پاکستان روس تعلقات میں نئی جہت

پاکستان اورروس کے درمیان تعلقات کیلیے نئی منزلوں کاتعین کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ علاقائی ربط کومزیدمستحکم بنایاجاسکے۔


Editorial April 08, 2021
پاکستان اورروس کے درمیان تعلقات کیلیے نئی منزلوں کاتعین کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ علاقائی ربط کومزیدمستحکم بنایاجاسکے۔ فوٹو: وزارت خارجہ

KARACHI: انسداد دہشت گردی کے شعبے میں پاکستان کو تعاون فراہم کریں گے، ہمیں افغانستان میں بڑھتی دہشت گردی پر تشویش ہے، وہاں سیکیورٹی صورتحال خراب ہورہی ہے، سیاسی مذاکرات سے ہی افغانستان کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار وفد کے ہمراہ دو روزہ دورے پر پاکستان آئے ہوئے روسی وزیرخارجہ سرگئی لیوروف نے اسلام آباد میں وزرائے خارجہ سطح پر مذاکرات کے بعد ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں کیا ، جس میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان خطے میں امن کا خواہاں ہے اور مسئلہ کشمیر سمیت تمام تنازعات کے پر امن حل کا حامی ہے۔پاکستان اور روس کی دوستی تو خطے پر ایک نیا سورج اْبھرنے والی بات ہے، گزشتہ چند برسوں سے دونوں ممالک مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔

پاکستان، روس کے اشتراک ساتھ '' اسٹریم گیس پائپ لائن منصوبے''کے جلد آغاز کے لیے پر عزم ہے۔روسی وزیرخارجہ نے کہا ہے کہ ہماری باہمی تجارت 790 ملین ڈالرز کو پہنچ گئی ہے اور اس میں چالیس فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، ہم نے انرجی شعبے میں تعاون پر بھی بات کی جس میں نارتھ ساؤتھ گیس پائپ لائن اہم ہے۔ پاکستان نے ایک ملک پر دفاعی انحصار کے بجائے چین اور روس کے ساتھ روابط بڑھانے کی ضرورت محسوس کی ہے۔ سیاسی مبصرین اور تجزیہ کار روس اور پاکستان کی آپس میں بڑھتی ہوئی اس قربت کو انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں۔

دونوں ممالک اِس بات پر کامل یقین رکھتے ہیں کہ بین الاقوامی میگا پروجیکٹس بشمول چین،پاکستان معاشی راہداری، وسط ایشیائی علاقائی معاشی تعاون اور علاقائی ربط کا راستہ ہموار کر رہے ہیں۔ پاکستان کی جغرافیائی پوزیشن سلک روڈ (اہم معاشی راہداری) کے دوبارہ انتظامی امور کے لیے کارآمد ہے جو کہ یورپ، مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور ایشیاء کے ملانے کا ایک قدرتی راستہ ہے۔افغانستان میں استحکام، روس، بھارت تعلقات، امریکی اثر اندازی، یوکرائنین کرائسس، کریمیا، چین کے معاشی انقلاب، وسطیٰ ایشیاء کے ساتھ پاکستان کے تجارتی معاہدے اور ون بیلٹ ون روڈ نے پاکستان اور روس کے اپنے باہمی تعلقات کو دوبارہ سے دیکھنے اور ان کو بہتر بنانے پر مجبور کیا ہے۔

بدلتی جغرافیائی سیاست، دفاعی، معاشی حالات اور ابھرتے علاقائی خطرات نے پاکستان اور روس کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کی راہ دکھائی ہے ،دونوں ممالک کے درمیان منظم اداروں نے دفاع، تجارت، سرمایہ کاری، معیشت، سائنس، ٹیکنالوجی، زراعت، تعلیم اور ثقافت کے شعبے میں باہمی تعاون میں اہم کردار ادا کیا ہے۔افغانستان جنگ میں عالمی طاقتوں کی ناکامی اور اس کا الزام ہمسایوں پر لگا کر دہشت گردی کے تڑکے، بھارت کے مغربی طاقتوں کی طرف جھکاؤ، چین کا معاشی طاقت کے طور پر ابھرنا ، شام، قطر، یمن، فلسطین اور کشمیر پر یکساں خارجہ پالیسی کے موقف نے بھی دونوں ممالک میں سرد جنگ میں پڑنے والی برف کو پگھلایا ہے۔پاکستان اپنے خطے کا بہت اہم ملک ہے۔

ایک ایٹمی طاقت ہے اور افغانستان کے حوالے سے سب سے زیادہ اہمیت پاکستان کی ہے۔پاکستان بھی افغانستان کے سلسلے میں روس کے اثرو رسوخ کو استعمال کرنا اور اس سے مستفید ہونا چاہتا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ روس پاکستان کو اس کی علاقائی اہمیت کے پس منظر میں نظر انداز نہیں کر سکتا۔

پاکستان نے آغاز ہی سے اپنی خارجہ پالیسی کا رخ روس کے بجائے امریکا کی طرف رکھا جب کہ اپنی خودمختاری کے حوالے سے ہمسایہ ممالک کے مختلف حملوں اور سازشوں نے پاکستان کو مختلف عالمی اداروں اور عالمی طاقتوں کے الحاق کی طرف دھکیل دیا۔پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کی میزپر روس اور امریکا دونوں کی طرف سے دورے کے دعوت نامے موجود تھے۔پاکستان نے اس وقت روس کے بجائے امریکا کے دورے کا انتخاب کرکے خود کو امریکا کے پلڑے میں ڈال دیااور روس سے دوری اختیار کر لی۔سرد جنگ کے دنوں میں حالات کشیدہ ہی چلے آ رہے تھے۔

آخرکار افغان جنگ کے دوران روس پاکستان کے مابین تعلقات کا باب بند ہو کر رہ گیا۔اس جنگ کے نتیجے میں جب دہشت گردی نے سر اٹھایا اس کے خلاف بنیادی اور قائدانہ کردار ادا کرنے کے باوجود امریکا سمیت عالمی طاقتیں ہمیشہ پاکستان کے کردارپر شکوک و شبہات کا اظہارکرتی رہیں،جس کی وجہ سے پاکستان کے خارجہ پالیسی ساز روس کی طرف دیکھنے پر مجبور ہوئے۔

سابق ٹرمپ انتظامیہ کے رویے سے صدر پیوٹن نے اخذ کیا کہ یہ بہترین وقت ہے کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات کو نئی جہت عطا کی جائے۔اس سے پہلے 16 اکتوبر 2015 کو دو ارب ڈالر کی گیس پائپ لائن منصوبے کی تعمیر کا معاہدہ ہو چکا تھا۔

دونوں ممالک کی افواج کے درمیان مشترکہ فوجی مشقوں کے رجحان کو فروغ ملا۔روس نے فروری 2017 میں پاک بحریہ کی میزبانی میں ہونے والی بین الاقوامی مشق امن 17 نامی بحری مشقوں میں بھی شرکت کی۔3 جولائی 2017 کو روسی کمپنی گاز پروم انٹر نیشنل اور پاکستانی کمپنی او جی ڈی سی ایل کے مابین ماسکو میں باہمی تعاون ترقی کے مشترکہ منصوبوں کی تکمیل، تیل کی تلاش کے لیے اسٹیٹ آف دی آرٹ ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق ایک ایم او یو پر دستخط ہوئے،روسی پالیسی میں یہ اہم تبدیلی صدر پیوٹن کے دور میں ہوئی۔

چین کی رضا مندی کے بعد روس کے سی پیک میں شمولیت کے امکانات بھی پیدا ہو گئے ہیں، جس سے روس کو معاشی طور پر کافی فائدہ پہنچے گا۔ اسی طرح روس کراچی سے لاہور کے درمیان دس ارب ڈالر کے خرچ سے ڈالی جانے والی گیس پائپ لائن کے بچھانے میں پاکستان کو مالی مدد فراہم کرے گا۔جنوبی ایشیاء میں خصوصاً پاکستان کی خارجہ پالیسی نمایاں رہی ہے۔ جنوبی ایشیاء کی سیاست، اندرونی کھلاڑیوں سے زیادہ عالمی شطرنج کے مہروں کے کھلاڑیوں سے کافی اثر انداز ہوئی ہے۔

عالمی سیاست نے ملکی سیاست، علاقائی سیاست، بر اعظموں کی سیاست، بین الاقوامی سیاست، گلوبل ولیج کا سفر کرنے کے بعد اب دوبارہ واپسی اختیار کی اور علاقائی اور قومی سیاست میں نمایاں اہمیت حاصل کر رہی ہے۔ سابق امریکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی سب سے پہلے امریکا(America First Policy) پالیسی ہو، بریکزٹ (Brexit)، یا پاک،چین اکنامک کوریڈور ہو اِس دور کی سیاست کو نمایا ں کرتی ہے۔

پاکستان کے وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ ہم ایک دوسرے کے ساتھ خطے میں تعاون کا ارادہ رکھتے ہیں، گیس پائپ لائن منصوبے کو دونوں ملک آگے بڑھانا چاہتے ہیں، ہمارے ہاں جب آٹے کا بحران پیدا ہو تو روس نے بروقت گندم فراہم کی،انھوںنے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اسٹیل مل روس نے لگائی تھی اگر اس کی بحالی کے لیے سرمایہ کاری کی صورت نکل آئے تو دو طرفہ تعاون بڑھانے کے اچھے مواقعے ہمیں میسر آ سکتے ہیں۔ پاکستان اور روس، مل کر افغان امن عمل میں کردار ادا کر رہے ہیں، روس کے وزیر خارجہ دہلی سے ہو کر آ رہے ہیں، روس بھارت کو افغانستان میں قیام امن کے لیے مثبت کردار ادا کرنے پر آمادہ کر سکتا ہے۔

موجودہ دور میں پاکستان کو توانائی اور انفراسٹرکچر کے شعبوں میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔ امریکا نہیں چاہتا کہ پاکستان معاشی طورپر طاقت ور ہو، لہذا اس کی ہمیشہ خواہش رہی ہے کہ پاکستان ہر لحاظ سے کمزور ہو۔امریکا نے پاکستان کو ہمیشہ جنگ اور تصادم کی طرف ہی دھکیلا ہے۔ لہٰذا اب پاکستان دوسرے ممالک کی طرف دیکھ رہا ہے۔ بھارت نواز امریکی پالیسی نے بھی پاکستان کو امریکا سے بدظن کیا ہے۔آج جن ملکوں کے درمیان گہرے یا دوستانہ یا خصوصی تعلقات کہتے ہیں، وہ دراصل ایک دوسرے پر اقتصادی اور ٹیکنالوجیکل انحصار کے نتیجے میں بنتے ہیں اور اسی سے معاشی سفارتکاری کی اصطلاح نے جنم لیا ہے۔

روس کو ایک بار پھر عالمی طاقت کے طور پر کھڑا کرنے میں موجودہ روسی صدر ولادی میر پیوٹن کا بنیادی کردار رہا ہے۔روس کے صدارتی انتخابات میں صدر پیوٹن کو 2024 تک ایک مرتبہ پھر صدر منتخب کرلیا گیا ہے۔اس طرح وہ رواں صدی کے ایک چوتھائی عرصہ تک اقتدارمیں رہیں گے۔صدر پیوٹن روسی خفیہ ایجنسی کے جی بی کے سربراہ رہ چکے ہیں۔ان کے انتظامی و سیاسی تجربے کی بدولت یہ تاثر گہرا ہو چکا ہے کہ وہ ایک مضبوط شخصیت کے مالک ہیں۔

روس کو دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے اور بین الاقوامی معاملات میں دوبارہ قائدانہ کردار حاصل کرنے میں بھی بنیادی کردار پیوٹن نے ادا کیا ہے۔صدر پیوٹن کی کرشماتی شخصیت نے روس کو ایک مرتبہ پھر بین الاقوامی طاقت کے طور پر تسلیم کروایا ہے۔

پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات کے لیے نئی منزلوں کا تعین کرنے کی کوشش کی جائے تاکہ علاقائی ربط کو مزید مستحکم بنایا جا سکے ، جس کے لیے دونوں ممالک کو عالمی فورمز کے ساتھ ساتھ علاقائی فورمز جیسا کہ شنگھائی تعاون تنظیم کے زیر سایہ اپنا سفر اعتماد کی فضا قائم رکھتے ہوئے طے کرنا ہے، تاکہ خطے میں امن کی راہ ہموار ہوسکے اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مزید مستحکم بنیادوں پر استوار ہوں، دنیا بدل رہی ہے اور ہمیں بدلتی دنیا کے تقاضوں سے خود کو ہم آہنگ کرنا پڑے گا ،تاکہ ملک ترقی وخوشحالی اور امن کی راہ پر گامزن رہے ۔

مقبول خبریں