انتخابی اصلاحات

ملک کی سیاسی قیادت جمہوریت کی روح کو سمجھے،انتخابی اصطلاحات کے لیے تمام رنجشیں، شکوے بھلا کر ایک میز پر بیٹھیں۔


Editorial March 19, 2021
ملک کی سیاسی قیادت جمہوریت کی روح کو سمجھے،انتخابی اصطلاحات کے لیے تمام رنجشیں، شکوے بھلا کر ایک میز پر بیٹھیں (فوٹو: فائل)

''ہم چاہتے ہیں کہ آیندہ عام انتخابات سے قبل انتخابی اصلاحات ہوجائیں، شفافیت کو برقرار رکھنے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال ناگزیر ہے، الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال کی تجاویز پر قانون سازی کی ضرورت ہے، حالیہ سینیٹ انتخابات میں ایک مرتبہ پھر پیسہ چلا، کرپٹ پریکٹسز روکنے کے لیے اصلاحات ناگزیر ہیں''یہ مندرجات ہیں.

ایک خط کے جو وزیراعظم عمران خان نے آیندہ انتخابات سے قبل انتخابی اصلاحات اور قانون سازی کے لیے تمام پارلیمانی جماعتوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دینے کے لیے اسپیکر قومی اسمبلی کو لکھا ہے۔

انتخابی نظام میں اصلاح کے حوالے سے یہ خط خصوصی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اس ملک کا ایک بڑا اور اہم ترین مسئلہ انتخابی اصلاحات کا نہ ہونا ہی ہے، یہ تاثر تقویت پارہا ہے کہ موجودہ نظام انتخاب قوم کی حقیقی رائے کو سامنے نہیں لا سکتا تو پھرسوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسے تبدیل کیوں نہیں کیا جاتا، انتخابی اصلاحات کیوں نہیں کی جاتیں اور شفاف نظام کی طرف کیوں نہیں بڑھا جاتا۔

پاکستان کی تاریخ میں شاید ہی کوئی ایسا الیکشن ہو جس میں ہارنے والی پارٹی نے دھاندلی کا الزام نہ لگایا ہو۔ یہ دھاندلی مقامی سطح پر ہو،منظم ہو یا الیکشن سے پہلے دھاندلی کی کوئی صورت استعمال کی گئی ہو، شور ضرور اٹھتا ہے۔

ہمیں اس امر کو بھی دیکھنا پڑے گا کہ انتخابی اصلاحات نہ ہونے کے باعث عوام کے حقیقی نمایندوں کو اقتدار منتقل نہیں ہوتا اور نااہل لوگ زبردستی مسلط کر دیے جاتے ہیں۔ اس وقت اپوزیشن احتجاج کر رہی ہے اور اس کے مطالبات میں سے ایک نئے الیکشن کا مطالبہ بھی ہے، اپوزیشن کے مطالبے سے قطع نظر موجوہ حکومت کی آئینی مدت مکمل ہو نے کے بعد ملک کو نئے الیکشن کی طرف جانا ہے۔ اس لیے الیکشن سسٹم میں انقلابی اصلاحات کرنا وقت کی ضرورت ہے تاکہ ایسے الیکشن کا انعقاد ممکن ہوسکے جس میں دھاندلی، دھاندلی کی گردان نہ ہو۔

وزیراعظم نے اپنے خط میں الیکٹرانگ ووٹنگ مشینوں کے استعمال کی بات ہے ، ویسے تو دو تین برس پہلے ہی الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم پر سب کو اتفاق کرکے قانون سازی کرلینی چاہیے تھی اور نمونے کے طور پر گلگت بلتستان الیکشن میں آزمائش بھی کرلی جاتی؟ خیر وزیر اعظم عمران خان نے الیکشن میں دھاندلی کے الزامات کے سلسلے کو ختم کرنے اورملک میں الیکٹورل ریفارمز لانے کے لیے تین تجاویز پر پہلے بھی بات کی ہے۔ (الف )ملک میں الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم متعارف کرایا جائے۔(ب) بائیو میٹرک تصدیق ہونی چاہیے۔

(ج) سینیٹ الیکشن میں خفیہ رائے شماری کے بجائے شو آف ہینڈ زکا طریقہ اپنایا جائے۔ وزیراعظم نے ایک بار پھر بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو حق رائے دہی دینے کے لیے ای ووٹنگ کی سہولت فراہم کرنے کی خواہش کا اظہار بھی کیا ہے۔ الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم اوربائیو میٹرک تصدیق کے معاملے پر پہلے بھی عوامی اور سرکاری حلقوں میں بارہا سیر حاصل بات چیت ہو چکی ہے۔

بائیو میٹرک تصدیق کا نظام پچھلے الیکشن میں بھی استعمال کیاگیا تھا جس میں مشکلات سامنے آئی تھیں۔2018میں متعارف کروایا گیا رزلٹ ٹرانسمیشن اور مینجمنٹ سسٹم کئی مقامات پر لوڈ برداشت نہ کر سکنے کی وجہ سے بیٹھ گیا تھا اور سارے انتخابی عمل پر سوالات اٹھ گئے تھے جب کہ ای ووٹنگ میں استعمال ہونے والی الیکٹرانک ووٹنگ مشین (EVM) کو معمول کے کاغذی بیلٹ پیپرزسے تین گنا اضافی اخراجات کی بنیاد پر رد کیا گیا تھا۔

الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم کے چند مثبت پہلو یہ ہے کہ اس سے ووٹ کاسٹ کرنے کا عمل تیز تر ہو جاتا ہے اور ووٹنگ کے عمل کی نگرانی اور ووٹ گننے والے اسٹاف کی تعداد کم ہو جاتی ہے۔ ووٹر اپنا وقت بچا سکتا ہے۔

الیکٹرانک ووٹنگ سسٹم خصوصی افراد کو بھی آسانی سے ووٹ ڈالنے کی سہولت دیتا ہے۔ دوردراز علاقوں میں رہنے والے بوڑھے افراد اور بیرون ملک قیام پذیر افراد بھی انتخابی عمل کا حصہ بن سکتے ہیں جس سے انتخابات میں ٹرن آؤٹ بڑھ جاتا ہے۔ دھاندلی کے امکانات کم ہو جاتے ہیں اورانتخابی عمل کے نتائج تیزی سے اکٹھے کیے جا سکتے ہیں۔ دوسری جانب جوں جوں نظام پیچیدہ ہوتا جاتا ہے اور سافٹ وئیر کا استعمال بڑھتا ہے تو سسٹم ہیک ہونے اور فراڈ کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ اس کی ایک مثال امریکا کے 2016 کے الیکشن ہیں جب سسٹم ہیک ہونے کی وجہ شکوک وشبہات پیدا ہوئے تھے۔

حالیہ امریکی الیکشن میں میل بیلٹنگ اور ووٹوں کی گنتی پر ٹرمپ نے تحفظات کا اظہار کیا تھا۔ کمرشل الیکٹرانک مشینیں، پاس ورڈز، کی بورڈز اور عوام کی حقیقی عمل تک رسائی نہ ہونا ہی سب سے بڑے مسائل ہیں۔ انھی وجوہات کی بنا پر کئی ترقی یافتہ ممالک میں ای ووٹنگ کو ترک کر دیا گیا ہے۔ تاہم انڈین الیکشن کمیشن اس کی حمایت کرتاہے جہاں DREسسٹم استعمال ہوتا ہے۔ان مشینوں کو بھارتی سیکیورٹی اداروں نے اپنے الیکشن کمیشن کی ضروریات کے مطابق بنایا ہے۔روایتی طریقہ انتخابات کی وجہ سے اب بھی ہمارے ہاں ووٹنگ کی شرح تیس پینتیس فیصد سے اوپر نہیں جاتی، گویا دو تہائی عوام اس نظام انتخاب سے لاتعلق رہتے ہیں۔

ایک اہم ترین مسئلہ جو حالیہ دنوں میں ابھر کر سامنے آیا ہے ، اس میں الیکشن کمیشن کی کارکردگی پر حکومتی سطح پر نہ صرف سوالات اٹھائے گئے ہیں ،بلکہ بات اتنی بڑھی ہے کہ پورے الیکشن کمیشن سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی کردیا گیا ہے۔گزشتہ تین عام انتخابات میں جو بھی بے ضابطگیاں ہوئیں چاہے وہ ادارہ جاتی سطح پر ہوئیں یا انفرادی سطح پر الیکشن کمیشن اپنے ہی بنائے ہوئے اصول و ضوابط سمیت کوڈ آف کنڈکٹ پر کچھ نہیں کر سکا جو اس کی انتظامی اور قانونی ذمے داری کے زمرے میں آتا تھا، اس کی وجہ الیکشن کمیشن کے سیاسی مسائل کے ساتھ ساتھ انتظامی اختیارات نہ ہونا بھی ہے۔ سوال یہ ہے کہ ایسی کیا اصلاحات کی جائیں کہ الیکشن کمیشن دباؤ کے بغیر اپنے فیصلے کر کے ملک میں شفاف انتخابات کے عمل کو یقینی بنا سکے۔

پڑوسی ملک بھارت میں جونہی انتخابات کا اعلان ہوتا ہے تو الیکشن کمیشن ملک میں سپریم ڈی فیکٹو گورنمنٹ بن کر بیورو کریسی پر مکمل کنٹرول سنبھال لیتا ہے۔ یوں نگران سیاسی حکومت کی طاقت بہت محدود ہوجاتی ہے۔

انتخابات کے دوران الیکشن کمیشن انتہائی با اختیار ادارہ بن جاتا ہے اور تمام تر اختیارات کا آزادانہ استعمال کر سکتا ہے اور پوری سرکاری مشینری چیف الیکشن کمشنر کے ماتحت ہو جاتی ہے جب کہ ہماری قومی عمومی حکمت عملی میں اداروں کی مضبوطی اور بالادستی کے مقابلے میں فرد کی اہمیت زیادہ ہوتی ہے جب ادارے مضبوط، شفاف اور جوابدہ ہوں گے تو فرد بھی ان کے تابع رہ کر اپنی ذمے داریاں ادا کرتے ہیں۔وقت کا تقاضا اور اہم ترین ضرورت ہے کہ پاکستان الیکشن کمیشن کو زیادہ اختیارات دیے جائیں اور اسے آزاد ، خودمختار ادارہ بنایا جائے تاکہ شفاف انتخابات کا انعقاد ممکن ہوسکے ، بد اعتمادی کی فضا خاتمہ ہو اور عوام کا ایمان جمہوریت پر مزید پختہ ہو۔

جمہوریت کو ہم ایسا نظام حکومت قرار دیتے ہیں جس میں ریاست کے ہر فرد کو حکومت پر اعتماد ہوتا ہے۔ جمہوریت میں فیصلے کثرت رائے سے کیے جاتے ہیں، لیکن برسراقتدار آنے والی حکومت کو اپوزیشن آئین کی روح کے مطابق تسلیم کرتی ہے۔ جمہوری نظام میں عوام قانون ساز اداروں کے ارکان منتخب کرتے ہیں، اسی لیے اقتدار کا سرچشمہ عوام کو کہا گیا ہے۔ جمہوریت انصاف کا تقاضا کرتی ہے اور انصاف قانون کی حکمرانی سے ملتا ہے۔

جمہوریت میں ہمیشہ قانون ، عوام کے منتخب کردہ ادارے بناتے ہیں اور قانون کی آنکھ شہریوں کے سیاسی، معاشی اور سماجی تقاضے دیکھتی ہے۔یہ تو جمہوریت کے حوالے سے چند اہم نکات جن کے بارے میں سیاسی قیادت آگاہی رکھتی ہے۔

ملک کی سیاسی قیادت جمہوریت کی روح کو سمجھے،انتخابی اصطلاحات کے لیے تمام رنجشیں، شکوے بھلا کر ایک میز پر بیٹھیں، اگر عوام کا اس انتخابی عمل سے اعتبار اٹھ گیا تو وہ انتخابی عمل میں حصہ لینا ہی چھوڑ دیں گے۔ سیاستدانوں کو سوچنا چاہیے کہ وہ اپنے درمیان نا اتفاقی کو ہوا دے کر کسے فائدہ پہنچا رہے ہیں ، سیاستدان ہر وقت الزام تراشی کے جس عمل میں ڈوب چکے ہیں اس سے باہر کب نکلیں گے۔ ہر الزام اسٹیبلشمنٹ کو دینے کے بجائے سیاسی قوتوں کو خود احتسابی کے عمل سے بھی گزرنا چاہیے۔

مقبول خبریں