سیاسی صورتحال اور زبان خلق

وزیر اعظم کا اپنا خوبصورت انداز نظر ہے کہ سارے مفاد پرست، لوٹ مار کرنے والی مافیائیں یکجا ہوگئی ہیں۔


Editorial April 06, 2021
وزیر اعظم کا اپنا خوبصورت انداز نظر ہے کہ سارے مفاد پرست، لوٹ مار کرنے والی مافیائیں یکجا ہوگئی ہیں۔ فوٹو: فائل

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ مہنگائی پر قابو پا کردکھائیں گے، انھوں نے عوام پر زور دیا ہے کہ کورونا لہر خطرناک ہوتی جا رہی ہے، عوام بالخصوص احتیاط برتیں اور ماسک لازمی پہنیں، اگرکورونا اور زیادہ پھیل گیا تو لاک ڈاؤن کرنے پر مجبورہوجائیں گے۔

وزیراعظم نے اعتراف کیا کہ کرپشن کے خلاف اکیلا نہیں لڑسکتا ، عدلیہ ساتھ نہیں دے گی توکرپشن سے ہم نہیں لڑسکتے، یہاں بدعنوان افراد اور اربوں کی چینی چوری کرنے والوں پر پھولوں کی پتیاں نچھاورکی جاتی ہیں۔

نواز شریف سے حکومت نے شورٹی بانڈ مانگے لیکن عدلیہ نے اس کے بغیر ہی باہر بھیج دیا، خود ساختہ مہنگائی پر قابو پانے کے لیے مڈل مین کا کردار ختم کرنے جا رہے ہیں، پنجاب میں سٹے بازوں نے چند ہفتوں کے اندر چینی پر سٹے بازی کرکے 600 ارب روپے کی سرکولیشن کی ہے ، ان کے اکاؤنٹس میں 600 ارب روپے گئے ہیں ، انھوں نے عوام کو دلاسا دیا کہ موجودہ مہنگائی کو زیادہ نہ سمجھیں،اگر ڈالرکے مقابلے میں روپے کی قیمت دو یا ڈھائی سو روپے ہوجاتی تو مہنگائی بے تحاشا بڑھ جاتی، جیسے وینز ویلا اور بعض دوسرے ملکوں میں ہے، وزیراعظم نے شکوہ کیا کہ کوئی یہ نہیں کہتا کہ حکومت نے کچھ اچھے کام بھی کیے ہیں۔

لوگوں کو امید تھی کہ میں ایک ماہ میں حالات ٹھیک کر دوں گا ، پاکستان میں جمہوری نظام ہے، تبدیلی میں وقت لگتا ہے ، انقلاب فرانس اور خمینی انقلاب میں لوگوں کی گردنیں اتار دی گئیں ، خونی انقلاب کے نتیجے میں ایسا ہوسکتا ہے کہ سب کچھ ایک دم بدل جائے، بیوروکریسی کے پرانے حکمرانوں سے رابطے ہیں ،اس لیے صورتحال کو بہترکرنے میں وقت لگے گا ، عوام کو صبرکرنا پڑے گا،گھبرانے کی ضرورت نہیں ، تبدیلی آ رہی ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ ایک دوسرے کوگھسیٹنے کی باتیں کرنے والے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوکر مطالبہ کر رہے ہیں کہ عمران خان کو فارغ کرو، اسٹیٹ بینک گروی نہیں رکھ رہے، اس معاملے پر پارلیمنٹ میں بحث ہوگی۔

وزیر اعظم عمران خان کی پنچ لائن یہ تھی کہ میں روزانہ صبح گھر سے جہاد کرنے کا عزم لے کر دفتر نکلتا ہوں ، انھوں نے اپیل کی کہ ساری قوم اس جہاد میں میرا ساتھ دے ، ملکی معیشت بہتر ہو رہی ہے ، پہلی بار روپیہ مضبوط ہوکر اوپر جا رہا ہے، قبضہ گروپوں کے خلاف جنگ کا اعلان کیا ہے،کشمیرکا مقدمہ ہر فورم پر لڑا ، ایمرجنسی شارٹیج کے پیش نظر بھارت سے چینی اورکپاس خریدنے پر صرف غورکیا گیا تھا لیکن کابینہ میں اس فیصلہ کو مسترد کردیا گیا، 5 اگست کے اقدام کو واپس لینے تک بھارت سے تعلقات معمول پر نہیں آ سکتے، میرا جینا مرنا یہیں ہے، مجھ پر اعتماد رکھیں، ملک کو نقصان پہنچانے والا کوئی فیصلہ نہیں کروں گا۔ ان خیالات کا اظہار انھوں نے اتوار کو براہ راست فون کالزکے ذریعے عوام کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کیا۔

حقیقت یہ ہے کہ قوم سے گفتگو کرنے والا پرعزم ، ناقابل تسخیر اور ناقابل یقین سماجی و سیاسی تبدیلی لانے والا وہ عمران خان ہمکلام نہ تھا ، عوامی رد عمل اور بے ساختہ تبصرے بھی وزیراعظم کے ولولہ انگیز انداز بیان میں وہ یقین اور جوش وخروش دیکھنے کا صرف انتظار ہی کرتے رہ گئے ، ان کے ناظرین اپنے دل کی باتیں کرنا چاہتے تھے، ان کی تمنا تھی کہ ملک میں سیاسی تبدیلی لائے جانے کی کوئی پالیسی ساز ، دل خوش کن منصوبے اور حکمت و دانش سے مالامال کوئی عہد ساز اقتصادی عہد نامہ کا اعلان ہوگا ، کوئی ایسی خوشخبری دی جائے گی کہ عوام اپنے سارے غم بھلا کر حکومت کے اس نئے پروگرام کو مہنگائی، غربت اور بیروزگاری کے خلاف بریک تھرو قرار دیں گے، لیکن عوام کو سیلابی دلدل اور لق و دق صحرا میں پھنسے سسٹم کی تھکی ہوئی غراہٹ اور عوامی مدد کے لیے وزیراعظم کی فائٹنگ اسپرٹ کی للکار سنائی دی۔

وزیراعظم سے ایک سائلہ خاتون نے اپنی زندگی کے شب و روز اور دکھوں کی کہانی سنائی ، ان سے کہا کہ وہ پہلے روز سے کہہ رہے ہیں کہ عوام مشکلات سے نہ گھبرائیں، مگر اب تو زندگی اتنی مشکل ہوگئی کہ آپ سے کہنا پڑ رہا ہے کہ اجازت ہو تو اب گھبرانا شروع کردیں۔

اس خاتون نے دراصل پورے سیاسی اور سماجی نظام کے کھوکھلے پن پر طنزکے نشتر چلادیے، یہ ہر غریب اور متوسط گھرانے کی کہانی ہے جو ایک خاتون نے بیان کی، ارباب اختیارکو اس حقیقت سے وزیراعظم کوگوش گزارکرنا ہوگا کہ عوام آج بھی فتح و شکست سے بے نیاز حکومت سے صرف مستقبل کی امید کی سوغات چاہتے ہیں، انھیں ایک ایسے نپولین کا انتظار نہیں جو فتح کے بعد اپنی آیندہ کی حکمت عملی اور اسٹرٹیجی پر سوچتا ہو بلکہ عوام اس پاکستانی نپولین کے منتظر ہیں جو شکست کے بعد بھی اسی جوش اور ولولہ سے اپنی نئی لڑائی کے لیے واٹر لو کے میدان میں فتح کی تمنا کے ساتھ کھڑا عوام کو نظر آئے، پاکستانی عوام بہتر سال سے ہر قسم کے جولیس سیزروں ، اور بے فیض جمہوری رہنماؤں کے خوشنما وعدوں اور دلفریب نعروں سے دل بہلاتے آئے ہیں، مگر آج دنیا بدل گئی ہے۔

وزیر اعظم کا اپنا خوبصورت انداز نظر ہے کہ سارے مفاد پرست، لوٹ مار کرنے والی مافیائیں یکجا ہوگئی ہیں اور عمران کو ہٹانے پر متفق ہیں، وزیر اعظم کہتے ہیں، یہی تو تبدیلی ہے۔ لاجواب منطق ہے،

برنگ بحر ساحل آشنا رہ

کف ساحل سے دامن کھینچتا جا

دوسری طرف وزیراعظم کا کہنا ہے کہ پاکستان میں گیس کے ذخائر کم ہو رہے ہیں لیکن ہم گیس کے مزید کنویں کھود رہے ہیں۔ بیرونی ممالک سے آنے والی گیس مہنگی ہے، لیکن ہم پچھلے معاہدوں کے برعکس کم قیمت پر گیس لے رہے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم یونیورسٹی تو بنا دیتے ہیں لیکن معیاری پروفیسرز اور فیکلٹی فراہم کرنا بھی ضروری ہے ، تبھی یونیورسٹی بنانے کا فائدہ ہے ورنہ ڈگریاں لے کر لوگ بے روزگار پھریں گے۔ ہائر ایجوکیشن کے نئے سربراہ کا تقررکیا جا رہا ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ غریب ملکوں کے کرپٹ حکمران آف شور ٹیکس ہیونز میں یہ پیسہ چھپاتے ہیں یا لندن اور دبئی میں محلات بناتے ہیں، ہمارا ان ملکوں میں سات ہزار ارب ڈالر پڑا ہے، عمران خان کا مزید کہنا تھا کہ تھوڑے لوگ جو وسائل پر قابض ہیں وہ پیسہ بنا رہے تھے جب کہ عام اور غریب لوگ لٹ رہے تھے، ساری سیاسی جماعتوں میں ان لوگوں کا اثر ہے، تاریخ میں پہلی بار کسی حکومت نے ان پر ہاتھ ڈالا جس پر یہ انھوں نے اکٹھے ہوکر شور مچانا شروع کر دیا اور عدالتوں میں جا کر انکوائری رکوانے کی بھی کوشش کی، اداروں میں بھی ان کے لوگ گھسے ہوئے ہیں، جن کا مارکیٹ میں بڑا شیئر تھا ہم نے ان کے خلاف کارروائی کی تاکہ عوام کو مہنگائی سے بچا سکیں۔

انھوں نے کہا کہ عام آدمی کے حقوق کا تحفظ میری ذمے داری ہے اور عام آدمی ہی میری حکومت میں وی آئی پی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہم بڑی مشکل صورتحال میں کام کر رہے ہیں، عوام کی ہم سے بڑی امیدیں تھیں اور ان کا خیال تھا کہ عمران خان آتے ہی ایک دم سب کچھ ٹھیک کر دے گا لیکن ایسا صرف کہانیوں میں ہوتا ہے، کاش یہ حقائق جن سے عمران خان قوم کو ڈھائی سال بعد آگاہ کر رہے ہیں وہ اپنے اقتدار میں آتے ہی عوام کو خوش فہمیوں کے سمندر میں غوطہ زن ہونے سے بچاتے، خوش گمانیوں کے صحرا میں نہ رلاتے، جن ملکوں نے انقلاب برپا کیے، انقلاب دشمنوں کی گردنیں اڑائیں، لیکن انھوں نے ملک کو ایک سسٹم دیا ، عوام کو مشکل حالات سے نکالا ، قومی مفاد میں سپرطاقتوں سے ٹکر لی، وینزویلا، کیوبا اور ایران کے سربراہوں نے بڑی طاقتوں کے آگے سر نہیں جھکایا، اور پاکستان کا قیام تو ایک جمہوری رہبر قائد اعظم محمد علی جناح کی سیاسی فہم و فراست کا نتیجہ تھا یہی تدبر ، انصاف پسندی، پارلیمانیت، سنجیدگی اور سیاسی دور اندیشی آج کے سیاسی منظر نامے سے غائب کیوں ہے، کیا مافیا نے ہم سے یہ دولت بھی چھین لی ہے؟

عوام کے فہمیدہ حلقوں کا سوال ہے کہ حکومت لوٹی ہوئی دولت کی واپسی کے خواب کو کب شرمندہ تعبیر کرے گی، یہ سوال بے حد مشکل ہے کہ الیکشن کے ذریعے تبدیلی لانا بہت مشکل ہوتا ہے، بلاشبہ جمہوری نظام میں سب کچھ ایک دم سے ٹھیک نہیں ہو سکتا۔ تبدیلی یہ ہے کہ ایک حکومت کہہ رہی ہے کہ طاقتور اور مراعات یافتہ طبقہ کو نہیں چھوڑے گی اور جو بھی قانون توڑے گا اس کے ساتھ رعایت نہیں ہو گی۔ وزیراعظم نے کہا کہ طاقتور پر ہاتھ ڈالنا آسان نہیں ہے، یہ ساری باتیں نرغہ میں آئے ہوئے سیاسی شیروں کی دھاڑ سے تعلق رکھتی ہیں۔

وزیراعظم کو یہ حقیقت پیش نظر رکھنی چاہیے کہ کوئی قانون شکن قانون کی حکمرانی سے بچ نہیں سکتا، کوئی کتنا بھی بڑا پھنے خان ہو، بڑبڑانے والا اونٹ بھی پہاڑ کے نیچے آجاتا ہے، سابق وزیراعظم جونیجو نے بھی تو پریس اینڈ پبلیکیشن آرڈیننس کے کالے قانون کو آمریت کے گھٹا ٹوپ اندھیرے میں منسوخ کرایا تھا۔ کیا وہ صرف جونیجوکی شخصی طاقت تھی، جی نہیں، جمہوریت پر سیاست دوراں کے یقین کامل کی جادوگری اور میڈیا کا طلسم تھا۔

آج بھی حکومت کایا پلٹ پرفارمنس دے سکتی ہے، جارحیت کو صائب جواب دے سکتی ہے، عدلیہ سے مناظرہ کے بجائے وہ اپوزیشن سمیت کورونا ، ویکسین ، معیشت ، خارجہ پالیسی اور تعلیمی معاملات پر دو ٹوک انداز میں مملکت خداداد کا ہر کیس ہر فورم پر لڑنے کی بھرپور طاقت اور صلاحیت رکھتی ہے، تاہم وزیراعظم نے تجربات، مشاہدات اور حقائق کے حوالے سے خلوص جذبات میں جو کچھ کہا ہے کبھی فرصت میں وہ اپنی گزارشات پر دوبارہ غور فرمائیں تو ان پر کھلے گا کہ کئی باتیں جو وہ کہہ گئے وہ گنجینہ معنی کا طلسم ہیں، لیکن ان کے سیاسی بیر بلوں کی سمجھ میں کبھی نہیں آئیں گی۔

مقبول خبریں