کورونا وائرس غفلت کی گنجائش نہیں

بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں وائرس کے پھیلاؤ کی شرح 20 فیصد تک پہنچ چکی ہے


Editorial April 26, 2021
پاکستان کی معیشت کورونا وائرس کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوئی ہے فوٹو: فائل

کورونا وائرس سے ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے ۔ این سی او سی کے اجلاس میں کورونا پھیلاؤ والے شہروں میں لاک ڈاؤن لگانے پر غور کیا گیا ہے۔ کورونا ایس او پیز پر عملدرآمد کے لیے پنجاب حکومت نے پاک فوج کی خدمات مانگ لی ہیں۔

درحقیقت کورونا وائرس کی تیسری لہر کے نتیجے میں جوانسانی جانوں کا ضیاع ہورہا ہے، اس میں عوام کی جانب سے غفلت اور لاپرواہی نے بنیادی کردار ادا کیا ہے، اب ایسا محسوس ہورہا ہے کہ آنے والے دنوں میں حکومت کو مکمل لاک ڈاؤن کرنا پڑے گا۔

ملک میں وبا کا پھیلاؤ بڑھ رہا ہے، بہت سے علاقے ایسے ہیں جہاں وائرس کے پھیلاؤ کی شرح 20 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جس کی وجہ سے ہمارے ہیلتھ سسٹم پر بوجھ بڑھ رہا ہے۔ آکسیجن سلنڈرز کی ضرورت بڑھتی جارہی ہے، اور یہ بھی خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ مریضوں کے لیے آکسیجن کی قلت بھی پیدا ہوسکتی ہے ۔حکومت پاکستان اپنے کل بجٹ کا 4.1 فیصد ہی صحت پر خرچ کرتی ہے جس کی وجہ سے پاکستان جنوبی ایشیا میں بھارت اور افغانستان کے بعد صحت پر بجٹ کا کم ترین حصہ خرچ کرنے والا ملک بن گیا ہے۔

ادھر عوامی طرز عمل یہ ہے کہ موت سامنے ہیں ، لیکن ہم عیدکی شاپنگ کرنے میں مصروف ہیں، سماجی تقریبات میں شرکت کررہے ہیں ۔ ایس اوپیز کو نظرانداز کررہے ہیں ،یہ ویسے ہی ہے جیسے کوئی کبوتر بلی کو دیکھ کر آنکھیں بند کر لے، اس سارے طرز عمل کا خمیازہ لاک ڈاون کی شکل میں بھگتنا پڑے گا۔ خوشحال طبقے کے لوگ تو اپنے گھروں میں رہ کر سماجی فاصلہ برقرار رکھ سکتے ہیں، جب کہ غریب، مزدور اورکچی آبادیوں کے ر ہائشی توا یک کمرے میں کئی افراد رہنے پر مجبور ہیں، وہ بھلا سماجی فاصلہ کیسے برقرار رکھ سکتے ہیں ؟ قیدیوں سے بھری جیلوں میںوباء تیزی سے پھیل سکتی ہے، یعنی سب کی جان کو خطرہ ہے۔

پاکستان کی معیشت کورونا وائرس کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوئی ہے۔اس وبا کے منفی معاشی اثرات مختلف طریقوں سے سامنے آئے جس میں گھریلو طلب میں کمی، کاروباری سرگرمیوں میں کمی، درآمد اور برآمد میں کمی اور سپلائی چین میں خلل کی وجہ سے پیداوار میں کمی شامل ہیں۔اس کا ایک سب سے اہم اثر روزگار میں کمی کی صورت میں سامنے آیا، افرادی قوت کو اس وقت پریشانیوں کا سامنا ہے، وبائی بیماری نے صحت کے بحران سے لے کر معاشی اور مزدور منڈی کے بحرانوں میں تیزی سے اضافہ کیا ہے۔

پاکستان دنیا کا چھٹا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے جس کی مجموعی آبادی تقریبا بائیس کروڑ کے لگ بھگ ہے۔ آبادی میں 63 فیصد افراد کی عمر 30 سال سے کم ہے، اس وقت نوجوانوں کو روزگار کے لیے صحیح مہارتیں حاصل کرنے میں مدد کرنا معاشی لحاظ سے ضروری ہے جب کہ نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اس وقت تعلیم، روزگار یا تربیت سے وابستہ نہیں۔پاکستان میں خصوصی تکنیکی، پیشہ ورانہ تعلیم اور تربیت کے شعبے میں داخلے بھی کم ہیں جو دونوں صنفوں میں مہارت کی تربیت کی اعلیٰ طلب کے باوجود برقرار ہے۔

کورونا کے باعث لاک ڈاؤن کے دوران تعلیمی ادارے بند کرنا اپنی جگہ پر حکومت کی انتظامی مجبوری تو ہو سکتی ہے، لیکن یہ ضمانت کون دے گا کہ وہ کروڑوں پاکستانی بچے اور نوجوان جو گھر بیٹھے ہیں، ان کا کوئی تعلیمی نقصان نہیں ہو گا،اگر تقریبا ایک تہائی پاکستانیوں کو انٹرنیٹ کی سہولت ہی میسر نہیں، تو پھر وہ آن لائن تعلیم کیسے حاصل کر سکتے ہیں؟ ملک میں موبائل فون استعمال کرنے والے شہریوں میں سے چالیس فیصد کی مشکل یہ ہے کہ وہ اپنے اسمارٹ فون اور ان میں انسٹال کی گئی ایپس کو پوری طرح استعمال کرنا جانتے ہی نہیں،دیہی علاقوں میں اسکول جانے والے بچوں کی تعداد پہلے ہی کم ہے اور مناسب تعلیمی سہولیات کم تر۔ شہری علاقوں میں بچوں اور بچیوں کی بہت بڑی تعداد پرائیویٹ اسکولوں میں بھی پڑھتی ہے۔

وہاں اسکول مالکان لاک ڈاؤن کے دوران بھی فیسیں پوری وصول کرتے ہیں جب کہ گھر پر اساتذہ کا کام بھی اپنے طور پر والدین کو ہی کرنا پڑ رہا ہے۔بہت سے اساتذہ یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ تو بچوں کو پوری توجہ سے آن لائن تعلیم دینا چاہتے ہیں مگر کئی والدین کی سستی، لاپرواہی یا مالی مجبوریوں کی وجہ سے بچوں کو ورچوئل کلاس روم کے لیے گھر پر درکار سہولیات دستیاب ہی نہیں ہوتیں۔جب ملک میں آن لائن تعلیم کے لیے بنیادی ڈھانچہ اور امکانات ہر کسی کو دستیاب نہ ہوں، تو یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ پھر تعلیم کو حقیقی سے ورچوئل دنیا میں منتقل کر دینے سے کتنے پاکستانی طلبا و طالبات کا فائدہ ہو سکتا ہے۔

پاکستان بھی دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جہاں کورونا وبا سے غربت میں اضافے کا خدشہ ہے۔آکسفیم کی ایک رپورٹ کے مطابق کورونا وبا کے بعد آنے والی مشکلات کے باعث پاکستان میں پہلے سے موجود غریب کے علاوہ ایک ڈالر 90 سینٹ (تقریباً 300 روپے) یومیہ کمانے والے ایک کروڑ افراد کے مزید غریب ہوجانے کا خدشہ ہے، جب کہ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں یومیہ تین ڈالر 20 سینٹ (تقریباً 510 روپے) کمانے والے تین کروڑ 88 لاکھ افراد کو کورونا وبا کے باعث آنے والا معاشی بحران مزید غربت میں دھکیل سکتا ہے۔

کوروناوبا نے ظاہر کردیا کہ ہم سب ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور جب تک ہم سب محفوظ نہیں تو کوئی بھی محفوط نہیں۔ لڑکیاں، خواتین اور سماج کے پسے ہوئے طبقے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ ان کے لیے معاشی مواقعوں میں کمی اور وائرس سے احتیاط میں اخراجات میں آضافے کے ساتھ ساتھ گھریلو تشدد میں اضافہ بھی دیکھا گیا ہے، جس سے ان طبقوں میں عدم مساوات میں اضافہ دیکھا گیا ہے ۔

اب صورت حال اس نج پر پہنچ چکی ہے کہ ہمیں حتمی فیصلہ کرنا ہے کہ اگر زندگی کی ضرورت ہے تو ہمیں سخت فیصلے کرنا پڑیں گے ،کیونکہ یہ ہماری بقا کا مسئلہ ہے۔زندگی قیمتی ہے،کیا ہم وائرس کے آگے اپنی اور اپنے پیاروں کی حفاظت کو نظر انداز کر دیں گے، یہ تمام باتیں ہمیں بحیثیت فرد اور قوم سوچنی ہیں ۔پاکستان سمیت دنیا بھر کے طبی ماہرین کورونا وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے پر زور دیتے آئے ہیں مگر حالات کو معمول کی جانب لانے کا واحد راستہ یہی ہے کہ ملکی آبادی کو بڑے پیمانے پر ویکسین لگا دی جائے۔

یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں مختلف ممالک میں ویکسی نیشن پروگرام شروع کیے گئے ہیں۔ اس ضمن میں لاکھوں خوراکیں لگائی جا چکی ہیں اور جہاں یہ ویکسی نیشن پروگرام کچھ اگلے مراحل میں ہیں وہاں اس بیماری کے پھیلاؤ اور متاثرہ افراد کی تعداد میں واضح کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔ کچھ ممالک میں تو فرنٹ لائن ورکرز اور بزرگ شہریوں کو حفاظتی خوارکیں دیکر وہاں کے عام شہریوں کے لیے بھی اس ویکسین کی رسائی ممکن بنا دی گئی ہے،مگر پاکستان میں ایسا نہیں ہے ۔ حکومت کی جانب سے ویکسین کی خریداری کے لیے کچھ آرڈر تو دیے جا چکے ہیں مگر ان کی تعداد بھی چند لاکھ سے زیادہ نہیں۔ ہم بائیس کروڑ آبادی کا ملک ہیں اور بالفرض اگر ہم یہ مان بھی لیں کہ ہماری آدھی آبادی کے نوجوانوں پر مشتمل ہونے کی وجہ سے اس بیماری کا شکار ہونے کا امکان کم ہے پھر بھی ہمارے پاس تقریباً ایک کروڑ لوگ بچتے ہیں جنھیں ہمیں ہر حال میں ویکسین دینا ہی ہوگی۔

ہم ان تمام لوگوں کے لیے ویکسین کہاں سے لائیں گے؟ اور اگر ہم ان لوگوں کو ویکسین اسی رفتار سے لگائیںگے کہ جیسے ابھی لگائی جا رہی ہے تو ہم کب تک اس قابل ہوں گے کہ اس وبا پر قابو پا سکیں۔ یہ وہ سوالات جو ہرپاکستانی کے ذہن میں جنم لے رہے ہیں ، حکومت کو ان سوالات کا جوابات اپنی بہترین حکمت عملی سے دینا ہے تاکہ انسانی جانوں کے ضیاع کو روکا جاسکے ۔اس وقت جو خوف اور وحشت کی فضا طاری ہوچکی ہے ، اس کی بہترین حل یہ ہے کہ ہم اپنے اوپر ایس اوپیز عملدرآمد کو لازم کرلیں تو صورت حال کی سنگینی میں کافی حد تک کمی واقع ہوسکتی ہے ۔ ہم غفلت کا چلن چھوڑ کر احتیاط کا دامن تھامنا ہوگا، اسی میں ہماری بقا کا راز پوشیدہ ہے۔

مقبول خبریں