کورونا کا چیلنج

کورونا کی تیسری لہر نے اپنی ہلاکت خیزی کے سارے کارڈ باہر نکال لیے ہیں۔


Editorial March 30, 2021
کورونا کی تیسری لہر نے اپنی ہلاکت خیزی کے سارے کارڈ باہر نکال لیے ہیں۔ فوٹو: فائل

کورونا کی تیسری لہر نے اپنی ہلاکت خیزی کے سارے کارڈ باہر نکال لیے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا کی تیسری لہر پہلی دو لہروں سے زیادہ خطرناک ثابت ہوسکتی ہے، تاہم وسائل کی کمی کے باعث ملک میں مکمل لاک ڈاؤن نہیں کر سکتے۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق قوم کے نام اپنے پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ کورونا وائرس کی پہلی دو لہروں میں احتیاط کی، کسی ریستوران میں کھانا نہیں کھایا، کسی شادی پر نہیں گیا، سماجی فاصلہ بھی رکھا اور ماسک پہنا تاہم سینیٹ الیکشن کے دوران محتاط نہیں رہ سکا جس کے باعث وائرس کا شکار ہوگیا۔

لہٰذا اب قوم سے اپیل ہے کہ ماسک لازمی پہنیں۔ پوری دنیا کا یہ تجربہ ہے کہ ماسک پہننے سے بیماری میں مبتلا ہونے کے امکانات کم ہو جاتے ہیں۔ ہمارے پاس اتنے وسائل نہیں اس لیے ملک میں مکمل طور پر لاک ڈاؤن نہیں کیا جا سکتا۔ ملک میں بزنس اور فیکٹریاں بند نہیں کر سکتے۔ امیر ترین ممالک بھی یہ نہیں کر سکتے۔

ہم صرف یہ کر سکتے ہیں کہ ایس او پیز پر عمل درآمد کریں۔ خدشہ ہے تیسری لہر پہلی دو لہروں سے زیادہ خطرناک ثابت ہوگی۔ جس شرح سے تیسری لہر پھیل رہی ہے ہمارے اسپتال بھر جائیں گے۔ ہم نے جس طرح پہلی لہر میں احتیاط کی دنیا نے ہماری مثال دی۔

عوام ایس او پیز پر عمل درآمد کریں۔ دنیا میں ویکسین کی قلت ہو چکی ہے۔ جن ممالک نے ویکسین دینے کا وعدہ کیا تھا وہ اپنی ضروریات بھی پوری نہیں کر پا رہے۔ اس لیے وائرس سے بچاؤ کے لیے ماسک لازمی پہنیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اللہ نے ان پر اور ان کی اہلیہ پر کرم کیا ہے۔

یاد رکھیں کورونا ایسی بیماری ہے اگر سینے میں چلی جائے تو یہ بڑی خطرناک ثابت ہوتی ہے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ اسپتال مریضوں سے بھر چکے ہیں، عوام وینٹی لیٹرز یا آکسیجن پر ہیں، پہلی لہر کے دوران نظم و ضبط کی وجہ سے ہماری قوم دنیا میں مثالی تھی۔ ایس او پیز پر عمل نہ کیا تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے، کورونا کی تیسری لہر انگلینڈ سے آئی ہے، لاک ڈاؤن کے دوران عوام کو وسائل کی کمی کی وجہ سے خوراک مہیا نہیں کی جا سکتی، اس لیے کاروبار اور فیکٹریاں بند نہیں کر سکتے۔

کورونا سے پیدا شدہ بھوک، بیروزگاری اور معاشی انحطاط کی جس صورتحال کا ذکر وزیر اعظم کر رہے ہیں اس سے اہل وطن خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کورونا نے دنیا کی اقتصادیات کے کس ہولناک طریقے سے انچر پنچر ڈھیلے کر رکھے ہیں، یہ وہ معاشی مسائل ہیں جن سے عالمی معیشت سمیت دنیا کے طاقتور اور ترقی یافتہ ممالک لرزہ براندام ہوکر رہ گئے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ ماسک پہننے کے بارے میں حکومتی ہدایات کا کوئی خاطر خواہ نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے، لوگ اس ماحول سے نکلنا چاہتے ہیں۔

انھیں اعتبار اور بے اعتباری کے درمیان الجھا کے رکھ دیا گیا ہے، مسئلہ قیادت کے نقش قدم پر چلنے کا ہے، کہا جاتا ہے کہ عوام اپنے رہنماؤں کی تقلید کرتے ہیں، جب وزرا، مشیر اور دیگر حکام ماسک وغیرہ کی پابندی نہیں کرتے، تو اس کا لازمی اثر عوام پر پڑتا ہے، پارٹی ڈسپلن کے تحت اگر موبلائزیشن مہم جاری رکھی جائے تو یہ ایسا مشکل معاملہ نہیں، لوگ شوق سے ماسک پہنیں گے بشرطیکہ ماسک کی فراہمی عوامی دسترس میں ہو، حکومت جہاں کروڑوں روپے مختلف مدات میں خرچ کرتی ہے اس کے لیے عوام کو مفت ماسک مہیا کرنا مشکل نہیں، اس وقت ملک میں ماسک شوق سے پہننے کی کوئی سرکاری مہم نظر نہیں آتی بلکہ بعض شہروں میں تو ماسک پہنے ہوئے لوگ خود کو تماشا سمجھتے ہیں۔

حکومت ماسک، سماجی فاصلہ اور جم غفیر کے کلچر کی روک تھام کے لیے میڈیا کے ساتھ ساتھ پارٹی کیڈر کی تنظیمی قوت اور صلاحیت کو بھی کام میں لائے، آخر پارٹی کی فوج ظفر موج کس دن کام آئے گی، اگر پارٹی کارکنان اسے قومی کاز سمجھتے ہوئے بچوں، جوانوں اور بوڑھوں میں ماسک تقسیم کرنے کی مہم شروع کریں تو کافی موثر نتائج سامنے آ سکیں گے۔

صرف قیادت کی ایک پیش قدمی کی ضرورت ہے۔ تیسری لہر کا مطلب یہ ہے کہ صورتحال کے سدباب کا حقیقی ادراک نہ ہوا تو وبا کا اسٹرائیک بیک کرنا بس دنوں کی بات ہوگی، پھر بعد از مرگ واویلا کیسا؟ اصل مصائب اور خطرات ابھی آنے کے منتظر ہیں، یہ حقائق چونکہ مفادات، تجارتی جنگوں اور تنازعات، بلاکوں میں تقسیم ریاستوں کے سیاسی و سماجی سسٹم میں مضمر مسائل سے پیوست ہیں اور علاقائی، گلوبل اور پیچیدہ سفارتی تسلسل کی طویل تاریخ پر محیط ہیں اس لیے پاکستان سے ان کا تعلق اس شدت اور اپنائیت سے نہیں ہوتا، اس لیے ارباب اختیار کو سوچنا اور دیکھنا چاہیے کہ کورونا کی تیسری لہر عالمی حالات پر ایک نوشتہ دیوار جیسے منظر نامہ کی ویک اپ کال ہے۔

حکومت کورونا کے تھیسس کو مقامی وباء کے محدود تناظر میں نہ دیکھے، یہ محض ویکسینیشن مہم کی تکمیل یا امداد میں ملنے والی ویکسین سے آگے کے معاملات ہیں، ''ویکسین سے آگے جہاں اور بھی ہیں''۔ ملکی صحت اور سفارتی حلقے سوال اٹھا رہے ہیں کہ کورونا کی گزری لہروں نے ہمارے ماہرین صحت، سائنسدانوں اور ویکیسین پر تحقیق میں مصروف اداروں کو کامیابی کی کن منازل تک پہنچایا، پاکستان اپنی کوئی ویکسین اب تک کیوں قوم کے سامنے پیش نہیں کرسکا، ظاہر ہے تحقیق کا کام سیاسی نعرے بازی سے مختلف ہے۔

ہمارا قومی المیہ سیاسی تضادات اور دردناک کشیدگی، الزام تراشیوں کی چیمپئن شپس ہیں جو ختم ہونے میں نہیں آتیں، اہل درد آج بھی کورونا کی تیسری لہر پر تقریبات اور شادی بیاہ کی سرگرمیوں سے دور رہنے اور ماسک پہننے کی نصیحت و ہدایات کی سختی سے پابندی کی للکار سنتے ہیں اور ان کے دل دہلتے رہتے ہیں، ہیلتھ سسٹم میں بریک تھرو کرنے کی صلاحیت پیدا کرنے کی امید افزا بات نہیں کی جاتی، اور یہ بھی ممکن نہیں کہ غریب ملکوں کی کمزور معیشتوں کو سہارا دینے کا کوئی جادوئی کشکول کوئی مہربان ہمارے ہاتھ میں تھما دے کیونکہ دنیا خود ایک دلدلی ندی میں پھنسی ہوئی ہے، سارے مگر مچھ شکار کو ترس رہے ہیں کورونا کے اثرات و مضمرات ہولناک ہوں گے۔

ملکی معیشت کے مالیاتی، اقتصادی، سیاسی اور گمبھیر معاشی مسائل کے ادراک کے لیے ارباب سیاست کو اپنے سیاسی انداز نظر پر نظرثانی کرنا ہوگی، وقت نکل گیا تو مسائل کا حل ہونا مزید دشوار ہوگا، غربت، بیروزگاری اور مہنگائی کی لہریں تیزی سے بڑھتی جا رہی ہیں۔

اس تکون کو بھی ماہرین معیشت چوتھی لہر کہہ سکتے ہیں جو تیسری لہر کے ہم رکاب چل رہی ہے جس کے باعث نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر (این سی او سی) نے ملک میں کورونا وائرس کی تیسری لہر کے باعث وبا کے زیادہ پھیلاؤ والے علاقوں میں29 مارچ سے لاک ڈاؤن جب کہ یکم اپریل سے ملک بھر میں شادی کی انڈور اور آؤٹ ڈور تقریبات پر پابندی لگادی ہے، سربراہ این سی او سی اور وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کی زیرصدارت نیشنل کمانڈ اینڈ آپریشن سینٹر کا اجلاس ہوا جس میں تمام صوبائی چیف سیکریٹریز نے شرکت کی۔

این سی او سی کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ 29 مارچ سے ملک کے تمام صوبوں میں ہاٹ سپاٹ کی نشاندہی کر کے وہاں لاک ڈاؤن نافذ کیا جائے گا۔ سماجی، ثقافتی اور سیاسی جلوسوں سمیت تمام تقریبات پر مکمل پابندی لگا دی گئی ہے۔ این سی او سی کی عائد پابندیاں فوری طور پر نافذ ہوں گی۔ این سی او سی نے وزیر اعلیٰ کے پی کے محمود خان اور چیف سیکریٹری ڈاکٹر کاظم نیاز کو مشورہ دیا ہے کہ صوبے میں زیادہ متاثرہ 11 اضلاع میں مکمل لاک ڈاؤن لگا دیا جائے۔

کورونا کی مثبت شرح پشاور اور سوات میں 24 فیصد سے زائد ہوگئی ہے۔ جنازوں اور شادیوں کی تقریبات کے ساتھ ساتھ مارکیٹوں میں ایس او پیز کی خلاف ورزیوں پر تشویش ہے۔ صوبائی وزیر صحت تیمور جھگڑا اور وزیر اعلیٰ معاون خصوصی کامران بنگش نے میڈیا کو بتایا کہ وائرس پھیلاؤ کے پیش نظر لاک ڈاؤن کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔

محکمہ صحت کی رپورٹ کے مطابق صوبے میں گزشتہ روز7 اموات صرف پشاور میں ہوئیں۔ صوابی اور کوہاٹ میں ایک، ایک مریض انتقال کر گیا۔ جب کہ پشاور کے مزید9علاقوں میں مائیکرو اسمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کرنے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔

وقت کا اولین تقاضہ ہے کہ حکومت پارٹی کارکنوں، صحت حکام سے کام لے، ماسک پہننے کی مہم جلد شروع کی جائے، اور ان تمام علاقوں میں جو کورونا سے متاثر ہو سکتے ہیں اور جہاں لوگ کورونا فری طرز عمل کے ساتھ گھوم پھر رہے ہیں، انھیں بتایا جائے کہ وہ موت سے کھیل رہے ہیں، ایک ذمے دار قوم کا ثبوت دیں اور کورونا سے بچاؤ کے لیے ماسک ضرور پہنیں، دوسری جانب حکومت اپنے صحت حکام کو دفتر سے باہر نکالے، انھیں عوام میں موبلائزیشن مہم کو تیز کرنے کی ہدایت دیں، کورونا کے لیے پارٹی کیڈر کو باہر نکل کر کورونا کی روک تھام کی زبردست مہم کا آغاز کرنا ہوگا۔

صرف جوش وجذبہ سے کام لے کر ہی حکومت کورونا کو شکست دے سکتی ہے۔ ارباب اختیار ساری تدابیر اختیار کرسکتے ہیں مگر ساتھ ہی ساتھ معاشی مسائل کے حل کے لیے بھی اقدامات کریں، کیونکہ مہنگائی، بیروزگاری اور غربت کے شکار عوام کو صرف چابک مار کر ماسک پہننے پر مجبور کرنا بھی زیادتی ہے، وہ مجبوری میں ہر کام کر سکتے ہیں لیکن دو وقت کی روٹی ماسک کی تلاش سے بہتر ہے، حکومت مہنگائی پر کنٹرول کرے، سماجی کام اور اقتصادی اقدامات کے ذریعے کورونا مہم کے بہتر نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔

عوام کے معاشی مسائل بھی کورونا کی روک تھام کی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ یہ سیاسی حقیقت ہے کہ ہر عوامی مہم کی بنیاد قیادت کی دلچسپی ہی ہے، سیاسی کارکن ایک بڑی تبدیلی اور پرجوش مہم کی فضا پیدا کرکے کورونا ماسک مہم کو کامیابی سے ہمکنار کر سکتے ہیں، بس عوام میں شامل ہونے کی دیر ہے، وزیر اعظم کی ایک کال اس صورتحال کو تبدیل کر سکتی ہے۔

مقبول خبریں