کورونا کو شکست دیں

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عوام کسی بھی طور احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کرنا چاہتے


Editorial April 05, 2021
قوم کا ہرفرد اس مہلک وبا سے نجات چاہتا ہے فوٹو: فائل

پاکستان میں کورونا کی تیسری لہر شدت اختیار کرگئی ہے،ایک دن میں مزید 73افراد جاں بحق ، جب کہ 4842 نئے مریض سامنے آگئے ، کل اموات 14ہزار 723،مصدقہ کیسز6لاکھ 84ہزار 269 ہو چکے ہیں۔

این سی او سی نے رمضان المبارک میں مساجد،امام بارگاہوں کے لیے ایس اوپیز جاری کردیے ہیں،یہ گائیڈ لائنز مساجد، امام بارگاہوں میں نماز، تراویح کے لیے ہیں۔ملک کے طبی ماہرین بارہا عوام کی توجہ اس جانب مبذول کروا چکے ہیں کہ کورونا وائرس اپنی ہیئت تبدیل کررہا ہے اور وائرس کی نئی اقسام وجود میں آرہی ہیں ، جو انسانی جان کے لیے انتہائی خطرناک ہیں۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عوام کسی بھی طور احتیاطی تدابیر پر عمل نہیں کرنا چاہتے جب تک حکومتی سطح پر ان سے سخت ترین برتاؤ نہ کیا جائے اور وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن نہ کیا جائے ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ منفی طرز عمل ہمیں بحیثیت قوم ایک انتہائی مشکل صورتحال سے دوچار کرنے جا رہا ہے ،جواب اثبات میں ہے، ہم ایک ایسی مصیبت اور مشکل میں خود کوڈال رہے ہیں ، جس کے نتیجے میں انسانی اموات کا سلسلہ نہیں رک پائے گا، اگر عوام کی بے احتیاطی اور لاپروائی کا چلن برقرار رہا تو پھر وفاقی اور صوبائی حکومتیں دوبارہ مجبور ہوجائیں گی کہ وہ لاک ڈاؤن کے نفاذ کا اعلان کردیں اور یہ اقدام ملکی معیشت کو تباہ وبرباد کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑے گا۔ عوام کو اپنے غفلت پر مبنی رویوں کے بارے میں تھوڑا سا وقت نکال کر سوچنا چاہیے کہ ہم خود موت کو دعوت دے رہے اور اسے گلے لگا رہے ہیں ۔

آخر ایسی کونسی قیامت آجائے گی کہ اگر ہم اپنے تحفظ کے لیے ماسک پہن لیں ، رش والی جگہوں پر جانے سے اجتناب برتیں ، پارکوں اور میلے ٹھیلوں اور بازاروں میں نہ جائیں ، شادی بیاہ کی تقریبات اور ہجوم والی جگہوں پر جانے سے پرہیز کریں ، صبح وشام حکومت پر الزام تراشی کرنے والے عوام اپنے رویے پر غور کریں ، ان کی لاپرواہی کا چلن پورے ملک کو لے ڈوبے گا، عوام آخر کیوں ہوش وخرد سے بیگانے ہوچکے ہیں ، کچھ تو سوچیں زندگی صرف ایک بار ملتی ہے ، اس کی قدر کیجیے ، زندہ رہیں گے تو زندگی کے مسائل سے نبرد آزما ہوسکیں گے، کورونا وائرس کی وبا کوئی ہنسی مذاق نہیں ہے بلکہ یہ موت کا بھیانک کھیل ہے جو پاکستان میں چودہ ہزار سے زائد جانیں لے چکا ہے جب کہ دنیا بھر کے اٹھائیس لاکھ سے زائد افراد اس کے وائرس کا شکار ہوکر لقمہ اجل بن چکے ہیں ۔

یہ اتنے بھیانک اعدادوشمار ہیں کہ انھیں پڑھنے سے روح تک کانپ اٹھتی ہے ، لیکن پاکستانی عوام ہمیں ایسے اچھل ،کود کرتے نظر آرہے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں ہے ۔ بہت ہی افسوسناک طرزعمل ہے ، ہمارے عوام کا ، خدارا ایک لمحے کو سوچیں اور احتیاط کا دامن تھام لیں ، ورنہ سب کچھ خس وخاشاک کی طرح بہہ جائے گا ، اس کورونا وائرس کی تیسری لہر میں ۔

کورونا وائرس کی تیسری لہر کے باعث خیبر پختون خوا حکومت نے سوات کے سیاحتی مقام مالم جبہ کو بند کردیا ہے جب کہ دوسری جانب پنجاب میں پورے سال میں آنے والی کورونا وائرس کی 2 لہروں سے زیادہ تباہی رواں برس کے ابتدائی 3 ماہ کے دوران دیکھنے میں آرہی ہے ۔ رپورٹس کے مطابق وائرس کی برطانوی قسم نے ملک کے سب سے بڑے صوبے کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے، یہ وائرس پہلی قسم کے مقابلے میں 70 فیصد زیادہ تیزی سے پھیلتا ہے،یہ بات پنجاب میں کووڈ 19 کے 2020 اور رواں سال کے ابتدائی 3 ماہ کے اعداد و شمار کے تقابلی جائزے سے سامنے آئی۔

صوبے نے سال 2020 میں 2 مرتبہ وائرس کا عروج دیکھا جس میں پہلا مئی، جون،دوسرا اکتوبر-نومبر میں سامنے آیا تھا تاہم مارچ کے اوائل سے شروع ہونے والی تیسری لہر سب سے زیادہ خطرناک ہے۔تقابلی اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس مارچ تا دسمبر پنجاب میں کورونا وائرس کے ایک لاکھ 28 ہزار 608 مثبت کیسز اور 4 ہزار 42 اموات رپورٹ ہوئیں، تاہم رواں سال کے ابتدائی 3 ماہ کے دوران 84 ہزار 573 نئے کیسز جب کہ 2 ہزار 385 اموات سامنے آئیں جو وبا کے اثرات کو واضح کرتی ہیں۔سب سے زیادہ کیسزلاہور سے تعلق رکھتے ہیں جہاں مثبت شرح 23 فیصد ہے۔صرف مارچ کے مہینے میں لاہور میں ایک ہزار 708 کیسز سامنے آئے اور 485 مریض دم توڑ گئے۔

کچھ حالیہ رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے طبی ماہرین کا ماننا ہے کہ وائرس کی نئی قسم گزشتہ قسم کے مقابلے زیادہ نقصان دہ اور غیر متوقع ہے جس کے باعث چند روز میں متعددافراد اسپتالوں میں داخل ہوئے اور دم توڑ گئے،وبا کے باعث مرنے والے زیادہ تر افراد کی تعداد 60 سے 70 سال کی عمر سے تعلق رکھتی ہے۔تجزیے کے مطابق مارچ 2021 پنجاب کے لیے زیادہ مہلک ثابت ہوا جس میں ایک ہزار 13 افراد انتقال کر گئے اور 49 ہزار 43انفیکشن رپورٹ ہوئے اس کی وجہ کورونا وائرس کی برطانوی قسم ہے جس نے نئے کیسز اور اموات کی تعداد کو کئی گنا بڑھا دیا ہے۔

خیبرپختون خوا، سندھ، آزاد کشمیر اور بلوچستان بھی کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی زد میں ہیں ، صورتحال دن بدن بگڑتی جارہی ہے ۔ہم ایک بار پھر لاک ڈاؤن کی طرف بڑھ رہے ہیں ، لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ عوام کسی بھی طور پر اپنی اصلاح کرنے پر تیار نہیں ہیں ۔

حالیہ دنوں میں وبا کے پھیلاؤ کے دوران ایک اور افسوسناک پہلو سامنے آیا ہے وہ یہ ہے کہ کورونا وائرس سے بچے بھی بری طرح متاثر ہورہے ہیں اوران کی اموات کا سلسلہ بھی تسلسل سے جاری ہے ،تمام بچے یہاں تک کہ نوعمر بھی جاننا چاہتے ہیں کہ ان کے والدین انھیں محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ محفوظ انداز سے گفتگو کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ خبروں پر واضح، پراعتماد، شفاف اور سچے حقائق کے ساتھ بات کی جائے۔ بطور ایک مثال ہاتھ دھونے کی اہمیت کی وضاحت کرتے ہوئے ان سے دریافت کریں کہ وہ اپنے اور دوسروں کی دیکھ بھال کے لیے کیا کچھ کرسکتے ہیں۔

یہ معلوم کرکے دیکھیں کہ آیا وہ دوستوں کے ساتھ عالمگیر وبائی مرض پر گفتگو کر رہے ہیں ، خاص طور پر اگر انھیں اسکول کے دوستوں سے رابطے میں رہنے کے لیے میسنجر ایپس تک رسائی حاصل ہے،انھیں یقین دلائیں کہ وہ آپ سے سوالات پوچھ سکتے ہیں۔والدین کو چاہیے کہ اس بارے میں وضاحت کریں کہ اس وبائی مرض کے دوران زندگی بسر کرنے کے کیا معنی ہو سکتے ہیں اور وہ افراد جو مصیبت زدہ ہیں ان کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کونسے اقدامات بروئے کار لائے جا چکے ہیں۔

اس موقعے کو بچوں کو ذمے دار شہری بننے کی تعلیم دینے کے لیے استعمال کریں۔ بچوں کے ساتھ گفتگو کو اس احساس پر ختم کر کے چھوڑنا چاہیے کہ اگرچہ بری چیزیں رونما ہوسکتی ہیں، تاہم، دنیا کے ماہرین سمیت بہت سے لوگ وبائی امراض کے اثرات کو کم کرنے کے لیے سخت کوشش کر رہے ہیں، لہٰذا انھیں ہر وقت خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ رہنمائی پر عمل کرنے کا مطلب اس بات کا ادراک ہے کہ یہ معاملہ افراد سے بڑھ کر ہے لہٰذا ہمیں ایک دوسرے کی حفاظت کرنی چاہیے۔

کورونا وائرس نے جہاں تمام شعبہ ہائے زندگی کی بری طرح متاثر کیا ہے وہی اس کے شعبہ تعلیم پر انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں ، تعلیمی اداروں کی بندش سے آن لائن ذریعہ تعلیم کو اپنایا گیا ہے ،گو کہ طلباء کو اب دور دراز سفر کے اخراجات، ذہنی اور جسمانی پریشانیوں سے نجات مل گئی ہے،کہ اب گھر ہی پر بیٹھ کر طلبہ اپنے اساتذہ کرام سے وہ تمام علوم بآسانی آن لائن حاصل کر رہے ہیں،جن کے حصول میں، وہ بے شمار پریشانیاں برداشت کرتے تھے، جہاں آن لائن تعلیم کے بے شمار عارضی فوائد ہیں، مگر نقصانات بھی کوئی کم نہیں ہیں کہ جن سے چشم پوشی کر لی جائے، پہلی بات تو یہ ہے، کہ باضابطہ داخلہ لے کر، اپنے مخلص اساتذہ کرام کے سامنے بیٹھ کر علم حاصل کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کہ اس طرح اساتذہ طلبا بہتر انداز میں تربیت بھی کرتے ہیں۔

دوسری بات یہ ہے، کہ براہ راست علوم حاصل کرنے میں ایک عجیب طرح کا لطف بھی حاصل ہوتا ہے، جو آن لائن ذریعہ تعلیم میں ملنا مشکل ہے، اساتذہ کرام طلباء کے سامنے ہوتے ہیں،کتابیں روبرو ہوتی ہیں، ہر عبارت کی توضیح و تشریح اساتذہ طلبہ کے معیار کے مطابق عمدہ اسلوب میں فرماتے ہیں، طلبہ اگر ایک دفعہ میں عبارت نہیں سمجھ پاتے ہیں، تو اساتذہ انھیں مکرر،سہ مکرربار سمجھاتے ہیں۔

تاآنکہ وہ عبارت کماحقہ سمجھ نہ لیں، تیسری بات یہ ہے کہ کچھ دیر کے لیے یہ بات اگر تسلیم کر بھی لی جائے کہ آن لائن تعلیم کے ذریعے بھی اساتذہ ،طلبہ کو عبارت کامفہوم سمجھا سکتے ہیں،مگر دوسری چیز،یعنی طلباء میں موجودہ اخلاقی خامیوں کی دوری ہے جو براہ راست ذریعہ تعلیم کے بغیر ممکن نہیں ،چوتھی بات یہ ہے کہ طلبہ کی دو قسمیں ہیں، نمبرایک باشعور طلبہ،نمبر دوم بے شعور طلبہ، نمبر1کے طلبہ کچھ فائدہ حاصل تو کر سکتے ہیں، مگر نمبر دوم کے طلبہ آن لائن تعلیم کے ذریعے سوائے نقصانات کے کچھ حاصل نہیں کر سکتے ہیں،انسانی فطرت بھی یہی ہے، کہ انسان اچھائیوں کے حصول کی طرف کم اور برائیوں کے حصول کی جانب زیادہ مائل ہوتے ہیں۔

حرف آخر ، بحیثیت قوم تاریخ کے اس نازک ترین موڑ پر ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا ہم اس وبا کے ہاتھوں خود کو تباہ وبرباد کرنا چاہتے ہیں، یا پھر احتیاطی تدابیر اختیار کرکے اور انھیں اپنے اوپر مکمل طور پر لاگو کرکے اس مہلک وبا سے نجات چاہتے ہیں ،یقینا قوم کا ہرفرد اس مہلک وبا سے نجات چاہتا ہے ، فطری سے بات ہے کہ ہر فرد جینا چاہتا ہے تو پھر خدارا غفلت اور لاپروائی کا چلن ترک کیجیے اور احتیاط کا دامن تھام لیجیے ، انشاء اللہ ہم اس وبا کو شکست دینے میں کامیاب ہوجائیں گے ۔

مقبول خبریں