معیشت و صحت کے چیلنجز

ارباب اختیار کو اپوزیشن سمیت اقتصادی مشکلات کی گمبھیرتا نے گھیرے میں لے لیا ہے۔


Editorial April 07, 2021
ارباب اختیار کو اپوزیشن سمیت اقتصادی مشکلات کی گمبھیرتا نے گھیرے میں لے لیا ہے۔ فوٹو : فائل

ملکی معیشت اور اقتصادی صورتحال قیاس آرائیوں کی دھند میں چھپ گئی ہے، حکومت کو ایک بڑے صبر آزما چیلنج کا سامنا ہے، کئی معاملات ہیں، عوام کو فوری ریلیف درکار ہے، کورونا اور رمضان المبارک قریب آ پہنچا ہے۔

معاشی اور سماجی حالات کو کسی سہارے کی ضرورت ہے اور ارباب اختیار کو اپوزیشن سمیت اقتصادی مشکلات کی گمبھیرتا نے گھیرے میں لے لیا ہے، بظاہر حکومت اقتصادی گرد آلود ہواؤں سے نمٹنے میں مصروف ہے، سوال اٹھ رہے ہیں کہ عوام کے لیے معاشی اور سماجی تبدیلیوں کے دعوے کرنے کے دن کیوں اتنے لمبے ہوگئے، ریلیف اور تبدیلی کو تو اب تک آ جانا چاہیے تھا۔

حکومت کا چیلنج اس لیے ناقابل یقین ہے کہ جتنے ٹربل شوٹر تھے سب کے تیر آزمائے جا چکے، معاشی مسیحاؤں سے جتنی توقعات وابستہ کی گئیں تھیں ان کا نتیجہ کچھ نہ نکلا اور اب موسم گرما کے مصائب کا سامنا ہوگا، گرمی، ہیٹ اسٹروک اور بیروزگاری عوام کے صبر کو بھی آزمائے گی، ماہرین کا ایک طبقہ اس مسئلہ پر دم بخود ہے کہ اتنے عرصے میں حکومت کو اپنا بنیادی معاشی و اقتصادی ہوم ورک مکمل کر لینا چاہیے تھا، کہیں سے تو اچھی خبر آنی چاہیے تھی۔ لوگ اب واقعی معاشی مسائل میں اضافے سے گھبرا گئے ہیں۔

ان کے لیے حالات فرسٹریشن پیدا کرنے کا باعث ہو گئے ہیں، غربت اور کورونا نے عوام کے لیے زندگی کو ایک افتاد اور چیلنج بنا دیا ہے۔ ایک عالمی سروے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مہنگائی پاکستانی عوام کا سب سے بڑا مسئلہ بن گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق لوگوں کو یہ فکر ہے کہ آسمان کو چھوتی قیمتیں کہاں جاکر رکیں گی۔ عوام کا یہ رجحان گلوبل مارکیٹ اور کنسلٹنگ فرم Ipsos کے سروے میں سامنے آیا۔ ایک ہفتہ قبل کیے گئے اس سروے کے نتائج سے ظاہر ہوتا ہے کہ صارفین کا اعتماد بہت نیچے آ گیا ہے اور وہ سرمایہ کاری سے متعلق فیصلے کرنے میں ہچکچاہٹ کا شکار تھے۔

معیشت کے معاملات سے اشتباہ کا شکار عناصر نے ملکی سسٹم، سیاسی جمود اور سیاسی پولرائزیشن کو بھی بحث کا موضوع بنا لیا ہے، ان کا کہنا یہ کہ موجودہ دور میں جمہوریتوں سے یہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ ان کی طرز حکمرانی بنیادی اقدار اور فکر و عمل میں تبدیلیاں کس حد تک بساط سیاست معیار و کمیت کے حوالے سے عوام کی توقعات کو پورا کرنے میں کامیابی سے ہمکنار ہوئی ہیں، اس حوالے سے پاکستان کی سیاسی صورت حال کا سیاق و سباق امید افزا نہیں لگتا، ماہرین کے مطابق اصولی سوال پی ٹی آئی حکومت کی تبدیلیوں کے دعوؤں پر ہونا چاہیے۔

سوال یہ ہے کہ تعلیم، صحت، روزگار، رہائش، تفریحات، غربت کے خاتمے کی جد و جہد میں پاکستانی عوام کی زندگی میں کس قسم کی تبدیلی آئی ہے، کیا ان مسائل کے خلاف ووٹ دیتے ہوئے نئی قیادت کو اقتدار میں لاکر وہ مسائل فری سیاست کی پہلی منزل عبور کرچکے، کیا غربت اور بیروزگاری میں کمی آئی، مگر جتنے سروے آئے وہ سابقہ اور موجودہ طرز حکمرانی میں کسی واشگاف تبدیلی کا عندیہ نہیں دیتے، سروے رپورٹس ایک عمومی جمود، یاسیت، شکوک وشبہات، بے منزلیت اور بے یقینی کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔

کورونا نے سارے اندازے تلپٹ کر دیے ہیں، ہیلتھ انفراا سٹرکچر شدید متاثر ہوا ہے۔ اہم ترین سماجی، ادارے زمین بوس ہونے کو ہیں، ماہرین تعلیم اور صحت حکام کی سمجھ میں نہیں آ رہا کہ وہ نئی نسل کو صحت اور تعلیم کے شعبے میں مسائل کا کیا صائب اور تیر بہدف حل پیش کریں۔

ماہرین تعلیم و صحت کا کہنا ہے کہ پاکستان سمیت دنیا بھر میں موجود ماہرینِ صحت کا کہنا ہے کہ ہاتھ دھونے، ماسک لگانے، سماجی فاصلے کا خیال رکھنے اور پر ہجوم جگہوں پر نہ جانے جیسی ایس او پیز کا خیال رکھ کر وائرس کے پھیلاؤ کو روکا تو جا سکتا ہے لیکن اس کو ختم کرنے اور عام زندگی کی جانب لوٹنے کے لیے بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کی ضرورت ہے۔ اسی وجہ سے اکثر ممالک نے بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کے پروگرام شروع کر دیے ہیں۔

ان ممالک میں لاکھوں اور کروڑوں کی تعداد میں ویکسین لگ چکی ہیں۔ کچھ ممالک میں جہاں اس عمل کو شروع ہوئے کچھ وقت ہو چکا ہے وہاں دیگر بیماریوں کے شکار افراد اور بزرگوں (جنھیں ابتدائی مرحلے میں ویکسین لگائی گئی تھی) میں وائرس کے پھیلاؤ میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ کئی ممالک میں صحت کے عملے اور بزرگوں کے بعد اب عام لوگوں کو بھی ویکسین لگانے کا عمل شروع ہوگیا ہے۔

پاکستان میں ہمیں صرف چند لاکھ خوراکوں کا 'تحفہ' ملا ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ خریداری کے کچھ معاہدے ابھی کیے جا رہے ہیں اور خریدی گئی کچھ ویکسین ابھی راستے میں ہیں۔ ملکی آبادی کل 22 کروڑ ہے اور آج کی تاریخ تک ویکسین کی کل 10 لاکھ خوراکیں بھی نہیں لگائی گئی ہیں۔

اگر ہم یہ مان لیں کہ ہماری نصف آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے جن کے لیے یہ وائرس نسبتاً کم مہلک ہے (اگرچہ یہ وائرس پھیلانے کا سبب بن سکتے ہیں) پھر بھی ملک کی تقریباً 10کروڑ آبادی ایسی ہے جسے ویکسین کی ضرورت ہے۔

ماہرین نے سوال اٹھایا ہے تو آخر ہم ان کو ویکسین لگوانے کے لیے کیا اقدامات کر رہے ہیں؟ اور ہم اتنی ویکسین کہاں سے لائیں گے؟ اگر ہم موجودہ رفتار سے ہی چلتے رہے تو ہمیں کورونا کے باعث ہونے والے نقصانات کے ازالے میں کتنا وقت لگے گا؟ گزشتہ ماہ ملک میں کورونا کے 4 ہزار 797 نئے کیس سامنے آئے اور مجموعی طور پر مریضوں کی تعداد 53 ہزار 127 ہوگئی۔ مزید یہ کہ 96 لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ وائرس کے پھیلاؤ اور اس سے ہونے والی اموات کے حوالے سے یہ تیسری لہر بہت ہی خطرناک ثابت ہوئی ہے۔

حکومت اپنے طور پر پابندیاں تو عائد کر رہی ہے لیکن وائرس کی اس تیسری لہر کا زور اب بھی باقی ہے۔ان پابندیوں کی بڑی قیمت بھی ادا کرنی پڑتی ہے۔ وزیرِ اعظم بارہا یہ بات دہراتے رہے ہیں کہ ہم مکمل لاک ڈاؤن برداشت نہیں کر سکتے۔ جزوی لاک ڈاؤن کی بھاری قیمت ہوتی ہے۔ شاید ویکسین کی خریداری اور اسے لگانے کی قیمت سے بھی زیادہ۔

پنجاب میں کئی علاقوں میں لاک ڈاؤن نافذ ہے۔ قریبی واقع بازار بھی بند ہے۔ ریسٹورنٹس، بیکری اور میڈیکل اسٹورز کے علاوہ تمام دکانیں بند ہیں۔ شاید یہ سلسلہ اگلے ایک ہفتے تک جاری رہے۔ سوال یہ ہے کہ لاک ڈاؤن والے علاقے میں جن لوگوں کے کاروبار اور دفاتر موجود ہیں ان پر کیا اثر پڑے گا؟ علاقے کی سڑکیں بند ہیں جس سے لوگوں کے کام میں رکاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔

یہ بات درست ہے کہ لوگوں کی صحت مقدم ہے لیکن کوئی یہ بات نہیں کر رہا کہ ہمیں لوگوں کی صحت کی فکر نہیں ہونی چاہیے۔ مدعا یہ ہے کہ ان کی صحت کے تحفظ کا ایک نسبتاً سستا حل بھی موجود ہے اور وہ ہے بڑے پیمانے پر ویکسینیشن۔ جس وقت اس وائرس پر قابو پانے کا کوئی اور ذریعہ نہیں تھا، اس وقت لاک ڈاؤن قابلِ قبول تھے لیکن اب، جب کہ ایک سستا حل موجود ہے تو پھر لاک ڈاؤن کیوں لگائے جائیں؟ تو کیا حکومت ویکسین کی خریداری میں تاخیر کر رہی ہے؟

کیا ہم نے اپنی امیدیں دیگر ممالک سے ملنے والی امدادی ویکسین سے باندھی ہوئی ہیں؟ یا ہم یہ سوچ رہے ہیں کہ ایک وقت ایسا آئے کہ جب ہرڈ امیونیٹی پیدا ہوجائے گی اور یوں ہم بڑے پیمانے پر ویکسینیشن کے خرچے سے بچ جائیں گے؟ تو کیا یہ حساب کتاب کی گڑبڑ تھی یا پھر نا اہلی؟ یا پھر منصوبہ ہی یہ تھا کہ خود ویکسین پر خرچہ کرنے کے بجائے عوام کو مجبور کیا جائے کہ وہ اپنی جیب سے ویکسین خریدیں؟

ارباب اختیار حقائق کو یکجا کریں اور پالیسیوں میں پائے جانے والے ابہام کو دور کرنے کی اولین کوشش کریں۔ صحت، تعلیم اور معیشت کے معاملات پوائنٹ آف نو ریٹرن تک نہیں پہنچے چاہئیں، یہ المیہ ہے کہ حکومت اس الزام سے پیچھا چھڑانے کے لیے اقتصادی صورتحال کی اس گہرائی کا اندازہ لگانے کے لیے اپنی معاشی ٹیم کی تشکیل نو کے لیے گوہر نایاب کی تلاش میں ہے، وقت آ گیا ہے کہ حکومت عوام کو مسائل کے حل کے لیے فرد اور ریاست کے تاریخی تعلق کی گمشدہ کڑیوں کو دوبارہ ملائے، معیشت کے مسائل فلسفے کے لاینحل معمے نہیں ہیں۔

پاکستان میں معاشی ماہرین اور اقتصادی ماہرین کا قحط نہیں، مسئلہ درست آدمی کی درست وقت میں درست جگہ تعیناتی کا ہے، رش ختم کیجیے، معیشت کے معاملات کی بہتری کے لیے جوہر قابل کی تلاش کے لیے وقت کم ہے اور دباؤ کی شدت میں اضافہ ہو رہا ہے، اقتصادی تیاری میں تاخیر ہوئی ہے تو بہتر ٹیم میدان میں لائے، عوام کو جتنی جلد ریلیف مہیا ہوسکتی ہے اسے دینی چاہیے۔ چیلنج اور کچھ نہیں، چیلنج یہ ہے کہ عوام کو وقت ختم ہونے سے پہلے زیادہ سے زیادہ معاشی آسودگی دی جائے۔ اس کام میں زیادہ دیر نہیں لگنی چاہیے۔

مقبول خبریں