بنگلہ دیش کا مستقبل

بنگلہ دیش اپنی آزادی کے بعد بدقسمتی سے ایسے راستے پر چل رہا ہے جو تباہی کا راستہ ہے


Zaheer Akhter Bedari January 09, 2014
[email protected]

LONDON: بنگلہ دیش میں حکمراں جماعت نے اپوزیشن کے پرتشدد احتجاج اور بائیکاٹ کے باوجود الیکشن کرادیے۔ الیکشن کے دن 21 افراد ہلاک اور بے شمار لوگ زخمی ہوگئے۔ خالدہ ضیا کو اس دوران مسلسل نظر بند رکھا گیا۔ خالدہ ضیا کے ساتھ بنگلہ دیش کی 18 سیاسی جماعتیں اپوزیشن کا کردار ادا کر رہی ہیں، اپوزیشن کے بائیکاٹ کی وجہ سے آدھے سے زیادہ امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوگئے۔ امریکا نے ان انتخابات کو غیر منصفانہ قرار دے کر دوبارہ الیکشن کرانے کا مطالبہ کیا ہے، اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے ان پرتشدد انتخابات کو افسوسناک قرار دیا ہے۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ بنگلہ دیش میں مہینوں سے جاری پرتشدد ہنگامہ آرائی کی صورت حال میں حکمراں جماعت نے انتخابات کرانے کی مہم جوئی کیوں کی۔ 28 فروری 2013 کو جب اسپیشل ٹریبونل نے جماعت اسلامی کے ایک رہنما عبدالقادر ملا کو 11 افراد پر مشتمل ایک فیملی کے قتل کا مجرم قرار دے کر سزائے موت سنائی تھی اسی دن سے بنگلہ دیش میں پرتشدد ہنگاموں کا آغاز ہوگیا تھا۔ اس دن جماعت اسلامی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے درمیان تصادم میں 40 افراد ہلاک ہوگئے تھے، تب سے بنگلہ دیش خونیں احتجاج کی زد میں ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وزیراعظم شیخ حسینہ واجد، اپوزیشن رہنما خالدہ ضیا اور جماعت اسلامی کے اکابرین سے بات چیت کرکے بنگلہ دیش میں لگی ہوئی اس آگ کو بجھانے کی کوشش کرتیں لیکن ہوا یہ کہ جماعت اسلامی کے رہنما کی سزائے موت پر عملدرآمد کردیا گیا جس نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔

1971 میں مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بننے کا مسئلہ ایک متنازع مسئلہ ہے۔ بنگلہ دیش کا حکمران طبقہ اسے بنگال کی آزادی کی جنگ کہتا ہے اور پاکستان کا حکمراں طبقہ اسے علیحدگی پسند کی جنگ کہتا ہے جو بھارت کی مدد سے لڑی گئی۔ اس تنازعے سے قطع نظر اس افسوسناک حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ اس جنگ کے دوران جہاں لاکھوں بنگالی مارے گئے وہیں وہ لاکھوں لوگ بھی مارے گئے جو 1947 میں ہندوستان سے ہجرت کرکے مشرقی پاکستان آئے تھے۔ یوں یہ قتل عام یکطرفہ نہیں تھا بلکہ اس میں بنگلہ دیش کے حامی اور مخالف دونوں ہی قتل ہوئے تھے۔ اس المیے کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ تھا کہ دونوں طرف مسلمان ہی مارے گئے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی تشویشناک صورت حال میں 42 سال پہلے ہونے والے جرائم کے مسئلے کو کیوں اٹھایا گیا؟ اور جماعت کے رہنماؤں کو سزائیں کیوں سنائی گئیں؟ کیا یہ اقدامات بنگلہ دیش کے مفادات میں ہیں یا بنگلہ دیش کو اور مشکلات میں دھکیل دیں گے؟ اپوزیشن رہنما خالدہ ضیا اس ہنگامہ خیز صورت حال میں جماعت اسلامی کے ساتھ کھڑی ہوئی ہیں، کیا یہ نظریاتی تقسیم بنگلہ دیش میں امن کو تقویت دے گی یا مزید خون خرابے کی طرف دھکیل دے گی؟

بنگلہ دیش کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں جمہوریت کی حامی ہیں، ماضی میں خالدہ ضیا بھی انتخابات کے ذریعے ہی برسر اقتدار آئی تھیں اور موجودہ وزیراعظم شیخ حسینہ واجد بھی جمہوری راستے ہی سے اقتدار میں آئی ہیں۔ جب دونوں جماعتیں جمہوریت پر یقین رکھتی ہیں تو پھر بنگلہ دیش میں ایک سال سے جاری تشدد کی سیاست کو روکنے میں ایک دوسرے کا ساتھ کیوں نہیں دے رہی ہیں؟ یہ سوال صرف بنگلہ دیش تک محدود نہیں ہے بلکہ پاکستان اس حوالے سے بنگلہ دیش سے زیادہ بدتر صورت حال کا شکار ہے۔ یہ نظریاتی تقسیم پاکستان میں بنگلہ دیش سے زیادہ سنگین بنی ہوئی ہے، یہ بڑی حوصلہ افزا بات ہے کہ پاکستان کی مذہبی جماعتیں ہر الیکشن میں حصہ لے رہی ہیں، اگرچہ انھیں مسلسل شکست کا سامنا ہے لیکن جمہوریت پر ان کا یقین آج بھی برقرار ہے اور یہ تمام مذہبی جماعتیں بلدیاتی انتخابات میںحصہ لینے کی تیاری کر رہی ہیں۔ یہ ایک حوصلہ افزا صورت حال ہے لیکن کیا یہ رویہ بھی حوصلہ افزا ہے کہ جمہوریت پر یقین رکھنے والی جماعتیں تشدد اور دہشت گردی کی بھی بالواسطہ حمایت کریں؟ اگر اس ملک کے مستقبل کو تابناک بنانا ہے تو پھر ہمیں دہری سیاست سے نکلنا ہوگا۔

بنگلہ دیش میں جو خوفناک صورت حال دکھائی دے رہی ہے۔ اس کی جڑیں متحدہ پاکستان ہی میں پیوست ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نے نہ پاکستان کے سیاسی مستقبل کی کوئی راہ متعین کی ہے نہ بنگلہ دیش کی سیاسی جماعتیں بنگلہ دیش کے مستقبل کے حوالے سے ہم خیال نظر آتی ہیں۔ اس نظریاتی انتشار کی ایک وجہ یہ ہے کہ ہم ملک و ملت کی ترقی کے لیے اقتصادی، سائنس و ٹیکنالوجی تحقیق و ایجاد کا راستہ اختیار کرنے کے بجائے ایسی نظریاتی دھند کا راستہ اختیار کیا ہے جس میں دوست دشمن کی پہچان تو کجا ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور بنگلہ دیش کا قیام اسی دھند کا نتیجہ ہے۔ ہم آج تک اس بات پر لڑ رہے ہیں کہ پاکستان کے مستقبل کے حوالے سے بانی پاکستان نے کیا کہا تھا۔

بنگلہ دیش کے مسائل پر گفتگو کرتے ہوئے پاکستان کے مسائل کا ذکر کرنا اس لیے ضروری محسوس ہورہا ہے کہ بنگلہ دیش میں جو دو مخالف قوتیں ایک دوسرے سے برسر پیکار ہیں پاکستان میں بھی یہی دو متضاد قوتیں ایک دوسرے کے مقابل کھڑی ہوئی ہیں۔ پاکستان کی موجودہ حکومت پر بھی اگرچہ مذہبی انتہاپسندوں سے تعلقات رکھنے کے الزامات ہیں لیکن حالات کے جبر نے موجودہ حکومت کو وقت اور حالات کے تقاضوں کے مطابق چلنے پر مجبور کردیا ہے۔ خارجہ پالیسی کے بدلتے ہوئے تیور سے موجودہ حکومت کی نظریاتی اپروچ کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ دونوں ملکوں کی اجتماعی بدقسمتی یہ ہے کہ انھوں نے مثبت قوتوں کو آگے آنے کا موقع نہیں دیا جس کا نتیجہ دونوں ممالک آج بھگت رہے ہیں۔

اگر ہم اس نظریاتی خلفشار کو ایک جملے میں واضح کرنا چاہیں تو وہ جملہ ''دوا اور دعا'' سے واضح ہوجاتا ہے۔ ہم نے مجموعی طور پر دوا کے راستے کو ترک کرکے صرف دعا کا راستہ اختیار کرلیا ہے جب کہ خود ہمارے اکابرین اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ مریض کے لیے دوا اور دعا دونوں ضروری ہیں۔ ہر ملک اور ہر معاشرے میں اختلاف رائے ہوتا ہے، ماضی میں اختلاف رائے کو تیر اور تلوار سے ختم کیا جاتا تھا لیکن سماجی اور تہذیبی ارتقا نے انسانوں کو دلیل اور مکالمے کے ذریعے اختلاف رائے کو ختم کرنے کا راستہ دکھایا لیکن آج بھی ایسی طاقتیں موجود ہیں جو اختلاف رائے کو گولیوں کے ذریعے ختم کرنے پر یقین رکھتی ہیں اور اسی راستے پر چل رہی ہیں۔ یہ راستہ انسانوں کو تباہی کے علاوہ کچھ نہیں دے سکتا۔

بنگلہ دیش اپنی آزادی کے بعد بدقسمتی سے ایسے راستے پر چل رہا ہے جو تباہی کا راستہ ہے۔ بنگلہ دیش کی حکمراں جماعت اگر اپنے راستے کو درست راستہ سمجھتی ہے تو اسے تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے کیونکہ تشدد خواہ اس کی شکل کچھ بھی ہو، تشدد کو جنم دیتا ہے۔ بنگلہ دیش کی اپوزیشن رہنما کو سیاسی مفادات سے بالاتر ہوکر حکومت کی حمایت یا مخالفت کا راستہ اختیار کرنا چاہیے، اگر حکومت کی حمایت اور مخالفت کی بنیاد ذاتی اور جماعتی مفادات ہوں گے تو ملک و ملت کے مستقبل کی تباہی یقینی ہوجاتی ہے۔ اب بنگلہ دیش کی قیادت کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ کون سا راستہ اختیار کرے گی؟

مقبول خبریں