کبیرا پھر روتا ہے

بازی گر صرف کواکب ہی نہیں ہوتے جو دھوکا دیتے ہیں اور پھر غالب جیسے داناؤں کو ان کا پول کھولنا پڑتا ہے۔


Saad Ulllah Jaan Baraq January 14, 2014
[email protected]

بازی گر صرف کواکب ہی نہیں ہوتے جو دھوکا دیتے ہیں اور پھر غالب جیسے داناؤں کو ان کا پول کھولنا پڑتا ہے۔

ہیں ''کواکب'' کچھ نظر آتے ہیں کچھ
دیتے ہیں دھوکا یہ ''بازی گر'' کھلا

بلکہ ''کواکب'' کے علاوہ بھی دنیا میں بڑے بڑے بازی گر پائے جاتے ہیں جو نہ صرف کھلا دھوکا دیتے ہیں بلکہ اور بھی بہت کچھ کرتے رہتے ہیں، بے چارے ستارے تو صرف یہی دھوکا دیتے ہیں کہ سورج سے روشنی مانگ کر ایسا ظاہر کرتے ہیں جیسے وہ خود روشن ہیں، اس کے علاوہ کسی کو اور کوئی دھوکا نہیں دیتے اگر انسانوں نے خود ہی ان سے اپنا بہت کچھ منسوب کیا ہوا ہے تو اس میں ستاروں کی بازی گری سے زیادہ انسانوں کی بے وقوفی کو دخل ہے، بقول علامہ اقبال ۔۔۔ جو ستارے بے چارے خود ہی ''گردش گردوں'' میں مبتلا ہوکر ''خوار و زبوں'' پھرتے ہیں، وہ کسی کی قسمت کی کیا خبر دیں گے؟ سارے کے سارے بے چارے سورج اور چاند سمیت ایک ''ڈوری'' میں بندھے ہوئے ہیں نہ ایک قدم رک سکتے ہیں نہ دو قدم تیز ہو سکتے ہیں کہ ہم تم چوری سے ۔۔۔ بندھے اک ڈوری سے۔۔۔

یاں کے سپید و سیہ میں ہم کو دخل جو ہے سو اتنا ہے
شب کو رو رو صبح کیا، دن کو جوں توں شام کیا

بازی گر تو وہ ہوتے ہیں جو دن رات دھوکا دیتے رہتے ہیں اور پھر بھی کسی کو پتہ نہیں چلتا ۔۔۔ بلکہ شاہ رخ خان کے بقول جو ہار کر بھی جیت جاتا ہے بازی گر کہلاتا ہے اور ہمارے یہ بازی گر جو دن رات کھلے عام دھوکا دے رہے ہیں وہی بازی گر ہیں جو ہمیشہ جیتتے رہتے ہیں، ہارتے کبھی نہیں کیوں کہ جیت تو ان کی جیت ہے لیکن ہار بھی ان کی ہار نہیں، کیوں کہ ہار تو ہمیشہ ''گھوڑے'' کی قسمت میں ہوتی ہے ۔۔۔۔ کیا کریں پرانا قصہ ہے لیکن بار بار دہرانا پڑتا ہے اور اس لیے دہرانا پڑتا ہے کہ

یونہی ہمیشہ کھلائے ہیں ہم نے آگ میں پھول
نہ ان کی ''جیت '' نئی ہے نہ اپنی ''ہار'' نئی

خوش نصیب کوچوان کا گھوڑا بھوکا اس لیے رہ جاتا تھا کہ بدنصیب ہمیشہ ٹاس ہار جاتا تھا اور کوچوان اس لیے خوش نصیب تھا کہ ''ٹاس'' میں ''چٹ'' بھی اس کا ہوتا تھا اور پٹ بھی اس کا ۔۔۔ اور ایسا ٹاس آج تک نہیں ہوا ہے کہ سکہ سیدھا کھڑا ہو کر گھوڑے کو جتائے، خیر گھوڑے کو گولی ماریئے ۔۔۔ کوچوان کی بات کرتے ہیں جو گھوڑے کو تانگے میں جوت کر اور چابک مار مار کر چلاتا ہے، مولانا سلیمان ندوی نے کہا ہے کہ لفظ سیاست دراصل ''سائس''سے نکلا جو اصل میں ''اسائیس'' ہے یعنی گھوڑے ''اس'' کو سدھانے والا، چوں کہ لیڈر بھی وحشی گھوڑوں کو ''سدھاکر'' ان پر سواری گانٹھتے ہیں خریدتے بیچتے ہیں اس لیے ''سیاسی'' کہلاتے ہیں، یہ معنی اس وقت اور زیادہ کھل کر سامنے آتے ہیں جب اسمبلیوں میں میلہ اسپاں و مویشیاں لگتا ہے، گھوڑے ہارتے ہیں جیتتے ہیں لیکن ان پر ''داؤ'' لگانے والے کوچوان کے گھوڑے ہوتے ہیں اس لیے ہمیشہ ہارتے ہی رہتے ہیں اس بناء پر سیاست وہی گھوڑوں کا کاروبار ہی ہوا نا ۔۔۔ ہم بھی کہاں گھوڑے او کوچوانوں یا سائیسوں میں پھنس گئے، اصل بات ہم ستاروں بلکہ بازی گروں کی کر رہے تھے، خاص طور پر شاہ رخ خان کے اس قول زرین کی کہ جو ہار کر بھی جیت جاتا ہے وہی بازی گر کہلاتا ہے لیکن ''بازی گر'' صرف کواکب نہیں ہوتے بلکہ اور بھی بڑے بڑے بازی گر اس دنیا میں پائے جاتے ہیں جو کھلا دھوکا دہی کی وارداتیں کرتے رہتے ہیں۔

زمانہ عہد میں ان کے ہے محو آرائش
بنیں گے اور ستارے اب آسماں کے لیے

یہ ''ستارے زمین پر'' جو ہوتے ہیں، ان میں صرف انسان ہی نہیں بلکہ بعض الفاظ بھی ہوا کرتے ہیں مثال کے طور پر ''حساب'' کے خاندان جتنے بھی اراکین ہیں جیسے احتساب، محتسب، محاسبہ، محسوب، حاسب، حسوب ۔۔۔ یہ سب کے سب بازی گر ہیں کہ بظاہر تو کچھ اور ہوتے ہیں لیکن اصل میں کچھ اور ہی نکلتے ہیں، کتنی صدیاں بیت گئیں ان الفاظ کو ''بے تحاشا'' استعمال ہوتے ہوئے لیکن مجال ہے جو کبھی ان کے اصل معنی کسی پر کھلے ہوں، ان سارے خاندان کا سردار لفظ ''احتساب'' ہے جس کا شہرہ چار دانگ عالم میں پھیلا ہوانہ سہی ''چار دانگ پاکستان'' میں تو اس کے ''چرچے'' اتنے عام ہیں کہ اتنے چرچے وینا ملک کے بھی نہیں ہوں گے حالانکہ وہ بھی ایک ایسی بازی گر ہے ۔۔۔ جس نے گولی ماری ایک کو لگی دوسرے کو اور مر گیا تیسرا ۔۔۔ جس کا کسی کو ہم و گمان بھی نہیں تھا ۔۔۔ ایسا ہی یہ ''احتساب'' کا لفظ ہے احتساب ہوتا ہے ''رام'' کا ، پکڑا جاتا ہے ''شیام'' اور مر جاتا ہے ''گھنشیام''

ترچھی نظروں سے نہ دیکھو عاشق دلگیر کو
کیسے تیر انداز ہو سیدھا تو کر لو تیر کو

اس بات کی طرف ہمارا دھیان یوں گیا کہ پچھلے دنوں صوبائی اسمبلی میں ۔۔۔ جی ہاں آپ ٹھیک سمجھے ۔۔۔ صوبہ ''خیر پہ خیر'' کی اسمبلی میں ایک ''احتساب بل'' منظور ہو گیا، اس ''بل'' میں ہم نے ہاتھ ڈالا تو بڑے اچھے اچھے سانپ برآمد ہوئے جیسے کرپشن پر چودہ سال قید ہو گی، احتساب عدالت سے سزا یافتہ شخص عوامی عہدہ نہیں رکھ سکے گا، عدالت کی توہین پر چھ ماہ قید اور دس لاکھ روپے جرمانہ ہو گا اس کے علاوہ بھی بہت سارے چھوٹے بڑے سانپ سپولے جن سے ''کرپشن کرنے'' والوں کو ڈسوایا جائے گا ۔۔۔۔ بشرطیکہ کرپشن کرنے والے پکڑ میں آجائیں اور سب سے بڑا ''نو من تیل'' یہی ''پکڑ'' ہے، دو عورتیں بیٹھی بچوں کے بارے میں گفتگو کر رہی تھیں۔ ایک بولی، یہ لوگ دراصل بچوں کو اس لیے بگاڑ دیتے ہیں کہ اپنے بچوں کی برائی ان کو دکھائی نہیں دیتی ۔۔۔ دوسری بولی ، نہ جانے یہ کیسے لوگ ہیں میں تو اپنے بچوں میں ایک بھی برائی برداشت نہ کروں مگر اپنے بچوں میں کوئی برائی ہو تب ناں ۔۔۔ دوسری نے بھی کہا، ہاں ہاں اپنے بچوں میں کوئی برائی ہو نا تب ؟ پہلی والی بولی مگر شکر ہے خدایا ہمارے بچوں میں کوئی برائی ہے نہیں۔ دوسری والی نے تائید کرتے ہوئے کہا، ہاں بہن اللہ کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ہمارے بچوں میں کوئی برائی نہیں ہے۔

ہم پیشہ و ہم مشرب و ہمراز ہے میرا
غالب کو برا کیوں کہو اچھا مرے آگے

اور جرم ثابت بھی کیسے ہو گا کیوں کہ سرکاری اطلاعات کے مطابق صوبہ خیبر پختون خوا عرف کے پی کے میں ''کرپشن'' کی اینٹ سے اینٹ بجائی جا چکی ہے اور اس کا مکمل طور پر قلع قمع کیا جا چکا ہے، اپنے بچوں میں کوئی برائی ہو ''تب نا'' ۔۔۔

پلٹ کے سوئے چمن دیکھنے سے کیا حاصل
وہ ''شاخ'' ہی نہ رہی جو تھی آشیاں کے لیے

الفاظ کی بازی گری کا یہ سلسلہ بڑا ہمہ گیر ہے بلکہ اب تو ایسا کوئی لفظ بچا ہی نہیں ہے جو وہی معنی دے سکے جو لغت کے مطابق اس کے اندر موجود ہوتے، اکثر تو لفظ کے اصلی معنی ان معنوں سے قطعی الٹ ہوتے ہیں جو معنی حقیقت میں اس سے لیے جاتے ہیں عربی میں فلس اور فلوس سکے ہوتے ہیں لیکن اردو میں جس کے پاس ایک کوڑی تک نہیں ہوتی اسے مفلس یعنی ''سکوں والا'' کہا جاتا ہے، ٹھیک اسی طرح یہ ''حساب'' کے گھرانے سے تعلق رکھنے والے الفاظ بھی ہیں چاہے احتساب ہو محاسبہ ہو یا اس نام کے بیوریو، کمیشن، یا کمیٹیاں ہوں اس ملک میں کتنے لوٹ مار ہوئی ہوتی رہی اور ہو رہی ہے ، خزانہ تو کیا اس کا وجود بھی آدھا کر کے بیج ڈالا گیا، اقلیت کے باوجود حکومت کرنا قیمت ہی تو ہے جو وصول کی گئی، لیکن کسی کا احتساب ہوا کسی کو سزا ملی ؟ دنیا جہاں کہہ رہی ہے سارا ملک کہہ رہا ہے عدالتیں کہہ رہی ہیں قانون کہہ رہا ہے آئین کہہ رہا ہے، بچہ بچہ کہہ رہا ہے حتیٰ کہ حکومت خود کہہ رہی ہے کہ فلاں فلاں چور لیٹرے ہیں لیکن کسی کا احتساب ہوا کم از کم ان معنوں میں جو لفظ ''احتساب'' کے بنتے ہیں اسی لیے تو بے چارا کبیر پھوٹ پھوٹ کر رویا تھا

رنگی کو ''نارنگی'' کہیں بنے دودھ کو ''کھویا''
چلتی کا نام ''گاڑی'' رکھیں دیکھ کبیرا رویا