نئی مردم شماری احسن اقدام

نئی مردم شماری کا عمل مارچ 2023 تک مکمل کر لیا جائے گا، جس پر کل23 ارب روپے لاگت آئے گی۔


Editorial April 14, 2021
نئی مردم شماری کا عمل مارچ 2023 تک مکمل کر لیا جائے گا، جس پر کل23 ارب روپے لاگت آئے گی۔ فوٹو:فائل

مشترکہ مفادات کونسل نے کثرت رائے سے 2017 کی مردم شماری کے نتائج جاری کرنے اور نئی مردم شماری فوری کرانے کی منظوری دیدی، وزیر اعظم کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کا اجلاس پیر کو ہوا جس میں وزراء اعلیٰ نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی، پنجاب اور خیبر پختونخوا کی حکومتوں نے مردم شماری کے نتائج جاری کرنے کی حمایت جب کہ سندھ نے مخالفت کی اور تحفظات کا اظہار کیا۔

سندھ حکومت نے مردم شماری کے نتائج کو آیندہ مردم شماری سے منسلک کرنے کی تجویز دی، وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے مردم شماری کے نتائج پر اختلافی نوٹ لکھا، بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نے معاملے پر مشاورت کے لیے وقت مانگا۔

مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ مردم شماری کے بنیادی فریم ورک پر 6 سے8 ہفتوں میں کام مکمل ہو جائے گا اور ستمبر، اکتوبر میں نئی مردم شماری کا عمل شروع ہو جائے گا، نئی مردم شماری کا عمل مارچ 2023 تک مکمل کر لیا جائے گا، جس پر کل23 ارب روپے لاگت آئے گی۔

پولیٹیکل سسٹم اور انتخابی و اقتصادی باریکیوں کو کسی بھی نام سے پکارا جائے، جمہوری نظام میں بہر حال مردم شماری کی اہمیت سے انکار ممکن نہیں، یہ قومی زندگی میں ایک اساسی حیثیت کی حامل ہے، جمہوری نظام کو سنگین مشکلات اور عوامی اقتصادی ٹارگٹس کو حاصل کرنا آسان نہیں ہوتا، اس کی مثال اندھیرے میں تیر چلانا اور بغیر تیاری، اہداف کیے تعین اور ڈیٹا سے صرف نظر کرتے ہوئے ملکی معیشت، روزگار کی فراہمی اور زندگی کے معیار کی بہتری کے سارے اندازے دیوانے کا خواب ہی کہلائیں گے۔

اس ساری تمہید کے تناظر کو عوام، ماہرین و سیاستدان اسی سیاق وسباق میں دیکھتے ہیں، سوال یہ ہے کہ کیا کوئی جمہوری ریاست درست افرادی قوت اور آبادی کے شفاف ڈیٹا کی موجودگی میں قوم کو ترقی، قرضوں سے نجات، مالیاتی اداروں کی شرائط کے خلاف ایک مستحکم و آزاد اقتصادی نظام کی بنیاد دے سکتی ہے، ماہرین کہتے ہیں کہ ایں خیال است ومحال است و جنوں۔ غربت کے خاتمے کی کوشش ایک شفاف مردم شماری کے بغیر ممکن نہیں، قومی خود کفالت کی منزل پانے کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

مردم شماری اقتصادی ترقی کی کلید ہے، جتنا وقت مردم شماری کے مسئلہ کی گمبھیرتا کے حل میں ضایع کیا گیا قوم نے اس کی سزا سیاسی سسٹم کے ساختیاتی بحران کی صورت میں بھگت لیاہے اور اب بھی ماہرین اقتصادیات کا تھیسس یہی ہے کہ مردم شماری اقبال کے اس شعر کی تفسیر ہے کہ

گزر جا عقل سے آگے کہ یہ نور

چراغِ راہ ہے منزل نہیں ہے

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر کے مطابق مردم شماری الیکشن کی بنیاد بنتی ہے اور2023 کا الیکشن نئی مردم شماری کے مطابق نہ ہوا تو چھوٹے صوبوں کی نمایندگی کم ہو جائے گی، اسد عمر نے کہا کہ مردم شماری کے حوالے سے کابینہ کی کمیٹی بھی بنا دی گئی اور انھوں نے اس حوالے سے اپنی سفارشات بھی مرتب کیں، تازہ ترین حلقہ بندیوں کی بنیاد پر حلقہ بندیاں کی جاتی ہیں اور اسی کی بنیاد پر الیکشن کرائے جاتے ہیں جب کہ2018 کے الیکشن کو خاص آئینی ترمیم کے ذریعے خصوصی استثنیٰ دیا گیا تھا، مقامی حکومتوں کے انتخابات نئی مردم شماری کی بنیاد پر ہی ہوں گے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ 2023 کے الیکشن سے پہلے مردم شماری پر حتمی فیصلہ نہ ہوا تو آئینی ترمیم کا استثنیٰ ختم ہونے کے سبب اگلا الیکشن 1998میں ہوئی مردم شماری کی بنیاد پر ہوگا جس کے نتیجے میں تینوں چھوٹے صوبوں کی اسمبلی میں نمایندگی کم ہو جائے گی اور پنجاب کی نمایندگی بڑھ جائے گی،2017 کی مردم شماری پر ملک بھر میں سوالات اٹھائے گئے اس پر اتفاق رائے اور عوام کو اعتماد ہونا چاہیے، اسد عمر نے کہا کہ پرانی مردم شماری ہمیں قبول نہیں ہے۔

لہٰذا اسے منظور یا مسترد کیے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے، مشترکہ مفادات کونسل نے ادارہ شماریات کی تجاویز سے اتفاق کیا، اگلے جنرل الیکشن سے قبل نئی مردم شماری پر حلقہ بندیاں بھی کرائی جا سکیں گے، آیندہ مردم شماری میں ملک کے تمام شراکت داروں، صوبائی حکومتوں اور سول سوسائٹی کو ساتھ لے کر چلیں گے، وزیراعلیٰ سندھ نے جو فیصلہ کیا ہے یہ ان کا آئینی حق ہے، وزیر اعلیٰ سندھ نے مخالفت میں ووٹ دیا جس کی ہم قدر کرتے ہیں، سیکریٹری پلاننگ نے مردم شماری پر روشنی ڈالی۔

حقیقت یہ ہے کہ ملکی سیاست مروجہ اور مسلمہ جمہوری اقدار و روایات سے متصادم ہے، سماجی اور معاشی مسائل کے حل کی جو ضروریات تھیں حکومتوں نے انھیں پورا نہیں کیا، ایک ایسے سسٹم کی رسم چلی جس میں انتخابات بھی ہوئے، اقتدار کی اور رہنماؤں کی تبدیلیوں کا سلسلہ بھی چلا، جمہوریت اور آمریت کے امتزاج سے سیاست میں جاگیردارانہ، قبائلی اور غیر جمہوری روایات اور جبلتوں نے پارلیمنٹ کی بالادستی، جمہوری رویوں اور عوام کو دودھ میں سے مکھی کی طرح باہر نکال پھینکا، ہماری سیاسی لغت میں جوابدہی کا لفظ مدتوں غائب رہا، ہم میں مردم شماری کی کس کو یاد آتی، کیا یہ المیہ نہیں کہ شہر قائد کو اربن ماہرین کنکریٹ کا شہر کہتے ہیں۔

کیا کچی آبادیاں راتوں رات بنتی ہیں، کیا کسی نے کبھی سوچا کہ ڈھائی تین کروڑ کا شہر کراچی پانی، ٹرانسپورٹ، بجلی، گیس، اسپتال، اسکولز، روزگار، قانون کی حکمرانی سے محرومی کی آگ میں جل رہا ہے، کیا حکمرانوں نے سوچا کہ جرائم اور بیروزگاری کے مابین انسانی محرومیوں، تشدد، فکری بحران اور خاندانی جھگڑوں، عدم دواداری، کرپشن، خود کشی کی وارداتیں کیوں بڑھ رہی ہیں، جنسی جرائم پر سماجی کارکنوں کو صورتحال پر تشویش میں مبتلا دیکھا جاتا ہے مگر ذمے دار اداروں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی، جو دعوے کرتے رہے کہ تھانہ کلچر بدل جائے گا، تعلیم اور صحت کی کایا پلٹ دی جائے گی، مگر الٹا سارا سسٹم سقوط سے دوچار ہوا، یہ اس لیے کہ شہروں کی شناخت رکھنے والے اجنبی بن گئے۔

مردم شماری شفاف ہوتی تو ارباب اختیار صوبائی و قومی حکومت اور کھیلوں کے ادارے نوجوانوں کی تفریحی سرگرمیوں کو فروغ دینے کی کوششوں میں ہاتھ بٹاتے، لوگ اپنی شناخت سے محروم نہ ہوتے، مردم شماری کے مسئلہ نے گمشدہ شہریت کا بہت بڑا سماجی اور انسانی بحران پیدا کیا ہے۔

جمہوریت کے شراکت داروں کے پیش نظر مسائل کا انبار لگا ہوا ہے، ملکی سیاست ایک گرداب میں الجھی ہوئی ہے، کہیں انتخابی نتائج مسترد ہو رہے ہیں، کہیں انتخابات کی شفافیت پر انگلیاں اٹھ رہی ہیں، استاد اور معلمات کی تحقیر عروج پر ہے، ان پر لاٹھی چارج کیا جاتا ہے، انھیں سڑکوں پر گھسیٹا جاتا ہے، معاشرہ میں ایک بے چینی ہے، مادر علمی کے تقدس پر نظر ڈالی جائے تو تحقیق اور لفظوں کی حرمت کی تعلیم دینے والوں میں ایک خلفشار جنم لیتا نظر آتا ہے، جو جمہوری رہنما رواداری، تہذیب، سنجیدگی اور متانت کی تلقین کرتے تھے۔

وہ نسل ہی پیشروؤں کو یاد کرکے آنسو بہاتی ہے ایسی انارکی، بیچارگی ہے کہ ایک سماجی کارکن کو ٹی وی ٹاک شو میں دلگرفتہ لہجہ میں کہتے سنا گیا کہ اس رمضان میں اگر کوئی کھجور کسی روزہ دار کے سامنے رکھ دے تو اسے لوگ وقت کا سخی قرار دیں گے، مہنگائی نے لوگوں کا چین، سکون، رواداری اور مروتوں و وضع داری کو شدید متاثر کیا ہے، لیکن حکمراں غربت اور بیروزگاری کا حل موبائل کچن میں تلاش کرتے ہیں۔

وجہ یہ ہے کہ جس مردم شماری کے ڈیٹا سے ملکی آبادی کا مکمل سماجی، اقتصادی، اور انسانی ڈھانچہ مثل آئینہ ماہرین اقتصادی کے سامنے آ جاتا، وہ اس ادراک و احساس کے بند دریچے حکمراں پر کھول دیتا۔ ڈیٹا ہوگا تو حکومت سوچے کی کہ خلق خدا کی معاشی حالت بدلنے کے لیے واضح صعنعتی پالیسی کی ضرورت ہے، روزگار کے پھیلاؤ میں غریبوں اور محنت کشوں کے لیے زندگی کے امکانات موجود ہیںٕ ،کارخانے لگیں گے، روزگار ملے گا، خواتین پر ان کی صلاحیت اور مواقعوں کے مطابق روزگار دستیاب ہوگا، انھیں معاشی آزادی اور اقتصادی امپاور منٹ کا احساس ہوگا۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما سینیٹر فیصل سبزواری نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آج ہمارے اصولی موقف کو وفاق کی سطح پر منظور کر لیا گیا، نئی مردم شماری کا فیصلہ خوش آیند ہے۔ سینیٹر فیصل سبزواری نے کہا کہ 2017 کی مردم شماری کے خلاف ایم کیو ایم پاکستان سپریم کورٹ گئی، پی ٹی آئی کے ساتھ اتحاد کے نکات میں پہلا نکتہ مردم شماری کا تھا، نئی مردم شماری کا فوری اعلان ایم کیو ایم کا مطالبہ تھا۔

ایم کیو ایم رہنما نے کہا کہ نئی مردم شماری کے نتائج آیندہ الیکشن سے پہلے آنے چاہیئں۔ انھوں نے کہا کہ ہونا یہ چاہیے تھا کہ 2017 کی مردم شماری قبول کیے بغیر نئی مردم شماری ہوتی لیکن ہمیں خوشی ہے کہ نئی مردم شماری کا اعلان ہوا ہے۔

مقبول خبریں