ویسٹ انڈیز کو جارح مزاج پلیئرز کی یاد ستانے لگی

اگر گیل ، پولارڈ، سیمی اور ڈیوائن ساتھ ہوتے تو کہانی یکسر مختلف ہوتی، ٹینوبیسٹ


Sports Desk January 13, 2014
انجری مسائل کے سبب جارح مزاج پلیئرز کی غیرحاضری سے ٹیم کی پرفارمنس اثرانداز ہوئی ہے.گیٹی امیجز

نیوزی لینڈ کے ہاتھوں پہلے ٹی 20 میں شکست کے بعد ویسٹ انڈیز کو اپنے جارح مزاج کرس گیل کی یاد ستانے لگی۔

فاسٹ بولر ٹینو بیسٹ کا کہنا ہے کہ انجری مسائل کے سبب جارح مزاج پلیئرز کی غیرحاضری سے ٹیم کی پرفارمنس اثرانداز ہوئی ہے، واضح رہے کہ مختصر فارمیٹ کے پہلے ون ڈے میں کیویز نے مہمان ٹیم کیلیے 190 کا ہدف طے کیا تھا لیکن کریبیئن سائیڈ 8 وکٹ پر 108 رنز ہی جوڑپائی تھی، دونوں ممالک میں سیریز کا دوسرا اور آخری ٹی 20 بدھ کو ویلنگٹن میں ہوگا، ٹینو بیسٹ نے اس مقابلے میں 40 رنز کے عوض3 وکٹیں لی تھیں، انھوں نے کہا کہ میرے خیال میں نیوزی لینڈ نے عمدہ کھیل پیش کیا، جس پر انھیں کریڈٹ دیا جانا چاہیے، لیکن جب ہم اپنی ٹیم کی جانب دیکھتے ہیں تو اس می ہمیں جارحانہ انداز سے کھیلنے والے پلیئرز کی کمی محسوس ہوتی ہے، ٹی 20 میں چھکے لگانے والے پلیئرز کی ضرورت ہوتی ہے اور سردست ہمارے تمام بگ ہٹرز انجرڈ ہیں، لیکن ہمارے پاس سیریز برابر کرنے کا موقع ابھی ضرور موجود ہے۔

 photo 6_zps8d2ad311.jpg

ٹینو بیسٹ نے تسلیم کیا کہ پہلے مقابلے میں اگرچہ ہمارے بولرز کچھ مہنگے ثابت ہوئے لیکن 190 کا ہدف قابل رسائی تھا، بلاشبہ اگر جوہانس چارلس ، لینڈل سیمنز اور آندرے فلیچر اچھا آغاز فراہم کرپاتے تو ہم یہ ہدف حاصل کرسکتے تھے، ویسٹ انڈیز کو مارچ میں بنگلہ دیش میں شیڈول ورلڈ ٹی 20 میں اپنے اعزاز کا دفاع بھی کرنا ہے، انھوں نے مزید کہا کہ اگر کرس گیل، کیرون پولارڈ، ڈیرن سیمی اور ڈیوائن اسمتھ ہمارے ساتھ ہوتے تو کہانی یکسر مختلف ہوتی، جب ہم نے کیویز کیخلاف اپنے ہوم گرائونڈ میںاپنی پوری قوت کے ساتھ ان کا مقابلہ کیا تھا تو ہم انھیں زیر کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے لیکن یہاں پر ہم پچھلے قدموں پر ہیں۔