکمرانی شفاف ہوگا ، ترقی کے یکساں مواقع ہوںگے، یہ چیز الیکشن کمیشن کی خود مختاری کے حوالے سے بھی کہی گئی تھی مگر کوئی تبدیلی اگر تین برس میں نظر نہ آئے تو عوام جو توقعات کے منتظر تھے ان کا مایوس ہونا فطری ہے۔

سیاسی عناصرکے اس استدلال پر بھی سوچنا ناگزیر ہے کہ الیکشن کمیشن کی بدولت سینیٹ کے انتخابات ہوئے ہیں، سینیٹرز، چیئرمین اور ڈپٹی چئیرمین منتخب بھی ہوگئے، ان کے انتخابات پر مبارکبادیں بھی دی گئیں، یوسف رضا گیلانی کامیاب رہے، پھر صادق سنجرانی چیئرمین سینیٹ منتخب ہوئے، ان کی کامیابی پر خوشیاں بھی منائی گئیں۔ پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن نے اپنی ذمے داری پوری نہیں کی تو سسٹم میں اتنی خرابیاں نکل آئی ہیں کہ الیکشن کمیشن اور اراکین کمیشن سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

اس پر عوام اور سیاسی اور جمہوری قوتوں میں برہمی پر غورکرنے کی اشد ضرورت ہے، کوئی خرابی ہے تو اس کے بطن سے جمہوری سسٹم کے ظہور اور سیاست دانوں کے انتخاب میں ابہام، بے یقینی اور شکوک کے اچانک پیدا ہونے کسی صحت مند سیاسی نظام کی نوید نہیں ملتی۔ سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ پورے سماجی اور سیاسی نظام کی تطہیر ناگزیر ہے، سیاست دانوں کو پیچ ورک میں سسٹم کی اصلاح کے بجائے ایک بڑے شیک اپ کی طرف جانا پڑے گا۔ یہ نصف صدی کا قصہ نہیں اس کام میں پورے سیاست دانوں کو مل کرکام کرنا ہوگا۔

قوم کو ملکی نظام میں قلب ماہیت کا انتظار ہے، سسٹم کی تبدیلی سیاست دانوں سے توقع رکھتی ہے کہ وہ اس برمودا ٹرائینگل سے نکلیں، حکمران اپنی توانائیاں ایک انقلاب کی آمد پر خرچ کریں، تبدیلی کے لیے حکومت اب تک ہونے والے اقدامات اور پالیسیوں کے نتائج پر بڑی گول میزکانفرنس کے امکانات پر گفتگو کریں، وقت تصادم، ٹکراؤ اورکشیدگی کا نہیں،کسی ادارہ کی بساط لپیٹنے کی بات کرنے سے ملک کے بائیس کروڑ عوام کے مسائل اور دکھ کم نہیں ہوسکتے، چیلنجز بے شمار ہیں جنھیں چیلنجز آشنا سیاسی رہنما حل کرسکتے ہیں، جو بقول فیض

جو رکے توکوہ گراں تھے ہم جو چلے تو جان سے گزرگئے

قوم ایسی کوہ گراں سے ٹکرانے والے سیاسی لیڈرزکی راہ تک رہے ہیں۔ قوم اس وقت ایک بڑے اقدام اورکایا پلٹ کے لیے حکمرانوں کی طرف دیکھ رہی ہے، سیاسی اختلافات اور لڑائی جھگڑوں کو بالائے طاق رکھنے کا وقت آگیا ہے۔

مقبول خبریں