دورۂ جنوبی افریقہ مشن امپاسیبل

بظاہر یہ کرکٹ مقابلے پاکستان کرکٹ ٹیم کی ٹیم مینجمنٹ کی اہم شخصیات کے مابین مفادات کی جنگ محسوس ہورہے ہیں


جنوبی افریقہ کا دورہ گرین شرٹس کےلیے آپریشن امپاسبل سے کم نہیں ہے۔ (فوٹو: فائل)

PESHAWAR: گزشتہ ہفتے 21 کھلاڑیوں اور 13 آفیشلز پر مشتمل گرین شرٹس کی قومی کرکٹ ٹیم کا دستہ چارٹرڈ طیارے کے ذریعے جنوبی افریقہ پہنچ چکا ہے۔ جہاں قومی کرکٹ ٹیم میزبان جنوبی افریقہ کے خلاف 3 ون ڈے میچز کے علاوہ 4 مختصر فارمیٹ کے ٹی ٹوئنٹی مقابلوں میں نبردآزما ہوگی۔

ایک ایسے موقع پر جب عالمی وبا کورونا کے خوف کے باعث انگلینڈ کی ٹیم اپنا دورۂ جنوبی افریقہ ادھورا چھوڑ کر وطن واپس چلی گئی تھی اور آسٹریلین کرکٹ بورڈ نے تو جنوبی افریقہ کے دورے سے معذرت ہی کرلی تھی، پی سی بی کا دورۂ جنوبی افریقہ کےلیے اپنی ٹیم بھیجنا قابل تحسین ہے۔ ماضی میں پاکستان اس سے قبل تامل ٹائیگرز کے خودکش بم دھماکوں کے باوجود سری لنکا میں کرکٹ کی بحالی کےلیے اپنی ٹیم بھیج کر ثابت کرچکا ہے کہ پاکستان اور اس کے کھلاڑی کرکٹ کے فروغ کےلیے ہر گھڑی تیار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب سری لنکن ٹیم پر لاہور میں حملے کے بعد پاکستان میں عالمی کرکٹ کے دروازے بند ہوئے تھے تو سری لنکا ہی وہ واحد ملک تھا جس نے مکمل سیریز کےلیے اپنی ٹیم پاکستان بھیج کر احسان کا بدلہ اتار دیا تھا۔

جنوبی افریقہ کا دورہ گرین شرٹس کےلیے آپریشن امپاسبل سے کم نہیں ہے۔ روانگی سے قبل کپتان بابراعظم کے مینجمنٹ کے ساتھ اختلافات کی خبریں، داغدار ماضی کو اپنی سزا سے دھونے والے شرجیل خان کو رگڑا دینے کی باتوں کے علاوہ مصباح الحق اور وسیم خان کے درمیان جاری سرد جنگ کی گرم ہواؤں نے اس ٹور کو کھلاڑیوں کےلیے بہت مشکل بنادیا ہے۔ ایک طرف میزبان سائیڈ پاکستان کےلیے اپنے ہوم گراؤنڈ پر ہمیشہ سخت حریف ثابت ہوئی ہے تو دوسری جانب گرین شرٹس کی کارکردگی بھی جنوبی افریقہ کے میدانوں میں عدم تسلسل کا شکار رہی ہے۔ ماسوائے 2013-2014 کی ون ڈے سیریز کی فتح کے، جو مصباح الحق کی قیادت میں پاکستان نے جیتی تھی، اور برصغیر کی پہلی ٹیم ہونے کا اعزاز حاصل کیا کہ جس نے جنوبی افریقہ کو اس کے میدانوں میں وائٹ بال کے مقابلوں میں شکست سے ہمکنار کیا تھا۔ حالیہ دورۂ جنوبی افریقہ میں بھی وائٹ بال کے مقابلے ہی کھیلے جائیں گے۔

گرین شرٹس کے دورۂ جنوبی افریقہ کا آغاز 2 اپریل کو سینچورین پارک میں کھیلے جانے والے پہلے ون ڈے میچ سے ہوگا۔ جبکہ دوسرا ون ڈے جوہانسبرگ میں کھیلا جائے گا۔ جس کے بعد جنوبی افریقہ کے اسٹار پلیئرز کاگیسو ربادا، کوئینٹن ڈی کوک، لونگی نگیڈی، ڈیوڈ ملر اور اینرچ نورٹجی انڈین پریمیئر لیگ کےلیے بھارت روانہ ہوجائیں گے۔ جبکہ تیسرا ون ڈے سینچورین پارک میں شیدولڈ ہے، جس میں جنوبی افریقہ مذکورہ بالا کھلاڑیوں کے متبادل کے طور پر نئے کھلاڑیوں کو موقع دے گا۔ شاید یہی وہ نکتہ ہے جس کی بنیاد پر مصباح الحق اس دورے میں گرین شرٹس کی کامیابی کے حوالے سے کافی پرامید نظر آتے ہیں۔ اگر مصباح الحق ایسا سوچ رہے ہیں اور انہوں نے یہی سوچ کھلاڑیوں میں منتقل کی ہے تو پھر کھلاڑیوں کی کارکردگی بھی اسی سوچ کے گرد گھومے گی۔ دعا ہے کہ قومی ٹیم سیریز میں کامیابی حاصل کرے مگر خدانخواستہ ایسا نہ ہوا تو پھر مصباح الحق اور ان کی ٹیم کہاں کھڑی ہوگی؟ اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔

جنوبی افریقہ کے مشن امپاسبل کے بعد قومی کرکٹ ٹیم زمبابوے جائے گی جہاں تین ٹی ٹوئنٹی میچوں کی سیریز کے ساتھ دو ٹیسٹ میچ بھی کھیلے جائیں گے۔ بظاہر یہ دونوں سیریز انتہائی آسان نظر آرہی ہیں مگر جنوبی افریقہ سے زیادہ اگر زمبابوے کو اس کے ہوم گراؤنڈ پر ترنوالہ سمجھنا انتہائی بے وقوفی ہوگی۔

غیرملکی دورہ خاص طور پر آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، انگلینڈ اور جنوبی افریقہ میں ہونے والی سیریز ماسوائے چند ایک سیریز کے گرین شرٹس کےلیے ہمیشہ ہی مشن امپاسبل رہی ہے، چاہے مخالف ٹیم کو اپنے اسٹارز کھلاڑیوں کی خدمات حاصل ہوں یا نہیں، دونوں صورتوں میں ہمارے بہترین بلے باز رنز کی تلاش میں سرگرداں رہے۔ بولرز وکٹوں کے حصول کےلیے تگ و دو میں مصروف عمل رہے، جبکہ فیلڈنگ کی اصل خامیاں تو ہمیں انہی ممالک میں پتہ لگتی ہیں۔

مصباح الحق کی حد سے زیادہ خوداعتمادی سے کھلاڑیوں کی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ ایک طرف خوف ناک عالمی وبا کورونا کا ڈر تو دوسری جانب مصباح الحق کا پراعتماد عزم کہیں کھلاڑیوں کے اعتماد کو متنزل ہی نہ کردے۔ اگر جنوبی افریقہ کے دورے پر جانے سے قبل بڑھکیں مارنے کے بجائے روایتی انداز میں اچھی کارکردگی دکھانے کے عزم کا ارادہ کرکے میدان میں اترتے تو شاید کھلاڑیوں پر وہ پریشر نہیں ہوتا جو مصباح الحق کے ریمارکس کی بدولت کھلاڑیوں کے دل و دماغ پر ایک بوجھ کی صورت اختیار کرچکا ہے۔ اب جنوبی افریقہ کا دورہ گرین شرٹس کےلیے مشن امپاسبل سے کہیں آگے نکل چکا ہے، اور اس دورے کو مشکل بنانے میں محمد وسیم اور مصباح الحق کے اختلافات کا بہت بڑا ہاتھ ہے۔ بطور چیف سلیکٹر محمد وسیم اپنی اہمیت اور اثرورسوخ کی رونمائی چاہتے ہیں تو دوسری جانب مصباح الحق گرین شرٹس کو اپنی مرضی کی کرکٹ کھلانا چاہتے ہیں۔ جبکہ ہمارا شاندار ماضی اس بات کا غماز ہے کہ کھلاڑیوں کے پاور پلیئز کے آگے کسی کی بھی نہیں چلی۔ تو پھر دورۂ جنوبی افریقہ کو مشن امپاسبل کا نام دینا بالکل درست معلوم ہوتا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ میدان میں اترنے والی ٹیم کس کے گیم پلان پر عمل کرے گی، اور سیریز میں ناکامی کا طوق کون اپنے گلے میں باندھے گا، جبکہ کامیابی کا ہما کس کے سر پر بیٹھے گا۔ بظاہر یہ تین ملکوں کے مابین کرکٹ کے مقابلے ہیں، مگر اس سے کہیں زیادہ یہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی ٹیم مینجمنٹ کی اہم شخصیات کے مابین مفادات کی جنگ بھی ہے، جو بہرحال کسی ایک کی ناکامی اور کسی ایک کی کامیابی پر ختم ہوگی۔ مگر شائقین کرکٹ کو ان شخصیات کی جنگ سے زیادہ گراؤنڈ میں اپنی ٹیم کی اچھی کارکردگی سے غرض ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔

مقبول خبریں