رمضان المبارک کا آغاز

ہمیں رمضان المبارک کے دوران کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے حوالے سے جاری ہدایات پر من وعن عمل کرنا چاہیے۔


Editorial April 15, 2021
ہمیں رمضان المبارک کے دوران کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے حوالے سے جاری ہدایات پر من وعن عمل کرنا چاہیے۔ فوٹو: فائل

KARACHI: ملک میں بابرکت و فضلیت والے مہینے رمضان المبارک کا باقاعدہ آغاز ہوچکا ہے، اس مہینے میں اجتماعی عبادات کا اہتمام انتہائی تزک واحتشام سے کیا جاتا ہے،یہی وجہ ہے کہ رمضان المبارک میں احتیاطی تدابیر پر مشتمل نئی گائیڈ لائنز جاری کردی گئی ہیں، جن پر عمل درآمد کو یقینی بنانے میں علمائے کرام بلاشبہ اپنا کردار ادا کریں گے۔

جب کہ دوسری جانب ملک بھر میں کورونا وائرس سے اموات اور کیسز میں خوفناک اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے، اگلے روز کورونا وائرس سے ریکارڈ 118افراد جان کی بازی ہار گئے، اس سے قبل تقریباً 10 ماہ پہلے گزشتہ برس16 جون 2020 کو 111افراد کورونا کے باعث جاں بحق ہو گئے تھے۔

وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمرنے کہا ہے کہ اسلام آباد،کے پی کے اور آزاد کشمیر میں کورونا وباء کے پھیلاؤ میں زیادہ تیزی ہے۔ رمضان میں لوگ بازاروں میں نکلے تو سخت اقدامات کرنے پڑیں گے۔ لوگوں کی لاپرواہی سے رمضان کے آخری عشرے میں کورونا وبا بڑھ سکتی ہے۔ ملک میں کورونا وائرس کا پھیلاؤ جس تیزی سے ہورہا ہے ، اس سے روزانہ بنیادوں پر اموات کی شرح بڑھتی جا رہی ہے۔

اس کی بہت بڑی وجہ بے احتیاطی اور لاپرواہی کا چلن ہے ، جو قوم نے اختیار کررکھا ہے، رمضان المبارک کی آمد سے دس روز قبل جو رش بازاروں اور عوامی مقامات پر دیکھنے پر آیا ، یعنی تلے دھرنے کی جگہ نہ تھی ، اور سب کچھ ہم جانتے بوجھتے ہوئے کورونا وائرس کی موجودگی میں کرتے رہے ، بلکہ آسان الفاظ میں ہم نے کورونا وائرس کے پھیلاؤ میں اپنا حصہ بقدر جثہ ڈالا، یہ طرز تغافل بہت بڑی تباہی وبربادی کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔

ملک میں ویکسی نیشن کا عمل سست روی کا شکار ہے ، ہم تو صرف امداد میں ملنے والی مفت ویکسین پر انحصار کررہے ہیں، ملک کی آبادی بائیس کروڑ ہے اگر یہی رفتار رہی تو ایک رپورٹ کے مطابق آیندہ دس برس تک بھی ویکسین ہرفرد کو نہیں لگ سکے گی۔

صورتحال الارمنگ ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا ہے کہ اگلے روز پشاورہائیکورٹ نے کورونا ویکسین کی زائد قیمتوں کیخلاف دائر رٹ پر سیکریٹری صحت، ڈی جی ہیلتھ اور ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو نوٹسزجاری کرتے ہوئے جواب طلب کرلیا ہے، جب کہ چیف جسٹس قیصررشید خان نے دوران سماعت ریمارکس دیے کہ وباء میں بھی لوگ پیسے کمانے کے چکرمیں پڑگئے ہیں،جب تک ہماری سوچ مفادات سے نکل کرقومی سوچ نہیں بن جاتی تب تک ایسے مسائل حل نہیں ہونگے،ویکسین معاشرے کے ہر فرد کو ملنی چاہیے ۔ فاضل جج نے جو ریمارکس دیے ہیں ،وہ ہمارے معاشرے کی المناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں ۔

مہنگائی مسلسل بڑھ رہی ہے، بڑھتی مہنگائی کو کوئی روکنے والا نہیں۔ رمضان المبارک کی آمدسے قبل مہنگائی کا ایک سونامی آیا ہے ، جس سے عوام کے مسائل میں اضافہ ہوا ہے ، حکومت طفل تسلیاں تو دے رہی ہے ، لیکن مہنگائی تھمنے کا نام نہیں لے رہی ہے ۔قیمتوں پر حکومت کا کوئی کنٹرول باقی نہیں رہا ہے ، گوکہ حکومت کی جانب سے یوٹیلیٹی اسٹورز کارپویشن کی جانب سے رمضان ریلیف پیکیج کے تحت عوام کو روزمرہ استعمال کی19ضروری اشیاء رعایتی نرخوں پر فراہم کی جا رہی ہیں، تاہم عوام کا کہنا ہے کہ اسٹورز پر اشیاء کا معیار اچھا نہیں ہے۔

دوہفتے پہلے اشیاء کی قیمتیں بڑھا کر پھر رمضان پیکیج کے نام پر قیمتیں کم کر دی جاتی ہیں۔ رمضان المبارک سے قبل ایک ماہ کے دوران مختلف اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں بڑا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ گزشتہ ایک ماہ میں خشک اور سبز مصالحوں کی قیمتوں میں بڑا اضافہ ہوا، خشک مصالحہ جات کی قیمتیں عوام کی جیب پر بھاری پڑنے لگی ہیں ، دوسری جانب ناجائز منافع خوری اور خود ساختہ مہنگائی کی روش تاجروں نے اپنا لی ہے ، یہ حضرات کمر کس لیتے ہیں کہ اس ایک مہینے میں ہی کیسے سال بھر کا منافع اکٹھا کیاجائے۔

ایک طرف تو اسلامی نقطہ نظر سے ذخیرہ اندوزی کو ممنوع قرار دیا گیا ہے، لیکن دوسری طرف بڑے بڑے تاجر کھانے پینے کی اشیا تک جان بوجھ کر اسٹاک کرلیتے ہیں، جس کی وجہ سے انھیں تو خاطر خواہ نفع حاصل ہو جاتا ہے، یہاں پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ عوام سے جو کروڑوں روپے ناجائز طریقے سے ''کمائے'' جاتے ہیں۔

روز محشر اس کا جواب دہ کون ہو گا؟ اب ان بڑے کاروباری حضرات کے نقش قدم پر چلتے ہوئے چھوٹے دکاندار بھی عوام کی جیبوں پر ڈاکا ڈالنے سے نہیں چوکتے،جس کا واضح ثبوت یہ ہے کہ ایک ہی شہر میں دو مختلف دکانوں پر آپ کو ایک ہی چیز مختلف نرخوں پر ملے گی۔ ریٹ کا یہ فرق ہر شہر میں دیکھنے کو ملتا ہے۔مطلب جس کا جتنا زور چل گیا اس نے اتنا ہی بہتی گنگا میں ہاتھ دھو لیا اور خود ساختہ مہنگائی کی اصل اور بنیادی وجہ بھی یہی ہے۔

حکومتی اور انتظامی اداروں کی طرف سے بعض اوقات دکانداروں کو ہزاروں روپے جرمانے کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے، لیکن انتظامیہ کے وہاں سے جانے کے تھوڑی دیر بعد ہی اشیا پہلے سے بھی زیادہ مہنگی کردی جاتی ہیں۔بعض دکانداروں سے تو یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ جرمانہ ہو گیا ہے تو کوئی بات نہیں ہم نے بھی اپنا نقصان عوام سے ہی پورا کرنا ہے۔

اس کے علاوہ شہری منڈیوں سے دور درازکے علاقے کے لوگوں کا موقف ہے کہ انھیں کرایوں کی مد میں کافی رقم دینا پڑتی ہے وہ بھی تو پورا کرنا ہوتی ہے، جہاں تک منڈیوں کے ریٹ کی بات ہے تو ایسے مناسب ریٹ نکالے جائیں کہ نقصان کسی کا بھی نہ ہو اور شہر کی منڈیوں سے دور تاجر حضرات بلاشبہ اپنا منافع پورا کریں، لیکن ناجائز منافع ہرگز نہ لیں۔

اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ بازار میں سبزی اور فروٹ لینے والے روزہ داروں کی کھال، جس حد تک ممکن ہو اتاری جاتی ہے، خاص طور پر فروٹ تو اس قدر مہنگا ہو چکا ہے کہ عام آدمی تو بیچارہ خریداری کا سوچ بھی نہیں سکتا، بات صرف اشیاء کو مہنگا کرنے تک ہی محدود نہیں، بلکہ ناپ تول میں ڈنڈی مارنا، دونمبر اشیاء فروخت کرنا،اور اپنی پسند کا ریٹ لگانا بھی معمول کا حصہ بن چکے ہیں۔

اس سب کے لیے لاء اینڈ آرڈر بھی ضروری ہے، جس پر عملدرآمد کی پوری کوشش بھی کی جاتی ہے، لیکن سب سے اہم بات کہ اپنے اندر کی انسانیت کو جگایا جائے،اگر ہمارے تاجر اور دکاندار حضرات اس مہینے میں ناجائز منافع خوری چھوڑ کر صرف جائز منافع پر ہی اکتفا کرلیں تو امید ہے کہ نہ وہ کنگال ہوں گے اور نہ ہی ان کی آمدن پر کچھ خاص فر ق پڑے گا،البتہ ان کے دوسرے مسلمان بھائی تھوڑا سُکھ کا سانس ضرور لیں گے۔

حکومت کی طرف سے اسی مہنگائی کے پیش نظر سستے رمضان بازاروں کا اجراء کیا جاتا ہے، جو نہایت خوش آیند بات ہے۔ ان رمضان بازاروں میں اشیائے خور و نوش کافی سستی مل جاتی ہیں، لیکن یہ رمضان بازار ملک بھر میں جگہ جگہ نہیں لگائے جاسکتے اور چھوٹی چھوٹی اشیائے صرف خریدنے کے لیے دور دراز کے علاقوں کے لوگ بھی روزانہ رمضان بازاروں کا رُخ نہیں کرسکتے،جو لوگ ان رمضان بازاروں سے مستفید ہورہے ہیں وہ تو ٹھیک ہیں اور جو وہاں تک نہیں پہنچ پاتے تو ہماری تاجروں سے گزارش ہے کہ وہ اپنے طور پر اگر چیزیں تھوڑی سستی کردیں تو کوئی خاص حرج نہیں، کیونکہ انسان دوست اور ایماندار تاجر حضرات کے لیے اللہ تعالیٰ کے ہاں بہت بڑا اجر و ثواب ہے۔

یاد رہے کہ رمضان المبارک میں کئی غیر مسلم ممالک میں مسلمانوں کے لیے اشیائے خور ونوش کی قیمتوں میں پندرہ سے بیس فیصد کمی کر دی جاتی ہے، لیکن دوسری طرف ہمارے یہاں مہنگائی مافیا کیا کرتا ہے؟ ہمیں ضرور سوچنا ہو گا۔

اکثر سننے میں آتا ہے کہ بہت سے اسلامی ممالک میں رمضان کی آمد کے ساتھ ہی اشیائے ضروریہ کی قیمتیں ارزاں کر دی جاتی ہیں۔ خصوصی پیکیج دیے جاتے ہیں۔ ان اشیاء کے لیے خصوصی اسٹورز یا ہماری طرح کے رمضان بازارنہیں لگتے۔ نہ ہی یہ اشیاء سرکاری قسم کے یوٹیلیٹی اسٹوروں تک محدود ہوتی ہیں۔ آپ کسی بھی چھوٹی بڑی دکان، اسٹور یا سپر مارکیٹ تک چلے جائیں، یہ اشیا مقررہ ارزاں نرخوں پر دستیاب ہوں گی۔ ان کی کوئی قلت بھی نہیں ہونے دی جائے گی۔ دبئی ہمارے پڑوس میں ایک چھوٹی سی ریاست ہے جو متحدہ عرب امارات کا حصہ ہے۔

وہاں بسنے والے، پاکستانی بتاتے ہیں کہ برکتوں اور رحمتوں کا یہ مہینہ کس طرح واقعی برکتیں اور رحمتیں لے کر آتا ہے۔ گھی، کوکنگ آئل، چینی، چاول، آٹا، دودھ، کھجوریں، بیسن، میدہ، چائے اور ایسی ہی دیگر اشیاء خصوصی رمضان قیمتوں پر ہر کہیں، نہایت وافر طور پر دستیاب ہوتی ہیں مگر دیکھنے میں آیا ہے کہ ہمارے ہاں ملنے والی اشیا انتہائی غیر معیاری ہوتی ہیں۔ سو عام آدمی گراں فروشوں کے رحم و کرم پر رہتا ہے۔ جو من مانے نرخوں پر اشیا بیچتے اور منافع کماتے ہیں۔

رمضان سے قطع نظر مہنگائی کی شدید لہر نے عوام کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ خاص طور پر غریب اور متوسط طبقے کے لوگ سخت مشکلات کا شکار ہیں۔ لگی بندھی آمدنی میں ان کے لیے دو وقت کی روٹی بھی مشکل ہو گئی ہے۔ اوپر سے بجلی کے نرخ ہر روز بڑھتے جا رہے ہیں۔ شاید ہی کوئی شخص ہو جو ان بلوں سے پریشان نہ ہو۔ گیس کے نر خوں کا بھی یہی حال ہے۔ دوائیں تک مریضوں کی پہنچ سے باہر ہو گئی ہیں۔رمضان میں ریلیف تو کیا ملنا،ضرورت کی تمام اشیا کی قیمتوں کو پر لگ جاتے ہیں،انتظامیہ ان پر قابو پانے میں قطعی طور پر ناکام رہتی ہے۔

حرف آخرہمیں رمضان المبارک کے دوران کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے حوالے سے جاری ہدایات پر من وعن عمل کرنا چاہیے ، بے احتیاطی کا چلن بستیوں کے اجڑنے اور قبرستانوں کے آباد ہونے کا سبب بنے گا، لہذا جان ہے تو جہان ہے ، اپنی اور اپنے خاندان کی فکر کیجیے ، عید کی شاپنگ اگر اس بار موخر کردی جائے اور یہ رقم نادار اور مستحق افراد میں تقسیم کردی جائے تو اس سے رب راضی ہوگا ۔ رمضان المبارک میں ایس او پیز پر عمل کر کے ہم ایک دوسرے کی جانوں کی حفاظت کو یقینی بنا سکتے ہیں۔

مقبول خبریں