پاک بھارت تعلقات کی فعالیت

عالمی سیاست عہد حاضر کی اس حقیقت کو پیش نظر رکھے کہ جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں بلکہ جنگ خود ایک مسئلہ ہے۔


Editorial April 17, 2021
عالمی سیاست عہد حاضر کی اس حقیقت کو پیش نظر رکھے کہ جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں بلکہ جنگ خود ایک مسئلہ ہے۔ فوٹو: فائل

WASHINGTON: خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال ایک بار پھر عالمی سیاست کے محور پر آگئی ہے۔ ایک طرف امریکی فوجی انخلا ایک بڑی پیش رفت کی صورت میں سامنے آیا ہے اور دوسری جانب پاک بھارت تعلقات میں ثالثی کوششوں کو اماراتی سفیر نے ایک مثبت اشارہ سے تعبیر کیا ہے۔

واضح رہے ثالثی کی پیشکش پہلی بار سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے آئی تھی، لیکن ان کی سنجیدگی پائیدار ثابت نہ ہوسکی لیکن وزیراعظم عمران خان کی خط وکتابت کے ڈپلومیٹک جواب ، ٹرمپ کے تھیٹریکل طرزکلام اور بھارتی میڈیا کی طرف سے ثالثی کے لفظ پر ناقدانہ حاشیہ آرائی نے دو ملکوں کے مابین ایک بڑی پیش قدمی کو منزل سے دور کردیا لیکن سیاسی مبصرین کا کہنا تھا کہ اگر تدبر اورکشمیر کے مسئلہ کی حساسیت پر بھارتی حکام فصاحت کے دریا بہانے کے بجائے ثالثی کے موضوع پر سنجیدہ مکالمہ کا آغاز کردیتے تو اسی موضوع پر ممکنہ طور پر اہم پیش رفت ہوسکتی تھی۔ مبصرین اس سیاق و سباق میں بھی پرامید تھے کہ ٹرمپ اور عمران خان میں جس سطح کی دوستی اور مراسم دیکھنے میں آئے وہ غیر معمولی تھے۔

ٹرمپ نے عمران خان کو اپنا بہترین دوست کہا اور اس بات کا یقین دلایا کہ وہ ثالثی میں بامقصد اور نتیجہ خیزگفتگو سے کوئی حل تلاش کرسکیں گے، مگر ثالثی سے متعلق پیدا ہونے والے ابہام کے باعث یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی، پاک بھارت تعلقات کے تناظر میں مسئلہ کشمیر کے صائب حل کی یہ کوششیں بھی بھارتی حکام اور اس کے حقیقت گریز میڈیا نے مصلحتوں اورکشمیریوں کی جدوجہد اور استصواب رائے کی ''کثرت تعبیر'' کی نذر ہوگئیں۔

اطلاع کے مطابق امریکا میں متحدہ عرب امارات کے سفیر یوسف ال اوطیبہ نے تصدیق کی ہے کہ خلیجی ریاست پاکستان اور بھارت کے مابین پر امن اور فعال تعلقات کے لیے ثالثی کا کردار ادا کررہی ہے۔ سفیر یوسف ال اوطیبہ نے سٹینفورڈ یونیورسٹی کے ہوور انسٹی ٹیوشن کے ساتھ ورچوئل بات چیت میں کہا کہ متحدہ عرب امارات نے کشمیر پر پائی جانے والی کشیدگی کو ختم کرنے اور جنگ بندی میں کردار ادا کیا ہے۔ انھوں نے امید ظاہرکی کہ متحدہ عرب امارات کی سفارتی کوششوں سے دونوں ملکوں کے سفارتی تعلقات بحال اور دیگر امور میں مثبت پیش رفت ہوگی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ان کوششوں کے نتیجے میں پاکستان اور بھارت شاید بہترین دوست تو نہ بنیں لیکن ہم کم سے کم تعلقات ایسی سطح تک پہنچا دینا چاہتے ہیں جہاں وہ فعال ہوں اور دونوں ملک ایک دوسرے سے بات کرسکیں۔ اماراتی سفیر نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان 2019سے تعلقات انتہائی خراب ہیں، پلوامہ حملہ کے بعد بھارتی وزیراعظم نے اپنا سفیر واپس بلا لیا تھا ، اس کے بعد بھارتی مقبوضہ کشمیر کی خودمختار حیثیت بھی ختم کردی گئی، دونوں ملکوں کے درمیان تجارت بھی بند ہے۔

سینئر اماراتی سفیر نے مزید کہا کہ پاکستان کو افغان امن عمل میں کردار ادا کرنا ہوگا جہاں سے امریکا یکم مئی سے اپنے فوجیوں کا انخلا شروع کرنا چاہتا ہے۔ انھوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ اچانک امریکی انخلا افغانستان میں منفی اثرات کا باعث بن سکتا ہے۔

یوسف ال اوطیبہ نے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا تینوں فریق امریکا، طالبان اور افغان حکومت کسی ایسے معاہدے پر پہنچ سکتے ہیں جس کے ساتھ وہ جڑے رہ سکیں۔ پاکستان کی مدد کے بغیر ہمارے لیے افغانستان میں استحکام کا راستہ تلاش کرنا ناممکن ہے۔ برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق پاکستان اور بھارت کے اعلیٰ انٹیلی جنس افسروں نے کشمیر کے معاملے پر حالیہ تناؤ کم کرنے کے لیے جنوری میں دبئی میں خفیہ بات چیت کی تھی۔

افغان امن عمل کے حوالہ سے اماراتی سفیر نے جس حقیقت پر زور دیا وہ خطے میں پاکستان کی کلیدی کردار کی ہے، دنیا جانتی ہے کہ افغان امن عمل کے لیے پاکستان نے ہمہ جہتی کردار سے بھی آگے بڑھ کر حمایت، تعاون، سفارتی اشتراک، علاقائی قوتوں کو قریب لانے، اتحادیوں کے مذاکراتی ادوار اور شورش و جنگجوئی کے خاتمہ کی کوششوں میں اپنا اثر و رسوخ بھی موثر انداز میں استعمال کیا۔

طالبان اور اشرف غنی کی حکومت کو کثیر جہتی مکالمہ تک لانے اور امریکیوں کے لیے بات چیت کو ممکن بنانے کے پورے عمل میں پاکستان کو الگ نہیں کیا جاسکتا۔ قطر مذاکرات اور جنگ بندی معاہدہ کی سمت بیش قیمت امداد اور حمایت مہیا کی، افغان حکومت اور طالبان قیادت اور دیگر جنگجو گروپوں کو امن کی خاطر مذاکرات کے لیے ذہنی طور پر تیار کرنا پاکستان کے تعاون و اشتراک کے بغیر ممکن نہ تھا۔ اماراتی سفیر نے حقیقت پسندانہ اور معروضی صورتحال کو قدرے انصاف کے ساتھ بیان کیا ہے۔

پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے امریکی صدر جوزف بائیڈن کی جانب سے افغانستان سے فوجوں کے انخلا کے اعلان کو سراہتے ہوئے امریکی فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے، دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے اچانک افغانستان کا دورہ کیا اور اس دوران اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ سمیت افغان حکام اور امریکی افواج سے اہم ملاقاتیں کیں۔ علاوہ ازیں پاکستانی ترجمان دفتر خارجہ سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ افغانستان میں پائیدار امن و استحکام کی کوششوں کی مستقل حمایت اور ان میں سہولت کاری کی ہے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاکستان میں تعینات امریکی ناظم الامور انجیلا اگیلر نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے اہم ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور اور علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغانستان سے ستمبر 21 تک امریکی افواج کے انخلا سے متعلق صدر جوزف بائیڈن کے اعلان کو سراہا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ خوشحال، مستحکم اور پرامن افغانستان ہی پاکستان اور خطے کے بہترین مفاد میں ہے۔ امید ہے مستقبل میں پاکستان اور امریکا کے درمیان باہمی تعاون کو فروغ ملے گا۔

امریکی ناظم الامور نے خطے میں امن کے لیے پاکستان کی مخلصانہ کوششوں کو سراہا جب کہ افغان امن عمل میں بھی پاکستان کے کردار کی تعریف کی۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں امن کے مشترکہ مقصد کے لیے امریکا بھرپور تعاون جاری رکھے گا۔

دریں اثنا امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے افغانستان کا غیر علانیہ دورہ کیا جہاں انھوں نے افغان حکام اور امریکی افواج سے ملاقاتیں بھی کیں۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے افغانستان کے دورے کے دوران صدر اشرف غنی، چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ اور امریکی افواج سے ملاقاتیں کیں۔ اس موقعے پر انتھونی بلنکن کا کہنا تھا کہ امریکی فوج کے انخلا کا مطلب امریکا افغانستان کے تعلقات کا خاتمہ نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دورے کا مقصد افغانستان سے امریکا کی وابستگی کا اظہار کرنا ہے، شراکت بدل رہی ہے لیکن شراکت داری پائیدار ہے۔ افغان صدر اشرف غنی کا کہنا تھا کہ امریکی فیصلے کا احترام کرتے ہیں اور اپنی ترجیحات کو ترتیب دے رہے ہیں۔

ادھر پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ افغانستان کے تنازعے کا کوئی فوجی حل نہیں اور افغان قیادت میں افغانوں کو قبول مذاکرات کے ذریعے سیاسی تصفیہ ہی افغانستان میں دائمی امن اور استحکام کے لیے اہم ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے 29 فروری 2020 کو امریکا طالبان معاہدے نے افغانوں کے درمیان جامع معاہدے کی بنیاد رکھ دی ہے جس میں افغانستان میں تشدد کے خاتمے کے لیے مستقل جنگ بندی بھی شامل ہے۔ ہمارے نکتہ نگاہ سے یہ انتہائی اہم ہے کہ افغانستان سے غیرملکی افواج کا انخلا امن عمل میں پیش رفت کے ساتھ ہونا چاہیے۔

ہمیں امید ہے کہ ترکی میں افغان قیادت کا آمدہ اجلاس افغانوں کے لیے ایک اہم موقع فراہم کرے گا کہ وہ سیاسی تصفیہ کے حصول کے لیے پیش رفت کریں۔ اس ضمن میں ہم افغان فریقین کے اشتراک عمل سے افواج کے ذمے دارانہ انخلا کے اصول کی حمایت کرتے ہیں۔

صدر جوبائیڈن نے امریکی فوج کے انخلا کے اعلان کے موقع پر طالبان کو جو انتباہ کیا ہے کہ وہ ''ڈو مور '' نہیں ہے، صدر بائیڈن نے روس، چین، ترکی اور بھارت کو بھی خطے کے استحکام و تزویراتی معاملات میں مکمل سپورٹ اور حمایت کے لیے افغانستان اور پاکستان کو مدد دینے کی اپیل ہے، انھوں نے ایران کا نام نہیں لیا مگر سیاسی صورتحال کی گہما گہمی اور مشق وسطیٰ کے سیاسی، سفارتی اور عسکری منظرنامہ سے واقف قوتیں خطے کے اجتماعی اور مشترکہ مقاصد کا گہرا ادراک رکھتی ہیں کہ پاک بھارت تعلقات میں بہتری اور فعالیت کا تنازع مسئلہ کشمیر سے جڑا ہوا ہے۔

کشمیری بربریت کا سامنا کررہے ہیں، انھیں بھی جینے کا حق ہے، جنت نظیر وادی کو جیل خانہ بنانا انسانیت کی توہین ہے، عالمی برادری کوکشمیر کے غیر فوجی حل کی طرف قدم بڑھانے کے لیے جلد کوئی فیصلہ کرنا چاہیے۔ امریکی فوجی انخلا کے بعد خطے کا منظر نامہ تبدیل ہو اور امارات کی مفاہمانہ اور دوستانہ کوششوں کا کوئی نتیجہ برآمد ہو، خطے کے عوام ترقی و خوشحالی کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کو بھی حق خود ارادیت کا ثمر ملتا ہوا دیکھیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی سیاست عہد حاضر کی اس حقیقت کو پیش نظر رکھے کہ جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں بلکہ جنگ خود ایک مسئلہ ہے، انسانیت غربت، بھوک اور بیماریوں سے نجات چاہتی ہے، ایک چھوٹے سے جرثومہ ''کورونا'' نے انسان اور حکومت کی بے بسی کی دلگداز تاریخ رقم کی ہے، وقت کا تقاضہ ہے کہ عالمی برادری ظلم سے برسر پیکار کشمیریوں کو بھی انصاف مہیا کرے۔ خطے سے ظلم و ستم کا خاتمہ ہونے میں اب پل بھرکی تاخیر نہیں ہونی چاہیے۔

مقبول خبریں