صنعت ماہی گیری کے استحکام کی ضرورت

عوام کے شعور اور استقامت کو نشانہ بنانے کے بجائے حکومت اپنی اداؤں پر ذرا غور کرے۔


Editorial April 24, 2021
عوام کے شعور اور استقامت کو نشانہ بنانے کے بجائے حکومت اپنی اداؤں پر ذرا غور کرے۔ (فوٹو: فائل)

وزیر اعظم عمران خان نے ماہی گیری کے شعبے کو منافع بخش بنانے کے لیے اقدامات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کامیاب جوان پروگرام کے تحت ماہی گیروں کو سستے قرضے دینے کا پروگرام زبردست ہے اور اس سے وہ مزید اپ گریڈ ہوں گے۔

اسلام آباد میں کامیاب جوان پروگرام کے تحت ماہی گیروں کو با اختیار بنانے کے پروگرام کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ ماہی گیر بہت محنت کش اور مشکل زندگی گزارتے ہیں اور جس دن مچھلی کا شکار نہیں کر پاتے اس صورت میںکئی دفعہ ان کے بچے بھوکے سوتے ہیں۔

دنیا بھر میں ماہی گیری کی صنعت کو معیشت میں بنیادی کردار کا حامل شمار کیا جاتا ہے، مشرق وسطیٰ جاپان، کوریا اور دیگر یورپی ملکوں میں ماہی گیروں کو جدید سہولتیں مہیا کی جاتی ہیں، ان کی معاشی اور سماجی زندگی میں آسودگی کے لیے حکومتی مراعات پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے مگر پاکستان میں ماہی گیری کی صنعت اور اس پیشہ سے وابستہ لاکھوں ماہی گیروں کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، ماہرین کے مطابق کراچی سے بلوچستان کے ساحلی اور سمندری پٹی کو ملکی اقتصادیات کا گولڈن کریسٹ بنایا جا سکتا ہے۔

کراچی کے جزائر اور سندھ میں میر بحر بھی حکومت سے فریاد کناں ہیں، کسی کو اس نقصان کا ادراک نہیں کہ سندھ کی مشہور اور غذائیت سے بھرپور ''پلّا'' مچھلی کی نسل رفتہ رفتہ معدوم ہوتی جا رہی ہے، ڈیپ سی فشنگ سے بھی ماہی گیروں کے لیے سنگین مسائل پیدا ہوئے ہیں، غریب ماہی گیر جو کم گہرے پانی میں روایتی کشتی اور ٹرالرز کے ذریعے مچھلی کا شکار کرتے ہیں۔

ان کے نائیلون کے جال مشینری، اس کی مینٹینینس اور سفر و شکار کی سہولتیں غیر ملکی ٹرالرز کے مقابلہ میں کم ہیں، وزیر اعظم نے درست کہا کہ ان غیر ملکی ٹرالرز کی بے لگام ماہی گیری نے کراچی، سندھ اور بلوچستان کے ماہی گیروں کی روزی پر لات ماری ہے، ان کے دیوہیکل ٹرالرز بھرپور شکار سمیٹ کر اپنے ممالک واپس چلے جاتے ہیں جب کہ کراچی، بلوچستان اور سندھ کے ماہی گیروں کے شکار کردہ جھینگے اور مچھلیوں کے انڈے مقامی طور پر غریب ماہی گیروں کی معاشی حالت میں تبدیلی نہیں لاسکتے، اس کی وجہ مچھلی مارکیٹوں پر سندھ، کراچی اور بلوچستان میں مڈل مین کا تسلط ہے۔

زمانہ سے کراچی فش ہاربر پر دنیا کی بہترین اقسام کی مچھلیاں اور جھینگے نیلام ہوتے ہیں مگر ارباب اختیار سوچیں ماہی گیروں کے مسائل اور ان کی بستیاں فلاح و بہبود، تعلیم اور صحت کے پیکیجز سے محروم ہیں، چنانچہ فش فارمنگ کے قیام، ماہی گیروں کی فنی تعلیم کے لیے تربیتی منصوبے جدید سہولتوں کی روشنی میں بنانے چاہیئں، بریڈنگ سیزن کے قوانین پر سختی سے عمل ہونا چاہیے، غرضیکہ ماہی گیری کی صنعت کو مکمل طور پر ریگولیٹ کیا جائے، ساحلی علاقہ ملکی اقتصادی پٹی کے لیے تفریح کا بہترین آپشن ہے جسے عالمی سطح پر ترقی دینے کی ضرورت ہے، لیکن کلفٹن، ہاکس بے اور دیگر تفریحی مقامات پر ہٹس، ہوٹلز، کھیل کے اسپاٹس کثیر تعداد میں ہونے چاہئیں، موجودہ محل وقوع ظاہراً ایک خوبصورت تفریحی مقام نظر آنا چاہیے۔

وزیر اعظم کے مطابق ماہی گیری ایک ایسا شعبہ ہے جہاں بدقسمتی سے کرپشن عام ہے، باہر سے بڑے بڑے ٹرالرز آتے ہیں حالانکہ ان کو نہیں آنا چاہیے لیکن ہمارے لوگ پیسے لے کر ان کو اجازت دیتے ہیں اور وہ ہمارے علاقے سے ڈھیر ساری مچھلی لے کر جاتے ہیں جس سے ہمارے چھوٹے ماہی گیر بیچارے متاثر ہوتے ہیں اور اگر یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تو ان کے لیے آگے حالات مزید برے ہونگے۔ اس اسکیم کے لیے وزیر اعظم نے چار بینکوں کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کا پاکستان کے لیے اہم کردار ہے۔

ان چیزوں سے معیشت مستحکم ہوتی ہے، کامیاب جوان پروگرام کے دائرہ میں ماہی گیروں کو قرضے دیں تاکہ وہ اپنی کشتی، جال اور دنیا میں آنے والی جدید مشینری خرید سکیں اور خود کو اپ گریڈ کر سکیں۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ماہی گیروں کی اپ گریڈیشن کی جامع منصوبہ بندی وقت کی ضرورت ہے، زر مبادلہ کمانے والی صنعتوں میں فش انڈسٹری میں بہت پوٹینشل ہے، لہٰذا کوشش کریں گے کہ ماہی گیروں کو اپ گریڈ کریں کیونکہ پاکستان میں اس حوالے سے بڑے مواقعے ہیں، جس طرح سیاحت، زراعت اور دیگر شعبوں میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ چین کے اندر کیج فشری ہے اور اسی طرح ہمارے پاس کراچی کے قریب ساحلی علاقے ہیں جہاں فشری کی توسیع کے کئی جدید پروگرام متعارف کرائے جا سکتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ پانچ چھ عشروں میں ماہی گیروں کی پرانی نسلوں کے بچوں کی تربیت اور ٹیکنیکل سمجھ بوجھ میں کمی آئی ہے، کوتاہی اور تساہل کے باعث ناخداؤں کی تجربہ کار کھیپ دل برداشتہ ہوکر پیشۂ ماہی گیری سے تائب ہوکر گوشہ نشین ہو گئی۔

مختلف لوگ جو ماہی گیری کی صنعت میں سرمایہ کاری کے لیے آئے لیکن اس خلا کو پر نہ کرسکے، جس کے بعد مچھلی اور جھینگے کی بین الاقوامی تجارت سے وابستہ عالمی تاجروں نے حکومت پاکستان سے شکایت کی کہ جھینگا اور مچھلیوں کی برآمد میں معیار کا خیال نہیں رکھا جاتا، ان کا کہنا تھا کہ ماضی کے فش تاجران کوالٹی کا خاص خیال رکھتے تھے۔ ہمارے پاس چناب اور خیبر پختونخوا کے دریا ہیں، میٹھے پانی کی مچھلی کا مزہ ہی کچھ اور ہے، نہر اور جھیلوں سے آبی مخلوق کے شکار کیے ہوئے اثاثوں کو تجارتی بنیادوں پر مارکیٹوں میں لانے کے مناسب اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ یہ صائب تجویز ہے کہ کہیں بھی کیج فشری کر سکتے ہیں، جس سے ہم اپنے لوگوں کی پروٹین کی سطح بھی اوپر لا سکتے ہیں۔

ماہی گیری کی صنعت کے لیجنڈری پہلو پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے، اس موضوع پر مشہور ادیب ارنسٹ ہیمنگوے کے لافانی ناول '' اولڈ مین اینڈ دی سی'' پر فلم بھی بنی ہے اور مایہ ناز اداکار سپنسر ٹریسی نے مچھلی کے شکار کی فطرت سے حیران کن کشمکش کے بہترین مناظر پیش کیے، فلم میں مچھلیوں اور ماہی گیروں کے مابین جان لیوا جنگ کے حوالہ سے اس فقرے کو بڑی شہرت ملی تھی،

A man can be destroyed but not defeated

دریں اثنا کورونا وائرس کی عالمی دہشت پھیلتی جا رہی ہے، صحت کے انفرااسٹرکچر کی تباہی پر ماہرین صحت کی انتباہی ہدایات بھی بے اثر ثابت ہوئی ہیں، ویکسین کی اثرپذیری پر سوال اٹھ رہے ہیں، ہمارے یہاں بھی تنازع نے سنگین صورت اختیار کرلی ہے، معاملات الٹ پلٹ ہو رہے ہیں، اسپتالوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے ملک بھر میں گزشتہ روز مزید 98 افراد انتقال کر گئے جب کہ5857 نئے مریض سامنے آ گئے۔

این سی او سی کے مطابق گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران زیادہ اموات پنجاب میں اور اس کے بعد خیبرپختونخوا میں ہوئیں، جاں بحق ہونیوالوں میں سے 28 مریض وینٹی لیٹر پر تھے۔ کورونا کے مصدقہ کیسز کی تعداد 7لاکھ 78ہزار 238 ہوگئی جن میں سے6 لاکھ 76ہزار 605 صحتیاب ہو چکے ہیں۔ سندھ میں مزید14 مریضوں کی اموات کی تصدیق ہوئی۔

734 نئے کیسز سامنے آئے۔ صوبے میں 261542 مریض صحتیاب ہوئے ہیں۔ این سی او سی کی ہدایات پر ملک بھر میں کورونا ویکسینیشن سینٹرز کے اوقات کار یکساں کر دیے گئے۔ ویکسینیشن سینٹرز صبح 10سے دوپہر3 بجے تک پہلی شفٹ میں کام کریں گے۔ دوسری شفٹ افطار کے بعد رات 8:30 سے12بجے تک ہو گی۔ پنجاب بھر کے سرکاری اسپتالوں میں کورونا کے 184942مریض صحتیاب ہوکر گھروں کو لوٹ گئے، چوبیس گھنٹوں کے دوران720 مریض صحتیاب ہوئے۔

بھارت میں کورونا کنٹرول سے باہر ہونے لگا کورونا وائرس کے یومیہ کیسز کی تعداد میں ریکارڈ 3 لاکھ 15ہزار سے زائد کیسز کا اضافہ سامنے آیا ہے جب کہ2104 اموات ہوئی ہیں۔ یہ دنیا بھر میں یومیہ متاثرین کی اب تک کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

بھارت کی قومی ایئر لائن ایئر انڈیا نے برطانیہ کی حالیہ سفری پابندیوں کے بعد 24 تا30 اپریل تک بھارت اور برطانیہ کے درمیان اپنی تمام شیڈول پروازیں منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جب کہ آسٹریلیا میں کورونا وائرس کے بڑھتے کیسز کی وجہ سے بھارت سے آنے والی پروازوں کی تعداد کو محدود کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ ادھر لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ انتظامیہ نے بھارت سے اضافی پروازوں کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ بیروزگاری اور مہنگائی مہیب سماجی خطرات میں ڈھلتے جا رہے ہیں۔

اقتصادی ماہرین میں بحث ہو رہی ہے کہ ملکی معیشت کا اونٹ کس کروٹ بیٹھنے کی تیاری میں ہے۔ قائد اعظم اکیڈمی بجٹ سے محروم ہے جب کہ سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ حکومت کے لیے پنشن کا بوجھ مشکل ہو رہا ہے۔ ارباب اختیار اقتصادی سیناریو پر نظر رکھیں۔ مسائل کی گیند کسی کورٹ کی تلاش میں ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ عوام کو آج بھی کورونا کے پھیلاؤ سے اپنی موت کا غم نہیں، مغرب میں تو یہ تاثر عام ہے کہ انسان کورونا کی تباہ کاریوں کی وجہ سے موت کے خوف میں مبتلا ہے لیکن افسوس حکام کے طرز عمل اور بڑے شہروں کے بند ہونے کی نوید یا خطرہ کی گھنٹی بجانے سے ہے۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جتنی انسدادی اور بہتر حکمت عملی کا مظاہرہ ماضی میں کیا گیا، اس بار شاید سارا ملبہ اور توجہ عوام کی غلطیوں، ناتدبیریوں اور ایس او پیز کی دھجیاں اڑانے کے پروپیگنڈے پر دی جا رہی ہے، لیکن کوئی سرکاری اسپتالوں، ٹیسٹ لیباریٹریوں کی لوٹ مار، مسیحاؤں کی نفع اندوزی اور کورونا کو کاروبار بنانے کی ذہانت اور مہارت کو مورد الزام نہیں ٹھہراتا۔ عوام صرف ریلیف مانگتے ہیں اور وہ بھی ان کو نہیں ملتا، صحت حکام نے اب تک کتنے مفت ماسک علاقوں میں بانٹے؟

ضرورت اس امر کی ہے کہ عوام کے شعور اور استقامت کو نشانہ بنانے کے بجائے حکومت اپنی اداؤں پر ذرا غور کرے، جو سیاست ہو رہی ہے اس نے عوام کے اعصاب شل کر دیے ہیں، لوگ ذہنی توازن کھو بیٹھے ہیں، غریب دو وقت کی روٹی کے لیے ہمسائے کے گھر کی دہلیز پر بیٹھے ہیں، غربت اور بیروزگاری نے قیامت مچائی ہے اور سیاست کسی اور پچ پر کھیل رہی ہے، کچھ تو احساس کریں کہ کورونا سے جس عوام نے جنگ لڑی آج اسی کو مورد الزام ٹھرایا جا رہا ہے، یہ ناانصافی کیسی؟

مقبول خبریں