جی ایم سید ایک عظیم پیش بیں

سید صوفیا کے اس سلسلے سے تعلق رکھتے تھے جو دنیا ترک نہیں کرتا بلکہ دنیا کے نئے پھندوں سے بچ نکلنے کی تعلیم دیتا ہے


Zahida Hina January 12, 2014
[email protected]

سندھ صوفی انسٹیٹیوٹ کی طرف سے ہر سال جی ایم سید اور دوسرے صوفیا کو یاد کیا جاتا ہے۔ اس بار بھی خادم حسین سومرو نے کراچی میں سید صاحب کی یاد میں محفل منعقد کی۔ اس میں بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ سائیں جی ایم سید، صوفیا کی سرزمین پر پیدا ہوئے اور انھوں نے ابتدا سے منصور کی شریعت سے اپنا رشتہ استوار کیا۔ وہ زندگی بھر شاہ کے اس مصرعے کی عملی تصویر بنے رہے کہ 'سب منصور ہزار، کتنے دار چڑھاؤ گے؟'' آج کے جلسے کا دعوت نامہ سائیں سید کے ان جملوں سے شروع ہوتا ہے جو انھوں نے پیپلز کانگریس برائے امن میں تقریر کرتے ہوئے ادا کیے تھے۔ یہ امن کانگریس 12 دسمبر سے 19 دسمبر 1952ء کے دوران آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں ایک ایسے وقت منعقد ہوئی تھی جب دنیا دوسری جنگ عظیم کے زخموں سے نڈھال تھی۔ انسانیت کراہ رہی تھی، علم و ادب اور فنون لطیفہ پر کڑا وقت پڑا تھا۔ انھوں نے یورپ کے تاریخی شہر ویانا کی عظمت کو سلام کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہاں ایک طرف ہولناک جنگ کے لگائے ہوئے زخموں کے نشان نظر آ رہے ہیں تو دوسری طرف دنیا بھر سے سیکڑوں لوگ امن جیسے عظیم مقصد کے لیے اکٹھے ہوئے ہیں۔

سائیں سید نے جب اس کانفرنس میں شرکت کی، ان کی عمر 48 برس تھی۔ انھوں نے اپنی زندگی جس سیاسی جدوجہد میں گزاری تھی، وہ ناکام ہو چکی تھی۔ اسی کا سبب تھا کہ انھوں نے 26 دسمبر 1945ء کو مسلم لیگ کے تمام عہدوں سے استعفیٰ دے دیا تھا اور خود کو ملنے والا انتخابی ٹکٹ بھی واپس کر دیا تھا۔ انھوں نے 1947ء میں آزادی کے نام پر وحشت اور فسطائیت کا رقص دیکھا تھا۔ سندھ جسے وہ امن کا گہوارہ دیکھنے کے خواہاں تھے، وہ فرقہ واریت کے خنجر سے ذبح ہو گیا تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب ان کا دل غم سے نڈھال تھا۔ انھوں نے سندھ سے جانے والوں کے دل دوز قافلے دیکھے تھے اور ہندوستان کے مختلف علاقوں سے آنے والے خانماں بربادوں کو دیکھا تھا۔ ان کے دل میں یہ درد بھی تھا کہ جس سیاسی جماعت سے ان کی طویل مخلصانہ وابستگی رہی تھی اس نے ان کے مشوروں پر کان نہیں دھرا تھا۔ ہندوستان کی فرقہ وارانہ بنیادوں پر تقسیم اور سندھ میں بڑے پیمانے پر نقل مکانی کا انجام انھیں نظر آ رہا تھا۔

اس ویانا کانگریس میں 83 ملکوں کے 1700 مبصرین شریک ہوئے تھے۔ اس کا افتتاح عالمی شہرت یافتہ ترک شاعر ناظم حکمت نے کیا تھا۔ اس میں لوئی آرا گون، ژاں پال سارتر، ملک راج آنند، ڈاکٹر سیف الدین کچلو جیسے نامی گرامی شریک ہوئے تھے اور اس کا اعلان نامہ چلی کے مشہور شاعر پابلو نرودا نے لکھا تھا۔ اس اعلان نامے کا آغاز ان الفاظ سے ہوا تھا کہ ''ہم لکھے ہوئے لفظوں کی طاقت پر ایمان رکھتے ہیں۔ اس جنگ زدہ دنیا میں امن قائم کرنے کے لیے ہم اپنی تحریروں سے مذہبی، سیاسی، ادبی اور دوسرے اختلافات کے خلاف لڑتے رہیں گے۔ ''

سید صاحب کی سیاسی بصیرت کا اندازہ 1952ء کی تقریر سے لگایا جا سکتا ہے۔ جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ''استعماریت ایک نئی شکل میں نمودار ہو رہی ہے۔ اسے امریکی استعماریت کہا جا سکتا ہے۔ اس کی اثر انگیزی کی سرحدیں آپ نقشے پر تلاش نہیں کر سکتے۔ یہ نادیدہ اور غیر مرئی لیکن فولاد کی طرح مضبوط ہے۔ اسے ڈالر کی طاقت کے ذریعے نافذ کیا جا رہا ہے۔ ڈالر کا سایہ ہمارے ملک پر بھی پڑنے لگا ہے۔ جس کی وجہ سے ہمارے ملک کا ماحول بدبو دار اور حبس زدہ ہو رہا ہے۔ گورکی نے غلط نہیں کہا تھا کہ دھات کی بو نہیں ہوتی مگر سونا ایک ایسی دھات ہے جس کی بو محسوس ہوتی ہے اور یہ خون کی بو ہے۔ امریکی طرز زندگی کا بڑھتا ہوا اثر ایک طرف ہماری قومی ترقی کے راستے میں حائل ہو رہا ہے اور دوسری طرف اس کے باعث ہم اپنے ہمسایہ ممالک کے ساتھ مسلسل تناؤ کی صورتحال سے گزر رہے ہیں۔''

اس موقع پر انھوں نے کانگریس کے مندوبین کو برصغیر کی تاریخ کے بارے میں یہ حقیقت بتائی تھی کہ برطانیہ نے برصغیر کو ایک ایسی صورتحال میں دھکیل دیا جس میں ہندو اور مسلمان ہر دو مذہب کے لوگ فرقہ وارانہ منافرت اور اس کے نتیجے میں بھیانک فسادات کے جہنم میں دھکیل دیے گئے۔

سید صاحب اب سے 62 برس پہلے ایک پیش بیں دانشور کے طور پر یہ کہہ رہے تھے کہ ''آج استعماری طاقتیں ہمارے لوگوں میں توہم پرستی کو بڑھاوا دینا چاہتی ہیں اور بنیاد پرست اسلامی اتحاد جیسے انتہا پسند نظریات کو فروغ دے کر ہمارے مسائل میں مستقل اضافہ کرنا چاہتی ہیں۔ وہ تمام عالمی اقدامات اور پالیسیاں جو کہ اس بنیاد پرست اسلامی اتحاد کو فروغ دے رہی ہیں وہ اسلامی ممالک کے اتحاد کی آڑ میں ان ملکوں میں موجود ''انتہا پسند جنونی گروہوں'' کے ہاتھ مضبوط کر رہی ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو قومیت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانا چاہتے ہیں۔ ہم سب یہ جانتے ہیں کہ بہت سی عالمی طاقتیں استعماریت کی جنگ میں مسلمانوں کو محض ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کیونکہ وہ سمجھتی ہیں کہ یہ ان کے استعماری مقاصد کے حصول کے لیے بے حد ضروری ہے اور یہ بھی سبھی کو معلوم ہے کہ اسلامی ممالک میں مختلف موضوعات پر ہونے والے کانفرنسوں کی جو وبا پھوٹ نکلی ہے اس کے لیے روپیہ کون فراہم کر رہا ہے۔''

انھوں نے کہا تھا کہ ''مجھے یہ کہتے ہوئے رنج محسوس ہو رہا ہے کہ ہمارا ملک بھی مسلم دنیا کی عالمی حکومت جیسے سنہری وعدوں سے متاثر ہو کر بیرونی طاقتوں کا ہتھیار بنتا جا رہا ہے۔''

آج پاکستان میں امن کا دامن جس طرح تار تار ہے، یہاں بنیاد پرستی اور فرقہ واریت کا عفریت جس قدر توانا ہو رہا ہے اور اسلام کے نام پر دہشت گردی کے جس چنگل میں پھنسا پھڑپھڑاتا ہے۔ اس کا اندازہ 62 برس پہلے ایک عظیم دانشور اور پیش بیں ہی کر سکتا تھا۔

جی ایم سید صوفیا کے اس سلسلے سے تعلق رکھتے تھے جو دنیا ترک نہیں کرتا بلکہ اپنے پیروکاروں کو دنیا کے نئے پھندوں سے بچ نکلنے کی تعلیم و ترغیب دیتا ہے۔ پاکستان ان کے لیے زنداں ثابت ہوا۔ وہ غدار کہے گئے، کبھی جیل میں رکھے گئے اور کبھی ان کا گھر ان کے لیے جیل قرار دیا گیا۔ یوں تو انھوں نے بہت سی کتابیں لکھیں۔ لیکن ''سندھ کی آواز'' جو دراصل غداری کے مقدمے میں ان کا عدالتی بیان ہے، تاریخ، سیاست اور ادبی خیالات کا ایک شاہکار ہے۔ برصغیر کی تحریک آزادی اور سندھ کے دکھوں کی اس سے زیادہ سچی دستاویز شاید ہی کسی اور نے مرتب کی ہو۔ اس کتاب کے صفحوں پر کیسے کیسے عظیم الشان بتوں کے گرنے کی عبرت ناک کہانی ہے۔

اسی طرح تاریخ، مذہب اور تصوف کے حوالے سے ان کی کتاب ''جیسا میں نے دیکھا'' ایک بڑے دانشور کی تحقیق اور اس کے نتائج کی عکاس ہے۔ اپنی اس کتاب میں انھوں نے دو قومی نظریے پر بھی سیر حاصل باتیں کی ہیں۔ اپنی اس کتاب کے اختتام پر وہ کہتے ہیں کہ ''صوفی، حق و صداقت پر کسی مخصوص گروہ کی اجارہ داری تصور نہیں کرتا۔ کسی بھی مذہبی، اقتصادی اور سیاسی نظریے کو حرف آخر جان کر اس کی اندھی تقلید سے گریز کرتا ہے۔''

ان کی یہ سطریں پڑھ کر مجھے ویانا سے گزرنے والا دریائے ڈینوب اور آسٹریا کی سرحد سے متصل ملک ہنگری، اس کے دریاؤں اور جھیلوں کے کنارے تاکستانوں، درگاہوں، خانقاہوں اور تکیوں میں سر بہ زانو بیکتاشی درویش یاد آئے۔ جی ایم سید ہم سے رخصت ہو چکے، ورنہ میں ان سے یہ پوچھنے کی جسارت ضرور کرتی کہ حضور ویانا کی امن کانگریس سے نمٹ کر کیا آپ ان بیکتاشی درویشوں کی تلاش میں نکلے تھے؟ کیا ان سے ملاقات میں آپ نے سندھ کے مقدر پر گفتگو کی تھی؟ کیا انھوں نے آپ کو بتایا تھا کہ صوفیا کی اس سرزمین کو فتنہ و فساد سے کب نجات ملے گی اور کب یہاں امن اور آشتی کے دن آئیں گے؟

سائیں موجود نہیں ہیں لیکن سرکلیان سے شاہ کی یہ بیت ہمیں راستہ دکھاتی ہے کہ:

''اے شخص اگر تو اپنا سر قلم کروانے کے لیے تیار ہے تو یہاں بیٹھ جا، ورنہ اپنا راستہ لے اور چلا جا۔ یہ ملک ان کا ہے جن کے ہاتھ میں کٹار ہے اور جو اپنے حق کے لیے مر مٹنے کو تیار ہیں۔''

(سندھ صوفی انسٹیٹیوٹ کے جی ایم سید یادگاری جلسے میں پڑھا گیا)

مقبول خبریں